بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> ماحولیاتی دہشت گردی

ماحولیاتی دہشت گردی

ماحولیاتی دہشت گردی
انجینئر مظہر خان

صبح آفس کے لیے نکلا تو ما ل ر وڈ، ہال روڈ سے لے کر پنجاب اسمبلی تک بلکل بند تھا۔ہرطرف ٹرک ہی ٹرک تھے اور لوگ بینرز اُٹھائے احتجاج کرتے نظر آرہے تھے۔چونکہ فاصلہ کافی زیادہ تھااس لیے وہ واضع نظر نہیں آ رہے تھے۔گمان ہوا کہ کوئی ٹیکس ویکس کا چکر ہو گا۔کیونکہ آجکل ٹیکس کے کافی ایشوز چل رہے ہیں اور کاروباری طبقہ سیخ پا ہوا ہوا ہے۔ ویسے حیرت کی بات ہے دنیا کی سب سے زیادہ خیرات کرنے والی قوم دنیا کی سب سے بڑی ٹیکس چور ہے۔رَش کی وجہ سے ٹریفک آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی تیس، پنتیس منٹ کی زلالت کے بعد جب احتجاج کرنے والوں کے قریب پہنچا تو اُن کے اُٹھائے گئے بینرز پڑھ کر مجھے شدید جھٹکا لگا اور غصہ سے میرا رنگ فق ہو گیا۔ اُن کے اُٹھائے گئے بینرز پر واضع لکھا ہوا تھا ” پلاسٹک شاپر پر پابندی نامنظو ر نامنظور ” لمحہ بھر کے لیے تومیں سُن ہو گیا کہ یہ کون لوگ ہیں جو کینسر جیسی خطرناک بیماریوں اور آلودگی کی روک تھام کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ کہاں سے آئے ہیں کیا یہ پاگل,جاہل، اَن پڑھ گنوار ہیں۔؟ نہیں! وہ صرف مفاد پرست، جاہل اور اَن پڑھ ہی نہیں وہ خودکش حملہ آور بھی ہیں،خودکش حملہ آور میں اور اِن لوگوں میں کوئی فرق نہیں وہ اپنے آپ اور انسانوں کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیتے ہیں اور یہ اپنے اور دوسرے انسانوں کو آلودگی اور کینسر جیسی مہلک بیماریوں سے مارنے کی پلاننگ کر رہے ہیں۔دونوں قسم کے خود کش حملہ آور جاہل بھی ہیں اور مس گائیڈڈ بھی، ایک اسلام کی تعلیمات سے ناواقف اور دوسرا ماحولیاتی سائنس سے نابلد۔ایک کو یہ نہیں پتہ کی جہاد کیا ہوتا ہے،جبکہ دوسرے کو یہ نہیں پتہ کہ ماحولیاتی سائنس کیا ہوتی ہے،بائیوڈی گریڈایبل اور نان بائیوڈی گریڈایبل مٹیریل کیا ہوتے ہیں اور اُن کے کیا فوائد اور نقصانات ہوتے ہیں۔؟
خیرچند منٹ کی خود کلامی کے بعد اب پھر میں نارمل تھا کیونکہ اُن میں سے کوئی بھی مجھے پڑھا لکھا نہیں لگ رہا تھا میرا دل کر رہا تھا کہ میں اُن سب کو بتاؤں کہ بھائیو! اپنے اور دوسروں کے لیے کینسر جیسی مہلک بیماریوں کا گڑھا نہ کھودو آج یا کل آپ یا آپ کا اپنا ہی کوئی اِس گڑھے میں ضرور گرے گا۔جس پلاسٹک بیگ (شاپر) کی پابندی پر تم احتجاج کر رہے ہو یہ نان بائیوڈی گریڈایبل مٹیریل ہے۔پلاسٹک بیگ(شاپر) کو ڈی کمپوز(گلنا سڑنا) ہونے کے لیے تقریبا ایک ہزار سال لگتے ہیں۔اِس کو زمین میں دبا دیا جائے توزیر ِ زمین پانی اور زمین کو آلودہ کرتا ہے اور وہ پانی پینے سے کئی قسم کی خطرناک بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ سمندر اور دریا میں پھینکنے سے پانی کی آلودگی کے ساتھ سمندری جانوروں کے منہ میں پھنس کر سانس روکنے سے اموات کا باعث بنتا ہے۔ میریک ویلی کونسل کی رپورٹ کے مطابق ہر سال نان ڈی کمپوزایبل پلاسٹک بیگ کی وجہ سے ایک لاکھ ویل،کچھووے اور پرندے مرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ پانی کے نالوں میں جمع ہو کرنالوں کو بلاک کر دیتے ہیں جس سے بارشوں کے پانی کا نکاس ڈسٹرب ہوتا ہے اورپانی سڑکوں اور گھر میں داخل ہو کر ڈسٹربنس اور آلودگی پھیلاتا ہے۔پلاسٹک شاپر کو جلانے سے جو دھواں بنتا ہے وہ انتہائی خطرناک ہوتا ہے، جس سے کینسر، دل،سانس، گردے اور جگر کی بیماریاں،دمہ، ذ ہنی بیماریاں مثلا پاگل پن جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ پلاسٹک شاپر کو جلانے سے بلیک کلر کے ذرات نکلتے ہیں جن کو "کاربن بلیک” کہتے ہیں جو کیرسینوجینک ہے کینسراور آنکھوں کی بیماریوں کے علاوہ ہوا میں شامل ہو کر کلائی میٹ چینج(موسمیاتی تبدیلی) کا باعث بنتا ہے جس سے ” سموگ "جیسی فضائی آلودگی جنم لیتی ہے۔ فوم کے ڈسپوزیبل کپ میں گرم فوڈ اور ڈرنکس کھانا پینا انتہائی خطرناک ہے جو کینسر اور دوسری مہلک بیماریوں کا موجب بنتا ہے۔ استعمال شدہ فوم کپ اور خالی پلاسٹک ڈبے جلانے سے "ا سٹائرین” جیسی خطرناک گیسیں خارج ہوتی ہیں جو آسانی سے جلد اور پھیپھڑوں میں جذب ہو جاتی ہیں اور بیماریوں کے ساتھ اوزون لیئر کو بھی تباہ کرتی ہے۔پی وی سی (پولی وینائل کلورائڈ) کو جلانے سے ڈائی آکسین جیسا کیمیکل خارج ہوتا ہے جو کینسر کا باعث بنتا ہے۔یہ خطرناک کیمیکل ماں ویجنل کنال کے راستے اپنے بچے کو منتقل کرتی ہے جس سے خون سمیت دوسری خطرناک بیماریں جنم لیتی ہیں اور بچہ پیدہ ہونے سے پہلے ہی ایکسپائرہو جاتا ہے یا پھر بہت ساری بیماریاں لیے پیدہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے نومولود بچوں کی اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ورلڈ اکانومک فورم کے سروے کے مطابق اگلے بیس سال میں پلاسٹک کی پیداوار ڈبل ہو جائے گی۔ جبکہ یورپ میں پلاسٹک ری سائیکلنگ کی پرسنٹیج تیس فیصد اور امریکہ میں صرف نو فیصد ہے اور ترقی پذیر ممالک میں ری سائیکلنگ زیرہ پرسنٹ کے قریب ہے جوکہ ماحول کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق روزانہ دس لاکھ پرنٹر کے استعمال شدہ سیاہی کے کارٹیج جسے ٹونر کارٹیج کہتے ہیں وہ ری سائیکل کیے بغیر پھینک دیے جاتے ہیں۔ٹونر جو کہ صرف ایک پاوڈر نہیں بلکہ بہت سارے خطرناک کیمیکل کا مرکب ہے جن میں کاربن بلیک، آئرن ایکسائڈ، کلر پگمنٹ، پلاسٹک، ویکسز، بیوٹائل یوریا، سائیکلوہیگذانون، ڈائیز جن میں سلفر، ایتھوکسیلیٹڈ ایسی ٹائیلینک ڈائیو لز اور EDTA جو کہ ایتھائیلین گلائیکول جسیے آلودگی اور کینسر سمیت بہت ساری مہلک بیماریاں پھیلانے والے کیمیکل کا مرکب ہے۔ یہی کینسر پیدہ کرنے والا خطرناک ٹونر (سیاہی) جو اخباروں کو چھاپنے والے اداروں (پرنٹنگ پریس) میں ” اخبار ” کو چھاپنے میں استعمال ہوتا ہے۔ اخبار چھاپنے والے لوگوں کے لیے تو یہ خطرناک ہے ہی سہی لیکن یہ اُس سے کہیں زیادہ خطرناک تب ہے جب روٹی یا دوسری کھانے پینے والی چیزوں کو” اخبار ” میں لپیٹ لیتے ہیں جس سے اخبار پر لگی ہوئی خطرناک سیاہی روٹی پر یا کھانے والی چیز پر لگ جاتی ہے جو اکثر نظر بھی آ رہی ہوتی ہے اور پھر وہ چیز کھانے سے اُس پر لگی ہوئی وہ خطرناک سیاہی بھی جسم کے اندر چلی جاتی ہے جو کینسر اور بہت ساری مہلک بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔ IARC (انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ اَن کینسر) کی تحقیق کے مطابق پرنٹر ٹونر (سیاہی)کینسر پیدا کرنے والے مرکبات سے بنتا ہے،جس سے کینسر جیسی موذی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ اِس لیے کبھی بھی اخبار یا پرنٹ کیے ہوئے کسی کاغذ میں بند چیز نہ کھائیں۔ کولڈ ڈرنکس پیتے وقت کبھی بھی سٹر ا (پائپ) استعمال نہ کریں، سڑا (پائپ) ری سائیکل کی ہوئی تھرڈ کلاس پلاسٹک سے بنائے جاتے ہیں جو انتہائی خطرناک ہے۔ گرم کھانا یا گرم چائے کبھی بھی پلاسٹک کے برتن، فوم کپ یا شاپر میں ڈال کر نہ کھائیں۔پلاسٹک گرم کھانے سے ری ایکشن کر کے بہت سارے مہلک کیمیکلز کھانے میں چھوڑ جاتے ہیں جو کینسرکا باعث بنتے ہیں۔ ان مہلک بیماریوں سے بچنے کے لیے پلاسٹک کی بنی ہوئی چیزوں کا کم سے کم استعمال کریں اور کوشش کریں کہ شیشے یا پھر مٹی کی چیزیں استعمال کریں۔ شاپنگ کرنے کے لیے پلاسٹک بیگ (شاپر) کی بجائے کپڑے کا بیگ استعمال کریں۔ اگر کپڑے والا بیگ میسر نہیں تو پھر مجبوری کی حالت میں اگر شاپر استعمال کرنا بھی ہے تو وہ شاپر استعمال کریں جو بائیو ڈی گریڈایبل ہو جس پر (Degrade to Water) d2W لکھا ہوا ہو وہ استعمال کریں تاکہ ہم اپنے اور آنے والی نسلوں کے لیے ماحول کو آلودہ ہونے سے بچائیں۔
احکام بالا سے پُرزورگزارش ہے کہ خود کش بمباروں والی دہشت گردی سے کہیں زیادہ خطرناک "ماحولیاتی دہشت گردی” ہے جو ہزاروں نہیں لاکھوں لوگوں کو کھا گئی ہے اور بتدریج کھا رہی ہے اور ساتھ صحت کے بجٹ بڑھنے کا سبب بھی بن رہی ہے۔ آپریشن رَد الفساد کے بعد "آپریشن رَد لاآلودگی” ناگزیر ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*