بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> دشمن نئی چالیں چلنے لگے مگر۔۔۔۔۔!

دشمن نئی چالیں چلنے لگے مگر۔۔۔۔۔!

دشمن نئی چالیں چلنے لگے مگر۔۔۔۔۔!
غلام مرتضیٰ باجوہ
یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مغرب میں کسی مذہب کا ایسامنفی تاثرقائم نہیں ہوا جیسااسلام کا۔فلسطین میں یہودیوں کی آمد کے ساتھ ہی کشت وخون اور قتل وغارت گری کا وہ بھیانک سلسلہ شروع ہواجس کی داستان بڑی المناک ہے۔ایسے ہی خونی انقلاب کی پاکستان میں پیش گوئی کی جارہی ہے، جوعالمی سازش کے تحت سلام دشمن عناصر پاکستان کے خلاف سرگرم ہے۔اس وقت پاکستان کے خلاف انٹرنیشنل جارحیت کا خطرات ہیں۔ دہشت گردی آج کے دَور میں ایک ایسی اصطلاح بن چکی ہے جس سے ہر طبقہ کے انسانوں کے کان آشنا ہیں۔ یہ لفظ سنتے ہی ذہن میں ایک خوفناک تصور قائم ہوجاتا ہے۔ وہ تصور کسی دلفریب وخوش گوار وادی کا نہیں۔ کسی پارٹی یا عدالت کا نہیں بلکہ انسانی احترام وعظمت کی پامالی کا، انسانیت کے تقدس کو بالائے طاق رکھ کر انسانوں کے لہو سے تربتر دامنوں کا، سڑکوں پر بہتے اور منجمد خونوں کا، بم دھماکوں اور سفاکیت کے اعلیٰ مظہر عراق، افغانستان اور فلسطین میں بے گناہ، معصوم بچوں اور عورتوں کے ساتھ وحشت وبربریت، ظلم وستم اور ناجائز طور پر ان کے حقوق کی پامالی کا ایک وحشت بھرا دردناک تصور انسانی ذہن میں قائم ہوکر ذہن ودماغ کے تاروپور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ دہشت گردی کی اس مسموم فضا میں صرف یہی نہیں بلکہ ظلم وجبر کے ایسے ایسے روح فرسا مناظر دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھے کہ سینے میں پتھرجیسے دل رکھنے والوں کی بھی چیخیں نکل گئیں۔ سینوں میں ہمدردی اورانسانیت کی محبت اوراس کے نام پر دھڑکنے والا دل رکھنے والے انسانوں کی سسکیاں احساس کے کانوں سے سنی جاسکتی ہیں۔
دہشت گردی اصطلاح پر ہوئے واقعات میں جہاں انسانی ذہن خاک و خون میں تڑپتی لاشوں، کشت وخون، ظلم وبربریت اور تباہی و بربادی کے عریاں رقص میں ہلاکت و بربادی کے گھاٹ پر قربان ہوتے انسانوں کی جائید اد، اموال اور مکانوں کی بربادی کاتصور قائم کرتا ہے۔ وہیں انسانی ذہن پر واقعات کی وہ بھیانک تصویر بھی ابھرآتی ہے جو مسلم وغیرمسلم ملکوں سے بہت سے مسلمانوں، خصوصاً لکھے پڑھے اور دین دار نوجوانوں کو گرفتار کرکے، اندرونِ افغانستان وعراق اور ”گوانٹاناموبے“ کے بدنام زمانہ جیل خانوں میں ڈال کر ان کے ساتھ جسمانی، جنسی، ذہنی اور فکری طور پر ایسی مجرمانہ حرکتیں کی گئیں اور اذیت رسانی اور توہین و تذلیل کے ایسے ایسے طریقے وضع کیے گئے جن سے حقوقِ انسانی کے نام پر ساری دنیا نے آنسو بہادیے اور جس نے سارے انسانی ضمیر کو ہلاکر رکھ دیا۔
چاہے وہ افغانستان، عراق، لبنان، فلسطین،مقبوضہ کشمیر، برما،شام سمیت دیگر سلامی ممالک میں مسلمانوں کی نسل کشی اور ظلم و تشدد کی ایسی سنگین مثال جس نے اچھے اچھے ظالموں اور سفاکوں کو بھی رلادیا۔ دہشت گردی کے نام پر سلام دشمن عناصرکی کاروائیوں سے حالیہ واقعات میں تاریخ نے وحشت وبربریت اور جبر وتشدد کا ایسا ننگا ناچ اپنے سینے پر رقم نہیں کیا ہوگا۔ ان سب کے پیچھے ہمیں ایک بڑا ہاتھ، وسائل سے بھرپور جبر و تشدد اور ظلم و ستم کا پیکر کسی بہت بڑے مقصد کے لیے کارفرما نظر آتا ہے۔
کیونکہ اسرائیل امریکہ کے تعاون سے گزشتہ کئی برسوں سے پوری دنیا پر قبضہ کرنے کو خواب دیکھارہاہے جس کے لیے انہوں ایک پر وگر ام شروع کررکھا ہے جس کا نام”ہولو گرافی“ ہے جس کے تحت کام جاری ہے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے تقریباً اسرائیلی اتحادی سائنسدانوں اور ماہر ین کو مزید وقت درکار ہے۔ ”ہولوگرافی“ کیا ہے۔؟
ہولوگرافی ایک یونانی لفظ ہولوگراما سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے دور سے آیا ہوا پیغام۔ ہولوگرافی کا مظاہرہ ایک بند کمرے یا کیبن میں کیا جاتا ہے، تاکہ تمام تھری ڈی شعاعوں کو ایک نقطے پر مرتکز کرکے کسی بھی شبیہہ کو واضح پیش کیا جاسکے۔ ہولوگرافی آنے والے دور میں مزید ترقی کر کے سکائی گرافی اور سپیس گرافی کی شکل میں بھی دنیا کے سامنے پیش کی جائے گی اوراس ٹیکنالوجی کے مدد سے لوگوں کی حیرانی کے لیے آسمان پر عجیب و غریب مناظر دکھائے جائیں گے۔
کمپیوٹر اور موبائل ٹیکنالوجی بھی ایسی منصوبے کا حصہ ہیں۔ہولوگرافی کو سمجھنے کے لیے ہم اپنی روز مرہ زندگی سے ایک سادہ سی مثال لیتے ہیں۔ آپ نے اپنے موبائل سے اپنی آواز کو کئی بار ریکارڈ کیا ہوگا اور اسے باربار سنا بھی ہوگا۔ اصل میں وہ ہماری آواز کی لہریں (وائبریشنز) ہوتی ہیں جن کو ہم محفوظ کر کے رکھ لیتے ہیں اور جب چاہے سن سکتے ہیں۔آواز کی لہروں کو محفوظ کرنے کے بعد سائنس دانوں سے غور کرنا شروع کر دیا کہ اگر آواز کو محفوظ کر کے بار بار سنا جا سکتا ہے تو کیا روشنی کو بھی محفوظ کر کے اس سے کوئی فائدہ یا کام لیا جا سکتا ہے؟اور آخر کار ٹیکنالوجی کے ماہر لوگوں نے روشنی کی وجہ سے بننے والے عکس (امیج) کو ریکارڈ (محفوظ) کر لیا اوراسی کی بدولت آج کل ہولوگرام ٹیکنالوجی عام ہوتی نظر آرہی ہے اور مختلف ٹی وی چینلز ہزاروں میل دور بیٹھے کسی بھی شخص سے بات کرنا چاہتے ہیں تو ہولوگرافی کے ذریعے مطلوبہ شخص کو سٹوڈیو میں بلایا جاتا ہے اور ایسے لگ رہا ہوتا جیسے وہ شخص بالکل اصلی حالت میں ہمارے سامنے بات کر رہا ہے۔ سائنس کی اس ایجاد نے آڈیو اور ویڈیو ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔
تھری ڈی ٹیکنالوجی سے تو آپ سب اچھی طرح واقف ہوں گے، جس میں کسی امیج کو مختلف اطراف سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہولوگرام میں سیون ڈی ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے اور یہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے، جس میں روشنی بالخصوص لیزر شعاؤں کی مدد سے کسی منظر کو پروجیکٹ (ایک جگہ بند) کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار میں روشنی کی شعاعوں کو کسی پردے کی بجائے ماحول پر اکٹھا کیا جاتا ہے اوراس سے بننے والی تصاویر اور ویڈیوز اتنی حقیقی ہوتی ہیں کہ ان پر اصلی کا گمان ہوتا ہے۔کمپیوٹر کی زبان میں اسی کو ہولو گرافی کا نام دیا جاتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کو شروع کرنے کا سہرا ہنگری کے ڈینس گیبر کے سر جاتا ہے۔ برطانیہ میں رہتے ہوئے گیبر نے 1946 ء سے 1951 ء تک اس ٹیکنالوجی کے بارے میں مختلف تجربات کیے اور اپنی تھیوریز کو اخبارات میں چھپوایا۔ شروع میں کسی نے اس پر خاص توجہ نہ دی، لیکن جب 1960 ء میں لیزر لائٹ ایجاد ہوگئی تو 1964 ء میں پہلی ہولوگرام ویڈیو منظر عام پر آئی۔بعد میں اسی ٹیکنالوجی کو ایجاد کرنے کی وجہ سے 1971ء میں ڈینس گیبر کو فزکس کے شعبے میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔
آسٹریلوی سائنسدانوں نے ہولوگرام بنانے کی ایک ایسی ٹیکنالوجی ایجادکرلی ہے جسے استعمال کرتے ہوئے ایک اسمارٹ فون (موبائل) کی مدد سے ہولوگرافک ویڈیو کال کی جا سکے گی۔اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کالر کا ہولو گرام (عکس)موبائل کی سکرین کے اوپر نمودار ہوگا، یعنی کال کرنے والے کی شبیہہ یا مکمل حرکت کرتی تصویر موبائل کی اسکرین کے علاوہ تھری ڈی بلکہ سیون ڈی حالت میں دیکھی جا سکے گی۔
جد ید کمپیوٹر اور موبائل ٹیکنالوجی میں کامیابی کے بعد دنیا بھر کی دولت ”روپیہ“ پر قبضہ کرنا ہے جس پر 80فیصد کامیابی مل چکی ہے اب جب چاہیں کمپیوٹرٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا بھر کے امیر ترین شخصیات کو ایک سکینڈمیں غریب کرسکتے ہیں۔ اب دنیا بھر کے دریاؤں پر قبضہ کرنے کے منصوبے پر کام کیا جارہاہے۔امریکہ اپنے اتحادیوں کی مددسے دنیا بھر میں اس حوالے سے کئی منصوبوں پر کام کررہاہے۔ اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے چند برس درکار ہیں۔کئی مسلم ممالک کی معیشت تباہ، قتل وغارت گری کے بعد اب پاکستان پر مختلف طریقوں میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔آئندہ چند ماہ میں پاکستان میں سیاسی انقلاب کی پیش گوئی کی جارہی ہے۔ جس دوران سلام دشمن عناصر پاکستان کے قیمتی اثات جات پر قبضے کرنے کی کوشش کریں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف انٹرنیشنل جارحیت کا خطرہ ہے کیونکہ دہشت گردی، کا لیبل اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ چسپاں کرنے کا کھیل عالمی سازش کا حصہ ہے۔ جس کی خاکہ سازی اور انھیں برپا کرنے کی عملی تدابیر میں عالمی صہیونیت اور اسلام دشمن عناصر یہودیت کا پورا پورا ہاتھ ہے۔ جن کی چاپلوسی اور حکم برداری میں مسلم ممالک کے بعض اسلام بے زار حکمراں اور دیگر ممالک کی مسلم دشمن تنظیمیں پورے شدومد کے ساتھ اس کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کررہی ہیں اور وہ اسلام کو ”دہشت گرد“ مذہب اور مسلمانوں کو ”دہشت گرد“ قوم ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*