بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> یادِ ر فتگا ں

یادِ ر فتگا ں

یادِ ر فتگا ں
غلام مصطفےٰ مغل
فرمان ربی ہے کہ ”ہرنفس نے موت کا ذائقہ چھکناہے“ کئی لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ بعض لوگ مرتے نہیں بس وہ لوگ دنیا سے پردہ فرماجاتے ہیں حقیقت میں زندہ ہوتے ہیں تم لوگ ان کے متعلق شعور نہیں رکھتے۔ دنیا میں ہر روز لاکھوں انسان آتے ہیں اور اپنا وقت پوراکرکے چلے جاتے ہیں کچھ لوگ اپنی زندگی کو بے مقصد سمجھ کر نہیں گزارتے ان کی خواہش ہوتی ہے کہ آنے والی نسل کے لئے نیکی کا کوئی ایسا کام کرجائیں کہ آنے والی نسل اس سے استفادہ حاصل کرکے شمع سے شمع جلائے جانے والا سلسلہ جاری رکھیں‘دولت اور شہرت کمانا ان کا مقصدنہیں ہوتابلکہ انسانیت کی خدمت کرنے کو اپنا اولین فرض سمجھ کر زندگی گزارتے ہیں جب دنیا سے وہ لوگ پردہ کر جاتے ہیں تو ان کے متعلق شاعر کہتاہے کہ ”ایک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا‘ملکی سطح پر اگر شعبہ صحافت پر ایک نظر ڈالی جائے تو مولانا ظفر علی‘حمید نظامی‘ آغاشورش کشمیری‘ ریاض بٹالوی‘ عبدالکریم عابد‘مصطفےٰ صادق‘ نصراللہ خاں عزیز‘ صاحبزادہ خورشید گیلانی‘ وارث میرسمیت ایسی بے شمار شخصیات ہیں۔
اسی ضلع قصور سے تعلق رکھنے والے صحافیوں پر اگر ایک نظر ڈالی جائے تو ہفت روزہ گلستان قصورکے بانی وپریس کلب قصورکے بانی محمد اشرف واہلہ ایک ایسی شخصیت ہیں اگر چراغ لیکر ڈھونڈنا شروع کیاجائے تو شاید ان کے پائے کا صحافی مشکل سے ہی ملے۔ ان شخصیات نے صحافت کوذریعہ معاش نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر اپنایا تھا‘صحافت کی آڑمیں دولت اکٹھی کرنا ان کا مقصد کبھی نہیں رہا‘ضلع قصورکی صحافت سے اگر محمداشرف واہلہ مرحوم کا نام نکال دیاجائے تو پھر ملکی سیاست کی طرح گند ہی گندنظرآئے گا۔پریس کلب قصور کی طرف سے مرحوم کی وفات کے بعد منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیئرمین بلدیہ قصور حاجی ایازاحمدخاں مرحوم کے الفاظ راقم الحروف کو زندگی بھرنہیں بھولیں گے کہ انہوں نے کہا کہ ضلع قصور میں محمد اشرف واہلہ ایک ایسی شخصیت ہیں کہ ان کی غیر موجودگی میں آج تک کسی کو ان کی ذات پر تنقید کرتے نہیں دیکھایقینا ایسے شخص جنت کے حقدارہوتے ہیں۔
راقم الحروف کا تعلق ان سے ڈیڑھ دہائی رہا ہے۔میں نے ان میں خوبیاں ہی دیکھیں‘ ہر وقت ہنستا مسکراتا چہرہ میں نے آج تک نہیں دیکھا‘مہمان نوازی بھی ان کے اندر کمال درجے کی تھی‘ کمپرسی کی حالت میں آنکھ کھولی اور کمپرسی کی حالت میں آنکھ بند کی۔ پریس کلب قصورکے صدر‘چیئرمین‘ ہفت روزہ گلستان قصورکے مالک‘ڈسٹرکٹ رپورٹر اے پی پی‘ پاک اصلاحی کمیٹی رجسٹر ڈقصورکے جنرل سیکرٹری ہونے کی حیثیت سے مرحوم نے کبھی بھی ذاتی مفادحاصل کرنے کی کوشش نہیں کی ہاں اگر مفاد حاصل کیا بھی ہے تو پریس کلب اور اپنی طرف سے چلائے جانے والی فری ڈسپنسری کیلئے۔
ضلع قصورکے صحافیوں پر اگرایک نظرڈالی جائے تو وہ صحافت کی آڑمیں جو گل کھلا رہے ہیں وہ لکھنے اور بیان کرنے کے قابل نہیں ہیں جبکہ محمداشرف واہلہ مرحوم نے شعبہ صحافت کے پلیٹ فارم سے عوام کی جو خدمت کی اور کبھی بھی کسی پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش نہیں کی۔ضلع قصور کی بیوروکریسی اور عوامی حلقوں میں وہ ہمیشہ عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے جونیئرصحافیوں کیساتھ ان کی شفقت اور محبت کی مثال نہیں ملتی یعنی جونیئرکی راہنمائی کو اپنی عبادت سمجھتے تھے آج تو ہمارے ہاں سنیئر‘ جونیئرزکو برداشت کرنے کیلئے تیارنہیں ہیں۔
محمداشرف واہلہ کی وفات کے بعد جن مشکل حالات میں مرحوم کے بیٹے ذوالفقار اشرف واہلہ نے ”گلستان“ کی کمان سنبھال کر ثابت قدمی دکھائی‘ 2سال کا عرصہ گزرجانے کے بعد آج تک ”گلستان“ میں شائع ہونے والی خبروں میں یہ تاثر پیدا ہونے نہیں دیا کہ ان کے والد وفات پا گئے ہیں یعنی اپنے والد والی صاف و ستھری پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔
دلی دعاہے کہ اللہ تعالیٰ‘ ذوالفقار اشرف واہلہ کو تاحیات اپنے والدکے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔مرحوم محمد اشرف واہلہ کے دوست واحباب شیْخ محمدالیاس‘سید ریاض الدین شاہ‘اکبر مراد‘ ایم یسیٰن فرخ کمبوہ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ‘ راجہ محمدیونس کیانی ایڈووکیٹ‘ جاوید اقبال کھوکھر‘ حاجی محمداکرم مغل‘ مہر محمدعاشق‘ غلام ربانی حمزہ‘شیخ محمدخالد‘حاجی محمدیوسف کا فرض بنتاہے کہ وہ مرحوم کے بیٹے ذوالفقار اشرف واہلہ کے سرپر شفقت کا ہاتھ رکھ کراس کو والدکی کمی محسوس نہ ہونے دیں۔
راقم الحروف کی دعاہے کہ ”گلستان“ کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ پھول کی طرح خوشبو پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے اور ضلع قصور کے صحافیوں کو مرحوم کی صحافتی زندگی کے سنہرے اصولوں سے استفادہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔9اگست کے روز ان کو دنیا فانی سے کوچ کیلئے دو سال کا عرصہ گزر جائے گا لیکن میں سمجھتاہوں کہ نیک انسان کبھی بھی نہیں مرتے ان کی اچھی یادیں‘ اچھے کام ہمیشہ کسی نہ کسی صورت میں ان کو زندہ رکھتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*