بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> رمضان اوراعتکاف

رمضان اوراعتکاف

رمضان اوراعتکاف
حفیظ چوہدری
رمضان اور اعتکاف:رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے یعنی اگر محلہ کی مسجد میں ایک دو آدمی اعتکاف کرلیں تو پورے محلہ کی طرف سے ذمہ داری ادا ہوجائے گی۔ آخری عشرہ کے اعتکاف کے لئے بیس رمضان کو سورج ڈوبنے سے پہلے مسجد میں داخل ہونا ضروری ہے۔ اعتکاف کا اصل مقصد شب قدر کی عبادت کو حاصل کرنا ہے، جسکی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے۔ حضور اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرمایاکرتے تھے۔ ایک سال پورے ماہ رمضان کا اعتکاف فرمایا، جبکہ آخری رمضان میں آپ ﷺ نے 20 روز کا اعتکاف فرمایا۔معتکف کو بلا ضرورت شرعیہ وطبعیہ اعتکاف والی مسجد سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے۔معتکف کے متعلقین میں سے کوئی سخت بیمار ہوجائے یا کسی کی وفات ہوجائے یا کوئی بڑا حادثہ پیش آجائے یا معتکف خود ہی سخت بیمار ہوجائے یا اس کی جان ومال کو خطرہ لاحق ہوجائے تو معتکف کے مسجد سے چلے جانے سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا لیکن ایسی مجبوری میں چلے جانے سے گنا ہ نہیں ہوگا ان شاء ا للہ۔ البتہ بعد میں قضا کرلینی چاہئے۔
جب تم اس ماہ مبارک کے بیس دن اس طرح گزار دوکہ زبان پر کلام اللہ کی تلاوت ہویادرود شریف،سبحان اللہ یالاالہ الااللہ کاورد ہو،دل میں غریبوں کی ہمدردی ہو،اللہ کی یاد اور اس کاخوف ہو،نیک کاموں کی لگن زیادہ سے زیادہ ہوتوظاہر ہے آخری دس دن میں اس کے جلوے نمایاں ہونگے اب تم سُستی مت کرو،زیادہ مستعدہوجاؤاور کوشش کروکہ باقی دنوں میں اللہ تعالیٰ کاانعام اس کی رحمتیں اوراس کی برکتیں زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکو،آنحضرت ﷺ جن کی پوری زندگی پاک ہی پاک تھی اس عشرہ میں آپ کی چستی اورمستعدی اورزیادہ بڑھ جاتی تھی جیسے ہی یہ عشرہ شروع ہوتاآپ ﷺ کمر کس لیتے خود بھی رات بھر جاگتے اورگھر کے آدمیوں کوبھی جگاتے،اورفرمایاکرتے تھے کہ وہ مسلمان بہت بڑابدقسمت ہے کہ یہ ماہ مبارک آئے اور گزر جائے اور وہ اس عرصہ میں اپنے گناہ نہ بخشواسکے۔
اعتکاف:۔اچھی بات یہ ہے کہ ان دس دنوں میں تم اسی آقااور مالک کی ڈیوڑھی پر پڑجاؤجس کے حکم سے روزے رکھ رہے ہوجس نے روزوں پر بہت بڑااجروثواب کاوعدہ فرمایاہے اسی پڑجانے کواعتکاف کہتے ہیں دن رات مسجد ہی میں رہو،پاخانہ پیشاب کی ضرورت ہوتوباہر آکر پوری کر لوپھر فوراًاعتکاف کی جگہ مسجد میں پہنچ جاؤگویااپنے تمام بدن اوروقت کوخداکی عبادت کے لیے وقف کردو۔
۱۔اس کاپہلافائدہ یہ ہے کہ بہت سے گناہ جوملنے جلنے،بازار جانے اور آنے میں ہوتے ہیں ان سے محفوظ رہوگے۔
۲۔اپنے مالک اور مولاکی رضامندی کے لیے اسی مولاکے گھرمیں ٹھہرنااور پڑجاناخود عبادت ہے بس اعتکاف کے دنوں میں ایک ایک لمحہ کاتم کوثواب ملتارہے گااگر تم سو گئے تویہ وقت بھی عبادت میں صرف ہوااس کابھی تمہیں ثواب ملے گاکیونکہ تم اسی کی ڈیوڑھی پر پڑے ہوئے ہو۔
۳۔تم یہاں جماعت اور نماز کے اشتیاق میں بیٹھے ہولہذاہرلمحہ تمہیں نماز کاثواب مل رہاہے۔
۴۔مسجداللہ کاگھر ہے تم اس کے گھر میں پڑے ہوتواس کے پڑوسی اوراس کے مہمان ہو۔
۵۔تم فرشتوں سے مشابہت پیداکر رہے ہوکہ فرشتوں کی طرح ہر وقت عباد ت اور اللہ کی یاد میں لگے ہوئے ہو۔
۶۔بیمار کی تیمارداری،کسی پڑوسی کاسوداسلف بازار سے لادینا،کسی بیمار کی مزاج پُرسی کے لیے جانا،جنازہ میں شرکت کرنااور ایسے بہت سے نیک کام جس کے لیے مسجد سے جاناپڑتاہے وہ اعتکاف کے دنوں میں نہیں کر سکوگے لیکن اگر تم یہ کام کیاکرتے تھے توزمانہ اعتکاف میں بغیر کیے ہی ان کاثواب تم کوملتارہے گا۔
۷۔آنحضرت ﷺ کی سنت مبارکہ پر عمل ہوگاکیونکہ آپ نے اگرچہ کبھی پورے مہینہ اورآخری سال میں بیس روز کابھی اعتکاف کیاہے مگردس روزکااعتکاف توآپ ہمیشہ کرتے رہے ہیں اس لیے علماء نے اعتکاف کوسنت مؤکدہ فرمایاہے۔
۸۔جب اعتکاف کاہر لمحہ عبادت ہے تواگر ان دس دنوں میں شب قدر ہوئی توخودبخود اس کاعظیم الشان اجروثواب بھی تمہارے حصہ میں آئے گا
۹۔جماعت کی بڑی فضیلت ہے تومعتکف کے لیے ضروری ہے کہ اعتکاف ایسی مسجد میں کرے جس میں نمازپنجگانہ کی جماعت کاانتظام ہو۔
۰۱۔اعتکاف کرنے والاقسمت کاسکندر ہے کہ اللہ پاک کی لاتعدادنعمتوں کووہ حاصل کر رہاہے۔
جب اعتکاف ختم ہوگا تو زباں یہ کہتی پھرے گی
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھا رہوں تصور جاناں کیے ہوئے
پھر بھی جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑا رہوں
سر زیر بار منت درباں کیے ہوئے
حضرت عبد اللہ بن عبا سؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کرنے والے کے بارے میں فرمایا کہ وہ اعتکاف کی وجہ سے مسجد میں مقید ہوجانے کی وجہ سے گناہوں سے بچا رہتا ہے اور اس کا نیکیوں کا حساب ساری نیکیاں کرنے والے بندے کی طرف جاری رہتا ہے اور نامہ اعمال میں لکھا جاتا رہتا ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*