بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> سرور کائنات وسیدناحضرت محمدﷺ کے اسوہ حسنہ

سرور کائنات وسیدناحضرت محمدﷺ کے اسوہ حسنہ

سرور کائنات وسیدناحضرت محمدﷺ کے اسوہ حسنہ
تحریر۔حافظ عثمان علی معاویہ

انسانوں کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ انھیں نیکی اور بدی میں تمیز سکھائی جائے۔ ان میں جو برائیاں پائی جاتی ہیں انھیں دور کر کے نیکی کا رستہ دکھایا جائے۔ ان کی اخلاقی حالت کو بہتر بنا کر انھیں پاکیزہ کردار کا مالک بنایا جائے۔ اس مقصد کے لئے وعظ و نصیحت کے ساتھ لازم ہے کہ ان کے سامنے بلند اخلاق اور پاکیزی کردار کا ایسا کامل نمونہ پیش کیا جائے جس کی پیروی کر کے وہ اپنی زندگی کو سنوارسکیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی تمھارے لئے بہتر ین نمونہ ہے۔ حضور ﷺ کے نقش قدم پر چل کر ہی انسان بلند اخلاق کا مالک بن سکتا ہے۔حضور ﷺ کے اخلاق اس قدر بلند تھے کہ دوست تو دوست بد تر دشمن بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ جانی دشمنوں کو معاف کردینا، غلاموں اور کنیزوں سے اچھا سلوک کرنا، بیماروں کی عیادت کرنا، کمزوروں اور ضعیفوں کو سہارا دینا اور اپنے پرائے سبھی کے ساتھ شفقت اور نرمی کا برتاوکرنے کی بے شمار مثالیں حضور اکرم ﷺ کی زندگی میں ملتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس خاکی انسان کو روحانی غذا پہنچانے کیلئے ہر زمزں، مکان،لسان اور بیابان میں نبی بھیجے۔ جو اپنے فرائض کی تکمیل کیلئے سر خرو ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ آخر ایام میں امام الانبیآء سرورکائنات جناب حضرت محمد ﷺ تشریف لائے۔ آنے کو توسب سے آخر میں آئے۔ جب کہ سب جانے کیلئے آئے لیکن آپﷺ آنے کیلئے آئے۔ یہاں تک کہ اس دنیا میں تشریف لیجانے کے باوجود آپ کے خاتم النبیین کی برکت سے تبلیغ دین کاکام آپ کی امت کے علماء انجام دے رہے ہیں اور قیامت تک دیتے رہیں گے۔
اللہ رب العزت کا ارشاد پاک ہے۔ ترجمہ۔ اے محمد ﷺ کہو کہ اے انسانو!میں تم سب کی طرف اْس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے“(الا عراف۸۵۱) ”درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول ﷺ میں ایک بہترین نمونہ ہے،ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوارہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے“(الاحزاب۱۲) مسلم کی حدیث ہے کہ ایک دفعہ چند صحابہ ؓ نے حضرت عائشہ ؓ ام المومنین سے عرض کیا کہ آپ نبی اکرم ﷺ کے کچھ حالات زندگی ہم کو بتائیں عائشہ صدیقہؓ نے تعجب سے دریافت کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا جو مجھ سے خلق نبی ﷺ کے متعلق سوال کرتے ہو؟(مسلم)یعنی آپ ﷺ کی ساری زندگی قرآن تھی۔ اسماء صفات والقاب کے علاوہ محمد ﷺاور ا حمد کے نام سے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو قرآن شریف میں یاد کیا ہے۔حضرت آدم ع سے لیکر حضرت محمد ﷺ تک تمام پیغمبروں نے اپنے اپنے طور پر اللہ کے حکم کے مطابق اللہ کا پیغام اللہ کی مخلوق تک پہنچایا مگر اس تما م پیغام کو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ کی دعوت میں یکجاکر کے قرآن شریف میں درج کر دیا اور کہہ دیا کہ میری مخلوق کے لیے میرا یہ آخری پیغام،آخری پیغمبرﷺکے ذریعے ہے جو قیامت تک رہے گا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بشارت سنا دی کہ آج میں نے دین مکمل کر دیا ہے میری مخلوق قیامت تک اس پر عمل کرکے نجات پا جائے گی۔اب کسی پیغمبر نے نہیں آنا ہے اس دین کو امت مسلمہ نے قائم رکھنا ہے۔۹ربیع لاول مطابق۰۲اپریل۱۷۵ ء(الر حیق المختوم) کی صبح مکہ کے ایک معزز قبیلہ قریش(بنی ہاشم) میں عبداللہ بن عبدالمطلب کے گھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے آپﷺ کی والدہ کا نام آمنہ تھا ولادت سے پہلے ہی والد کا انتقال ہو گیا تھااللہ نے قرآن شریف میں فرمایا ”بھلا اس نے تمہیں یتیم پا کر جگہ نہیں دی“(الضحیٰ۶) عرب کے رواج کے مطابق آپ ﷺ کو بھی بنی سعد کی بدوی عورت حضرت حلیمہؓ کے حوالے کیا گیا تاکہ صحت مند ہو اور خالص اور ٹھوس عربی زبان سیکھ سکے حضرت حلیمہ کہتی ہیں کہ اس بچے کے آنے سے ہم آسودہ حالات ہو گئے جب کہ پہلے بہت ہی تنگ دستی تھی وہیں پر واقعہ شق صدر پیش آیا حضرت جبرائیل ع نے آپ ﷺ کا سینہ چاک کر کے زمزم کے پانی سے دھو کر اسی جگہ رکھ دیا۔اس کے ایک سال بعد آپ ﷺ کو اپنی والدہ آمنہ کے حوالے کر دیا گیا۔ کچھ مدت کے بعد آپ ﷺ کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ دادا عبدالمطلب کے بعدابوطالب نے اپنے بھتیجے کا حق کفالت بڑی خوبی سے ادا کیا ۰۴ سال تک قوت پہنچائی جب تک ابو طالب زندہ رہے کسی کو جرات نہ تھی کہ رسول ﷺ کو زک پہنچائے.آپ ﷺ کی عمر جب ۵۳ سال ہوئی اس وقت ایک واقعہ پیش آیا قریش نے خانہ کعبہ کی تعمیر نو کا پروگرام بنایاقریش نے فیصلہ کیا خانہ کعبہ کی تعمیر پر حلال پیسے خرچ کریں گے اس سے ثابت ہوتا ہے حرام حلال کی تمیز ان میں تھی مگر دولت کی ہوس نے انہیں نابیناکیا ہوا تھاجب حجر اسود کو اپنی جگہ رکھنے پر جھگڑا شروع ہو گیا تو ہر قبیلہ اس کو رکھنے پر زور دے رہا تھا بات اس طرح طے ہوئی کہ کل جو سب سے پہلے خانہ کعبہ میں داخل ہو گا اس کو حکم مان لیں گے اللہ کی مشیت دوسرے دن رسول ﷺ سب سے پہلے خانہ کعبہ میں داخل ہوئے لوگ مان گے کہ یہ امین ہے ہم اس پر راضی ہیں آپ ﷺ نے ایک چادر طلب کی حجر اسود کو خود اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر چادر پر رکھا پھر سب قبائل کے سرداروں سے کہا کہ آپ سب چادر کے کنار ے پکڑیں اور رکھنے کی جگہ لیں جائیں پھر اپنے ہاتھ سے حجر اسود کو اٹھا کر مقررہ جگہ پر رکھ دیا اس طرح جھگڑا ختم ہو گیا۔آپ نے اپنی زندگی کے ۵۲ سال گزارنے کے بعد حضرت خدیجہؓ سے شادی کی شادی کے ۵۱ سال بعد اللہ نے پیغمبر بنایا۔ پیغمبر ی کے ۳۱ سال مکہ میں اللہ کا پیغام اللہ کے بندوں تک پہنچانے کے بعد مدینہ ہجرت کی اور زندگی کے بقایا ۰۱ سال مدینہ کے اندر گزارے۔ ۳۶ سال کی عمر میں وفات پائی۔آپ ﷺ دور شباب میں ہی خلوت پسند ہو گئے تھے اور قوم کی بت پرستی کو دیکھ کر پریشان ہوتے تھے غار حرا میں جاکر اللہ کی عبادت کرتے تھے۔
وحی کا نزول:۔ ایک روز اللہ نے ا پنے فرشتے حضرت جبرائیل کو وحی کے ساتھ بیھجا اور فرشتے نے کہا پڑھ اللہ کے نام سے،مگر آپﷺ نے کہا میں پڑھ نہیں سکتا۔ ”پڑھو(اے بنی) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا،جمے ہوئے خون کے ایک لو تھڑے سے انسان کی تخلیق کی، پڑھو،اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا،انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا“ (العلق۱۔۵) ان آیات کے بعدر سولﷺ کا دل دھک دھک کر رہا تھا حضرت خدیجہؓ کے پاس تشریف لے گئے اور کہا مجھے چادر اڑھا دو انہوں نے چادر اوڑھا دی یہاں تک کہ خوف دور ہو گیا۔حضرت خدیجہؓ آپ ﷺکو اپنے چچرے بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں رسولﷺ نے سارا واقعہ انہیں سنایا اس نے کہا یہ تو وہی ناموس ہے جسے اللہ نے موسیٰ ع پر نازل کیا تھا کاش میں اس وقت زندہ ہوتا اور آپ ﷺ کی مدد کرتا جب آ پ ﷺ کو قوم نکال دے گی آپﷺ نے فرمایا قوم مجھے نکال دے گی ورقہ نے کہا جو کوئی بھی ایسی چیز لے کر آتا ہے جو آپ ﷺلے کر آئے ہیں لوگ اسے نکال دیتے ہیں۔اس کے بعد مسلسل ۳۲ سال تک آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی رہی۔ قرآن شریف میں ہے
”کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اس سے روبرو بات کرے اس کی بات یا تو وحی(اشارے) کے طور پر ہوتی ہے یا پردے کے پیچھے سے یا پھر وہ کوئی پیغام بر(فرشتہ) بھیجتا ہے
اور وہ اس کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتا ہے وحی کرتا ہے“(لشوریٰ۱۵) ۳۲ سال کی مدت میں قرآن شریف کا نزول مکمل ہوا۔ آپ ﷺ کو اللہ نے بشیر و نذیر بنا کر انسانیت کے سامنے پیش کیا آپ ﷺ نے نبوت کی ۳۲ سالہ زندگی میں اللہ کے کلام کو اللہ کی مخلوق تک انتھک طریقے سے پہنچایا اور اللہ نے اپنے پیارے نبیﷺ سے کہا میں نے دین مکمل کر دیا ہے اب رہتی دنیا
تک یہ دین قائم ودائم رہے گا کوئی دنیا کی طاقت اس کو مٹا نہیں سکے گی آپﷺ نے قریش کو اللہ کاپیغام پہنچایا تو وہ طرح طرح کے الزامات لگانے پر تل گئے۔ آپ ﷺ کو جادو گر،کاہن،شاعر اور نہ جانے کیا کچھ کہا مگرآپ ﷺ اپنے کام میں لگے رہے۔
دارالرقم میں دعوت کے پہلے ۳ سال:۔ نبوت کے پہلے ۳ سال خفیہ طریقے سے خاص خاص لوگو ں کو اللہ کی دعوت پہنچاتے رہے مرکز حضرت ارقمؓ کے گھر کو بنایا شروع دنوں میں حضرت خدیجہؓ،حضرت علیؓ،حضرت ابوبکر ؓ حضرت زیدؓ یہ سب پہلے ہی دن مسلمان ہو گے تھے اس کے بعد حضرت ابو بکرؓکی محنت سے حضرت عثمانؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت عبدالر حمٰن ؓ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت طلحہ بن عبیدؓ مسلمان ہوئے یہ بزرگ اسلام کا ہراول دستہ تھے آہستہ آہستہ تعداد بڑھتی گئی حضرت بلال ؓ، حضرت ابو عبیدہؓ بن جراح، ابو سلمہ بن عبدالاسد،ارقم بن ابی الارقم، عثمان بن مطعون اور ان کے دونوں بھائی قدامہؓ اور عبداللہ، عبیدہ بن حارثؓ، سعید بن زید ان کی بیوی فاطمہؓ،خباب بن ارت،عبداللہ بن مسعودؓ، اور دوسرے افراد مسلمان ہوئے یہ اصحاب قریش کی تمام شاخوں سے تعلق رکھتے تھے جن کی تعداد ابن ہشام نے۰۴ سے زیادہ بتائی ہے۔مقاتل بن سلیمان کہتے ہیں کہ اللہ نے ابدائے اسلام میں دو رکعت صبح اور دو رکعت شام کی نماز فر ض کی ”صبح اور شام اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو“(المومن۵۵) اس کے بعد ۲سال تک جب جب اللہ کے کلام میں زیادہ توحید رسالت اور آخرت کے دلائل آنا شروع ہوئے تو مخا لفت بھی نسبتاً زیادہ ہوتی گئی بعد کے ۵سال اس مخالفت نے بہت زیادہ شدت اختیار کر لی بلا آخر مکی زندگی کے بقایا ۳ سال میں اہل قریش نے آپ کو قتل کرنے اور بستی سے نکال دینے کے منصوبے بنا لیے لیکن اللہ نے انصار مدینہ کے دل نرم کر دیے اور آپﷺ مدینہ ہجرت فرما گے۔
مدینے میں مشکلات:۔رسول ﷺ کو مدینے میں بھی آرام سے اللہ کے دین کوپھیلانے کے لیے نہ چھوڑا گیا طرح طرح سے رکاوٹیں ڈالی گئیں بدر، احد اور خندق کی جنگ کی،جنگ خندق کے موقعے پرتمام عرب کے مشرکوں نے مدینے کا محاصرہ کیا بنو قریظہ نے معاہدے کے باوجود مشرکین سے ساز باز کی یہود نے دین کے راستے میں رکاوٹیں ڈالیں عبداللہ بن ابی منافق اعظم نے اپنی ہر کوشش کی مگر اللہ نے اپنے دین کو اپنے رسول ﷺ کے ذریعے قائم کرنا تھا چاہے مشرکوں کو کتنا بھی ناگوار ہو۔اللہ کے رسول ﷺ نے مکہ میں صحابہؓ
کی جان نثار ٹیم تیار کی ان کی اور انصارِمدینہ کی مدد سے عرب میں اللہ کے دین کو قائم کیا اللہ نے دین کے تمام احکامات کو مختصر سی مدت ۳۲ سال کے عرصے میں نازل فرمایا۔
فتح مکہ:۔جب مشرکین مکہ نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو رسولﷺ نے مکہ پر چڑھائی کا پروگرام بنایامگر اس کو اخفا رکھا قریش نے ابو سفیان کو صلح کا سفیر بنا کر رسول ﷺ کے پاس مدینہ بھیجا وہ اپنی بیٹی ام حبیبہؓ ام المومنین کے پاس گیا مگر اس نے ابو سفیان کو بنی کے بستر پر نہیں بیٹھنے دیا۔ رسول ﷺ کے پاس حاضر ہوا مگر آپ ﷺنے کوئی جواب نہیں دیاابو بکرؓ کے پاس گیا
انہوں نے رسول ﷺ سے بات کرنے کو کہا عمرؓ کے پاس گیا انہوں نے سختی کا اظہار کیا آخر میں علیؓ کے پاس گیا انہوں نے کہا لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر امان کا اعلان کر دو۔چنانچے مسجد میں کھڑے ہو کر اعلان کیا ”میں لوگوں کے درمیان امان کا اعلان کر رہا ہوں“ پھر مکہ چلا گیا۔ رسول ﷺ نے ۰۱ رمضان ۸ ھ ۰۱ ہزار صحابہؓ کے ساتھ مکہ کا رخ کیا۔اسی دوران حضرت عباسؓ اسلام لائے عباسؓ ابوسفیان کو رسول ﷺ کے پاس لیکر گئے اور ابو سفیان بھی اسلام لے آئے حضرت عباسؓ نے رسول ﷺ سے کہاابوسفیان اعزاز پسند ہیں ان کو کوئی اعزاز دے دیں چنانچے رسولﷺ نے کہا رسول ﷺ نے کہا جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اسے امان ہے جو اپنے گھر اندر سے بند کر لے اسے امان ہے جو خانہ کعبہ میں داخل ہو جائے اسے امان ہے۔رسول ﷺ نے لشکر کو مختلف راستوں کی طرف سے مکہ داخل ہونے کا حکم دیا جب رسول ﷺ کا لشکر مکہ میں داخل ہوا تو قریش مقابلہ نہ کر سکے آپﷺ نے عام معافی کا اعلان کیا خانہ کعبہ میں داخل ہو کر سب بتوں کو توڑ ڈالا حضرت بلال ؓ نے خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دی رسول اللہ نے شکرانے کے نفل اداکئے صرف ۹ دشمانان اسلام کو قتل کا حکم ہوا جس میں سے ۵ کی جان بخشی ہوئی انہوں نے اسلام قبول کیا ۴ کو قتل کر دیا گیا۔بت پرستی کا کام تمام کر دیا گیا اس کے بعد لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونا شروع ہوئے خطبہ حجۃ الوداع:۔ رسول ﷺ نے پہلے اللہ کی کبریائی بیان کی پھرفرمایا جاہلیت کے تمام دستور میرے پاؤں کے نیچے ہیں،عربی کو عجمی سفید کو سیاہ پر کوئی فضلیت نہیں مگر تقویٰ،مسلمان بھائی بھائی ہیں،جو خود کھاو? غلاموں کو کھلاؤ،جاہلیت کے تمام خون معاف،سود پر پابندی،عورتوں کے حقوق،ایک دوسرے کا خون اور مال حرام،کتاب اللہ کو مضبوطی سے پکڑنے کی تاکید،حقدار کو حق،لڑکا اس کا جس کے بستر پر پیدا ہوا، اس کے بعد ایک لاکھ چالیس ہزار انسانوں کے سمندر کو آپ ﷺنے فرمایا میر ے بعد کوئی بنی نہیں ہے اللہ کی عبادت کرنا پانچ وقت کی نماز رمضان کے روزے زکواۃ اللہ کے گھر کا حج اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرنا جنت میں داخل ہو گے۔تم سے میرے متعلق پوچھا جانے والا ہے صحابہؓ نے کہا آپ نے تبلیغ کر دی، پیغام پہنچا دیا حق ادا کر دیا۔یہ سن کر شہادت کی انگلی کو آسمان کی طرف اٹھایا اور کہا اے اللہ آپ بھی گواہ رہیئے۔
دین یعنی دستور عمل مکمل ہو گیا:۔اس خطبے، کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں ”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بحیثیت دین پسند کر لیا“ (المائدہ۳)اب رہتی دنیا تک یہ ہی دین غالب رہے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*