بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> آج کے دور میں صبر کی شدید کمی ہے

آج کے دور میں صبر کی شدید کمی ہے

آج کے دور میں صبر کی شدید کمی ہے
(ابنِ نیاز)
ہم کیا کچھ سوچتے ہیں اور اس امید کے ساتھ کہ جو کچھ ہمارے ذہن میں ہے وہ سب ہم کر سکتے ہیں یا کرکے چھوڑیں گے۔ لیکن یہ کبھی نہی سوچتے کہ انسان بنائے خدا ڈھائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب ہم اپنے ارادوں میں ناکام ہوجاتے ہیں تو اپنی قسمت کو کوستے ہیں اور خدا پر نعوذ بااللہ شکوے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کہ اس نے صرف ہمارا گھر ہی دیکھا ہوا ہے، یا میں ہی اسے نظر آتا ہوں وغیر ہ وغیرہ۔ کسی نہ کبھی اپنے پر غور نہیں کیا کہ انھوں نے کس چیز کا ارادہ کیا تھا۔ وہ کام جائز تھا، ناجائز تھا، اس کی کوئی تک بھی بنتی تھی یا بس دنیا کے لوگوں کی وجہ سے اسنے اسے حاصل کرنے کا ارادہ کر لیا۔ بات یہ نہیں ہے کہ ارادہ صحیح تھا یا غلط، بات یہ ہے کہ جب قرآن کہتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، تو پھر اپنے ارادے کے ٹوٹ جانے کے بعد وہ کفر کی حدوں کو کیوں چھونے لگ جاتا ہے۔کفر صرف یہ ہی نہیں ہے کہ اللہ کی ذات پاک میں کسی کو کسی بھی لحاظ سے شریک کیا جائے۔ کفر کا لفظی مطلب ہے حقیقت پر پردہ ڈالنا۔ تو جب آپ اللہ کے حکم سے کو ہی مان نے سے انکار کر دیتے ہو، تو کیا یہ کفر کی ادنیٰ شکل نہیں ہو گی۔ اور جب بار بار اس کا تکرار کرو گے بغیر توبہ کے تو بات کہاں تک پہنچ سکتی ہے، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
برداشت کا مادہ ہم میں سے بالکل ختم ہو چکا ہے۔ ہلکی سی تکلیف آتی نہیں اور صبر و برداشت کا دامن چھوڑتے ہوئے گلے شکوے شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر اتفاق سے یہ تکلیف تھوڑا زیادہ عرصہ رہ جائے تو پھر نہ صرف اللہ کی ذات سے شکوے شرورع ہو جاتے ہیں بلکہ اردگرد رہنے والے قریب افراد بھی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر چڑچڑا ہٹ کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ہر دوسری بات پر غصے کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اگر کسی سے کوئی معمولی سی غلطی ہو جاتی ہے تو وہ گویا رائی کا پہاڑ بن کر اس بندے کے سامنے آتا ہے۔ کسی دوکاندار سے اگر کوئی گاہک دوبارہ کچھ پوچھ لے تو اس کا پارہ سو سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ کسی کی کوئی معمولی بات بھی برداشت نہیں ہوتی۔ پریشانی دراصل امتحان کا دوسرا نام ہے اور امتحان یا آزمائش اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور ہم اس کی مخلوق اسی سے گلہ کرنے لگ جاتے ہیں جو کہ ”جسے چاہتا ہے بغیر حساب کتاب کے رزق دیتا ہے۔“
کبھی کسی نے یہ دیکھا کہ وہ جس سے مانگ رہا ہے اس نے کبھی کچھ بھی دینے میں بخل سے کام لیا ہے؟ نہیں۔ کبھی نہیں۔ اگرچہ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ کم ہے۔ وہ غریب ہے تو دوسرا امیر ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کے انصاف میں کوئی کمی ہے، نہیں بلکہ چند چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ہماری حالت یہ ہوتی ہے۔ ایک تو انسان کے اپنے اعمال۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے اعمال ایسے ہوں جن سے بندوں کی حق تلفی ہوتی ہو۔ خدا کی عبادت لوگوں کو دکھانے کے لیے کرتا ہو یعنی ریاکار۔ لیکن اگر کوئی کہتا ہے کہ نہ تو وہ بندوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالتا ہے نہ ہی وہ ریاکاری کرتا ہے (یہ کوئی بھی شاید نہ بتا سکے) لیکن پھر بھی وہ غریب ہے تو دوسری وجہ یہ ہے کہ اس پر اللہ کی طرف سے یہ بھی ایک آزمائش ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ بعض بندوں کہ نہ دے کر بھی آزماتا ہے کہ وہ اس کا شکرکس حد ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہر ایک کا ظرف بڑا نہیں ہوتا۔ اور بجائے شکر ادا کرنے وہ الٹا اللہ تعالیٰ سے گلے شکوے شروع کر دیتا ہے۔ کہ وہ اتنی دعا بھی کرتے ہیں، اتنی محنت بھی کرتے ہیں، لیکن پھر بھی ان کے نصیب میں یہ تنگی، یہ سختی ہی لکھی ہوئی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اگرچہ غفور الرحیم ہے اس میں کوئی شک بھی نہیں، لیکن ایسے شخص کو کیا کہا جائے گا جاہل، یا بد قسمت۔
دوسری طرف اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی آزماتا ہے جس کو دولت میں تول دیا جاتا ہے۔کہ وہ پہلے تو اس دولت کو کیسے استعمال کرے گا۔ جائز کاموں میں یا ناجائز کاموں میں۔ پھروہ اس دولت کے حاصل ہونے کو اللہ کا کرم کہہ کر اس کا شکر ادا کرے گا، اور کرتا رہے گا یا اپنے زورِ بازو کا کمال گردانے گا۔ یہ بھی ایک امتحان ہی ہوتا ہے۔ اگر کوئی دولت مند ہے تو وہ لازمی نہیں کہ ہمیشہ ہی خوشحال ہو اور یہ بھی لازمی نہیں کہ جو غریب ہے وہ ہمیشہ ہی پریشان ہو۔ اکثر دیکھا گیا ہے ایک امیر آدمی ساری ساری رات کروٹیں بدلتا رہتا ہے، اس کو ایک منٹ کی نیند بھی نہیں آتی، جبکہ ایک غریب آدمی روکھی سوکھی کھا کربھی ایک سخت کھردری چٹائی پرزمین پر سو کر بھی اتنی پرسکون نیند سوتا ہے کہ لوگ ترس جاتے ہیں۔
یہ تو ہوا اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے صبر کا ذکر۔ اب جو دنیا میں عدم برداشت کا مظاہر کیا جاتا ہے، صبر کا دامن چھوڑ دیا جاتا ہے اور چھوٹی سی چھوٹی بات پر ہاتھا پائی شروع کر دی جاتی ہے یا کم از کم گالم گلوچ تو ضرور ہی کی جاتی ہے۔ راہ چلتے غلطی سے ٹکر لگ گئی، ”اوئے اندھے ہو، دیکھ کر نہیں چلتے۔“ حالانکہ اگلے نے معذرت بھی کر لی ہوتی ہے، لیکن جو معذرت کرتا ہے، اس پر اور چڑھائی شروع کر دی جاتی ہے۔
کہنا صرف یہ تھا کہ صبر۔ االلہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ کسی بھی حالت میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔چاہے کچھ بھی ہو جائے اور ہر حالت میں اس رب کا ذکر اور اسکا شکر ادا کرتے رہیں۔ اور دل میں یہ یقینِ کامل رکھیں کہ جو کچھ بھی آپ پر بیت رہی ہے وہ سب، اسکا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اور اسکی حکمتوں سے کوئی بھی، کوئی بھی واقف نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنے کسی مقرب بندے کو اسکا عشرِ عشیر الہام کر دے۔ ورنہ سب رب کا ہے۔ اللہ سب کو صبر و شکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے، آمین۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*