بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> وہاں حرام ۔یہاں حلال
حرام

وہاں حرام ۔یہاں حلال

وہاں حرام ۔یہاں حلال
(ابنِ نیاز)
باثوق ذرائع کے مطابق چالیس سرکاری اداروں کی نجکاری ہونے جا رہی ہے جن میں پاکستان سٹیل مل، سوئی گیس کے ادارے، بجلی کے تقسیم کار ادارے ، او جی ڈی سی ایل وغیرہ شامل ہیں۔ جب کہ وزیرِ خزانہ اسد عمر صاحب نے صرف چھ ماہ پہلے ببانگِ دہل اپنے ایک بیان میں کہا تھا ، جو کہ آن ریکارڈ موجود ہے ، کہ ان کی حکومت سرکاری اداروں کی نجکاری کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ بلکہ تجربہ کار اور پیشہ وار افراد لا کر قومی اداروں کو ملک کے لیے منافع بخش ادارے بنائے جائیں گے۔ لیکن دکھ ہوتا ہے جب ملک کی ٹاپ موسٹ منیجمنٹ یعنی ملک کے چیف ایگزیکٹیو ہی اس طرح کے فیصلے کریں جن کے بارے میں خود کہا کرتے تھے کہ سابقہ حکومت یہ کام کرکے غلط کر رہے ہیں۔اب خود ہی ان پر عمل کیا جا رہا ہے۔یہ تو وہی شیخ صاحب کا فلسفہ ہو گیا کہ جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے۔ یعنی جو آپ کریں تو جائز ٹھہرا اور جب دوسرے کر رہے تھے تو اس وقت شدید ترین اختلاف تھا۔ لیکن آخر قومی اداروں کو درست کرنے کی بجائے، ان کو منافع بخش ادارے بنانے کی بجائے تان ان کو بیچنے پر ہی کیوں ٹوٹتی ہے۔ چاہے وہ آپ کی حکومت ہو یا گذشتہ حکومت۔ میرے خیال میں تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ان اداروں کو خریدنے میں دلچسپی رکھنے والے زیادہ ترافراد حکومتی نمائندوں کے اپنے ہی قریبی عزیز، رشتہ دار یا تعلق دار ہوتے ہیں۔ اس وقت جو صورتحال سامنے ہے مجھے یقین ہے کہ کم از کم دس بارہ ادارے خریدنے والا بھی اور کوئی نہیں، آپ کا اپنا اے ٹی ایم ہو گا ۔
یہ خبر اخبارات اور ٹی وی چینلز کے مالکان تک تو پہنچ چکی ہو گی، لیکن یہ ہدایات بھی مل گئی ہوں گی کہ اس خبر کو افشا نہیں کرنا۔ ورنہ نتیجہ ڈان لیکس کے طور پر بھی نکل سکتا ہے۔خیر ہو بھئی جائے افشا تو فرق کوئی نہیں پڑنا، کیونکہ یہاں کے کل پرزے بہت چالو ہیں۔ ہر بڑے بندے کو بلیک کرنے کا کوئی نہ کوئی راز ان کے پاس خفیہ تجوریوں میں رکھا ہوتا ہے۔ تب ہی تو یہ مالکان اور دوسرے میڈیا نمائندگان اپنے خزانے بھر پاتے ہیں۔ کوئی بھی خبر لے کر کسی کے پاس چلے جاتے ہیں کہ یہ خبر ملی ہے، اگر نہیں چاہتے کے چینل پر چلے یا اخبار میں شائع ہو تو ۔۔۔۔۔ جیب کو خارش کرنا شروع کر دیتے ہیں یا پھر کوئی بریف کیس ساتھ ہوتا ہے تو اس کو بجانا شروع کر دیتے ہیں۔پھر جیب بھی بھری جاتی ہے اور بریف کیس بھی۔ لیکن یہ صاحبان بھی بہت خوب ہوتے ہیں اس کو بھلے اصل کے ساتھ ساری ننانوے اعشاریہ نو فیصد کاپیاں عنایت کر دیتے ہیں اور اعشاریہ ایک فیصد کاپی اپنے پاس انتہائی خفیہ طور سنبھال رکھتے ہیں کہ مبادا بڑے صاحب کسی دن موڈ خراب کر بیٹھیں تو پھر ان کی دم پر پاؤں رکھ لیا جائے۔
آخر ہم کب پاکستان کا، پاکستان کے عوام کا سوچیں گے۔ کب ہم اس سوچ اور خیال سے نکلیں گے بس اپنے ہی پیٹ کی آگ بجھانی ہے، اپنی ہی تجوریوں کوبھرنا ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے کچھ اندھے تقلید والے بھی کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں جو اپنے ایسے سینئیرز کی ہر بات کو حرف آخر اور سچ سمجھتے ہیں۔ اور پھر اس کا دفاع ایسے کرتے ہیں جیسے وہ قرآن کے حروف ہوں اور بالکل سچ ہوں اور ان ان سے دفاع میں کوئی بھول چوک کہیں نہ ہو جائے۔ اس کی وجہ ہے کہ انھوں نے بھی مستقبل میں ایک سیاستدان بننا ہے اور اپنے گھروں میں تجوریاں تعمیر کرنی ہیں جن کو بھرنے کے لیے رنگین کاغذات چاہیے ہوتے ہیں جن پر قائدِ اعظم کی تصویر سرکاری چھاپہ خانے سے چھپی ہوئی ضروری ہوتی ہے۔ بہت سے ایسے کام ہیں جو ن لیگ دور میں یا پیپلز پارٹی دور میں غیر قانونی تھے، ناجائز تھے ، اب ان کو جائز قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یوٹرن نہیں ہے جو کہ بقول شخصے اچھی منیجمنٹ کے لیے ضروری ہوتا ہے، بلکہ اپنے لوگوں کو نوازنا ہے۔ اس کی وجہ وہی جاگیردارانہ نظام، بس فرق صرف اتنا ہے کہ اب اس نظام میں پڑھے لکھے لوگ زیادہ شامل ہو گئے ہیں۔ لیکن دولت کی ہوس، اقربا پروری اور تعلق داری کو ابھی بھی ختم نہیں کیا گیا۔ تین چار وزراء سے استعفیٰ دلوانا اپنی حکومت کو انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام لکھوانے کے برابر ہے۔ نہ کہ مکمل شہادت۔اعلان تو ویسے بھی کیا جا چکا ہے کہ مڈٹرم الیکشن ناممکن نہیں۔کیونکہ جو حکومت کمزور بنیادوں پر کھڑی ہو، جس میں شامل ہر پارٹی اپنی مرضی کے مطالبات پورے کرواتی ہو، تو حکومت کتنی طاقت ور ہو گی۔ ہاں اگر ان پارٹیوں میں محبت وطن افراد ہوتے تو پھر ممکن تھا ، بہت ممکن تھا کہ پاکستان ترقی کرتا۔ نیا پاکستان ضرور بنتا۔ لیکن آج آٹھ ماہ ہونے کو آئے ہیں، کچھ بھی عوام کے مفاد میں نظر نہیں آرہا ۔ جو ہیلتھ کارڈ جاری کیا گیا ہے وہ بھی بنیادی طور پر گذشتہ حکومت کا کارنامہ ہے یہ الگ بات ہے کہ اس پر مضبوط طور پر عمل نہیں ہو سکا۔اب بھی کیا عمل ہونا ہے۔ ہر ایم این اے یا کسی علاقے کا بڑا آدمی جو خرچوں سے گھبراتا ہے، غریبوں اور لاچاروں کا حق مارے گا۔ ہیلتھ کارڈ اپنے من پسند افراد کے ناموں پر جاری کروائے گا اور فائدہ اٹھائے گا۔
مجھے دکھ اس پاک وطن کے عوام پر ہوتا ہے۔ جو جانتے بوجھتے بھی بھڑکتی آگ میں چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ اپنے لیڈر کے ہر فضول کام کی ایسی ایسی توجیح دیتے ہیں کہ بے اختیار داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ اگر اپنی اسی عقل مندی کو وہ پاکستان کی بہتری کے لیے کچھ اچھے اور محب وطن افراد کو آگے لانے میں استعمال کرتے تو کیا کہنے تھے۔ لیکن یہاں ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، مہنگائی کا خود ساختہ طوفان چلایا جا رہا ہے لیکن یہ عوام اپنے کانوں کو جھاڑ کر اپنے کام میں مگن ہو ئے جاتے ہیں۔ اگر ایوب دور میں ایک آنہ چینی مہنگا ہونا پر احتجاج ہو سکتا تھا تو آج جب مہنگائی آئے روز بڑھتی جا تی ہے تو یہ عوام کیوں سو جاتے ہیں۔ اگر جمہوریت ہے تو پھر جمہور اپنا حق کیوں استعمال نہیں کرتے۔ چالیس تو کیا ایک بھی ادارے کو نجکاری کی طرف نہیں جانا چاہیے۔ آپ عوام ہو، آپ کو سب معلوم ہے کہ کون سا ادارہ کس طرح نقصان میں جار ہا ہے اور کون سا حکومت کو منافع دے رہا ہے۔ سوئی گیس والوں نے صرف گذشتہ دو ماہ میں عوام سے اربوں روپوں کے بل وصول کیے اور پھر بھی کہا جا رہا ہے کہ نقصان میں ہے۔ ہاں نجکاری سے بچنے کے لیے بہترین عمل یہ ہے کہ وہاں بہترین کارکردگی کے حامل افراد کو سامنے لایا جائے۔ ان کی تجاویز پر عمل کیا جائے جیسا کہ جناب اسد عمر صاحب نے گذشتہ سال کہا تھا۔ اگر ان افراد کی معاونت اس ادارے کے اندرونی ایماندار افراد کریں جو کہ ادارے کی اونچ نیچ سے واقف ہوں گے، تو یقیناًادارہ ڈبل منافع کمائے گا اور عوام کو بھی سکون ملے گا، جب مہنگائی میں کمی ہو گی۔ دوائیں دو ماہ پہلے سو فیصد مہنگی ہوئی تھیں اور اب پھر سو فیصد مزید مہنگی ہونے جا رہی ہیں۔ کون اس کا ذمہ دار ہے؟ ہم عوام۔۔۔
شعور کہاں گیا ہے تمھارا
کیوں بن مول بیچ دیا ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*