بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> کوئی سوچتا ہی نہیں
سونامی

کوئی سوچتا ہی نہیں

کوئی سوچتا ہی نہیں
الیاس محمد حسین
پاکستان میں سونامی لانے کا دعویٰ کرنے والے سیاستدان نے کہا ہے کہ مجھے سیاست میں آنے کا کوئی شوق نہیں تھا صرف پاکستان کی بہتری کیلئے سیاست میں قدم رکھاعوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔۔۔ کم و بیش یہی باتیں میاں نواز شریف بھی کرتے رہتے ہیں سابقہ صدر آصف علی زرداری بھی ۔۔میاں شہباز شریف بھی ایسی باتیں کرکے عوام کا دل موہ لیتے ہیں مجھے یقین ہے بلکہ آپ لوگ ناراض نہ ہوں تو میں سب کے سامنے دعوےٰ کرتاہوںیہی خوشنما باتیں،عوام کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں اوربلند بانگ دعوے ان کے سیاسی جانشین بھی کریں گے عوام پر حکمرانی کیلئے نئی کھیپ تیار ہورہی ہے کچھ عملاً سیاست میں آگئے ہیں کچھ کا انتظار کیا جارہا ہے نئی کھیپ میں محترمہ مریم نواز۔تو۔میاں نواز شریف کی جانشین ہوں گی ،بلاول بھٹو زرداری توآصف زرداری کے ہونہار صاحبزادے ہیں جو لات مارکر عمران خان کی حکومت کرانے کا دعویٰ کر چکے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو جونیئر مرتضیٰ بھٹو کے اکلوتے بیٹے ہیں جن کا ماں کا کہناہے کہ وہ اپنے دادا کے سیاسی وارث ہیں جبکہ میاں حمزہ شہباز ۔ میاں شہباز شریف کے چکنے چکنے پوت ہیں جو متعدد بار نیب کی گرفت میں آتے آتے رو گئے ہیں اور چوہدری مونس الہی ۔۔ چوہدری خاندان کے سیاسی جانشین ہیں جن کی وزارت کیلئے چوہدری پرویز الہی مسلسل تحریکِ انصاف کی حکومت کو پریشرائز کررہے ہیں اس کے علاوہ اور بھی کئی سیاستدانوں کی اولاد سیاست میں اپنا مقدر آزمارہی ہیں لیکن ان خانوادوں کے بارے میں کہا جارہاہے یہ پید ا ہی اقتدار کیلئے ہوئے ہیں باقی رہ گئے22کروڑ عوام کے بچے وہ اس قابل کہاں کہ انہیں چھوٹی موٹی سرکاری نوکری بھی مل سکے اونہہ کیڑے مکوڑوں کہیں کے ۔ اشرافیہ کے اسی طرزِ عمل کی وجہ سے آج اس ملک میں زندگی سے مایوس ، حالات کی بے رحمی کا شکار ، کم وسائل رکھنے والے اور سسک سسک کر قسطوں میں مرنے کے باوجود جینے کی آرزو کرنے کے بے چارے پاکستانیوں اکثریت ہے جو زندگی کی بنیادی سہولتوں سے یکسر محروم ہیں یہ لوگ جینے کی آرزو میں جئے جارہے ہیں اور بدقسمتی سے ان کی یہ خواہش محض خواہش کے سوا کچھ نہیں اس ملک کی ستم ظریفی یہ ہے کہ ان غریبوں کیلئے کوئی بھی نہیں سوچتا حکمرانوں،فوجی ڈکٹیٹروں اور اپوزیشن سب کا رویہ عوام کے ساتھ ایک جیسا ہے شاید موجودہ حالات میں عوام کو دادرسی کے لئے اب کسی کرشمے کا انتظار ہے وزیروں، مشیروں اور ارکان اسمبلی کا تعلق خواہ کسی بھی پارٹی سے ہو ان کے مفادات ایک ہیں وہ بھی صرف اپنے لئے سوچتے ہیں یاد نہیں کسی پارٹی نے کبھی عوامی حقوق کیلئے کوئی تحریک چلانے کااعلان کیاہو ۔۔ یا کسی سیاستدان نے مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر پولیس کی مار کھائی ہو حالانکہ اس طبقہ کی تمام آشائسیں عوام اور پاکستان کے دم سے ہیں اس کا ایک مطلب یہ بھی لیا جا سکتاہے یہ لوگ ہاتھی کے دانتوں کی طرح ہیں کھانے والے اور دکھانے والے اور حکمرانوں،اپوزیشن ارکان اور ان کے جانشین شاید یہ بھی نہیں جانتے ہوں گے کہ لاہور کے کئی علاقے آج بھی ایسے ہیں وہاں مسائل کی بھرمارہے لوگ گندے پانی کے نکاس ،پینے کا پانی انتہائی آلودہ ،ٹوٹی سڑکیں، ابلتے گٹر اور مسائل در مسائل سے یہ آبادیاں دیہات کا منظر پیش کررہی ہیں لگتا ہی نہیں یہ لاہور کا علاقہ ہے بلکہ اسے لاہور کہنا بھی لاہور کی بے عزتی محسوس ہوتی ہے یہ علا قے جنجال پورہ بنے ہوئے ہیں اس وقت آدھا لاہور مسائلستان بناہوا ہے لوگ زندگی کی بنیادی سہولتوں کو ترس رہے ہیں کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ حکومت نے عوام کو ان کے حال اور حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے؟ پاکستانی قوم کے بہتر مستقبل کیلئے حکمران تمام غیر ضروری اخراجات بند کردیں ،سرکاری وسائل کا بیدردی سے استعمال بند کیا جانا ضروری ہے ،ہر شطح پر سادگی کو فروغ دیا جائے ۔تمام سرکاری محکموں کے خرچ کو کنٹرول کرنے کیلئے نئی حکمتِ عملی وضح کرنے کی شدید ضرورت ہے، وفاقی اورتمام صوبائی حکومتوں میں مختصر کابینہ بنائی جائے وزیروں مشیروں کی فوج ظفر موج ، سرکاری محکموں میں نت نئی گاڑیاں خریدنا اور بیوروکریسی کا اختیارات سے تجاوز ہمارے ملکی وسائل کو چاٹ رہا ہے یہ وسائل عوام کی فلاح و بہبودپر خرچ کئے جائیں تومعاملات کافی بہتر کئے جا سکتے ہیں لیکن پھروہی بات کوئی سوچتا ہی نہیں۔ ہمارے حکمرانوں کے دل میں کروڑوں عوام کی خواہش کا کوئی احترام نہیں یہی وجہ ہے کہ جب بھی جمہوریت پر شب خون مارا گیا منتخب وزیرِ اعظم کی حمایت میں کسی شخص نے سڑکوں پرآنا پسند نہیں کیا شاید حکمران اپنے آپ کو بادشاہ سلامت سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ جب بھی یہ حکمران طبقہ عوام کو اپنا بھائی قرار دیتاہے مجھے یوں محسوس ہوتاہے جیسے یہ گالی دے رہے ہوں اشرافیہ غریبوں کو بھائی نہ سمجھے صرف عوام کو ان کے حقوق ہی دیدے تو کافی سارے مسئلے حل ہو جائیں گے لیکن کوئی سوچتاہی نہیں کوئی ان سے پوچھے اگر آپ ہمارے بھائی ہیں تو ہماری طرح گرمیوں میں12-10گھنٹے لوڈشیڈنگ کا عذاب برداشت کر سکتے ہیں؟۔ یہ تو بتاؤ تمہارے بچے مہینے میں کتنے دن فاقے کرتے ہیں۔ یہ بھی بتادو سحری اور افطاری میں کھانے کو کچھ نہ ہو تو روزے کیسے رکھے جاتے ہیں تم کیا جانو محرومیوں،مایوسیوں،بیماری، غربت، بیروزگاری کا کیسا ذائقہ ہوتاہے ؟ ۔ہے کوئی جواب؟ان سوالوں کا۔ یقین جانوں یہ سارے موسم غریبوں کی زندگی میں ضرور آتے ہیں لیکن کیا کریں اب تو غریبوں کی بات کرنا فیشن بن گیا ہے کوئی بااختیار غریب تو کیا عام آدمی کے بارے میں سوچتا ہی نہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*