بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> کرم والابندہ

کرم والابندہ

کرم والابندہ
عمران امین
دیکھو،دیکھو یہ کیا ھوگیا۔پاکستان میں انصاف کا پلڑا بھاری ھوگیا؟۔کیا یہ سچ ھے؟۔یہ انہونی کب اور کیسے ھوئی؟۔کون کر سکتا ھے ایسی جرات کہ ریشم و کمخواب میں لپٹے خاکی بدن، آج نرم گداز بستروں پر بھی کم خوابی کا شکار ھیں۔نہیں بھائی! کوئی اور بات کرو۔فسانے سنانے کو بہت سے اور بھی ھیں۔دل بہلانے کی باتیں،دراصل ھیں دل جلانے کی باتیں۔کیا کبھی چاند بے داغ ھو سکتا ھے؟۔کیا اس دنیا میں کوئی اور خُدا ھو سکتا ھے؟۔کیا کبھی عرش بریں،زمیں ھو سکتا ھے؟۔مگر اب یہ سب ھو گیا۔چاند تسخیر ھو گیا۔انسان آسمان کی وسعتوں پر غالب آگیا۔کائنات کو فتح کرنے کا مشن جاری ھے۔ایک سائیڈ پر کرپشن،اقرباء پروری،رشوت،سفارش،فراڈ،دھوکہ،نسلی منافرت،علاقائی تعصب،مذہبی گراوٹ،اخلاقی تنزلی،جہالت اور دوسری سائیڈ پر عدل و انصاف کا نیا مگر اصل رُوپ۔ھے نہ عجب بات مگر بلا سبب نہیں۔غلاظتوں والے شیطانی کردار وں کا سفر اب اختتام پذیر ھوا۔نیا سورج ایک نئی صبح کے ساتھ طلوع ھو چکا۔لات و منات کے بُت بڑے بڑے گرزوں سے توڑے جا رھے ھیں۔ہر طرف آہ و بکاں اور چیخ و پُکار سنائی دیتی ھے۔اس ارض پاک کے لوگوں کی ان شخصی بتوں سے آزادی کی کہانی کا سبب شعور اور آگہی میں تیز رفتاری سے اضافہ اور وقت کا جبر ھے۔اس سرزمین پر ایک لمبے عرصے تک معصوم انسانی سسکیوں اور ناتمام حسرتیں کا رُومان چلتا رھا اوربھوکی اشرافیہ مسلسل کئی عشروں تک اپنی عمدہ اداکاری سے بیچاری عوام کو بے وقوف بناتی رہی تھی۔تاریک سفر کے بھیانک شب و روز ایک ہی انداز میں ا س زمین پر طلوع اور غروب ھوتے رھے۔نہ کسی کی سرزنش ھوئی نہ کسی پر قیامت ٹوٹی۔نہ ہی کوئی غمناک و افسردہ ھوا۔بس ایک زندگی کا پہیہ تھا جو چلتا رھا،بس چلتا رھا۔ایک شخص نے کئی صدیوں پہلے دعویٰ کیا اور اپنے دور کا ایک انوکھا اور دلیرانہ قدم اُٹھایا۔وقت کے فرعونوں اور نمرودوں کو نیا چیلنج دیاگیا۔ قیصرو کسریٰ کے خلاف طبل جنگ بج گیا۔قلت وسائل و تعداد کا سامنا تھا مگر سفر جاری رکھا۔مشکلات اور قربانیوں کا لامتناہی سلسلہ جاری رکھا۔ حوصلے بلند اور ارادے مضبوط تھے۔منزل سے شناسائی اور آداب بندگی سے آگاہی تھی۔مختصر سے عرصے میں دنیاکو ایک نیا نظام حیات کا درس دیتے ھوئے واحد لا شریک کا پیغام سنایا۔سب جعلی اور ناکامی کے بے ھودہ اور افسردہ بتوں کو پاش پاش کرتے ھوئے ”قُل ھو اللہ ھُو احد“ کی اذان دی۔ وقت لگا، مگر مطلوبہ نتائج مل گئے۔پھر دنیا نے دیکھا کہ اس خُدا کے پیغمبر کی آواز ساری دنیا میں سنائی دی اور ایک وسیع قطعہ ارض مسلمانوں کی سلطنت کا حصہ بنارھا۔آپ ﷺ کی ذات مبارک نے ہمیں زندگی گزارنے کے طریقے اور سلیقے بتائے۔اس زندگی اور آخرت کی زندگی میں کامیابی کے سبق پڑھائے۔مگر بد قسمتی سے کچھ سبق ہم بھول گئے اور کچھ کو جان بوجھ کر بُھلادیا۔مصلحت اندیشی اور حقیقت پسندی کے عنوانات سے لبریز اس زندگی میں صرف وہ سبق اہم رھ گئے جو ذاتی مقاصد کے حصول میں معاون نظر آتے ھو۔یوں تو زندگی کا ہر قدم ایک بہترین سبق ھے اور زمانہ بہترین اُستاد قرار دیا جاتا ھے۔مگر ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ھے کہ ہم ہر وقت طالبعلم رھنا پسند نہیں کرتے۔یہی وجہ ھے کہ مختلف حیلے بہانوں سے اپنی جہالت کو چھپانا اچھا لگتا ھے اور درستگی کے لیے پوچھنا،ذلت کا اظہار مانا جاتا ھے۔جیسا کہ کہا جاتا ھے،حسن دیکھنے والی آنکھ میں ھوتا ھے۔ایسے ہی بہترین نظریہ اور مثبت فکر،انسان کے ذاتی دل و دماغ میں ھوتا ھے۔بحیثیت مسلمان ہم ایک قوم ھیں۔لیکن کردار،ااخلاق اور اخوت میں ہم پنجابی،پٹھان،بلوچی،سندھی اور کشمیری ھیں۔اس کے ساتھ ساتھ ہم بخاری،انصاری،لغاری اور زرداری بھی ھین اور بس اس پر ہی اکتفا نہیں بلکہ ہم دیو بندی،سنی،وھابی اور شیعہ بھی ھیں۔ان سب شناختوں نے ہماری شخصیت کوچندگندی صفات سے بھی نوازا ھے۔ ہم پڑوسیوں کا خیال حسد کی نگاہ سے رکھتے ھیں۔عورت کی عزت ھوس کی آگ بجھانے کے لیے کرتے ھیں۔مہمان نوازی دکھلاوے کے لیے کرتے ھیں۔گھر کا کوڑا باہر پھینک کر ماحول کو صاف رکھتے ھیں۔
آدمی آج کل زمانے کا
کیوں بدلتا ھے اپنا رنگ بہت
جھوٹ کی ڈور کے سہارے ہی
سب اُڑانے لگے پتنگ بہت
خوابوں کو آنکھوں کی دہلیزکاراستہ پار نہ کرنے دیا جائے توزندگی گزارنا مشکل ھو جاتی ھے۔زندگی بدلنے کے لیے لڑنا پڑتا ھے اور آسان کرنے کے لیے سمجھنا پڑتا ھے۔جب تک منزل نہ ملے،ہمت نہ ھارو اورنہ ہی ٹھہرو۔ کیونکہ پہاڑ سے نکلنے والی نہروں نے آج تک راستے میں کسی سے نہیں پوچھا”سمندر کتنی دور ھے“۔ رب کائنات کا یہ اُصول رھا ھے کہ جو جیسی نیت رکھتا ھے اورجتنی محنت کرتا ھے اُس کو اس حساب سے کامیابی ملتی ھے مگر شرط صرف یہ کہ سمت درست اور راستے متعین ھو۔آج ہماری خوش قسمتی ھے کہ پاکستان کی سمت درست اور راستے متعین ھو چکے ھیں۔منزل کی طرف پیش قدمی کا سلسلہ تمام تر مشکلات کے باوجودجاری ھے۔پاکستان کی ٹوٹی پھوٹی گاڑی کو پختہ سڑک پر لانے والا کون ھے؟۔وہ ہمارا رہنما اور لیڈر جو انسانیت سے پیار کرنے والا،عدل و انصاف کی بات کرنے والا اور عاجزی والا بندہ ھے۔ قدرت کو ہم پر رحم آہی گیا اور ہمیں اپنے کرم والا بندہ عطا کر دیا۔بقول واصف علی واصف ؒ ”جس پر کرم ھے اُس سے کبھی پنگا نہ لینا۔جب بھی کوئی ایسا شخص دیکھا کہ جس پر رب کا کرم تھا۔اُسے عاجز ہی پایا۔ پوری عقل کے باوجود بالکل سیدھا سا بندہ۔وہ بہت تیزی نہیں دکھائے گااور نہ اُلجھائے گا۔ راستہ دے گا۔سادہ بات کرے گا“۔صوفی اور درویش واصف علی واصف ؒ نے مزید فرمایا ”میں نے ہر کرم والے شخص کو مخلص دیکھا۔ وہ غلطی کومان لیتا ھے اور فوراً معذرت کر لیتا ھے۔سرنڈر کر دیتا ھے۔یہ ھو ہی نہیں سکتا کہ کرم والے کی بات سے نفع ھو رھا ھو اور اللہ اُس کے لیے کشادگی کو رُوک دے۔وہ اُس پر اور کرم کرے گا“۔اب ہمارا فرض ھے کہ اس کرم والے بندے کا ساتھ دیں اور اس کو کامیاب کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*