بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> ریاست مدینہ کا خواب اُور حاکم مدینہ کا کردار

ریاست مدینہ کا خواب اُور حاکم مدینہ کا کردار

ریاست مدینہ کا خواب اُور حاکم مدینہ کا کردار
عمران امین

ا س جہان فانی کے عجیب ہی دستور ھیں،جو کل کے شاہ تھے وہ آج کے فقیر ھیں۔دست پھیلانے کے جو روادار نہ تھے وہ کاسہ لے کر منتظر آس ھیں۔کائنات کی یہ کہانی ہر دور میں ایک تسلسل کے ساتھ مختلف انداز اُور رنگوں میں دہرائی جاتی رہی ھے۔مقام اورکردار تبدیل ھوتے رہے،مگرآغاز اور انتہا ایک ہی ھے۔ہوس زر اور تخت نشینی کی پیاس،ھوا قصہ مختصر اور ھوئی زندگی تمام۔وقت نے پاؤں میں گھنگھرو باندھ دیئے تو کیا پرواہ،ایک سمے میں ہم نے وقت کے پاؤں میں بھی گھنگھرو باندھے تھے۔بس یہ نشہ،احساس اور تفاخر ہی رہ جاتا ھے،باقی تو سب خاک ھوا جاتا ھے۔افسوس،ندامت اور پشیمانی کا سمندر،جب ہاتھوں میں قفس سے نکلنے کی سکت نہ رہی۔سانس کا سلسلہ جو ٹوٹا توہر بات اُور احساس سے آزادی کا موقع ملا۔ یہ وہ تلخ اُور دردناک حقیقت ھے جس کا ادراک اگرچہ سب کو ھے مگروہ اپنی عملی زندگی میں اس کو یاد رکھنا نہیں چاھتے۔تمام انسانوں کو زندگی کی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے سرانجام دیناچاھیے مگر خصوصاً اہل طاقت اورصاحب اقتدار پر اپنی ذمہ داریوں اُور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کا حق سب سے زیادہ عائد ھوتا ھے کیونکہ وہ بااثر ھوتے ھیں،حالات و واقعات پراثر انداز ھونے کی طاقت کے مالک ھوتے ھیں،مالی طور پر آسودہ حال ھوتے ھیں چنانچہ معاشرے میں پھیلی ابتری اور فتنہ انگیزی کے سب سے زیادہ جواب دہ بھی ھوتے ھیں۔ایک روایت کے مطابق قیصر رُوم نے حالات کا جائزہ لینے کے لیے اپنا ایک آدمی مدینے میں بھیجا۔وھاں پہنچ کر وہ کسی سے پوچھنے لگا”آپ کے شہنشاہ معظم کا محل کہاں ھے“۔عرب کے اکثر لوگ شہنشاہ،محل اور معظم جیسے الفاظ سے تقریباً ناآشنا تھے،چنانچہ پوچھا”آپ یہ بتائیں کس سے ملنا ھے“۔جواب میں وہ شخص بولا”مسلمانوں کے بادشاہ سے“۔یہ سن کر کوئی بولا ”ہمارے ھاں کوئی بادشاہ نہیں ھوتا، ایک شخص ھے جو ہمارے سارے معاملات کا انتظام کرتا ھے اُور وہ محل میں نہیں بلکہ گارے کے ایک جھونپڑے میں رہتا ھے۔اُس کا نام عمرؓ ھے“۔رومی آدمی یہ سن کر بہت حیران ھوا۔ وہ شخص آپ کی تلاش میں نکل پڑا۔ذرا آگے جا کر دیکھا کہ ایک شخص اپنی زرہ کو سر کے نیچے رکھے سو رہا تھا۔پاس سے گزرتے ایک بدو سے پوچھا”یہ کون ھے؟“۔”یہ عمرؓ ھے“جواب ملا۔یہ بات سُن کر اُس رُومی کے منہ سے بے اختیار نکلا”کیا یہ ھے وہ عمرؓ،جس کی ہیبت سے دنیا کے فرماں رواؤں کی نیند اُڑ چکی ھے“۔دراصل یہ ہمارے اسلاف کا کردار اور طریقہ تھا،یہ ہمارے نبی پاکﷺ کی تعلیمات تھیں اُور یہ ہمارے خُدا کا سچا پیغام تھاجس کو ہم آج مکمل بُھلا چکے ھیں۔اے عمرؓ! آپ نے انصاف کیا،تو آپ کو گرم ریت پر بھی نیند آگئی،ہمارے بادشاہ ظالم اور بد دیانت ھیں،اس لیے نرم و گرم بستروں اور دنیا کی آسائشوں کی موجودگی میں بھی وہ صحت،اُولاد،زر اُور زمین کی وجہ سے وبال میں ھیں۔مال کی محبت،اقتدار کی چمک اُورمکرو فریب کے کردار میں ڈوبے ھوئے یہ نام نہادنجات دھندہ صرف اپنی ذات کے محور میں پھنسے ھوئے ھیں۔ان کی سوچ اور عقل پر پردے پڑ چکے ھیں۔سازش اور مکاری کے ماہر اُوربے اُصولی کے میدان کے چیمپین بھول گئے ھیں کہ ”اللہ کی لاٹھی بے آواز ھوتی ھے“۔جب وہ پکڑ میں لیتا ھے تو دنیا کے اسباب و ہتھیار سب بے کار ثابت ھوتے ھیں۔یاد رکھیں! دنیا میں صرف تین ہی ایسی جگہیں ھیں جہاں جا کر آپ زندگی کی اصل حقیقت جان پاتے ھیں۔اُن مقامات پر پہنچ کراس بات کا شدت سے احساس جاگتا ھے کہ ہماری اصل کیا ھے،ہماری اُوقات، ہماری حیثیت،ہمارا سماجی سٹیٹس،ہماری معاشی خوشحالی اُورہمارا عہدہ کتنی فانی چیزیں ھیں۔ایسے میں یہ احساس بھی جاگتا ھے کہ پھر ہماری نفرت،رقابت اور دشمنی کی کیا حیثیت رہ جاتی ھے جبکہ ان جذبوں کی بنیاد پہلے بیان کی گئی چیزیں ہی ھیں۔جب وہ چیزیں بے وقعت اُور بے حیثیت ھیں تو یہ لغویات بھی ضیاع وقت ھیں۔یہ تین جگہیں ھیں قبرستان،ہسپتال اور جیل۔ قبروں کے کتبے بااثر اُوربا اختیار لوگوں کے ناموں سے سجے ھیں۔ بستر پر لیٹا شخص کتنے نازو نعم میں پلا بڑھا اُور اب ناک پر بیٹھی مکھی اُڑانے سے بھی معذور ھیں۔کمزور لمحوں کے شکار، حیوانی و شیطانی جذبوں کے بہکاوے میں آنے والے اُور اپنی جھوٹی انا کے ھاتھوں مجبور ولاچار یہ لوگ جو اپنی آزادی کے منتظر ھیں۔ یہ سب بھی اپنے دُور میں دوڑتے،بھاگتے اُور شور مچاتے انسان تھے اُور معاشرے میں ایک حیثیت اور مقام رکھتے تھے اُور اُن کا خیال تھا کہ وہ زمین پر ایڑی رگڑیں گے تو تیل کے چشمے پھوٹ پڑیں گے اُوراُن کے پاؤں کی ٹھوکر سے زمین دہل جائے گی۔مگر اب قبر کا کتبہ اُن کی واحد نشانی رہ گیا ھے یا ہسپتال کے بدبودار کاریڈور میں بے بسی کی تصویر ھیں یا سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے۔حضر ت فاروق اعظمؓایک راستے پر سے گزر رہے تھے کہ کچھ خیال آیا اُور آپ وہیں زمین پر بیٹھ گئے۔ایک تنکا اُٹھا کر فرمایا”اے کاش!میں اس تنکے کی طرح خس و خاشاک ھوتا۔اے کاش!میری ماں مجھے نہ جنتی“۔ پھر فرمایا”اگر آسمان سے ندا آئے کہ ایک آدمی کے سوا دنیا کے تمام لوگ بخش دیئے گئے تب بھی میرا خوف ختم نہیں ھو گا۔میں سمجھوں گا وہ بد قسمت انسان میں ہی ھوں“۔اے پاکستانی قوم! سب مل کر اپنے گناھوں کی معافی مانگو اُور اُس بزرگ و برتر ہستی کے حضور گڑگڑا کر اپنے گناھوں کو بخشوا لو۔وہ رحمان ھے،رحیم ھے۔جب تم یہ سب کر لو تو پھر یقین کرو،تمہاری زندگیوں میں انقلاب برپا ھو جائے گا اور یہ سارے سیاسی اُور مذہبی بے ایمان،ناسور، جھوٹے،فریبی،لٹیرے اُور کرپٹ لوگ اللہ کی گرفت میں آجائیں گے اُوریوں ہمارا پیارا وطن ان کے شر سے محفوظ ھو کر حقیقی ریاست مدینہ بن جائے گا۔اے اللہ! ریاست مدینہ کا خواب دیکھنے والے حکمران کو کامیاب فرمائیں۔آمین

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*