بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> کرنسی مارکیٹ بند کرو روپیہ بچاؤ

کرنسی مارکیٹ بند کرو روپیہ بچاؤ

کرنسی مارکیٹ بند کرو روپیہ بچاؤ
تحریر: عمران ظفر بھٹی
پاکستان کی کرنسی روز بروز گر رہی ہے اور ہمارا ذمہ دار میڈیا بڑی خوشی سے اپنی کرنسی کی بے توقیری کر کے بے حسی سے بریکنگ نیوز چلا رہا ہے مگر اس کے حل کیلئے کوئی خاص تجاویز پیش نہیں کررہا یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میڈیا ہاؤسز میں جتنے لوگ بیٹھے ہیں معیشت پر دسترس نہیں رکھتے۔ ویسے معیشت پر راقم بھی دسترس نہیں رکھتا مگر سیدھا سادہ حساب کتاب ضرور سمجھتا ہے کہ جس کاروبار سے بار بار نقصان ہو رہا ہے اس کو بند کر دیا جائے تو اچھا ہے۔ مکمل طور پر بے شک بند نہ کیا جائے مگر عارضی طور پر ضرور بند کر دینا چاہیے جب تک کہ حالات بہتر نہ ہوں۔
چونکہ پاکستان کی معیشت روزبروز گر رہی ہے تو ہمیں سب سے پہلے معیشت کو سمجھنا ضروری ہے اس لیے دیکھتے ہیں کہ معیشت کیا ہے۔؟اگر سیدھا سا جواب دیا جائے تو ایسا نظام جس میں لوگ کے روئیے کا مطالعہجس میں ان کی خواہشات کی تکمیل کیلئے محدود ذرائع ہوں اور خواہشات کی تکمیل کیلئے تگ و دو کی جائے معیشت کہلائے گی۔ مگرافسوس ہمارے اس معاشرے میں تگ و دوسے مراد ایک دوسرے کا حق مارنا، ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا، کھینچا تانی یہی کچھ آجکل اس ملک میں بھی چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی معیشت گر رہی ہے اور ڈالر آجکل اونچی اڑان بھر چکا ہے۔ کیا ڈالر صرف پاکستان میں اونچا اڑ رہا ہے۔ جی نہیں ایسا دیگر ممالک میں ہوا ہے کہ ڈالر ہی تیزی سے اوپر جاتا ہے اور کسی نہ کسی مسلم ملک کی کرنسی کو روندتا ہوا اوپر جاتا ہے جیسا کہ ترکی کے ساتھ ہوا۔ ترکی کی کرنسی 60 فیصد تک گری کیوں اس کی صرف وجہ ایک جاسوس بنا۔ ترکی نے امریکہ بہادر کی نہ مانی تو ترکی کو خمیازہ بھگتنا پڑامگرسلام ہے اس قوم کو جس نے ہار نہ مانی۔ اسی طرح ایران کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ افغانستان، عراق، ایران، شام ودیگر مسلم ممالک کے ساتھ امریکہ ایسا کر چکا ہے ایسا صرف مسلم ممالک کے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے۔کیونکہ جو بھی مسلمان ملک امریکہ بہادر کی مخالفت کر دے تو وہ اسے روندنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کام کو روکنے کیلئے کیا کرنا چاہیے ہم پاکستانیوں کی بھی تو کچھ ذمہ داری بنتی ہے جو ہم پوری نہیں کرتے صرف تماشہ دیکھتے رہتے ہیں۔
افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ہمارے ملک کے حکمران بھی تماشہ ہی کرتے رہتے ہیں کچھ بھی عملی اقدام نہیں اٹھاتے۔ ان سے بہتر وہی کمانڈو ہی ٹھیک تھا جو کم از کم ایکشن تو لیتا تھا اس کے دورمیں جب ڈالر نے اونچی اڑان بھرنے کی کوشش کی اور روپے کو روندنے کی کوشش کی تو اس نے ڈالر کو لگام ڈالنے کیلئے کرنسی مارکیٹ ہی بند کر دی اور یہ ایک دانشمندانہ فیصلہ ثابت ہواتھا۔ کیونکہ جس منصوبے یا کاروبار سے بار بار نقصان ہو معیشت کا ایک یہ اصول ہے کہ اسے وقتی طور پر بند کر دیا جائے۔ یہاں میں قارئین کو ایک چھوٹی سی دکان کی مثال دیتا چلوں کہ ایک بستی میں ایک حجام نے دکان لگائی جو بھی آیا اس نے شیو کرائی، داڑھی بنوائی اور چلتا بنا دکان کا مالک ہر ماہ کرایہ لیتا اور حجام کو بجلی کا بل بھی جیب سے ادا کرنا پڑتا اس نے دیکھا کہ یہاں کچھ وصول نہیں ہو رہا تو اس نے یہ کام چھوڑ دیا اب لوگوں کو یہ سہولت ختم ہو گئی اور لوگوں کو حجامت اور شیو کیلئے دور شہر جانا پڑتا تو انہوں نے اس حجام کی منت سماجت کی اور اس کی شرائط بھی مان لیں اور ایڈوانس میں رقم ادا کرنے لگے۔ یہی کام سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کیا اور کرنسی مارکیٹ بند کر دی تو ڈالر اکٹھے کرنے والوں نے مشرف کو اپروچ کیا اور تعلقات استعمال کر کے سفارش کراکے مشرف کی شرائط پر کرنسی مارکیٹ اوپن کرائی اس نے صرف ایک شرط رکھی تھی کہ ڈالر کا ریٹ ساٹھ سے بڑھنے نہ پائے اور سب نے دیکھا کہ مشرف جب تک رہا ڈالر ساٹھ روپے سے اوپر نہ جا سکا۔
معیشت میں جب بھی کوئی چیز جمع(زخیرہ) کر لی جائے اور مارکیٹ میں وہ نہ ملے یا بلیک میں ملے تو اس کا ریٹ بڑھ جاتا ہے۔ میری ناقص عقل بھی یہی کہتی ہے کہ بڑے بڑے بزنس مین، سرمایہ داروں نے ڈالر خرید کر رکھے لیے ہیں۔ جن میں خاص طور پر اپوزیشن پارٹی، بڑے بزنس مین، غیر ملکی ایجنٹ بھی ہو سکتے ہیں تاکہ اس حکومت کو ناکام بنایا جائے۔ مگر ان کو یہ معلوم نہیں کہ وہ جس ٹہنی پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹ رہے ہیں۔ حب الوطنی کا ثبوت تو یہی ہے کہ اس مشکل وقت میں حکومت کا ساتھ دیا جائے۔ ان اقتدار کے بھوکوں کو ایک باری نہیں ملی تو سب اس حکومت کے خلاف کام کرنا شروعہو گئیحقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن اس حد تک جا چکی ہے کہ بے شک پاکستان کا نقصان ہوتا ہے ہو جائے مگر یہ حکومت نہ رہے۔ یہ اقتدار کے بنا ایسے تڑپ رہے ہیں جیسے مچھلی پانی کے بغیر تڑپتی ہے۔
مجھے بہت افسوس ہے کہ ہمارے ملک میں ان پڑھ مخلوق بہت زیادہ ہے جو کہتی ہے کہ ہمیں ن لیگ یا پی ٹی آئی سے کیا مطلب ہمیں جو سہولیات دے جو اشیاء خرد نوش کی اشیاء کے ریٹس کم رکھے وہی ہمارے لیے اچھا ہے چاہیے وہ پورے ملک کو مقروض کرے یا کچھ بھی بیچ دے مگر شاید ان کو فلسطین کی حالت نظر نہیں آتی۔ بہت سے ٹی وی چینلز کے اینکرز اور لکھاری حضرات خود کو بڑا فلاسفر سمجھتے ہیں وہ تب کہاں گئے تھے جب ن لیگ، پیپلز پارٹی ملک کو مقروض کررہی تھی اور ملک کو بھکاری بنا دیا اس وقت ان فلاسفروں نے اس اپوزیشن کو کیوں نہ روکا اور اب ان کی وکالت کر رہے ہیں۔ اب موجودہ حکومت بھیک مانگ رہی ہے۔ ادھار مانگ رہی ہے، ٹیکس بڑھا رہی ہے تو اس کی وجہ کون ہیں۔ ملک کی کرنسی کی حیثیت روزبروز گررہی ہے کیوں کیا ساری وجہ نا اہلی ہے کیا اس حکومت میں جتنے لوگ ہیں سب کے سب نا اہل ہیں اگر ایسا ہے تو پھر یہی نا اہل لوگ بھی سابقہ حکومتوں میں رہ چکے ہیں۔ اگر کسی کو زیادہ تکلیف ہے تو کم از کم اس حکومت کو یہ موقع ضرور دیں انہیں سکون سے کام کرنے دیں۔ فیصلہ پانچ سال بعد کریں کہ جو سابقہ 70 سالوں میں کر گئے ہیں اس سے برے ہیں یا اچھے۔
یہاں پر عمران خان کیلئے ایک مشورہ ضرور ہے کہ وہ بھی مشرف کی طرح کرنسی مارکیٹ کم از کم کچھ عرصہ کیلئے بند کریں۔ کیوں کہ جو کاروبار بار بار نقصان دے رہا ہو اسے کچھ عرصہ کیلئے بند کرنا ہی بہتر ہے۔اسکے علاوہ انہیں کچھ ریلیکس ہونا ہے تو اپنے وعدہ کے مطابق صوبہ سرائیکستان وسیب کی خواہشات کے مطابق 23 اضلاع پر مشتمل بنا دیں۔ اس سے کم از کم ان لوگوں کی سپورٹ اس حکومت کو حاصل ہوگی اس اس خطہ میں رہتے ہیں اور ساتھ کے پی کے کی سپورٹ بھی ان کو پہلے سے حاصل ہے پنجاب میں اس حکومت کی پوزیشن کچھ زیادہ مضبوط نہیں۔ اس کے علاوہ اس حکومت کا کرپشن پر اسٹینڈ تھا تو اس پر سختی سے عمل کرائیں باقی مخالفین باتیں کرتے رہتے ہیں اور چور مچائے شور کی ضرب المثل مشہور ہے۔ چور شور کرتے رہیں گے۔ حکومت کو اپنے وعدوں پر عمل کرنا چاہیے اس میں کوئی شک نہیں کہ بے انتہا مشکلات کا بھی سامنا ہوگا۔ اگر کرپشن پر دو چار فیصلے بھی ہو جائیں تو معاملات بہت حد تک بہتر ہو جائیں گے اور پاکستانی روپے کی قدر میں بھی خاطر خواہ بہتری آئے گی۔ اللہ پاک ہم سب کا حامی ہو ناصر ہو۔ آمین

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*