بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> عنوان: ہندوتوا ایک منظم دہشتگرد نیٹ ورک اور ہندوتواکریسی

عنوان: ہندوتوا ایک منظم دہشتگرد نیٹ ورک اور ہندوتواکریسی

عنوان: ہندوتوا ایک منظم دہشتگرد نیٹ ورک اور ہندوتواکریسی
قابیلیت اور ہابیلیت کی انسانی کشمکش ابتدا سے ہی چل نکلی تھی، روئے زمین پر قابیل Cane کے ہاتھوں ہابیل کا قتل ہوا جوکہ زمین پر پہلا قتل اور خون ناحق تھا، یہ قابیلیت ہی تھی جس نے جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم میں کروڑہا انسانوں کو مار ڈالا، 14 اگست 1945 کے دن جسے V-J Day کہا جاتا ہے جاپان کے ہتھیار ڈالنے کے ساتھ ہی جنگ عظیم دوم کا خاتمہ ہوا تو دنیا نے انسانیت کی تباہی سے بچنے کے لیے سر جوڑ لیے اور انجمن اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا جس کا سب سے بڑا مقصد عالمی امن اور انسانی حقوق کے حصول کو یقینی بنانا ہے مگر قابیلیت کے انسانیت دشمن اور امن دشمن پیروکاروں کو امن و آشتی کہاں برداشت ہو، ماضی میں چنگیزیت اور نازی ازم فتوحات میں مضمر تھے تو اب انسانیت کے لیے اس سے بھی بڑا خطرہ ہندوتوا دہشتگرد ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اٹھارہویں صدی تک ہندوازم نام کا کوئی وجود نہیں تھا، انگریز سرکار نے 72-1871 میں برصغیر کی مردم شماری میں پہلی بار بت پرستوں کے لیے لفظ ”ہندو” استعمال کیا جس کے بعد بہت سے لوگ خود کو ہندو کہلوانے لگے، رہی بات ہندوتوا کی تو یہ ایک منظم سازشی نظریہ ہے، انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز کے زیر اہتمام ”ہندوتوا اور راشٹرواد” پر لیکچر میں عبدالحمید نعمانی نے محققانہ و مدلّل دلائل سے بتایا کہ قدیم ہندو کتب میں کہیں ان لفظوں کا وجود نہیں، جب پہلی بار ہندوتوا کی اصطلاح پر کتاب آئی تو مصنف کا نام تک نہیں تھا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ اتنا کمزور نظریہ تھا کہ خود مصنف کو بھی اس پر یقین نہیں تھا اسی لیے مبہم انداز میں اس نظریہ باطل کی تشہیر کی گئی، حتٰی کہ سابق RSS چیف گرو گوالکر بھی اس کی تشریح نہ کرپائے بس اتنا کہہ کر ہی جان چھڑائی کہ جس طرح رام کی کوئی تشریح نہیں اسی طرح ہندوتوا کی کوئی تشریح نہیں۔ مفکرین کے مطابق یہ نہ فلسفہ ہے نہ نظریہ نہ ہی نظام حیات البتہ تحقیقی میدان میں یہ ثابت ہوا ہے کہ اس کے تانے بانے ”سیفرون ٹیررازم” سے ملتے ہیں جوکہ انتہائی بھیانک اور امن و انسانیت دشمن سوچ و فکر کا مجموعہ ہے، ہندوتوا سوچ و عقائد کے مطابق برصغیر صرف ہندووں کا وطن ہے اور دیگر مذہب کے ماننے والوں کو برصغیر سے ختم کرنا ہے، سنسکرت کو لازمی مضمون اور گائے کے ذبیحہ پہ مکمل پابندی وغیرہ سرفہرست ہیں۔ اس نظریہ کی بانی تنظیم RSS ہے اسی کی ایک اصطلاح ”سنگھ پریوار” ہے یعنی ہندووں کا گروہ یا خاندان، سنگھ پریوار کے جھنڈے تلے اس وقت تقریبا پچاس سے زائد تنظیمیں اور نیٹ ورک اس نظریہ کی تکمیل کے لیے سرگرم عمل ہیں جن میں RSS, بجرنگ دل، شیوسینا جیسی دہشتگرد تنظیمیں صف اول میں ہیں اس کے علاوہ ان کی ایجوکیشنل ونگ ”وِدیا بھارتی” ہے جس کے تحت 30 ہزار سے زائد تعلیمی ادارے کام کررہے ہیں جن میں کھلم کھلا منافرت، اشتعال انگیزی، جارحیت، دہشتگردانہ سوچ و فکر کو فروغ دیا جارہا ہے، ان اداروں میں ایک طرف تو نازی ازم و ہٹلر کے نظریات کو ہیرو کے طور پر پڑھایا جاتا ہے تو دوسری طرف ایک کتابچہ جس میں ”پُونیا بھومی بھارت” کا نقشہ دیا گیا ہے پڑھایا جاتا ہے اس نقشے میں پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان، تبت اور میانمار کے کچھ علاقے شامل ہیں جب تک یہ علاقے ہندوتوا کے زیر قبضہ نہیں آجاتے تب تک پونیا بھومی بھارت یا اکھنڈ بھارت نہیں بنے گا۔ اس کی تکمیل کے لیے RSS کے بانیوں و ہندوتوا آئیڈیولاجی کے مطابق نازی جرمنوں کی طرز پر ہولوکاسٹ کی طرح کا قتل عام کرنا پڑے گا۔ سنگھ پریوار کی ایک اہم ونگ ”وشنُو ہندو پریشد” VHP یعنی ورلڈ ہندو کونسل ہے جس میں بڑے بڑے تاجر، دانشور، ایکس سروس مین، سروس مین، جرنلسٹ، رائٹرز اور خوبصورت لڑکیاں وغیرہ شامل ہیں یہی وہ ونگ ہے جو بھارت سمیت عالمی سطح پر پروپیگنڈہ کرتی ہے لابنگ کرتی ہے، حالیہ سعودی عرب کی بھارت سرمایہ کاری اسی ونگ کا کارنامہ ہے اس کے علاوہ UAE کا کشمیر کے مسئلے پہ چپ سادھ لینا بھی ان ہی کا کمال ہے، BJP نے 1998 میں اقتدار میں آکر بڑے پیمانے پر VHP ورکرز کو بھارتی میڈیا اور ٹیکسٹ بک بورڈ میں بھرتی کیا جس سے یہ دونوں ادارے اب RSS کے مکمل کنٹرول میں ہیں۔ 1951 میں قائم ہونے والی بھارتیہ جانا س?نگھ BJS راشٹریہ سویم سیوک سنگھ RSS کی پولیٹیکل ونگ ہے جسے بعد میں دیگر سنگھ پریوار کی تنظیموں کی شمولیت کی بنا پر بھارتیہ جنتا پارٹی BJP کا نام دے دیا گیا، یہ درحقیقت ایک منظم نیٹ ورک ہے جس نے بھارتی جمہوریت کو ہندوتوا کریسی میں تبدیل کردیا، BJP کے اقتدار میں آنے کے بعد ہندوتوا دہشتگردی سرچڑھ کر بولنے لگی ہے اب بھارت میں تمام اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لیے زمین تنگ کردی گئی ہے، یوں تو ہندوتوا مائنڈسیٹ کے ہاتھ لاکھوں افراد کے خون سے رنگے ہیں مگر اب کشمیریوں کی باری ہے جن کے قتل عام کے لیے ہزاروں کی تعداد میں RSS کے دہشتگرد کشمیر بھیجے جاچکے ہیں اور BJP نے وہاں کرفیو نافذ کرکے اور میڈیا و انٹرنیٹ بند کرکے کشمیری پر ہونے والے ظلم و بربریت کو وقتی طور پر دنیا سے چھپا رکھا ہے، کشمیری رہنماوں کی S.O.S کال کے باوجود اقوام عالم مجرمانہ طور پر خاموش ہیں، پاکستان نے پُرامن رہتے ہوے ہر سطح پہ جاکر دنیا کو جھنجوڑنے کی کوشش کرلی مگر تمام کوششیں بے سود ثابت ہوتی نظر آتی ہیں جس سے ایک تاثر تو صاف عیاں ہے کہ مودی جیسے ہزاروں افراد کے قاتل کے ظلم و بربریت پہ دنیا کی خاموشی کا مطلب کچھ طاقتور قوتوں نے اسے ”لائسینس ٹُو کِل” دے رکھا ہے، اگرچہ 74 سال پہلے ماہ اگست میں ہی دنیا کو جنگ عظیم سے نجات ملی تھی مگر عالمی دہشتگرد مودی نے ماہ اگست ہی میں جنگ عظیم سوم کی بنیاد رکھدی ہے اگر اقوام عالم نے بھارتی دہشتگردی کو یونہی نظرانداز کیا اور مسئلہ کشمیر کا فوری حل نہ نکالا تو کوئی بعید نہیں ایک بھیانک ترین ایٹمی جنگ کا خطرہ انسانیت کے سر پہ منڈلا رہا ہے جس کے اثرات ساری دنیا کو بھگتنا پڑینگے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*