بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> طبقہ اشرافیہ کے اندازِ سیاست
طبقہ اشرافیہ

طبقہ اشرافیہ کے اندازِ سیاست

طبقہ اشرافیہ کے اندازِ سیاست
تحریر: اقبال عباسی
کہتے ہیں مغل شہزادے جہانگیر نے ایک دن اپنی نجی محفل میں ایک خواجہ سرا کو فارسی میں گدھا کہہ دیا، ہوا یوں کہ یہ بات شہزادے کے والد محترم اکبر بادشاہ تک جا پہنچی تو اس نے شہزادے کو طلب کر لیا ، شہزادے نے غلطی کا اعتراف کرنے میں ہی اپنی عافیت جانی ، بادشاہ نے کہا شیخو! کمہار اور بادشاہ کی زبان میں فرق ہونا چاہئے ، شہزادے نے جواب دیا "ظل الہی! میری زبان پھسل گئی تھی تو جواب میں اکبر بادشاہ نے ایک تاریخی جملہ کہا کہ بیٹا! جو شخص اپنی دو تولے کی زبان کو قابو میں نہیں رکھ سکتا وہ لاکھوں میلوں میں پھیلی اس وسیع سلطنت کو کیسے قابو میں رکھے گا، یا د رکھنا بادشاہت زبان سے شروع ہوتی ہے اور زبان پر ہی ختم ہوتی ہے، زبان کو لگام دینا سیکھو ، سلطنت خود بخود لگام میں آ جائے گی ۔ اس واقعے کے تناظر میں موجودہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی کف اڑاتی ، لاف و گزاف کرتی طبقہ اشرافیہ کی سیاست کو دیکھا جائے تو ہمیں افسوس کے ساتھ ساتھ عوام کے دلوں میں موجودہ سیاست کے خلاف پکتے لاوے کی وجہ بھی سمجھ آ جائے گی ۔سیاست کے اس حمام میں سب ننگے ہیں تو سنتے آئے ہیں لیکن سوشل میڈیا اور مختلف میڈیا چینلز کے سیاسی ٹاکروں میں ان ننگوں کو دیکھنے کا اتفاق بھی اب آئے روز ہونے لگا ہے جس کی واضح مثال ہمیں حال ہی میں سابق صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کی ہندو برادری کی دل آزاری والی ویڈیو دیکھ کر بخوبی ہو جاتا ہے لیکن ساتھ ہی کپتان اور وزیر اعلی عثمان بزدار کی باخبری اور ہوشیاری کو داد نہ دینا بھی ناانصافی ہو گی کہ دیر آید درست کے مصداق ان کو بھی اپنی صفوں میں موجود ایک ایسے شخص کی موجودگی کا آخر کار علم ہو ہی گیا جو اپنی چھوٹی سی زبان پہ قابو رکھنے میں ناکام ثابت ہو رہا تھا ۔
دیکھا جائے تو سابقہ دونوں ادوار حکومت میں سیاست کے کچھ ایسے شہ زور سامنے آئے جنہوں نے چاپلوسی اور خوشامد کی بجائے اپنی زبان کا بہترین استعمال کرتے ہوئے نہ صرف اپنے لیڈروں کو خوش کیا بلکہ پرجوش یوتھیوں، پٹواریوں اور جیالوں کے دلوں میں بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے جن میں نہال ہاشمی، فواد چوہدری ، نعیم الحسن ، چوہدری ثنااللہ ، عابد شیر علی اور شیخ رشید جیسے سیاستدان صف اول میں کھڑے نظر آتے ہیں ۔ ذرا سابق وزیر دفاع کے حساس عہدے پر براجمان خواجہ آصف کے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی شیریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی کہنے سے بات شروع کریں اور پھر "گدھا کھانے والے پٹواریوں "جیسے بیانات سے ہوتے ہوتے عابد شیر علی اور شیخ رشید کی نوک جھونک کو ہی لے لیجئے یا پھر یاد کیجئے نعیم الحسن کے طوفانی تھپڑ لیکن اگر کسی دوست کو یاد ہو تو سابق وزیر اعلی سندھ کی صوبائی اسمبلی سندھ کے فلور پر وہ پارلیمانی تواضع بھی دہرا لیجئے جس میں موصوف کو بڑی مشکل سے جوتوں اور مکوں سے بچایا گیا تھا ، اسی طرح آپ آج کل سیاست دانوں سے پاگل، ذہنی مریض، بلو رانی وغیر جیسے الفاظ بھی سنتے ہوں گے ۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر عابد شیر علی اور فیاض چوہان کے دو پیغامات ہی ہمارے اس طبقہ اشرافیہ کا پول کھولنے کے لئے کافی ہیں جس میں مشہور زمانہ سیاسی کردار عابد شیر علی نے فیاض الحسن چوہان کے بارے میں کہا کہ فیاض الحسن چوہان نے "ن”لیگ سے نفرت کی وجہ سے اپنے نام چوہان سے "ن”ہٹا دی ہے اور ذرا اب جواب بھی سنئے اور سر دھنئے ، جواب میں سابق وزیر اطلاعات نے کچھ یوں گل فشانی کی تھی”خلائی کھوتے کو اطلاعی عرض ہے کہ چوہا وہ ہوتا ہے جو ڈیل اور زبان بندی کر کے رائے ونڈ محل میں دبک کر بیٹھ جاتا ہے ، جو کرپٹ، قاتل اور دھرتی ماں سے بے وفای کرنے والے سیاستدانوں اور پاکستان کے دشمن مودی کے یاروں کے خلاف جان ہتھیلی پر رکھ کر روزانہ دھاڑتا ہے اسے اللہ کا شیر کہتے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ سیاسی جماعتوں میں قابلیت، ذہانت اور تجربے کی بنا پر وزراء کا انتخاب کرنے کی بجائے ان کی بد زبانی کی بنا پر ان کا انتخاب کیا جا رہا ہے تا کہ دشمن سیاسی جماعتوں کو منہ توڑ جواب دیا جا سکے جس کی بہت سی مثالوں میں سے سابقہ دور کے دو نام دانیال عزیز اورطلال چوہدری بھی بہت مشہور و معروف ہیں۔
ماضی پہ نظر دوڑائی جائے تو ہم دیکھتے ہیں لکھنؤ اور دہلی کسی دور میں رکھ رکھاؤ اور آداب میں اپنا ایک مقام رکھتے تھے یہاں تک کہ رکھ رکھاؤ اور انداز جہاں بانی سکھانے کے لئے ک[لکھنؤ کے نوابین اور طبقہ اشرافیہ اپنی اولاد کو طوائفوں کے پاس بھیجتے تھے تا کہ ان کے بچوں کو مستقبل میں کسی قسم کی کوئی دقت پیش نہ آ سکے اور میرے مشاہدے میں بھی ہے کہ سیاستدان آج بھی اپنے بچے کے لئے تعلیمی ادارے کے انتخاب میں اس بات کو ضرور مدنظر رکھتے ہیں کہ ان کے بچوں کو ایک ایسا تعلیمی ادارہ مہیا ہو سکے جہاں اس کو گفتگو اور آداب مجالس سکھائے جائیں لیکن وائے ناکامی کہ اب تو شرافت اور سیاست کا معیار بد زبانی بن چکی ہے اورہمارے میڈیا چینلز نے بھی اس موقع کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیشہ ایسے زعماء کواپنے پرگرواموں میں بلانے کی کوشش کی ہے جن کا کام ہی مار دھاڑ سے بھر پور سیاست کرنا تھا ، معدودے چندوست ہی اس بات سے با خبر ہوں گے کہ سیاسی زبان درازی کے اس سارے کھیل میں سب سے اہم کردار میزبان صحافی کا ہوتا ہے جو چنگاری کو ہوا دے کر شعلہ بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اور اگر بات ہاتھا پائی تک آ پہنچے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ دو باہم دست و گریباں پارٹیوں کو گھتم گتھا ہونے سے روک رہے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی نہ روک رہے ہوتے ہیں اور نہ ہی روکنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے پروگرام کی مقبولیت کا گراف ایسے تو اوپر جانے سے رہا ۔
روم کے بادشاہ نیرو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ قیدیوں کو مختلف جانوروں کے پنجروں میں ڈلوا کر خود تماشا دیکھتا تھا یہاں تک اس تماشے کے شوق میں اس نے پورے روم شہر کو آگ لگوا دی اور خود بیٹھا بانسری بجا رہا تھا ، اب دیکھا جائے تو موجودہ سیاست میں خود عوام مجھے بادشاہ نیرو کا کردار ادا کرتی نظر آتی ہے جو دو سیاسی جماعتوں کے زعماء کو باہم دست و گریباں دیکھ کر نہ صرف خوش ہو کر تالیاں پیٹتی ہے بلکہ ان کے لئے تو اب تفریح کا ذریعہ بھی یہی ٹاک شوز ہی رہ گئے ہیں کیونکہ موجودہ مہنگائی کے دور میں چڑیا گھر اور سرکس کا ٹکٹ بھی اتنا مہنگا ہو چکا ہے جو ایک عام آدمی کی برداشت سے باہر ہے کجا یہ کہ بچے بھی ساتھ جانے کو تیار ہو جاتے ہیں اور غریب بیچارے سرکس اور چڑیا گھر کی سیر میں بھی صرف بچے ہی سنبھالتے رہ جاتے ہیں ۔اب تو جیسے ہی شام کو ٹیلی ویژن کھولتے ہیں تو تفریحی پروگرام شروع ، موجودہ پاک بھارت جنگ بھی اب سیاستدانوں اور پاکستانی عوام کی جگتوں اور چٹکلوں کے سہارے لڑی جا رہی ہے، کل کی ہی بات ہے مجھے ایک دکان پہ جانے کا اتفاق ہوا تو ساتھ والے ہوٹل میں خبروں کے کسی چینل سے موسم کا حال بتایا جا رہا تھا تو ایک صاحب بولے یار! موسم کے حال سنانے والا یہ چینل بدلو ، کوئی انڈین چینل لگاؤ وہاں جنگ کی مارا ماری دیکھتے ہیںیا پھر کوئی سیاسی ٹاک شو ہی لگا دو ان کی لڑائی دیکھ کر ہی ہمیں ریسلنگ دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
سابقہ سال کے آخر میں سید مشاہد اللہ اور فواد چوہدری کی نوک جھونک سن کر ایسا لگتا تھا کہ ایوان بالا میں قانون سازی نہیں ہو رہی بلکہ محلے کی کوئی بڑی لڑاکو عورتیں غلطی سے اس ایوان میں گھس گئی ہیں ، آخر خدا خدا کر کے کچھ امن ہوا تو عوام نے بھی سکون کا سانس لیا اور امید بندھی کہ اب شاید سینٹ کی نظر بھی آئے روز بجلی و گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کی طرف جائے گی لیکن مجھے تو ایسا لگا کہ یہ تماشا لگایا ہی اس لئے جاتا ہے تا کہ عوام کی توجہ کسی اور طرف مبذول کروا کے اس کی آنکھ سے سرمہ چرا لیا جائے جیسا کہ موجودہ پاک بھارت جنگ کے دوران کسی بھی ذی ہوش کو علم بھی نہیں ہوا اور حکومت نے پٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھا لیں ، ہوش تو اس وقت آیا جب کسی گیس سٹیشن پہ ہم پٹرول ڈلوانے گئے اور ہاتھوں کے طوطے تو اس وقت اڑیں گے جب اگلے ماہ بجلی کا بل آئے گا لیکن کوئی بات نہیں ہمیں موجودہ حکومت کو کارکردگی دکھانے کے کچھ عرصہ ابھی دینے کی ضرورت ہے تا کہ اس دی گئی مہلت سے وہ بھی سابقہ حکومتوں کی طرح بھر پور طریقے سے فائدہ اٹھا سکے۔روز روز کے اس تماشے کو دیکھتے ہوئے اب تو ہماری عوام کے دل سے یہ دعا نکل رہی ہے کہ
ایسا مکتب بھی کوئی شہر میں کھولے ناصر
جہاں آدمی کو انسان بنایا جائے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*