بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> کب اپنے رقیب بن جائیں خبر نہیں…!!

کب اپنے رقیب بن جائیں خبر نہیں…!!

کب اپنے رقیب بن جائیں خبر نہیں…!!
عرفان مصطفٰی صحرائی
پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی طاقت کے تمام عناصر ایک پیج پر رہے تو ایوب خان،ضیاء الحق جیسی شخصیات نے جنم لیا ہے۔آج ایک بار پھر وہی دور شروع ہے،وقت کی تمام طاقتیں ایک صفحہ پر ہیں۔اگر ملک معاشی بحران سے نہ گزر رہا ہوتا تو صورت حال بالکل مختلف ہوتی۔حزب اختلاف کا نام و نشان نظر نہ آتا۔ملک میں ایک با اثر کمیونٹی ایسی موجود رہی ہے جو 1973ء کے آئینی وجود کی دشمن ہے۔وہ اس آئین سے جان چھڑانے کے لئے ہمیشہ کوشش میں رہی ہے ۔ایسا ماحول بنایا جاتا ہے جس سے پارلیمانی نظام ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے۔انہیں صدارتی نظام نافض کرنے کی جلدی اور بڑی خواہش رہی ہے۔اس ملک میں ایسی سازش کوئی اچمبے کی بات نہیں ہے۔یہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔یہی وجہ تھی کہ پاکستان میں آئین توڑنے کی سازش کئی بار کامیاب ہوئی۔لیکنکیونکہ جمہوریت کے بغیر یہ ملک چل نہیں سکتا،اس لئے دوبارہ 1973ء کے آئین کو بحال کرنا انہی طاقتوں کی مجبوری بن جاتا ہے۔اقتدار کی ہوس ان طاقتوں کی رگ رگ میں پیوست ہے۔یہی وجہ ہے کہ خود پیچھے رہ کر اپنی بنائی ہوئی کٹھ پتلیوں سے ملکی نظام چلاتے ہیں اوراسی لئے بار بار بڑے بلنڈر ہوتے دکھائی دیئے،جس سے ملک و قوم کو نا قابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اس ملک میں آئین و قانون کی باتیں بہت کی جاتی ہیں۔لیکن جس طرح یہاں آئین کو روندا گیا ہے اس سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ کون آئین کی عزت و وقار کو کتنا سمجھتا ہے۔آئین سے غداری ملک سے غداری کہا جاتا ہے۔مگر اسی ملک میں ایوب خان نے 1956ء کا آئین منسوخ کیا،ضیاء الحق کا کہنا تھا کہ آئین کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہے۔دس برس تک ایک عبوری آئین کے تحت حکمران رہے۔پرویز مشرف نے دو بار آئین کی دھجیاں اڑائیں۔پہلی بار 2اکتوبر 1999ء کو جب میاں نواز شریف کی حکومت کو ختم کیا۔دوسری بار 3نومبر 2006ء کو اپنی طاقت کا اظہار کرتے ہوئے آئین کی دھجیاں بکھیریں۔آج تک ان کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکا۔
اب بھی اسکرپٹ وہی ہے،لیکن ضرورت کے تحت اس میں نئی ترامیم کی جا رہی ہیں۔ابتدا میں صرف میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی گرفتاری کرنا رکھا گیا تھا،لیکن مریم نوازکے جارحانہ رویے سے اسکرپٹ میں تبدیلی مجبوری بن گئی۔نیب نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی)کیس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کر لیا۔نیب کا کہنا ہے کہ سابق سیکریٹری پیٹرولیم عابد سعید وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں۔اب گرفتاریوں کی لائین لگے گی۔وعدہ معاف گواہ بھی سامنے آئیں گے۔دو سابق وزراء اعظم کو جیل میں ڈال دیا ہے۔تیسرے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف عنقریب اندر ہوں گے۔ عمران خان کی احسن اقبال پر نظر کافی دیر سے ہے۔خواجہ آصف سے پی ٹی آئی کو بہت سی شکایات ہیں۔عمران خان کو حیا اورشرم دلانے اور قومی اسمبلی میں حالیہ جذباتی تقریر پر خواجہ آصف پر عتاب نازل ہونے کو ہے۔ مریم نواز کی گرفتاری یقینی بنائی جائے گی۔انصاف کے ٹھیکیداروں کو جج کی ویڈیو ریکارڈ کرنے والے شخص کے مجرم ہونے کا پتہ ہے،اس سے تفتیش بھی کی جائے گی،اسے سزا بھی ہو گی،مگر نیب کے چیئرمین کی ویڈیو بنانے والی خاتون مجرم نہیں سمجھی جا رہی۔حالانکہ ویڈیو بنانے والی خاتون کے نیب میں کیسز ہیں۔لیکن وہ نیب کے چیئرمین کو مل رہی ہے۔ویڈیو بنا کر بلیک میل کرتی ہے۔یہی اس ملک میں انصاف ہے اور منصفوں کے کردار سامنے آ رہے ہیں۔اسی وجہ سے انصاف میں جانبداری کا بیانیہ تقویت پکڑ رہا ہے۔
لگ رہا ہے کہ چند دنوں بعد بہت سے اپوزیشن کے رہنماؤں کو پابند سلاسل کر دیا جائے گا۔شاہد خاقان عباسی اور جج ملک ارشد کی ویڈیوپر گرفتاریوں سے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔حکومت کی بھر پور کوشش ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کو ذہنی اور جسمانی سختیوں سے توڑا جائے۔اب اپوزیشن کے لیڈران کی جائیدادوں کو بھی ضبط کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔یہ سب خوف و دہشت پھیلانے کے ہتھ کنڈے ہیں،لیکن اصل ہدف سیاسی میدان خالی کرنا ہے،عوامی مسائل سے توجہ ہٹائی جائے تاکہ حکومت کے پانچ سال بغیر رکاوٹ کے گزارے جائیں۔لیکن حکومت کے پاس خزانے میں کچھ نہیں تہی دست اور قلاش ریاست مالیاتی اعتبار سے دیوالیہ پن کا شکار ہے۔لیکن اقتدار کی کرسی کا ایسا نشہ ہے جو ایک بار اس پر براجمان ہوجاتا ہے وہ اسے چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتا۔اس کے لئے اسے کچھ بھی قربانی دینا پڑے۔وہ ملک سے غداری کر سکتا ہے،آئین توڑ سکتا ہے،عوام کو بھوکے مار سکتا ہے،انتشار پھیلا سکتا ہے،خانہ جنگی کروا سکتا ہے،انسانی خون بہا سکتا ہے،مگر کرسی کو چھوڑنے کو تیار نہیں ہو سکتا۔لیکن اقتدار کی کرسی بے وفا ہے یہ کسی سے وفاداری نہیں کرتی۔بے وفائی اس کی رگ رگ میں پیوست ہے۔عمران خان اس بات کو بھول چکے ہیں۔یہ ان کا قصور بھی نہیں جوبھی اس کرسی پر بیٹھا اسے یقین ہو گیا کہ اس کی کرسی بہت مضبوط ہے،اسے کوئی طوفان ہلا نہیں سکتا،مگر تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کی کرسی نے کسی سے وفا نہیں کی۔عمران خان اقتدار کے مزے میں گم یہ بھول چکے ہیں کہ وہ زیادہ دیر تک برسرِ اقتدار نہیں رہ سکتے۔اس ملک میں بہت مضبوط سیاسی طاقت کے ساتھ حکمران رہے۔انہیں پلک جھپکنے میں اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے اوران کے سامنے دشواریوں کے انبار لگا دیئے گے۔پھانسیاں دی گئیں،جلا وطن کر دیا گیا۔عمران خان تو سیاسی اعتبار سے بہت کمزورہیں،جس دن اعلیٰ سر پرستوں نے ان کا زرا سا ساتھ چھوڑا، اس دن ان کی بے بسی اور یتیمی کا اندازہ ہو جائے گا۔ سب کو یہ اندازہ ہے کہ عمران خان اقتدارکی کرسی سے اترتے ہی ولایت سدھار جائیں گے،کیونکہ اقتدار سے اترنے کے بعد وہ اس ملک میں رہ کر پُرسکون زندگی نہیں گزار سکتے،ان کے لئے یہاں سیاست کرنا ممکن نہیں رہے گا۔باقی ماندہ زندگی بے نامی سے گزاریں گے۔کیونکہ عوام کی آہیں انہیں جینے نہیں دیں گی۔ان کے حریف ان کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔اب وہ اقتدار کے خمار میں ہیں اس لئے انہیں مستقبل کے واقعات کا ادراک نہیں ہے۔انہوں نے پاکستان کو ساری دنیا میں کرپٹ اور بدعنوانوں کا ملک ثابت کر دیا ہے۔اس قوم کی رہی سہی عزت عالمی برادری کے سامنے خاک میں ملا دی ہے۔جسے یہ قوم کبھی نہیں بھولے گی۔
اب ہمارے وزیر اعظم امریکہ یاترا پر جا رہے ہیں۔وہاں پر بھی پاکستان کو بدعنوان،دہشتگرد اور سیاست دانوں کو گالیاں،دھمکیاں دینے کے سوا کیا کرنا ہے۔حافظ سعید کو گرفتار کر کے صدر ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس جانے سے پہلے تحفہ دیا ہے۔ٹرمپ نے اپنی عوام کو لطیفہ سنایا ہے کہ بمبئی کا ماسٹر مائنڈ جس کی تلاش دس سالوں سے جاری تھی وہ عمران خان نے پکڑ کر مجھے اپنی وفاداری کا پہلے ثبوت دیا ہے۔حالانکہ کہ حافظ سعید کہیں روپوش نہیں تھے۔ان کے خلاف عدالت میں کیس چلا،ضمانت ملی اور پھر ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے رہائی ہوئی۔یہ عمران خان کی جانب سے صدر ٹرمپ کو علامتی تحفہ دینا تھا۔ویسے بھی عمران خان کی حیثیت کٹھ پتلی کی ہے،اصل دورہ اور مزاکرات چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے درمیان ہوں گے اور یہ جمہوری دور میں پہلی بار ہو گا۔ عوام کو من حیث القوم ہوش کے ناخن لے لینے چاہیں کہیں بہت دیر نہ ہو جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*