بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> قرضوں کا گورکھ دھندہ

قرضوں کا گورکھ دھندہ

قرضوں کا گورکھ دھندہ
ایم سرور صدیقی
قوم کو نویدہو آخرکار پتہ چل ہی گیا پاکستانی قوم کتنی مقروض ہے وزارت خزانہ نے قومی اسمبلی میں انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان پر اس وقت کل 88 ارب 19 کروڑ 90 لاکھ امریکی ڈالر کے غیر ملکی قرضے ہیں گزشتہ چھ مالی سال کے دوران 26 ارب 19 کروڑ ڈالر سے زائد کا قرضہ لیا گیا جس پر 7 ارب 32 کروڑ ڈالر کا سود دیاجارہاہے سود کے بعد پاکستان پر گزشتہ 6 مالی برسوں کے دوران 33 ارب 50 کروڑ ڈالر سے زیادہ قرضہ واجب الادا ہوگیاہے دوسری خبر اس لحاظ سے اچھی خبرہے کہ پاکستان غیرملکی قرضوں کی ادائیگی کے قابل ہورہاہے لیکن باخبر لوگوں کا کہناہے کہ اس کے بغیر نئے قرضے ملنا محال تھے اس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ پاکستان قرضوں کے گوکھ دھندے میں پھنس گیاہے جبکہ تحریک انصاف کی حکومت نے صرف 9 ماہ میں ریکارڈ 23 کھرب روپے کے قرضے واپس کر دئیے، حکومت کی جانب سے 9 ماہ کے دوران اسٹیٹ بینک سے کل 18 کھرب روپے سے زائد کا قرض حاصل کیا گیا، تاہم اس عرصے کے دوران بینکوں کیلئے کل ادائیگیوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا اور یہ 23 کھرب 50 ارب روپے رہی جو گزشتہ برس کے مقابلے کے 708 ارب روپے کے مقابلے میں 231 فیصد زیادہ تھی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ برس جولائی سے اپریل 2019 کے درمیان حکومت کے بجٹ قرضوں میں 17.03 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 917 ارب 13 کروڑ روپے کی سطح تک پہنچ گئے۔ گزشتہ برس کے اسی عرصے میں بجٹ قرضوں کا حجم 786 ارب 67 کروڑ روپے تھا۔ سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق سابقہ حکومت کی جانب سے حاصل کیا گیا کل قرض اپریل 2019 تک 32 کھرب 60 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔گذشتہ سال اس قرضے کا حجم 14 کھرب 90 ارب روپے تھا، تاہم اب اس قرضے میں 118.6 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ تاہم دوسری جانب اس عرصے کے دوران ہی بینکوں کیلئے کل ادائیگیوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے 18 کھرب روپے سے زائد کے قرضے کی وصولی کے مقابلے میں 23 کھرب 50 ارب روپے کی ادائیگی بھی کی ہے۔ اسی طرح نجی شعبے کے قرضے بھی اپریل 2019 کے درمیان 597 ارب 83 کروڑ روپے رہے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 458 ارب 28 کروڑ روپے تھی، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سالانہ بنیاد پر 30.45 فیصد اضافہ ہوا۔تبدیلی سرکار کے نئے پاکستان میں عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہی ہے اناڑی حکمرانوں نے8ماہ میں ملکی معیشت تباہ کر دی ہے اس وقت صورت حال یہ ہے کہ حکومت مہنگائی کنٹرول کرنے میں بے بس نظر آتی ہے ملکی معیشت کا گراف اور روپیہ کی قدر تیزی سے گر رہی ہے نیازی کابینہ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں غریب کیلئے علاج ناممکن بنا دیا ہے عالمی سطح پر پاکستان تنہائی کا شکار ہو رہا ہے تحریک انصاف اپنی نااہلی چھپانے کیلئے انتشار اور محاذ آرائی کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے موجودہ حکومت اگر انہی پالیسیوں پر چلتی رہی تو پاکستان کی قومی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ایف بی آر ٹیکسوں کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا، 10 ماہ میں ایف بی آر کا ٹیکس شارٹ فال380 ارب روپے سے تجاوز کرگیا۔ذرائع کے مطابق جولائی تا اپریل 3 ہزار ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا، جبکہ 10 ماہ کا مقررہ ہدف 3 ہزار 380 تھا، اپریل میں اب تک 300 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا ہے۔ایف بی آر کو اگلے دو ماہ میں مزید ایک ہزار 400 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کرنا ہے۔ ایف بی آر کو 30 جون تک 4 ہزار 398 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کرنا ہے۔ ملکی معیشت کے حالات دن بہ دن دگرگوں ہوتے جا رہے ہیں۔وفاق صوبوں پر اور صوبے وفاق پر الزام تراشیاں کررہے ہیں۔دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پر فنڈز نہ ہونے کا رونا رو رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے وفاق دیوالیہ ہو چکا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبوں کو ٹیکس جمع کرنا تھا جس میں وہ ناکام رہے۔جب تک شہر اپنا پیسہ اکٹھا نہیں کریں گے بہتری نہیں آ سکے گی۔ سسٹم ٹھیک کر دیا تو گارنٹی دیتا ہوں کوئی ہمیں ہرا نہیں سکے گا۔ان کا کہنا تھا کہ گورننس کی بہتری اولین ترجیح ہے۔ پاکستان میں بلدیاتی نظام ڈیلیور نہیں کر رہا تھا عمران خان نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی اراکین قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو ڈویلپمنٹ فنڈز نہیں ملتے۔ کوئی شک نہیں کہ آگے جا کر ایم این ایز کی جانب سے مزاحمت ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ نئے نظام کے تحت دو سطحوں پر انتخاب ہوگا۔ 22 ہزار گاؤں کو براہ راست فنڈز منتقل ہوں گے۔ ویلج کونسل کے انتخاب سے نئی لیڈرشپ سامنے آئے گی۔ کوئی بھی اداروں کوایک دم ٹھیک نہیں کر سکتا، پہلا سال مشکل ہی گزرنا تھااس کے بعد آسانیاں پیدا ہوں گی۔ صوبوں کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ ریونیو اکٹھا کریں اور وفاق سے مدد حاصل کرنے کی بجائے اس کی مدد کریں۔ اس صورت ِ حال پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا تبصرہ تھا کہ حکومت کی نااہلی کا بوجھ عام آدمی پر پڑ رہا ہے، وزیر خزانہ، گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر کو ہٹایا جاتا ہے، پوچھتے ہیں کہ یہ فیصلے کون کر رہا ہے، کیا یہ فیصلے آئی ایم ایف کر رہا ہے۔ آج معیشت وینٹی لیٹرپر آگئی ہے جس سے عام آدمی کی زندگی تنگ ہورہی ہے یہ حکومت آئی ایم ایف کے سامنے جھکی ہوئی ہے جب کہ کنفیوڑن کی وجہ سے معیشت پر برے اثرات پڑ رہے ہیں اور حکومت کوئی قدم نہیں اٹھا رہی خان صاحب کا ہر نعرہ اور دعوی جھوٹ ہوتا ہے، کہتے ہیں وفاق اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے دیوالیہ ہو گیا، صوبے وفاق کی ناکامی کی وجہ سے دیوالیہ ہو رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ وہ واحد صوبہ ہے جس میں ٹیکس وصولی سب سے زیادہ ہے، حکومت کو سندھ سے سیکھنا چاہیے، عمران خان کی ناکامی کی وجہ سے صوبے متاثر ہو رہے ہیں، عوام مہنگائی کی صورت میں حکومت کی ناکامی کا بوجھ اٹھا رہی ہے، پیپلز پارٹی نے بھی آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل کی مگر تنخواہوں میں اضافہ بھی کیا، لوگ خود فیصلہ کریں کہ تبدیلی سے پہلے حالات بہتر تھے یا اب بہتر ہیں۔ احتساب کے قانون پر ہمارا موقف واضح ہے، آج بھی کہتے ہیں یہ کالا قانون ہے، سمجھتے ہیں نیب خود منی لانڈرنگ کا ادارہ نہیں ہو سکتا، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں خود ترمیم لائیں گے، تمام پارٹیز کو چیلنج کریں گے کہ احتساب سب کے لیے ہونا چاہیے۔سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا”کہ اسے کوئی بتاؤ 18ویں ترمیم نہیں این ایف سے ایوارڈ سے وسائل تقسیم ہوتے ہیں تین صوبوں میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اسے ٹھیک کر لو اگر کوئی نقص ہے۔“یوں احسن اقبال نے عمران خان کو اپنے ہی صوبوں کی کارکردگی پر نظر دوڑانے اور فنڈز حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا پیغام دیا۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ فنڈزکی کمی بیشی این ایف سی ایوارڈز کی وجہ سے ہوتی ہے نہ کہ اٹھارہویں ترمیم اس کے راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ ہے۔ پاکستان کی طرف سے بھاری ٹیکسیشن جس کا حجم ساڑھے سات سو ارب روپے تک ہو سکتا ہے کا مطالبہ ماننے، بجلی، گیس کی ساری لاگت صارفین سے وصول کرنے اور روپے کی قدر کو آزاد چھوڑنے اور اس پر سٹیٹ بینک کو کنٹرول محدود کرنے، ریونیو کا ہدف 5ہزار ارب سے بڑھانے سمیت تمام شرائط کو قبول کرلینے کے بعد اب رسمی معاہدہ ہونے میں کوئی خاص رکاوٹ نہیں ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کو یہ یقین دہانی بھی کرا دی گئی ہے کہ چین، سعودی عرب اور یو اے ای کی طرف سے ملنے والے پیکج کی ادائیگی آئی ایم ایف کے پیسے سے نہیں ہو گی اور ان تینوں ممالک کے آئی ایم ایف میں موجود نمائندے بورڈ اجلاس میں آئی ایم ایف کو ضمانت دیں گے کہ اگر پروگرام کے عرصہ میں ان ممالک کی کوئی ادائیگی بھی گئی تو اس کو رول اوور کر دیا جائے گا، بجلی اور گیس کے ٹیرف میں مرحلہ وار اضافہ کو طے کر لیا گیا ہے اس سلسلے میں اوگرا اور نیپرا جو بھی تعین کریں گی اس کا نوٹیفیکشن بلا تاخیر جاری کیا جائے گا، کسٹمز، انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی کی بیشتر رعایات بھی واپس لی جائیں گی، سٹاف لیول پر معاہدہ ہونے کی صورت میں پروگرام بورڈ میں جائے گا۔ مذاکرات کی طوالت کے باعث بجٹ کی تیاری بھی متاثر ہوئی، اب بجٹ بھی جون میں پیش کیا جائے گا اس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ پاکستان قرضوں کے گوکھ دھندے میں پھنس گیاہے یعنی جب اوکھلی میں دیا سر پھر موسلی کا کیا ڈر خد خیرکرے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*