بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> جنوبی پنجاب کی تعمیر و ترقی اور امن میں نوجوان اہل قلم کا کردار

جنوبی پنجاب کی تعمیر و ترقی اور امن میں نوجوان اہل قلم کا کردار

جنوبی پنجاب کی تعمیر و ترقی اور امن میں نوجوان اہل قلم کا کردار
مجیداحمد جائی۔۔ملتان
تاریخ کے اوراق پر پڑی دھول اُڑائی جائے توعیاں ہوگا کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے حوالے سے سیاسی ماحول ہمیشہ ہی کبھی گرم اور کبھی سرد رہا،مگر بعدازاں پوائیٹ سکورننگ کر کے اس معاملے کو کسی سرد خانے کی نذر کر دیا گیا۔آج ایک بار پھر جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کیلئے سیاستدانوں میں بحث چھڑ چکی ہے اور قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبے کیلئے پی ٹی آئی کے تین ارکان قومی اسمبلی کی طرف سے پارلیمان کی خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کیلئے پیش کی گئی تحریک منظور کر لی گئی ہے۔کوئی بلند وبانگ نعروں کے ساتھ حمایت میں ہے تو کوئی دبے الفاظ میں اور کسی کو چپ لگ گئی ہے
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے پر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ایک پیج پر ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن کی جماعت جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لیے اپنے منشور پر عمل کرے گی۔بہرحال یہ وقت بتائے کہ سیاسی دنگل میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا کون جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کیلئے حقیقی آواز اُٹھائے گا اور کون وقت کے تضاضوں کے پیش نظر مفادات کو مدنظر رکھے گا، دنیا دیکھ ہی لے گی، مگرہم آج اس موضوع سے قطع نظر صرف جنوبی پنجاب کی تعمیر و ترقی اور امن میں نوجوان اہل قلم کا کردار کا طائرانہ جائزہ لیتے ہیں
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔اُمنگیں،آرزوئیں،جدوجہد اور بے نیازی یہ تمام صفات نوجوان کی صفات ہیں۔ان صفات کے ساتھ اگر نوجوان اہل قلم بھی تو سر سیداحمد خان کے طالب علم بن جاتے ہیں۔یہ ملک وقوم کی ترقی و امن کے ہر موقع پر لبیک کہنے کو ہر وقت تیار ہوتے ہیں۔
جنوبی پنجاب کے نوجوان اہل قلم ملک و قوم کو تباہی و بربادی کا شکار نہیں ہونے دیتے۔اِن میں نااُمیدی کا عنصر بلکل نہیں ہوتا بلکہ بڑی ہوشیاری سے اپنی منزل پر راہبری کے فرائض انجام دیتے ہوئے منزل کی جانب پیش قدمی کے لیے عوام کو اُبھارتے رہتے ہیں۔اقبال کے یہ شاہین ہیں اور ان کی پروازیں بلندی پر ہوتی ہیں۔یہ نہ رُکتے ہیں اور نہ ہی تھکتے ہیں۔یہ ہر لمحہ،ہر پل پُر اُمید رہتے ہیں۔جنوبی پنجاب کی ترقی و امن میں اہل قلم یک جان ہیں۔ان کا جو بھی کام ہو،جو بھی فریضہ ہو قبول کرتے ہیں۔خلوص اور صداقت کے ساتھ اُسے سر انجام دیتے ہیں کیونکہ بے لوث و فاداری ہی ان کا ایمان ہے۔قلم کار کچھ بھی ہو منافق ہرگز نہیں ہوتا۔
جنوبی پنجاب کی ترقی و امن میں سب سے اہم عنصر انہی قلم کاروں کی طاقت ہے۔کہتے ہیں قلم تلوار سے بھی زیادہ طاقت وار ہوتا اور جن کے ہاتھوں میں قلم ہو وہ بہادری،دلیری کے عمدہ اور اعلی مثال ہوتے ہیں۔یہ اپنے من کے سکون کی خاطر صبر و برداشت کے ساتھ اپنی دھرتی کی سچی خدمت کرتے جاتے ہیں۔
یاد کرتا ہوں زمانہ اُنہی انسانوں کو
روک لیتے ہیں جو بڑھتے ہوئے طوفانوں کو
جنوبی پنجاب کے اہل قلم حق سچ کہنے میں نہ رُکتے ہیں نہ تھکتے ہیں۔ان کے جذبے جوان رہتے ہیں اور ہر طرح کے مسائل کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور جب تک ان مسائل کا حل نہ نکال لیں چین و سکون سے نہیں بیٹھتے۔جنوبی پنجاب کے قلم کار جنوبی پنجاب کی تعمیر و ترقی اور امن میں اعلی کردار اداکرتے ہیں یہ لوگوں کے اخلاق وعادات کو سنوارنے اور سُدھارنے کے لیے ہروقت،ہر دور میں تیار رہتے ہیں۔یہ لوگوں کے دلوں میں نفرتوں کے بیج بونے کی بجائے اللہ کی محبت کا نقش اُجاگر کرتے ہیں۔یہ انسانیت سے محبت کا درس دیتے ہیں،اُمید دلاتے ہیں،دلوں میں جذبے پیدا کرتے ہیں۔یہ بچھڑے ہوؤں کو ملاتے ہیں،یہ روٹھے ہوئے کو مناتے ہیں۔ان کے قلم لبوں پر مسکراہٹ بکھیرتے ہیں۔آداب زندگی سیکھاتے ہیں۔یہ یتیموں کے سروں پر دست شفقت رکھنا اور محبت کرنا سیکھاتے ہیں۔یہ مساوات بھائی چارے کا درس دیتے ہیں۔
جنوبی پنجاب کے قلم کار اپنے مقدس رشتے کو خوب خوب نبھانہ جانتے ہیں۔انہی قلم کاروں کی کاوشوں کا ثمر ہے کہ اس خطہ ارض میں امن ہے اور تعمیر و ترقی کی طرف گامزن ہے۔اس خطے کے قلم کار،اپنی رگوں سے خون لے کر قلم قرطاس کے ذریعے معاشرے کے ناسوروں کو ختم کرکے امن کی روشنی ہرسو ں پھیلاتے ہیں۔
جنوبی پنجاب کے اہل قلم کاروں کے نام گنوانے لگ جاؤں تو مجھے کئی دبستان لکھنے ہوں گے۔یہاں کے نوجوان قلم کاروں کی لسٹ بہت طویل ہے جو قلیل وقت میں ممکن نہیں۔یہ انہی قلم کاروں کے جہادی قلم کا ثمر ہے کہ یہاں امن کی بلبل گاتی ہے اور یہ خطہ دن بدن ترقی کی طرف گامزن ہے۔یہاں کی ثقافت اور کلچر کے ہر سوں چرچے ہیں۔یہاں بچوں کے ذہنوں کی آبیاری کے لیے ان کے قلم رواں ہیں۔ان کی تحریریں قاری کو معاشرے کا باشعور شہری بناتی ہیں اور خود صدارتی ایوارڈ بھی پاتے ہیں۔
جنوبی پنجاب کے نوجوان قلم کار اس کی تعمیر و ترقی اور امن کے لیے اپنے قیمتی وقت سے کچھ وقت نکال کر اپنے قلم سے نکلے لفظوں سے کالم تیارکرتے ہیں اور پڑھنے والوں کو مقصد زندگی بیان کرتے ہیں۔انہی کالموں کے ذریعے اپنی آواز،اپنے مسائل ارباب اختیار تک پہنچاتے ہیں اور ان کے توجہ ان مسائل کی طرف توجہ کراتے ہیں۔یوں بروقت ہر مسئلے کا حل پاتے ہیں اور امن سے رہتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*