بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> عجب فیصلہ اور تیسری دنیا!

عجب فیصلہ اور تیسری دنیا!

عجب فیصلہ اور تیسری دنیا!
ملک شفقت اللہ
عالمی عدالت میں کلبھوشن یادیو کے کیس کا فیصلہ کافی مدو جزر کے بعد سنایا گیا ہے۔ مختصراََ یہ کہ پاکستانی کورٹ نے جو فیصلہ دیا تھا وہ بالکل درست ہے، کلبھوشن یادیو پاکستان میں دہشتگردانہ کاروائیوں میں ملوث پایا گیا ہے، اس کا جو پاسپورٹ مبارک پٹیل کا وہاں بھارت کی جانب سے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا تھا اور جو ثبوت پاکستان کی طرف سے جمع کروائے گئے تھے انہیں یورپ کی ایک برطانوی فرانزک ٹیسٹ کمپنی نے پاکستان کے ثبوتوں کو درست جبکہ کلبھوشن یادیو کیلئے بھارت کی جانب سے پیش کیا جانے والا ثبوت من گھڑت اور پاس پورٹ جعلی قرار دیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے بھارت کو بھی ٹافی دے دی ہے کہ پاکستان کو کہا ہے وہ سزائے موت کے فیصلے پر نظر ثانی کر لے، یعنی اگر سزائے موت کی بجائے عمر قید کی سزا دے دی جائے۔ یہ صرف اداکاری کی جا رہی ہے جس کی ہمیں سمجھ نہیں آ رہی۔ جس طرح بچوں کا جی للچا لیا جا تا ہے کہ دو ٹافیاں بھارت کو دے دیں اور دو پاکستان کو، اس طرح دونوں بھنگڑے ڈال رہے ہیں۔زیادہ سے زیادہ آئی سی جے کا فیصلہ جنرل اسمبلی میں جا سکتا ہے اور جنرل اسمبلی میں آپ کو پتہ ہونا چاہئے کہ کشمیر،فلسطین، برما، سیریا، شام وغیرہ کیلئے کتنی قرار دادیں پیش ہو چکی ہیں! ان کا اب تک کیا بنا ہے؟یہ بات ٹونی بلئیر نے تسلیم کی اور اسے برطانوی اخباروں نے کوریج بھی دی کہ عراق میں جنگی جرائم ہوئے اور بہت سی غلطیاں بھی ہوئیں ہیں۔ بہت عجب بات ہے کہ دس لاکھ لوگوں کا قتل عام کر کے کہہ دینا کہ ہم سے غلطی ہو گئی، میرا سوال ہے کہ اس وقت انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کہاں تھا؟ ”جسکی لاٹھی، اسکی بھینس“ کے مصداق ہمیں اصل مسئلہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت اقوام عالم کا قانون انارکی ہے۔ جس کی جتنی طاقت ہے وہ اسی قدر کمزوروں کو مسل رہا ہے۔آئی سی جے کی کوئی مرکزی حکومت یا ذمہ داری نہیں ہے، یہ بالکل اسی طرح ہے کہ جو ملک زیادہ طاقتور ہے وہ تسلط قائم کرنا جانتا ہے۔ اگر امریکہ اپنے حریف کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہے تو آئی سی جے میں اپنی منوا لے گا، اسی طرح بھارت نے سابقہ دور حکومت میں جس لابنگ کا مظاہرہ کیا تھا اس پر کلبھوشن یادیو کے بارے ہمارا کیس بہت کمزور پڑ گیا تھا، لیکن حالیہ حکومت میں چونکہ خارجہ پالیسیاں واضح نظر آنے لگی ہیں تو یہ انہیں پالیسیوں کی وجہ ہے کہ بھارت کی انتہائی مذموم سازش کا ہم نے جواب دیا ہے اور ان کی ساری درخواستیں مسترد کر دی گئیں ہیں، اسی طرح سابقہ دور حکومت میں ہماری درخواستیں آئی سی جے نے مسترد کی تھیں۔ آئی سی جے کی ممالک کے اندر کوئی حیثیت نہیں ہے، فقط اسے ایک سوفٹ پاور سمجھ لیجئے، جو فیصلہ تو دے سکتی ہے لیکن اس پر عمل درآمد کروانا اس کے بس میں نہیں ہے۔ اس کا مقصد صرف و صرف پاکستان کیلئے عالمی سطح پر یہ تاثر پیدا کرنا تھا کہ پاکستان ویانا کنونشن کااحترام نہیں کرتا۔سب طاقت کے کھیل ہیں، اس طرح کے ہزاروں کیس امریکہ، اسرائیل، روس وغیرہ کے خلاف پڑے ہوئے ہیں، کئی قراردادیں منظور کروائی گئیں ہیں لیکن آئی سی جے ان کا کیا بگاڑ پائی ہے۔ مسلمان ایک زیرک انسان کانام ہے، عقل، فہم، شعور اور غورو فکر اس کے اوصاف ہیں۔ لیکن یہ میں کیا دیکھتا ہوں کہ پاکستان کے ہی سیاسی لوگ انسانیت کے دعویدار بنے کھڑے ہیں اور آئی سی جے کے فضول بیان پر ہیر وپنتی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ذرا یہ اپنی انسانیت کی مثال تو دیں کہ جب ان کے ادوار میں تھر کے بچے قحط سے مر رہے تھے، اور بلوچستان کی زمین بنجر ہوگئی تھی تب ان کی انسانیت کہاں تھی؟آج کہہ رہے ہیں پھانسی نہیں ہونی چاہئے! حیرت زدہ ہوں ایسے بیانات سن کر کہ ایک شخص نے پاکستان کی سرحد پار کی، پھر یہاں پچاس ہزارسے زائد کراچی اور بلوچستان میں شہادتوں کا مؤجب بنا، اور اس نے مانا بھی کہ میں نے یہ مشن یہاں ”را“کا پورا کیا، اس کے باوجود اس کے ساتھ ہمدردی ہے۔اسی مغرب میں کوئی ایسا کام ہوتا تو بغیر پوچھے اور بلا تاخیر اس بندے کو گولیوں سے چھلنی کر کے مار دیا جاتا اور وہ سٹیٹ ہیرو بھی بن جاتی کہ بہت کم وقت میں دہشتگرد کو پکڑ کر مار دیا ہے، جس طرح نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملہ کرنے، شام اور عراق کے ساتھ کھیل کھیلنے میں امریکہ نے کوئی تاخیر نہیں کی تھی اور آج ہیرو بھی وہ خود ہے۔ آئی سی جے میں کیس کے فیصلے کے بعد بے شک پاکستان کو ایک بڑی سفارتی کامیابی ملی ہے، اور دنیا کو بھی پتہ چل گیا ہے کہ کس طرح بھارتی میڈیا صرف جھوٹی خبریں اور سازشیں پھیلاتا ہے اور اپنی قوم کی مسلم ممالک کے خلاف ذہن سازی کر رہا ہے۔حیرت کی بات ہے کہ بھارت کلبھوشن یادیو کے کونسل رسائی پر فخر کر رہا ہے جو جینو سائڈ جیسے گناہ کا مرتکب ہوا ہے۔کلبھوشن یادیو بیک وقت بلوچستان اور کراچی میں دہشتگرد گروہوں کی سر پرستی کر رہا تھا۔ایم کیو ایم اور بی ایل اے جسے امریکہ نے بھی دہشتگرد قرار دے دیا ہے کی معاونت بھی کلبھوشن یادیو قبول کر چکا ہے۔ایم کیو ایم لندن کے دہشتگرد گروہ کی سرپرستی اور سہولت کاری بھی رہا ہے جس کا اعتراف خود کلبھوشن یادیو نے کیا۔ اور را کی در اندازی پر ایم کیو ایم کے متعدد سینئر راہ نما گواہی دے چکے ہیں۔اس کے علاوہ الطاف حسین خود اسکواٹ لینڈ یارڈ کو منی لانڈرنگ کیس میں را کی طرف سے مالی معاونت کا جواب داخل کروا کر براہِ رست اعتراف کر چکے ہیں۔اس واضح اور دوٹوک فیصلے کے باوجود صرف اس بات کی وجہ سے کہ پاکستان سزائے موت والے فیصلے پر نظر ثانی کرے کو اس طرح اڑا رہا ہے جیسے فیصلہ یک طرفہ ہوا ہو۔ پاکستان میں موجود سیاہ سی لوگوں کی کلبھوشن یادیو کی پھانسی روکنے کے حق میں بیان بازی روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ یہ لوگ بھارت کی زبان بول رہے ہیں، کیونکہ کلبھوشن جب تک زندہ رہے گا تب تک روایتی حریف کی طرف سے مختلف سازشوں کا سامنا رہے گا۔ انسانیت کا نام لینے والے پہلے اپنے اعمال سے انسانیت کا مظاہرہ کریں۔لیکن پاکستانی عدالتوں کو چاہئے کہ کلبھوشن یادیو کو پوری دنیا کیلئے عبرت کا نشان بنائیں کہ اگر کسی نے بھی اس پاک سرزمین کی طرف میلی نگاہ اٹھائی تو ذلیل کرنے کے ساتھ ساتھ اسے ہم نیست و نابود کر دیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*