بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> گڈ گورننس و پالیسیاں
معزز

گڈ گورننس و پالیسیاں

گڈ گورننس و پالیسیاں
تحریر مہر سلطان

کسی بھی معاشرے کی تعمیروترقی کا جائزہ اسکی اخلاقی اقدار سے لگایاجاسکتا ہے اگر اخلاقی اقدار زوال پذیر ہوں تب بہتری کی گنجائش کی امید انتہائی مخدوش ہوتی ہے بحثیت قوم ہم اخلاقی طورپر زوال پذیر ی کاشکار ہیں اس کا مظاہرہ رزانہ کی بنیاد پر دیکھنے کو ملتا ہے سادہ سی مثال کوئی دوسرا جرم کرے تو ہم بڑھ چڑھ کر اسکو سزادلوانے میں پیش پیش ہوتے ہیں مگر وہی جرم جب کوئی اپنا کرے تو ہم اس وقت تمام تر اخلاقیات کو بھول کرے اسے معافیاں دلوانے میں سردھڑ کی بازی لگادینے میں کوئی عار نہیں سمجھتے ہیں اسی نقطے سے قوموں کی زوال پذیری شروع ہوتی ہے سرکاری افسران چونکہ سرکار کے ترجمان ہوتے ہیں اور عوام میں بطوررول ماڈل کے طور پر دیکھے جاتے ہیں مگر بدقسمتی سے بہت کم افسران ایسے ہیں جو واقعی ہی اخلاقیات کو اسکی روح کے مطابق اپناتے ہیں سرکاری افسران کی اکثریت عوام کو طفل تسلیاں دے کر بڑے خوش ہوتے ہیں چونکہ عوام ان پر اندھا اعتماد کرتی ہے اسی سوچ کا فائدہ اٹھاکر یہ سیاستدان و افسران اپنے ایجنڈے کی تکمیل میں کوئی کسر اٹھا نہیں چھوڑتے ہیں انسانی معاشرے میں تعلیم ریڑھ کی ہڈی کے طور پر ہے لیکن اسی تعلیم کے نام پر سرکاری وغیر سرکاری ادارے بڑھ چڑھ کر ہیرا پھیری کرنے میں سرگرداں نظر آتے ہیں جب ڈپٹی کمشنر خود ہیرا پھیری کو پرموٹ کرے گی تب محکمہ تعلیم کے علاوہ باقی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہی اٹھیں گے سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت ناگفتہ بہ ہے مگر سابقہ و موجودہ انتظامیہ فرضی و بوگس رپورٹس مانیٹرنگ اہلکاروں کی ملی بھگت سے سب اچھا کا راگ الاپ کر سرکاری خزانے سے پیسے بٹوررہے ہیں اخلاقیات کی حالت یہ ہے محکمہ تعلیم کے افسران لاہور میں بیٹھے بغیر کسی فزیبلیٹی اور زمینی حقائق کے پالیسیاں ترتیب دیکر قوم کے پیسے کو ضائع کروانے میں ہر اول دستے کا کردار اداکررہے ہیں لیٹرینوں کی تعمیر کا حکم دیتے وقت کسی بھی پہلو کو مدنظر نہیں رکھا گیا ہے بعض سکول ایسے ہیں جہاں اضافی واش رومز بنانے کیلئے جگہ ہی دستیاب نہیں ہیں تو دوسری جانب عام طور پر چالیس سے پچاس ہزاروپے میں بننے والاواش روم تقریبا ایک لاکھ روپے میں بنایاگیا ہے حکومت کیلئے صائب مشورہ کافی ذیادہ واش رومز بن گئے ہیں انہیں سکینڈ ٹائم میں کرائے پر چلا کر ریونیو اکٹھا کرسکتی ہے یوں بچوں کیلئے آنیوالا پیسہ ہضم کرلیا گیا ہے سہولیات کی عدم موجودگی کے باوجود بوگس رپورٹنگ سے مختلف اضلاع کو رینکنگ میں پہلے نمبروں پر لاکر سرکار سے بطور انعام پیسے وصول کیے جاتے ہیں ضلع قصور کے سینکڑوں سکولوں کی بلڈنگ انتہائی خستہ حال ہے متعدد سکول بلڈنگ سے محروم ہیں پینے کا صاف پانی دستیاب نہی ہے مڈل وپرائمری سکولوں میں خاکروب نام کی کوئی بلا موجود نہیں تب صفائی کے 100 فیصد نمبر کیسے مل گئے بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ سابقہ گورنمنٹ کے بلندوباغ دعوے اربوں روپے کے فنڈز کدھر گم ہوچکے ہیں ڈائریکٹر مانیٹرنگ پنجاب کی کارکردگی جعلسازی کو پرموٹ کرنا ہے نان سیلری بجٹ کی مد میں کروڑوں روپے کی کرپشن ہوچکی ہے منسٹر ایجوکیشن کو چاہیے کہ وہ ذیادہ نہی صرف ضلع قصور کا ہی آڈٹ کروالیں ماضی کی کارکردگی کا پول کھل جائے گا اسکے بعد باری آتی ہے دیگر کاموں کی تو گرین ایند کلین مہم کا ڈراپ سین بھی انتہائی شرمناک ہے گندگی جوں کی توں پڑی ہے تجاوزات کے خلاف آپریشن پسند نہ پسند پر اختتام پذیر ہوچکا ہے ضلع قصور میں سڑکوں پر تجاوزات جوں کی توں ہیں سیورج سسٹم خراب ہے سڑکوں پر گندہ پانی ہر وقت موجود ہوتا ہے سرکارکے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے ضلع لاہور کی بات کی جائے تو ٹھوکر کے علاقے علی رضا آباد مین رائے ونڈ روڈاور رائے ونڈ شہر میں تجاوزات کی مہم سیاسی پریشر کے سامنے ملیا میٹ ہوچکی ہے ناجائز بس ورکشا سٹینڈ جوں کے توں قائم ہیں صفائی کی صورتحال بھی خراب تر ہے سیورج کا پانی سڑکوں پر دندناکر اچھی کارکردگی کا منہ چڑاتا ہے محکمہ ہیلتھ کیئر کی کارکردگی یہ ہے کہ جب انکی گاڑی لاہور سے قصور کیلئے نکلتی ہے عطائیوں کے بنائے گئے واٹس ایپ گروپس میں انکی مخبری شروع ہوجاتی ہے یوں عطائی حضرات چوہوں کی مانند بلی سے بچنے کیلئے اپنی بلوں میں چھپ جاتے ہیں جانوروں کیلئے استعمال ہونے والی ادویات انسانوں کو دھڑادھڑ لگائی جارہی ہیں رائے ونڈ میں بھی بہت سارے پرائیوٹ ہسپتال ایسے ہیں جہاں پر ایسے افراد سی سیکشن کے آپریشن کررہے ہیں جو میڈیکل کی الف ب بھی نہیں جانتے ہیں کچھ نامی گرامی مذبحہ خانے ایسے بھی ہیں جو مضر اثرات کا حامل انجکیشن ڈیکسا کا بھرپور استعمال کرکے انسانوں کو گردے و پھیپھڑے کی بیماریوں کے ذریعے موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں بطور سیمپل ملنے والی ادویات کو خودساختہ میڈیکل سٹوروں پر فروخت کررہے ہیں مگر ان کوکوئی پوچھنے والا نہیں ہے ان ہسپتالوں کے اندر صفائی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ہے محکمہ فوڈ کی کارکردگی بھی صرف کاغذوں کی حد تک نظر آتی ہے کھانے پینے کے ہوٹلوں میں صفائی ناپید ہوتی ہے کچن کی حالت بھی قابل رحم ہوتی ہے چائے کے ہوٹلوں پر پوڈر ملے دودھ کی چائے فروخت ہوتی ہے چائے کی پتی بھی مضر صحت ہوتی ہے دونوں اضلاع میں یہ دھندہ بھی دھڑلے سے جاری وساری ہے سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر آپ کاروائیاں کرتے ہیں تو بہتری کیوں نہیں آتی ہے جرمانے کے علاوہ دوکانیں سیل کی جاتیں ہیں مگر رزلٹ صفر ہے کچھ تو اداروں کو اگر اخلاقیات ہیں تو ہوش کے ناخن لینے چاہیں بصورت دیگر پھر انسانی سوچ پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے ۔ضلعی انتظامیہ کی رٹ یہ ہے کہ ایک پٹواری ان کی رٹ کو چیلنج کردیتا ہے سالہاسال ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کی کورٹ میں زمینوں کے کیس چلتے ہیں مگر انکے فیصلے نہیں ہوتے کیا افسران صرف کیسز کی تاریخیں دینے کیلئے دفاتر میں آتے ہیں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*