بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> لاوارث ضلع قصور
لاوارث ضلع قصور

لاوارث ضلع قصور

لاوارث ضلع قصور
مہر سلطان محمود
تبدیلی سرکار کے دعوے اپنی جگہ مگر انتظامیہ سرکار وعوام دونوں کو عمروعیار کی کہانیاں سنا کر،شیخ چلی کے خواب دکھا کر بادشاہت کا رعب ڈال کر الو بنانے میں فی الوقت کامیاب نظر آتی ہے چونکہ تھپکی منتخب عوامی نمائندوں کی ہے تاریخ کی بدترین ایڈمنسٹریشن کا دور دورہ ہے سول انتظامیہ کی اہم پوسٹیں سربراہ ادارہ کے نہایت اچھے رویئے کی وجہ سے خالی ہیں بیوروکریسی کے کسی بھی گروپ سے تعلق رکھنے والا افسر ادھر آنے کو تیار نہیں،عوام باقی ماندہ افسران جو اضافی چارج تنگ آمد بجنگ آمد قبول کیے بیٹھے ہیں کے دروازوں پر زلیل و خوار ہوتی ہے امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے کپتان سزا وجزاو کھلی کچہریوں کا انعقاد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں لیکن بدقسمتی کیساتھ شہر قصور میں دن دیہاڑے ہونیوالی ڈکیتیاں معہ ضلع بھر میں پے در پے اغواء وذیادتی کے بعد معصوم بچوں کے قتل عام کو روکے جانے کے اسباب فی الحال کوسوں دور نظرآتے ہیں جسکی وجہ سے ایک غیر یقینی کیفیت نظر آتی ہے اس پر کپتان قصور پولیس کو ازسرنو پالیسی ترتیب دینی ہوگی۔
انسانی زندگی میں تعلیم اور صحت دو بنیادی ستون ہیں تعلیم کے اوپر پچھلے دنوں کافی روشنی ڈالی گئی تھی مانیٹرنگ اہلکاروں کی طرف سے لیاجانیوالا ایل اینڈ ڈی ٹیسٹ کو بڑی تحقیق کے بعد بوگس ہی کہا جاسکتا ہے دیگر کاموں میں شعور دینے والا یہ محکمہ خود بے شعور ہوچکا ہے کرپشن در کرپشن پکڑے جانے پر اوپر سے لیکر نیچے تک بچاو کی پالیسی چل رہی ہے محکمہ ہیلتھ کا سربراہ جس کو محکمہ داخلہ کی ایک رپورٹ میں ڈیزل چوروں کا سربراہ قرار دیکر اس کے خلاف کاروائی کا حکم سیکرٹری پرائمری اینڈ سکینڈری کو دیا گیا ہے خود کو ریاست بہاولنگر کا شہزادہ سمجھنے والے ڈپٹی کمشنر کے دل کے قریب ہے مجرمانہ غفلت درغفلت ایکشن ندادرد ماتحت کا زرا سی غلطی پر تیاپانچہ کرنیوالے ڈی سی صاحب ادھر بالکل خاموش ہیں 1-06-19 عید سے پہلے محمد اقبال نامی مریض جسکی حادثے میں کافی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں کو بے ہوش کرنے کے بعد پتہ چلتاہے بجلی نہ ہونے کی وجہ سے آٹو کلیو مشین بند ہوچکی ہے یوں آپریشن کینسل کردیاجاتاہے مریض تڑپتا رہتاہے آرتھوپیڈک سرجن نے صورتحال سے تحریری طور پر حکام کو آگاہ کیا دوسرا واقعہ مورخہ 14-06-19 کو وقوع پذیر ہوتاہے ایک چھ سالہ بچہ جس کا بازو کا آپریشن سرجیکل آپریشن تھیٹر میں جاری تھا جب اچانک کمرے کا ٹمپریچر انتہائی ذیادہ ہوگیا آپریشن تھیٹر میں کوئی پنکھا نہیں تھا ایک عدد ٹاور ایئرکنڈیشنڈ کا کمپریسر بھی کام نہی کررہاتھا انتہائی خراب صورتحال پر بے ہوشی کا ڈاکٹر گائنی کے آپریشن تھیٹر سے بھاگ کرپہنچ کر صورتحال کو دیکھ کر چکراجاتاہے بہت مشکل سے بچے کو بچایاجاتاہے ایم ایس کمرے میں موجود نہیں عملہ گپیں لگارہاتھا انتہائی گھمبیر صورتحال تھی مجرمانہ غفلت کی لامحدود مثال ڈی سی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے سنگین مجرمانہ غفلت سرجیکل آپریشن تھیٹر میں مریضوں کیلئے اوٹی کٹس ہی دستیاب نہیں ہیں عرصہ دراز سے ڈاکٹرز مریضوں کو جراشیم ذدہ کپڑوں میں آپریشن کرنے پر مجبور ہیں جس سے انفیکشن پھیلنے کا شدید خطرہ ہے موجودہ سی او ہیلتھ جو عرصہ تقریبا دو سال ڈی ایچ کیو قصور کے ایم ایس بھی رہے ہیں نے اس ادارے کا بیڑہ غرق کردیا ہے کسی بھی نئے آنیوالے ایم ایس کو جو ہاں میں ہاں نہ ملانے والاہو ٹکنے نہیں دیتا ہے چونکہ ایک مافیا موجود ہے محکمہ داخلہ پنجاب کوخفیہ ایجنسی کی جانب سے موصول ہونیوالی رپورٹ میں لکھاہے ہسپتال کے ملازموں ساجد اور کاشف نے لاکھوں روپے مالیت کا ڈیزل،ایئرکنڈیشنڈ اور چلرز کے قیمتی پارٹس کے علاوہ آکسیجن سپلائی کرنے والے لاکھوں روپے مالیت کے کاپر پائپ بھی چوری کیے ہیں رپورٹ کے مطابق ساجد اور کاشف کو 10 جون 2019 کی رات ساڑھے دس بجے 200 لیٹر ڈیزل کا ڈرم ہسپتال سے باہر لیجاتے ہوئے سول ڈیفنس کے سٹاف نے پکڑا اور پولیس کے حوالے کردیا جہاں پر باوثوق زرائع کے مطابق ان ملازموں نے ہسپتال کے اکاؤنٹنٹ غریب نواز کا نام لیا جو کہ سی ای او ہیلتھ کا فرنٹ مین ہے سی ای او نے ان ملازمین کو رہائی دلوادی اس کے علاوہ بھی ادویات کی خریداری کی مد میں بڑے پیمانے پر گھپلے کئے گئے ہیں ضلع بھر کا بیڑہ غرق ہوا پڑا ہے آئی۔سی۔یو وارڈ میں کتے آرام کرتے ہیں سابقہ ڈی سی عمارہ خاں کے دور میں شروع ہونیوالا آئی سی یو صرف دہ ماہ بعد بند ہوگیا محکمہ ہیلتھ میں اشتہارات اخبارات میں تقسیم کرتے وقت پالیسی کو یکسر نظر انداز کرکے اندھادھند بانٹے گئے ہیں غیر رجسٹرڈ اخبارات کو غیر قانونی طور پر اشتہاروں سے نوازا گیا ہے اس کا سپیشل آڈٹ ہونا ناگزیر ہے۔
ہر طرف بدانتظامی ہے قائدانہ صلاحیتیں رعب دبدبہ ضلعی و تحصیل ہیڈ کوارٹرز میں ماتحت افسران کی موجودگی کے شاہی فرامین کے باوجود عرق آمیزی کرنے پر بھی عدسہ کچھ دکھانے سے قاصر ہے ماسوائے اس بات کے جتنے کرپٹ تھے وہ سیٹوں پر براجمان ہیں جو نارملی کام کرنیوالے تھے وہ اپنی اپنی فلائٹس پکڑ کر غائب ہوچکے ہیں تجاوزات،سیورج،صفائی ستھرائی جیسے بنیادی مسائل عوام کو منہ چڑارہے ہیں ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں عوام جوں کی توں جگا ٹیکس دے رہی ہے ایکسائز والے جوں کے توں سرکار کو چونا لگارہے ہیں چاہیے تو یہ تھا جتنا تاثر سختی کا دیا گیا تھا اس سے عوام الناس فیض یاب ہوتے معمولی مسائل کو حل کروانے کیلئے سائلین کو قصور ڈی سی آفس آکر رسوا نہ ہونا پڑتا کمیشن مافیا پر کچھ کنٹرول ہوتا شہر قصور و دیگر شہروں میں ٹریفک کے مسائل حل ہوتے ریڑھی بانوں کو الگ سے جگہ فراہم کی جاتی کمیٹیاں بنانے کی بجائے بروقت فیصلے کئے جاتے ضلع کی سیاسی قیادت عوم الناس پر رحم کرے اگلے جہان میں سیاست نہی چلے گی حساب دینا ہوگا جیسے حکومت لے رہی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*