بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> شدت سے اپنے درد پہ چیخا نہ تو نہ میں

شدت سے اپنے درد پہ چیخا نہ تو نہ میں

شدت سے اپنے درد پہ چیخا نہ تو نہ میں
ایم ایچ بابر

کیسی عجب بات ہے کہ میری نظر کے سامنے میرا ہی گھر پہلے میرے لیئے زندان بنا اور اب گھر کا صحن قبرستان میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے قارئین یہ کہنا ہے ایک مظلوم کشمیری کا جن کو ایک سو دس سے زائد دن ہوگئے مسلسل کرفیو کا سامنا ہے اور ہم جو دعویدار ہیں کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے کتنی بے حسی سے اپنی شہ رگ پر عدو کے بوٹوں کا دباؤ محسوس ہی نہیں کر رہے بزدل دشمن کا دباؤ شہ رگ پر بڑھتا چلا جا رہا ہے لاکھوں کشمیری مسلمان اپنے گھروں کی چار دیواری میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں وہ ناجانے کیسے زندگی کے سانس پورے کر رہے ہیں ناخوراکی،بیماری اور گھٹن میں جی رہے ہیں اگر حقیقت میں کشمیر ہماری شہ رگ ہے تو ہمیں اپنی سانس گھٹتی ہوئی محسوس کیوں نہیں ہو رہی؟ہمارے نام نہاد سیاستدان خواہ وہ حزب اقتدار سے ہوں یا حزب اختلاف سے سب کو اپنی اپنی کرسی کی پڑی ہے اقتدایوں کو کرسی چلے جانے کا خوف اور حزب مخالف کو کرسی نہ ملنے کا غم گھن کی طرح کھائے جا رہا ہے کسی کے دل میں شہ رگ کی فکر بالکل بھی نظر نہیں آ رہی۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جب وزیر اعظم نے دھواں دھار تقریر کی تو اک آس بندھی کہ اب شائید دشمن کے شکنجے سے ہماری شہ رگ چھوٹ جائے گی72 سالوں میں پہلی مرتبہ اک حقیقی امید قائم ہوئی کہ اب اسلامیان کشمیر اپنی منزل لازمی پالیں گے مگر افسوس۔۔۔ایسا کچھ نہ ہو سکا پھر اسکے بعد جو کچھ حالات بنے دنیا کی نظر کے سامنے ہیں۔کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کشمیر کو ہم نے شہ رگ کا نام ہی کیوں دیا؟اور اگر دیا تھا تو پھر اس پر عدو کا تسلط ہماری سانسوں کے گھٹنے کا باعث کیوں نہیں بنا؟ قارئین میری شہ رگ پر اگر کوئی دشمن ایک منٹ متواتر دباؤ ڈالے تو میں موت کے قریب پہنچ جاؤں گا میرا دم گھٹے گا سانس لینا دشوار ہو جائے گا پھر وہ کیا وجہ ہے کہ شہ رگ پر دشمن کا سخت ترین دباؤ ہے اور ہم اسکی تکلیف بھی محسوس نہیں کر رہے اور بڑی ڈھٹائی سے شہ رگ ہونے کا راگ بھی الاپ رہے ہیں دراصل ہوا کچھ یوں ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اب تک اس پاکستان پر جو بھی حکمران آیا اس کا پاکستان سے تعلق ہی نہ ہونے کے برابر رہا ہے اسکا کاروبار بیرون ممالک میں،اسکی اولاد غیر ملکی شہری اسکا اپنا گھر امریکہ یا بر طانیہ میں اسکا علاج یورپ میں انکی تعلیم یورپ یا امریکہ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اسکا پاکستان سے تعلق ہی صرف حکمرانی کی حد تک رہا ہے پھر شہ رگ پر دباؤ اسے کیسے محسوس ہوتا؟ پہلے اس خطے پر براہ راست برطانیہ قابض تھا پھر یوں ہوا کہ پاکستان پر پاکستانیوں کو اقتدار کا موقع ہی نہیں دیا گیا بلکہ برطانیہ نے اپنے انگریز ملازمین تو یہاں سے نکال لیئے مگر وہ بکاؤ اور تاج برطانیہ کے وفادار ڈھونڈ لئے کہ جن کے پیدا ہونے کا حادثہ تو پاکستان میں ہوا تھا مگر حقیقت میں وہ بر طانوی سامراج کا غلام ہی ہوتا تھا جسے اس پاک سرزمین پر بطور حکمران مسلط کر دیا گیا اس طرح ہم براہ راست تو انگریز کے تسلط سے نکل آئے مگر دیسی انگریز یہاں پر بطور حکمران مسند اقتدار پر آبیٹھے۔یوں سرزمین پاک کے لوگوں کو تو کشمیر کا دکھ شہ رگ پر دشمن کا شکنجہ اذیت دیتا رہا مگر ان دیسی انگریزوں کے دل میں ہلکی سی چبھن بھی ظاہر نہ ہوئی ان دیسی انگریز حکمرانوں نے اسی دشمن سے بغلگیر ہونا بہتر حل سمجھا اگر یہ پاکستانی ہوتے تو اپنی شہ رگ کو عدو کے پنجوں سے چھڑانے کی سعی ضرور کرتے اب بھی حالات کچھ ایسے ہی ہیں۔سابقہ حکرانوں نے نصف صدی تک اس دھرتی پر سلطانی کرنے کے باوجود کشمیر کو شہ رگ تو کیا ٹخنہ بھی نہ سمجھا اور موجودہ حکمرانوں نے بھی شہ رگ پر دباؤ سے سینے میں دم گھٹتا محسوس نہ کیا۔کبھی کبھی تو میں سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ میری اس ارض پاک پر کل کتنی ہندوستانی پارٹیاں سیاست کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ہمارے دین نے بھی یہی سبق دیا ہے کہ اگر تمہارا ایک مسلمان بھائی مصیبت میں ہو تو فوری اس کی مدد کو پہنچو تب ہی تمہارا ایمان کامل ہوگا مگر ہمیں نہ حب الوطنی سے غرض ہے نہ کامل الایمان ہونا ہماری خواہش ہے ہماری بس ایک ہی لگن ہے کہ اقتدار،کاروباراور شہنشاہی دربار ہمارے تسلط میں رہے۔قارئین کرام حجاج بن یوسف ہندوستان کا حکمران نہیں تھا اور نہ ہی ہندوستان سلطنت عرب کی شہ رگ تھی پھر بھی ایک مظلوم عورت کی پکار پر اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو اسکی مدد کے لئے اور عدل قائم کرنے کے لئے روانہ کر دیا حالانکہ وہ مظلوم عورت مسلمان بھی نہیں تھی اور ہمارا یہ عالم ہے کہ کشمیر ہماری شہ رگ بھی ہے اور لاکھوں کی تعداد میں ظلم سہتی اپنی آبرو کی دولت سے تہی دست ہوتی کشمیری مائیں بہنیں بیٹیاں ہماری اپنی بھی ہیں اور مسلمان بھی اور ہماری شہ رگ کی مکین بھی ہیں پھر کون سا اسلامی جمہوریہ اور کون سی ریاست مدینہ بس صرف باتیں ہی ہیں کرنے کو اور دوسری طرف مذہبی مداری بھی اسلام کے نام پر کرسی کی تسبیح میں مشغول دکھائی دیتے ہیں پچھلے دنوں ایک نام نہاد مذہبی ٹھیکیدار دھرتی کے سینے پر ایک شور بپا کیا ہوا تھا کہ حکومت جعلی ہے اسے اقتدار کا کوئی حق نہیں ہے وزیر اعظم کا استعفے لیکر ہی جاؤں گا وہ بھی اسلام کا نہیں بلکہ کسی اور کا ایجنڈہ تھامے ہوئے میدان عمل میں کودا تھا کہ شاباش جو آجکل کشمیر موضوع بحث بنا ہوا ہے اس سے پاکستانیوں کی توجہ ہٹا دو اور بیش قیمت انعامات پاؤ اس کا ایجنڈہ بھی صرف اور صرف یہی تھا کہ کشمیر سے توجہ ہٹاؤ پالیسی پر عمل کرنا ہے جس پر وہ کامیاب رہا اور نہائت چالاکی سے کشمیر سے توجہ ہٹا کر تمام حکومتی مسند پر بیٹھے ہوئے اقتداریوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی اس طرح کشمیر ایشو پھر کھٹائی میں پڑ گیا۔حکمرانوں نے بھی کرتار پور راہداری تو کھول دی مگر دشمن کے ہاتھوں کا شکنجہ اپنی شہ رگ سے نہ کھول سکے میرے اللہ پاک سر زمین پر کسی پاکستانی کو مسند سونپ دے تاکہ وہ ناصرف دشمن کے خونی پنجوں سے شہ رگ کو آزاد کروائے بلکہ اپنی گردن پر پڑنے والے اس کے انگلیوں کے نشان تک مٹادے۔اب تک میری ہزاروں کشمیری بیٹیاں اپنی عصمت کو آزادی کی قیمت سمجھ کر چکا چکی ہیں ہزاروں نوجوان کشمیری اپنی جانیں اپنی آزادی کے لئے نچھاور کر چکے ہیں۔ہندوستان کے 72 سالوں سے جاری مظالم اور سواسو کے قریب دن مسلسل کرفیو کا سامنا کر چکے ہیں نہ خوراک نہ دوائی اپنے پیاروں کو اپنے گھروں میں دفن کر رہے ہیں جو انکے گھر تھے اب انکے صحن قبرستان بنتے جا رہے ہیں۔اگر ہماری شہ رگ ہے کشمیر،اگر وہ مسلمان ہمارے بھائی ہیں،لٹنے والی بیٹیاں ہماری بیٹیاں ہیں تو انکے درد کو اپنا درد سمجھتے ہوئے پھر کیا ہوا کہ
شدت سے اپنے درد پہ چیخا نہ تو نہ میں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*