بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> تعلیماتِ اقبال اور نسلِ نو

تعلیماتِ اقبال اور نسلِ نو

تعلیماتِ اقبال اور نسلِ نو
میاں ساجد علی
علامہ اقبال کا شمار ان عظیم ہستیوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنے افکار سے اپنی قوم کی منزل کا نہ صرف تعین کیا بلکہ اس کے حصول کے لیے راہنمائی بھی فرمائی۔ زندگی کا شاید ہی کوئی ایسا گوشہ ہو جس پر ہمیں افکارِ اقبال سے راہنمائی نہ ملتی ہو۔ علامہ اقبال کا پیغام حرکت و عمل کا پیغام ہے۔ جو خصوصی طور پر نسلِ نو کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ہماری مذہبی‘ ادبی اورعلمی و فکری تاریخ میں شاید ہی کوئی مفکر ایسا ہو جس کے تصورات میں ایک تسلسل پایا جاتا ہو‘ جیسا کہ اقبال کے ہاں دیکھنے میں آتا ہے۔ بنیادی طور پر اقبال ایک مفکر تھے جنھوں نے
شاعری کو ایک وسیلہ کے طورپر استعمال کیا‘ جس کا اظہار وہ خود اس انداز سے کرتے ہیں:
نغمہ کجا و من کجا‘ سازِ سخن بہانہ ایست
سوئے قطارمی کشم ناقہئ بے زمام را
اس ضمن میں سب سے اہم پیغام اُنھوں نے جس طبقہ کو دیا وہ نوجوان تھے۔ کیونکہ نوجوان ہی وہ طبقہ ہے جس نے مستقبل میں ملک و قوم کی نہ صرف باگ ڈور سنبھالنی ہے بلکہ اپنی قوم کو اُس منزل پر لاکھڑا کرنا ہے جہاں وہ اقوامِ عالم میں باوقار قوم کے طور پر پہچانی جا سکے۔
علامہ اقبال کے نزدیک مسلمان قوم کے نوجوانوں پر اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ اس لیے اقبال نوجوانوں کو ایک اہم پیغام دیتے ہیں کہ:
اپنی ملّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ
علامہ اقبال کی فکر کا بنیاد ی مآخذ قرآنِ حکیم ہے اور وہ اپنی قوم کے نوجوانوں کو اس طرف راغب کرتے ہیں کہ وہ قرآنِ پاک سے راہنمائی حاصل کریں۔ اُن کی فکر کا نچوڑ اُن کے وہ خطبات ہیں جو جنوبی ہند میں دئیے گئے تھے۔ جب ان خطبات کو اقبال نے کتابی
صورت میں شائع کروایا تو اُس کا دیباچہ خود تحریر کیا اور اُس کا آغاز اُنھوں نے اِ ن مندرجہ ذیل الفاظ میں کیا:
"The Quran is a book which emphasizes ‘deed’ rather than ‘idea’.” (3)
اس مندرجہ بالا جملہ کو اگر بغور ملاحظہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ افکارِ اقبال میں قرآن کی کیا اہمیت ہے؟ اقبال نے تو اپنا مؤقف واضح کر دیا لیکن کیا ہماری نوجوان نسل فکرِ اقبال سے استفادہ کر سکی؟ یقینا اس کا جواب نفی میں ملتا ہے۔ کیونکہ اقبال اپنی فکر میں قرآن کا پیغام پہنچا رہے ہیں ہماری نوجوان نسل عملاً اُس کی مخالف سمت پر گامزن ہے۔ جس کی بڑی وجہ مذہب سے دوری‘ نصاب میں فکرِ اقبال کا فقدان‘ تعلیم و تربیت اور نشوونما میں بے اعتنائی ہے۔ اقبال کے مطابق قرآن و حکمت ہی ہمارا اثاثہ ہیں۔ انہی دونوں قوتوں سے ملّتِ اسلامیہ کا وقار اور بھرم ہے۔ ان کے مطابق دُنیائے ذوق و شوق کی فتوحات قرآن سے ہی حاصل ہوتی ہیں اور اس محدود کائنات پر حکمت سے ہی غلبہ پایا جا سکتا ہے۔
اقبال نوجوانوں کی راہنمائی قرآنِ پاک کے ہی ذریعے کرنا چاہتے ہیں تاکہ قدرت نے جس مقصد کے لیے انسان کو تخلیق کیا ہے وہ اُس مقصد کا حصول ممکن بنا سکیں۔ اس لیے آپ اپنی شناخت اور اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حصول کیے فلسفہئ خودی پیش کرتے ہیں تاکہ ایک فرد پہلے اپنی تربیت کرے اور پھر وہ اپنی ملّت و قوم کی راہنمائی کرے‘ جسے وہ بیخودی کا نام دیتے ہیں۔ اقبال خودی کی تعریف اسرارِ
خودی کی اوّلین طباعت کے دیباچہ میں یوں فرماتے ہیں:
”ہاں لفظِ خودی کے متعلق ناظرین کو آگاہ کر دینا ضروری ہے کہ یہ لفظ اس نظم میں بمعنی غرور استعمال نہیں کیا گیا جیسا کہ عام طورپر اُردو میں مستعمل ہے۔ اس کا مفہوم محض احساسِ نفس یا تعیینِ ذات
ہے۔“
مندرجہ بالا اقتباس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکیم الامت نے خودی جس چیز کو کہا اور جو تصور اُن کے تمام نظریات کا مرکز تھا آج ہمارے نوجوانوں میں علمی اورعملی سطح پر اُس کا فقدان ہے۔ اقبال جس خودی کا درس دیتے ہیں وہ قلندری ہے جس میں سکندری کا راز
پنہاں ہے اس لیے وہ جوانوں کو پیغام دیتے ہیں کہ:
اگر جواں ہوں مری قوم کے جسور و غیور
قلندری مری کچھ کم سکندری سے نہیں!
بات جب قلندری تک آ پہنچی ہے تو ہم افکارِاقبال میں سے ایک اہم تصور کو بھی زیر بحث لاتے ہیں اور وہ ہے ’فقر‘۔ علامہ اقبال کے کلام کا مرکزی نظریہئ حیات ’خودی‘ ہے اور خودی کی روح کا عملی مظہر ’فقر‘ ہے۔ اقبال کے ہاں فقر اس شانِ بے نیازی کا نام ہے کہ انسان اپنے اللہ کے سوا کسی کے آگے سجدہ ریز نہیں ہوتا اور نہ ہی اُمیدیں وابستہ کرتا ہے۔ اقبال اپنے ملک و قوم کے نوجوانوں کو بھی یہی پیغام دیتے ہیں کیونکہ فقر کی پہلی منزل کسبِ حلال ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ اُن کی قوم کے نوجوان فقر کی زندگی گزاریں تاکہ اُن میں اسلامی طرزِ زندگی کی خوبیاں پائی جائیں۔ اس ضمن میں وہ شاہین کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ شاہین کی اصطلاح کے بارہا استعمال کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ اپنی نوجوان نسل کو ہمت‘ جرأت اور بہادری سکھائی جائے تاکہ وہ حرص‘ لالچ‘ خوف و یاس سے رُوگردانی کریں۔ شاہین
کی اصطلاح کے بارے میں اقبال نے ۲۱دسمبر ۶۳۹۱ء کو اپنا ایک مکتوب بنام ظفر احمد صدیقی ارسال کیا‘ جس میں تحریر کیا کہ:
”۔۔۔شاہین کی تشبیہ محض شاعرانہ تشبیہہ نہیں ہے۔ اس جانور میں اسلامی فقر کے تمام خصوصیات پائے جاتے ہیں:
۱)خوددار و غیرتمند ہے کہ اور کے ہاتھ کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا۔
۲)بے تعلق ہے کہ آشیانہ نہیں بناتا۔
۳)بلند پرواز ہے۔
۴)خلوت پسند ہے۔
۵)تیز نگاہ ہے۔“(۸)
علامہ اقبال اس خیرالامم کے ان سعادت مند انسانوں کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جو حجازی الاصل فقر کی اس دولت سے مالا مال ہوئے اور اس کی برکت سے ان کی نظر کو سیر چشمی حاصل ہوئی کہ وہ دل کی دُنیا کی امیری کے مقامِ بلند پر فائز ہو گئے‘ اسی اثنا ء میں وہ اپنے
فرزند (جاوید اقبال) کو تلقین کرتے ہیں کہ:
مرا طریق امیری نہیں‘ فقیری ہے!
خودی نہ بیچ‘ غریبی میں نام پیدا کر!
فقر ہی کے ذریعے علامہ اقبال کے کلام میں جو عنصر جا بجا افروز دکھائی دیتا ہے وہ ’خودداری‘ اور ’غیرت‘ کا عنصر ہے۔ یہی خودداری
اور غیرت ہے جس کے سامنے بڑی سے بڑی بادشاہت بھی ہیچ ہے۔ جیسا کہ انھوں نے خود فرمایا:
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دَو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سر دارا
لیے اپنی نظم ’خطاب با جوانانِ اسلام‘ میں اپنا آفاقی پیغام نوجوانوں کے نام یوں دیتے ہیں کہ”اے نوجوانانِ اسلام!کبھی اپنی موجودہ حالتِ زار کو دیکھواور یاد کرو‘ وہ عہدِ زریں جب تمھارے انہی آباؤ اجداد نے ساری دُنیا کو زیر نگیں کر رکھا تھا۔ دینِ اسلام اور اس کے داعی و مبلغین نے صحرائی زمینوں پر بیٹھ کر وہ اصولِ جہاں داری وضع کیے کہ آج تک کوئی اس پائے کا آئین مرتب نہ کر پایا۔ دراصل وہ لوگ عمل دار اور متلاشی علم و ہنر تھے۔ ان کے مضبوط اتحاد اور آہنی یک جہتی نے ان کے اوصاف کو مزید نکھارا اور اسی لیے دیگر اقوامِ عالم نے ان کے آگے ہاتھ کھڑے اور سر جھکا دیئے۔اقبال آگے بڑھتے ہوئے نوجوان نسل کو سمجھاتے ہیں کہ ذرا اپنے اندر جھانک کر تو دیکھو! تمہیں احساس ہو گا کہ یہی خصوصیات متحدہ اور جہاں آرائی کا خمیر تمہارے اندر بھی موجود ہے مگر تم نے اس خمیر کو گوندھ کر وقت کے ساتھ مزید پھیلانے اور اُٹھانے کے بجائے اندھی تقلید کے تنور میں بے اعتنائی سے جل بھننے کے واسطے پھینک دیا۔ گویا اتحاد و اتفاق کی رسی کو دونوں ہاتھوں سے چھوڑ کر ترقی کے بے تعبیر خواب دیکھنے کے پیچھے ایسی گہری غنودگی کی چادر تانی کہ نہ خدا کو پہچانا اور نہ ہی دُنیا میں اپنا مقام جانا۔ اسی غفلت نے یورپ جیسے تاریک ماضی کے حامل مغربی ممالک کو تم پر حکمرانی کے مواقع دئیے اور یوں غلامی تمہارا مقدر ٹھہرانے کو لوح و قلم
تیار ہونے لگے۔
اقبال نوجوان نسل کو پیغام دیتے ہیں کہ اپنی زندگی کو سرسبز و شاداب‘ کامیاب و بامراد بنانے کے لیے شدید محنت کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنی نشوونما اور ترقی و عروج کے لیے یہ طرزِ فکر استعمال نہیں کرتے تو پھر ذلّت ہمارا مقدر بنا جائے گی۔ کوئی بھی ہماری قدر کرنے والا نہیں ہوگااس لیے وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ اپنے تیشے سے اپنا راستہ بناؤ تاکہ حیاتِ جاوداں حاصل ہو سکے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ
ہم دوسروں کے راستے پر چلنا چھوڑ دیں۔ انتھک محنت اور مسلسل کوشش سے ہی سربلندی اور ارجمندی حاصل ہو تی ہے۔
تراش از تیشہئ خود جادہئ خویش
براہِ دیگراں رفتن عذاب است
گر از دستِ تو کارِ نادر آید
گناہے ہم اگر باشد ثواب است

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*