بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> زندگی کا میچ!

زندگی کا میچ!

زندگی کا میچ!
میاں وقارالاسلام

حالات آپ کے حق میں نہ بھی ہوں زندگی کا میچ پھر بھی آپ کو کھیلنا پڑتا ہے۔بعض دفعہ آپ آسان بالز بھی نہیں کھیل پاتے اور بعض مشکل سے مشکل بالز بھی آسانی سے کھیل جاتے ہیں۔بعض دفعہ ایمپائرز آپ کے ساتھ بھی ملے ہوں تو فیصلہ آپ کے حق میں نہیں آتا بعض دفعہ ایمپائرز خلاف بھی ہوں قسمت ساتھ دیتی ہے۔بعض دفعہ تھوڑی سی وکٹوں سے بڑی اننگز کھیل لی جاتی ہے اور بعض دفعہ بہت سی وکٹوں سے چھوٹی سی اننگز پوری نہیں ہوتی۔جیتنے والے برے سے برے حالات کا آخر تک مقابلہ کرتے ہیں اور برے حالات میں بھی جیت کر دیکھاتے ہیں۔ہارنے والے انتہائی مناسب حالات میں بھی میچ ہار جاتی ہیں اور انتہائی آسان ٹیم سے۔ہمارے ایک ہاتھ پر ہارنے والے لوگ ہیں جو ہارتے ہیں چلے جاتے ہیں اور دوسرے ہاتھ پر جیتنے والے لوگ ہیں جو جیتتے ہی چلے جا رہے ہیں۔
30 سال پہلے کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ چائنہ کبھی اپنے مسائل سے باہر نکل پائے گا 30 سال بعد دنیا کی 10 بڑی طاقتیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔بد قسمتی سے ہم آج بھی آپس میں الجھ رہے ہیں جبکہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو انہیں حالات میں اپنے آپ کو بین القوامی سطح پر منوا چکے ہیں۔پاکستان بہت سے ملکوں سے بہت اچھا ہے ہمارے لوگ بہت سے لوگوں سے بہت اچھے ہیں اسی سے کچھ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں کچھ نقصان۔سب اچھا کہہ کر آنکھیں بند بھی نہیں کرنی چاہیں سب برا کہہ کر ہمت بھی نہیں ہارنی چاہیئے۔امریکہ کے تو حالات سب سے اچھے تھے پھر وہ ہارا کیوں چائنہ کے حالات تو سب سے برے تھے پھر وہ جیتا کیوں۔حالات اچھے ہوں یا برے بغیر محنت کے کبھی کسی قوم نے جیت حاصل نہیں کی۔
جرمنی جاپان روس اٹلی اور جانے کس کس ملک کو کتنی کتنی مار پڑی مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری دوبارہ اپنے پاوں پر کھڑے ہیں۔ایک دوست نے کہا تھا کہ ہم تو منوسلوہ کھانے والی قوم ہیں پہلے امریکہ ہمیں کھلا رہا تھا اب چائنہ ہیں کھلا رہا ہے!جو اللہ کی طرف سے ہم پر نازل ہوتا ہے وہ تو منو سلوہ ہوتا ہے اور جو بغیر محنت کے دائیں بائیں سے عنائیت ہوتا ہے وہ تو بھیک ہوتی ہیں۔دوسروں ملکوں سے قرضہ لینے میں ہرج نہیں، چائنہ اور امریکہ بھی قرض لیتے ہیں مگر حکمرانوں کا اسے باپ کا مال سمجھ کر کھا جانا غلط ہے۔محنت سے رزق کمانے والے چاہے تھوڑا کماتے ہوں، پڑھے لکھے بے روزگاروں سے بہتر ہیں جو فیس بک پر ہمیشہ روتے رہتے ہیں مگر کرتے کچھ نہیں۔محنت کرنے والوں کا نصیب اللہ بدل دیتا ہے اور کام چور نکمے لوگوں کا بدنصیبی پیچھا کرتی ہے۔
انسان چاہے تو برے سے برے حالات میں وہ کر کے دیکھا سکتا ہے جو عام طور پر لوگ اچھے سے اچھے حالات میں بھی نہیں کر پاتے۔اور اگر انسان نے کچھ نہ کرنے کی ٹھانی ہو تو پھر وہ ٹرمپ کی طرح روتا ہے جو کہتا ہے چائنہ کے لوگ ہمارا لنچ اور ڈنر کھا جاتے ہیں۔ٹرمپ کہتا ہے کہ ہم اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے کہ چائنہ آئے اور ہمارے عزت لوٹ کر چلا جائے اور ہم دیکھتے ہی رہیں۔عزت محنت کرنے والوں کو نصیب ہوتی ہے جو جتنی محنت کرتا ہے اللہ اس کا اتنا مقام بلند کرتا ہے اور اسی کا دنیا میں رعب قائم ہوتا ہے۔چھوٹے چھوٹے ملک ہیں دنیا میں اپنا بہت بڑا مقام رکھتے ہیں بڑے بڑے ملک ہیں مگر ان کی ہوا اکھیڑ دی گئی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*