بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> رحمتیں، برکتیں اور ہم
رحمتیں، برکتیں اور ہم

رحمتیں، برکتیں اور ہم

رحمتیں، برکتیں اور ہم
تحریر: مدثر سبحانی
اللہ رب العزت کا بے پایاں کرم اور احسان ہے کہ رمضان المبارک اپنی تمام تر رحمتوں، بخششوں اور برکتوں کی برکھا برساتا ایک بار پھر ہم پر سایہ فگن ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو رمضان المبارک کی برکتوں اور تجلیوں سے اپنے دلوں کی دنیا آباد کررہے ہیں۔ ہماری اخلاقیات کا کیا معیار ہے اور شرفِ انسانیت کے تقاضے نبھانے کا ہم کتنا ظرف رکھتے ہیں، اسے جانچنے کا ماہ مقدس رمضان المبارک بہترین پیمانہ ہے۔ یہ برکتیں سمیٹنے اور اپنی مغفرت کی سبیل کرنے کا مہینہ ہے۔جو اہل ایمان کو اپنے اعمال اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے مطابق ڈھالنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ متبرک مہینہ اپنے فضائل وبرکات کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔روز ہ دار ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی کریمwنے رمضان المبارک کے مہینے کی فضیلتوں سے بھی اپنی امت کو آگاہ فرمایا۔
جس میں فرض عبادات کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔ جس میں خیرات وسخاوت بھی بڑھ جاتی ہے۔ ماہ صیام ہمیں غمخواری، ہمدردی، ایثار و قربانی، حاجت روائی، مستحقین کی مدد و دستگیری اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا درس دیتا ہے لیکن روزہ داروں کے لیے مشکلات پیدا کرنے والے وہ کون بدبخت لوگ ہیں جو حرص ولالچ میں رمضان المبارک کو ناجائز منافع خوری اور زیادہ کمائی کا سیزن سمجھتے ہیں جنہیں اپنی عافیت کا بالکل خیال نہیں حالانکہ اس ماہ میں شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے لیکن شاید ایمان کی کمزوری کی وجہ سے ایسے عناصر لالچی اور مفاد پرست تاجر ودکاندار رمضان المبارک میں اشیاء ضروریہ کی طلب بڑھنے کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی آمد پر اشیا ئے ضروریہ کی قیمتوں میں بلاجواز اضافے کا رجحان ہماری بدقسمتی ہے۔ غریب آدمی اس مہینے میں رحمتوں کو سمیٹنے کے بجائے اپنا نان نفقہ پورا کرنے کی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے،جان لیوا مسلط عذاب مہنگائی سے کوئی امیر ہے یا غریب سبھی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ پھل، سبزیاں اور دیگر اشیائے خورونوش عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ آمدنی اور تنخواہیں وہی جب کہ قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے۔آج کل گلے سڑے پھل بھی اس مقدس مہینے کے دوران عام آدمی کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دے رہے۔ دنیا بھر میں جب غیر مسلموں کے کوئی مذہبی یا عوامی تہوار آتے ہیں تو شہریوں کی سہولت کے لیے اشیائے خورونوش کے علاوہ دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی خاطر خواہ کمی کر دی جاتی ہے۔
سوچئے اور جائزہ لیجئے کہ ہمارے معاشرے میں بے روزگاری اورحالات کی تنگدستی کی وجہ سے کتنے بے بس و مجبور لوگ ہیں جو پانی کے گھونٹ کے ساتھ سحری کرتے ہیں اور افطاری کے لئے کسی مسیحا کا انتظار کرتے ہیں۔اگر عوام الناس کے ساتھ ہمارے حکمران بھی ان غریبوں، بے کسوں اور مجبوروں کے لیے دل کی آنکھوں سے جائزہ لیں تو شاید ان غریبوں کے دکھ کچھ کم کرنے کی سبیل نکل آئے۔میری گراں فروشوں سے دردمندانہ التجا ہے کہ خدارا!رمضان کے مقام، اس کی عظمت، اس کی فضیلت، اس کے مقصد اور اس کے پیغام کو اپنے ذہن میں تازہ کریں تاکہ اس کی برکات سے بھر پور فائدہ اٹھاسکیں اور اپنے رب دوجہاں کی خوشنودی کے لیے اس بات کا پختہ ارادہ کریں کہ ہم ماہ مبارک میں اپنے غریب مسلمان بھائیوں کو اگر اپنی جیب میں سے کچھ دینے کی طاقت نہیں رکھتے توعام دنوں سے بھی کم منافع لے کر غریبوں میں خوشیاں بانٹیں گے۔حدیث رسول اللہ کا مفہوم ہے: بڑا بدنصیب اور خسارہ پانے والا ہے وہ شخص جسے زندگی میں رمضان کا مہینہ نصیب ہوا اور اللہ کی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی رحمت ومغفرت میں سے اسے حصہ نہ ملا۔
رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کیلئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔ اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو، تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لئے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔“(سورہئ بقرہ: آیت:183-185)
قارئین کرام! رحمتوں اور برکتوں کے نزول کے یہ خاص دن ہیں ان دنوں میں اپنے لیے بھی دعائیں کریں اور ملک وقوم کو اپنی دعاؤں میں نہ بھولیں۔اللہ رب العزت کی رحمت پکار پکارکر کہہ رہی ہے ”ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں“۔
آئیے! دامن پھیلائیں اللہ رب العزت کے حضور گڑ گڑائیں، اتنا روئیں، اپنے مالک وخالق کو منانے کے لیے اتنی آہ و زاری کریں کہ رحمت خداوندی سے ہماری دنیا بدل جائے۔ اے رحیم وکریم! ہمارے گناہوں اور نافرمانیوں کی سیاہی نے ہمارے دل سخت کردیئے ہیں، ہمارے دلوں میں اپنا ڈر اور قیامت کا خوف پیدا فرما۔ اے مالک المک! بھوک کا یہ عالم ہے کہ مائیں، بیٹیاں اور بوڑھے دوٹائم کی روٹی کو ترس رہے ہیں کچھ خودکشیاں کررہے ہیں اور کچھ اپنے جگر گوشوں کی اپنے ہاتھوں سے سانسیں توڑ رہے ہیں، مولائے کریم ان کو مصائب سے نجات عطا کردے۔اے مولائے کریم! تیری رحمت کے بغیر توہم سانس بھی لینے کے قابل نہیں۔ ہماری ہر مشکل آسان فرمادے۔ غریبوں کی روٹی، بیماروں کی صحت اور قرض داروں کی خلاصی سب تیری رحمت کی محتاج ہے۔اے مالک ومولا! ہمارے وطن پاکستان کی حفاظت فرما۔ اسے اندرونی بیرونی سازشوں،بدامنی اور ظلم وستم سے نجات دے کر امن وسکون کا گہوارہ بنا دے۔اے اللہ کریم! ہمیں اپنی بقا اور استحکام کے لیے اسلام کے نظام عدل کو رائج کرنے کی توفیق عطا فرما…… ملت اسلامیہ کو کوئی مخلص لیڈر عطا فرما جو سپر پاور کی بد مستیوں سے اسلامی دنیا کو بچا کر عزت وآبرو سے ہمکنار کرسکے۔آمین یا رب العالمین

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*