بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> ہماری بدلتی زندگی

ہماری بدلتی زندگی

ہماری بدلتی زندگی
محمد آصف ظہوری
عجیب اتفاق ہے کہ تاریخوں میں بھی یکسانیت آگئی ہے اور عربی اور عیسویں مہینوں کی تاریخیں مل گئی ہیں۔ میں ان تاریخوں میں کچھ لکھنے کی کوشش کررہا ہوں آج دس ربیع الاول اور دس دسمبر کو جب لاہور میں سردی کی ہلکی سی لہر اٹھی اورا س نے اہل لاہور کو ٹھنڈے کپڑوں سے آزاد کرکے گرم کپڑوں میں لپیٹ دیا تو مجھے اپنا گاؤں یاد آیا جہاں ان دنوں سردی نے اپنے پرنے ساتھیوں کو یاد دلایا کہ میں آپ کے دروازے پر پہنچ گئی ہوں دروازہ کھولئے میرا استقبال کیجئے اور چند ماہ کیلئے میری رفاقت کا سامان بھی کیجئے۔ میں آپ کے پاس رہوں گی اور سرد راتیں آپ کے گرم بستروں میں آرام کرکے گزاروں گی۔ اگر گرما گرم کوئلوں اور دہکتی ہوئی آگ کا بدوبست بھی کرسکیں تو یہ اعلیٰ درجے کی مہمان نوازی ہوگی۔ لاہور کی سردی برائے نام ہے اگر آپ دن کی دھوپ میں بیٹھ سکیں اور رات کو موٹی رضائی کا انتظام کرسکیں تو یہ آپ کیلئے زیادہ بہتر ہوگا۔ پرانے زمانے میں ہمارے ہاں انگریز فوجیوں کا آنا جانا رہتا تھا۔ فوج میں مقامی لوگوں کے ساتھ برطانوی فوجی بھی ہوا کرتے تھے اور دونوں ہر موسم ایک ساتھ گزارتے تھے۔مشہور تھا کہ جس انگریز نے ایک بار رضائی اوڑھ لی وہ پھر کبھی کمبل نہیں لیتا تھا۔ اسی طرح جس انگریز نے صبح ناشتہ میں پراٹھا کھالیا اس نے پھر ڈبل روٹی نہیں کھائی۔ انگریز فوجی چھٹیوں میں ہمارے گاؤں آجاتے تھے کیونکہ ناشتے میں پراٹھا اور سردیوں کی رات کو رضائی انہیں برطانیہ کے شہروں میں نہیں فوجی چھاؤنیوں میں ہی ملک سکتی تھی۔ اور انگریز ان دونوں چیزوں کو بے حد پسند کرتے تھے۔ صبح ناشتے میں پراٹھا اور سردیوں کی رات کو رضائی ان کیلئے ایک نعمت تھی۔ وہ انگلستان سے جب کبھی کسی ہندوستانی دوست کو خط لکھتے تو رضائی اور پراٹھے کا ذکر خود کرتے اور ان سے محرومی پر رنج کرتے یہ دونوں ان کیلیئے ایک نعمت تھیں جو انگلستان میں میسر نہیں تھی۔ ایک سینئر انگریز نے جو فوج کے ایک اونچے عہدے سے ریٹائرڈ ہو اتھا اپنی یاداشتیں قلم بند کیں اور ان کو میں نے بھی کبھی دیکھا تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ جو باوقار عورت میں نے ہندوستان میں دیکھی وہ میں کہیں اور نہ دیکھ سکا۔ اپنی برطانوی عورتوں پر وہ افسوس کرتا ہے جو نسل درنسل اپنی نسوانیت کو ترک کرتی جارہی ہے۔ ان کی ٹانگوں کی عریانی اوپر کی طرف اٹھتی جاتی ہے اور انکے سینے کا لبا س نیچے کی طرف بڑھتا جارہا ہے۔ ان کے اندر وہ راز ختم ہوتا جا رہاتھا جو عورت کے وجود میں ہوتا تھا۔ سچ بات تو یہ ہے کہ عریانی نسوانیت کی دشمن ہے جو اسے بے نقاب کرتی جارہی ہے۔ چہرے کا پردہ کیا اٹھا پورے جسم کا پردہ اٹھتا جا رہا ہے اور اندر سے رازوں بھری عورت باہر آرہی ہے۔
یہ جو میں عرض کر رہا ہوں یہ پرانے زمانے کی باتیں ہیں آج کے زمانے میں زندگی بلاتکلف بے نقاب ہورہی ہے اور خواتین اپنے آپ کو بدلتی جارہی ہیں ابھی چند دن ہوئے میں گاؤں سے آیا ہوں وہاں لباس تو پراناہی ہے لیکن وہ جسم کے سات اس قدر چپک رہا ہے کہ کچھ چھپاتا نہیں ہے۔ بس چشم تصور کے واہونیکی قدرت ہے۔ میراخیال ہے کہ اب نئے فیشن اور نئے انداز پر بند باندھنا آسان نہیں جو پرانے دیہات تک پہنچ چکاہے۔ اس پر ہمارے معززین کو غور کرنا ہوگا جو پرانے زمانے کی روایات کو ہم سے بہتر سمجھتے ہیں اور ان کی خوبیوں اور خرابیوں کو جانتے ہیں مگر وقت کی رفتار اور پسندو ناپسند کو آپ مسترد نہیں کرسکتے۔ میں جب بھی گاؤں جاتا ہوں تو لباس کی تراش و خراش میں تبدیل دیکھتا ہوں اور یہ بھی کہ اس میں کسی جدت کو برا نہیں سمجھتا تھا۔ شہری زندگی کی پسندو ناپسند رفتہ رفتہ دیہات کی زندگی میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ دیہات اور شہروں کا تعلق اب مضبوط ہوتا جارہا ہے اور شہری زندگی رفتہ رفتہ دیہات میں بھی سرائت کرتی جارہی ہے ٹیلی ویژن ہر گھر میں موجود ہے اور اس کے ذیعہ عام زندگی میں جوتبدیلی آرہی ہے اسے روکا نہین جا سکتا۔ اس طرح دیہات بھی آہستہ آہستہ بدل رہے ہیں۔ جو اس کی شناخت کو عزیز رکھتے تھے لیکن تبدیلی پوری زندگی میں آرہی ہے۔ دیہات کی زندگی ہو یا دیہات سے متصل شہروں کی زندگی اس میں تبدیلی اب چھپائی نہیں جاسکتی۔ گاؤں سے متصل تالاب سے پانی اب بھی بھرکر لایا جات ہے اور جوان لڑکیاں سروں پر پانی کے گھڑے اٹھائے دیکھی جاسکتی ہیں لیکن کب تک۔ پانی کاحصول آسان ہوتا جارہاہے اور گھروں تک ضرورت کا پانی لانے کے دوسرے ذریعے بھی سامنے آرہے ہیں۔ دیہات میں بھی کچھ لوگ اپنے جانورون پرپانی لاد کر لے آتے ہین اور اسے فروخت کرتے ہیں۔ گھروں کیلئے پانی کی فروخت کا ایک نیا رواج نکلا ہے۔ ورنہ یہی پانی ضرورت کے مطابق گھروں کی جوان لڑکیان کسی قریبی تالاب سے بھرکرلے آتی تھیں۔ اب انہیں لڑکیوں کے والدین یہ پانی خریدتے ہیں۔ وقت اس سے زیادہ کیا بدلے گا۔ ابھی تو مشکل یہ ہیکہ بجلی ضرورت کے مطابق میسر نہیں ہے ورنہ ٹیوب ویل جو صرف بجلی سے چلتے اور اس ایک تبدیلی سے پوری زندگی بدل جاتی ہے۔ لڑکیوں کے سروں سے پانی کے گھڑے اتر جاتے اور آٹا چکی پر پیسنے کی آواز نہ آتی جس سے صبح سویرے آنکھ کھلتی تھی اور وقت کا احساس ہوتا تھا کہ کتنا باقی ہے اور کتنا گزر چکا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*