بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> نیا بلدیاتی نظام یا چوں چوں کا مرّبہ

نیا بلدیاتی نظام یا چوں چوں کا مرّبہ

نیا بلدیاتی نظام یا چوں چوں کا مرّبہ
تحریر۔محمد اقبال عباسی
پاکستان کا نظام اور عوام کے صبر کو دیکھتے ہوئے ایک تاریخی وواقعہ یاد آ گیا کہ مشہور زمانہ کردارخواجہ بخارا، ملّا نصر الدین بہت عرصے کے بعد اپنے آبائی شہر بخارا داخل ہوئے تو شہر میں داخلے سے پہلے چنگی اور شہر میں داخل ہونے کی اجازت کا محصول وصول کیا جانے لگا، ملّا نصرالدین کے پاس کوئی تجارتی سامان نہیں تھا اور ان کو صرف شہر میں داخلے کا محصول ادا کرنا تھا لیکن جب محرّر نے خواجہ کی پھولی ہوئی جیب دیکھی تو پوچھا "تم بخارا کیا کرنے آئے ہو؟ خواجہ نے جواب دیا "جناب عالی!میں ایران سے آرہا ہوں اور یہاں اپنے کچھ عزیزوں سے ملنا مقصود ہے "محرر بولا "اس صورت میں تمہیں ملاقاتی محصول بھی ادا کرنا ہو گا” محصول ادا کرنے کے بعد محصل نے دیکھا کہ کچھ سکّے ملّا نصر الدین کی جیب میں باقی رہ گئے ہیں تو اس نے حکم دیا "تمھارے گدھے کا محصول کون ادا کرے گا؟ اگر تمھارے عزیز ہیں تو لازماً تمھارے گدھے کی بھی اس شہر میں عزیز ہوں گے "ملّا نصرالدین نے اس موقع پر تاریخی فقرہ کہا”واقعی بخارا میں میرے گدھے کے عزیزوں کی بڑی اکثریت ہے ورنہ جیسا انتظام یہاں ہے اس سے تو آپ کے امیر کب کے تخت سے اتار دیئے گئے ہوتے۔”، یہی حال تقسیم پاکستان سے لے کر اب تک آنے والے امراء اور حکمرانوں کا ہے جن کو ایک ایسی تجربہ گاہ اور معصوم عوام میسر آئی ہے جو کسی گدھے کی طرح ملکی بوجھ اٹھانے کے ساتھ ساتھ ان کے ہر نظام پہ بلا چوں چرا آنکھیں بند کئے نہ صرف عمل پیرا ہو تے ہیں بلکہ ان کے ہر ناجائز فعل کا دفاع کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ بلدیاتی اداروں کی ہی مثال لے لیں جو 1959ء سے لے کر آج تک ہر حکمران کی پسند نا پسند کی نظر ہوتے آ رہے ہیں اور ہر حکمران جماعت ان کو اپنے خود ساختہ اصولوں اور نئے نظام سے تباہ کرنے کے درپے ہے۔
جیسا کہ عوام کے علم میں ہے کہ صوبہ پنجاب میں تحریک انصاف کی طرف سے مقامی حکومتوں کے قیام کے سلسلے میں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ء کے مسودہ کی صوبائی اسمبلی سے منظوری کے بعدحکومت پنجاب نے گزشتہ ہفتے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر کے بلدیاتی اداروں کو تحلیل کر دیا ہے۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کے سیکشن 2 کے تحت نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعدصوبہ بھرکے 58 ہزار بلدیاتی نمائندوں کو فارغ کر دیا گیا ہے۔موجودہ حکومت نے صوبہ پنجاب کے شہری اور دیہی علاقوں میں مقامی حکومتوں کے قیام کے لیے صوبائی اسمبلی سے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 اور پنجاب ویلج پنچائیت اینڈ نیبرہوڈ کونسل ایکٹ 2019 کے نام سے دو مسودے منظور کرائے جن کے تحت سابقہ دور میں منتخب کئے گئے بلدیاتی اداروں کے تحلیل ہونے کے بعد مقررہ مدت میں نئے بلدیاتی نظام کے تحت بلدیاتی انتخابات کروانے کے وعدے کئے گئے ہیں۔ جب اکتوبر 1958ء میں پہلا مارشل لاء نافذ ہوا توجنرل ایوب خان نے ملک میں بنیادی جمہوریت کا نظام متعارف کرواتے ہوئے اس نظام کو عوام کی سیاسی اور سماجی تربیت گاہ قرار دیا جس کے تحت 1963ء میں دیہی ترقیاتی پروگرام شروع کیے گئے تاکہ بنیادی جمہوریت کے اس بلدیاتی نظام کے ذریعے ملک کے تمام دیہی علاقوں میں بھی بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔اس دن سے لے کر آج تک شیشے جیسی ریاست کو لوہارکے ہاتھ میں ایسا دیا گیا کہ جو بھی سیاسی جماعت آئی اس نے اس نظام کو اپنی ناتجربہ کاری، مفاد پرستی کی تلوار سے اس نظام کومشقستم بنایا اور آج تک یہ سلسلہ جاری و ساری ہے
اگر اس ایکٹ کا بغور مطالعہ کریں تو یوں لگتا ہے کہ موجودہ حکومت نے جلد بازی اور سابقہ حکومت کے چئیرمین حضرات کو اپنے عہدوں سے سبکدوش کرنے کے لئے ایک نیا مسئلہ کھڑا کر لیا ہے کیونکہ زبانی جمع خرچ اور عملی میدان میں کچھ کر کے دکھانا جوئے شیر لانے کے برابر ہوتا ہے، ضلع کونسل کی بجائے تحصیل کونسل بنانا مجھے سوائے اسراف اور دیوانے کی بڑ ہی نظر آرہا ہے کیونکہ ویلج اور نیبر ہڈ کونسلز اور تحصیل کونسلز کے دفاتر کی تعمیر کی کہیں بھی بات نہیں کی گئی۔کسی بھی نئے نظام کی کامیابی کا انحصار فنڈز اور انفرا سٹرکچر کی موجودگی ہے، اب ضلع کونسل کی عمارت تو صرف ایک تحصیل کونسل کے لئے ہو گی، باقی تحصیل کونسلز کون سے دفاتر میں کام کریں گی اور ان کے لئے دفتری عملہ کی فوج ظفر موج کہاں سے آئے گی؟ ہم تو پہلے ہی ملکی خزانہ خالی ہونے کا رونا رو رہے ہیں۔ اگر ان کے لئے نئے دفاتر کی تعمیر کی بات کی جائے تویہ اربوں روپے کا منصوبہ کون سے بجٹ اور فنڈ سے تکمیل پذیر ہو گا؟ یہ تجویز پورے ایکٹ کے ڈرافٹ میں کہیں نظر نہیں آتی۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ پنجاب میں پہلے سے موجود 32 سو 81 یونین کونسلز کی جگہ اب 22 ہزار ولیج کونسلز بنائی جائیں گی، ان ویلج کونسلز کے دفاتر کہاں تعمیر کئے جائیں گے اور کم از کم تین ملازم فی ویلج یا نیبر ہڈ کونسلز کو تعینات کرنے کے بعد ان کی تنخواہیں کون سا محکمہ کیونکر اور کیسے ادا کر سکے گا؟ جہاں تک میری ناقص معلومات کا تعلق ہے سابقہ بلدیاتی اداروں میں ماہانہ ایک لاکھ روپے ترقیاتی فنڈ کی مد میں باقاعدگی سے لوکل گورنمنٹ کا محکمہ بھیجتا تھا لیکن اب چونکہ تین ہزار کی بجائے 22ہزار ویلج کونسلز بنائی جائیں گی تو ان کو ترقیاتی فنڈ دینے کے لئے کوئی باقاعدہ لائحہ عمل نہیں بنایا گیا اس کے علاوہ اگر ان ویلج اور نیبر ہڈ کے کونسلز کے افعال اور اختیارات پہ بات کی جائے تو ایکٹ میں ایک لمبی فہرست پیش کی گئی ہے جس میں اس ویلج کے دو یا تین منتخب نمائندوں سے نئے درخت لگوانے، سالڈ ویسٹ منیجمنٹ، سکول میں بچوں کی تعداد بڑھانے، مقامی دیہات کے لئے صاف پانی کا بندوبست کرنے اور ڈیری فارمنگ کی بہتری جیسے 31بنیادی کاموں کی فہرست دی گئی ہے اور یہ وہ کام ہیں جو تقسیم پاکستان سے لے کر اب تک پچیسیوں محکمے مل کر بھی نہیں مکمل کر سکے۔
اس ایکٹ میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ چھ ماہ کے اندر تمام شہری اور دیہی علاقوں کی نئے سرے سے حد بندی کی جائے گی لیکن اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کیا لوکل گورنمنٹ محکمے کے پاس اتنے فنڈ ہیں کہ وہ متعلقہ محکموں کو اس حد بندی کے اخراجات ادا کر سکے؟یا پھر اس مقصد کے لئے اضافی اخراجات ہماری قوم کے ٹیکس کے پیسے سے ادا کئے جائیں گے یا آئی ایم ایف کے بیل آوٹ پیکج کو کام میں لایا جائے گا؟ نئے ایکٹ کے تحت دیہی علاقوں کے لیے ریونیو حلقہ بندیاں استعمال کرتے ہوئے ویلج کونسلز اور تحصیل کونسلز متعارف کروائی جائیں گی تاہم،حیرانی کی بات یہ ہے کہ ویلج کونسلز کا تحصیل کونسلز کے ساتھ کوئی انتظامی یا قانونی تعلق نہیں ہوگا بلکہ اس کے ممبران کا انتخاب انہی حلقوں میں سے علیحدہ طور پر کیا جائے گا یعنی یہ ایک ایسا چوں چوں کا مّربہ ہے جس کی سمجھ خود محکمہ لوکل گورنمنٹ کے افسران کو بھی سمجھ نہیں آ رہی اور خود وہ ورطہِ حیرت میں ہیں کہ کہیں ایسا تو نہیں جن ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ موجودہ حکومت نے کیا تھا وہ بھرتیاں لوکل گورنمنٹ کے محکمے میں ہی کی جائیں، یاد رہے کہ 22ہزار ویلج اور نیبر ہڈ کونسلز کو فعال بنانا ایک جوئے شیر لانے کے برابر ہے چونکہ ماضی میں یہ تجربہ خیبر پختونخواہ صوبے میں کیا گیا جہاں آبادی کم ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی گنجانی بھی کم ہے جبکہ صوبہ پنجاب پاکستان کی 60فیصد آبادی والا صوبہ ہے جس میں لا ینحل مسائل کا ایک جال بچھا ہوا ہے جس کو سابقہ حکومت بھی صرف خانہ پری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہی تھی جس کی واضح مثال پنجاب کی تمام یونین کونسلز میں صاف پانی کی فراہمی ہے جو کرپشن کی نظر ہوکر داخل دفتر ہو چکا ہے۔
نئے بلدیاتی نظام کے بارے میں عوام میں آگاہی مہم چلانا اور ان سے مشورہ لینا حکومت وقت کا اہم فرض تھا لیکن عجلت میں کئے گئے فیصلوں سے مجھے ایک اور یوٹرن کا خدشہ ہے کیونکہ ان نو ماہ میں حکومت اپنے دعوؤں میں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی اور اگر بالفرض چھ ماہ میں حد بندیاں بھی ہو جاتی ہیں تو پنجاب حکومت ایک سال میں 138تحصیل کونسلز میں الیکشن کروانے اور جیتنے کی پوزیشن میں کیسے آسکتی ہے کیونکہ اگر عوام کو کوئی ریلیف دیا گیا تو وہ سیاسی بنیادوں پر ہونے والے تحصیل کونسلز کے الیکشن میں حکمران جماعت کو ووٹ دے گی جبکہ حقییقت یہ ہے کہ الیکشن میں ہارنے کے خدشے کی وجہ سے سابقہ حکومتیں بلدیاتی اداروں کو چھیڑنے کی جرات نہیں کر سکیں۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حکومت آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکج لینے کے بعد مہنگائی، کرپشن اورامن و امان کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں کو شروع کرتے ہوئے عوام میں اعتماد کی فضا کو جلد از جلد بحال کرے ورنہ یہ الیکشن مجھے اگلے دس سال تک ہوتے نظر نہیں آتے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*