بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> بہاولپور کا مسیحا۔ڈاکٹر سید وسیم اختر

بہاولپور کا مسیحا۔ڈاکٹر سید وسیم اختر

بہاولپور کا مسیحا۔ڈاکٹر سید وسیم اختر
محمد اقبال عباسی
گزشتہ شام سابقہ مملکت خداد اد، دارلسرور بہاولپور کی عوام پر ایک خبر بجلی بن کر گری کہ موجودہ امیر جنوبی پنجاب اور سابق ایم پی اے صوبہ پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے ملک عدم سدھار گئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے کارکنان دھاڑیں مار مار کر تو رو رہے تھے لیکن کوئی ایسی آنکھ نہ تھی جو اشک بار نہ ہو کیونکہ بہاولپور کا کوئی باشندہ اایسا نہیں ہے جو اس امر کا دعوی دار نہ ہو کہ سید وسیم اختر سے سب سے زیادہ تعلق اس کا ہے۔ آل نبی ﷺ سے تعلق رکھنے والے سید وسیم اختر سے پہلا تعارف 1999ء میں جماعت اسلامی کی ایک روزہ تربیتی ورکشاپ میں ہوا، جس میں مقامی ہونے کے ناطے سے میں بھی بطور منتظم شریک تھا۔ جب سب اراکین ضلع نے کھانا کھا لیاتو ڈاکٹر وسیم اختر بولے کہ بھائی! کھانا لے آؤ تاکہ منتظمین کے ساتھ ساتھ میں بھی کھانا کھا لوں لیکن شو مئی قسمت اس وقت روٹی ختم ہو چکی تھی لیکن ایک دوست مقامی ہوٹل سے روٹی لینے کے لئے روانہ کیا جا چکا تھا۔ہم نے یہ صورت حال ان کو بتائی تو کہنے لگے "بچے ہوئے روٹی کے ٹکڑے لے آؤ، سالم روٹی کے بھی تو ٹکڑے ہی کر کے کھانے ہیں۔” وہ دن اور آج کا دن میں نے اس داعی حق کو کبھی آرام کرتے نہیں دیکھا، صوم و صلواۃ اور وقت کی پابندی ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ ضلع بہاولپور میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ ریگزار بہاولپور کی جھلسا دینے والی گرمی اور باد سموم بھی اس شخص کے مصمم ارادوں کے سامنے کبھی بند نہیں باندھ سکی۔ جماعت اسلامی میں شامل ہونے کے بعد امیر شہر سے امیر پنجاب تک کے سفر میں جس منصوبے کو ہاتھ میں لیا اس کو پایہ تکمیل تک پہنچا یا، بہاولپور شہر کے گلی کوچے اس بات کے گواہ ہیں کہ ادنی ٰ سے ادنیٰ کارکن سے لے کر ضلع بہاولپور کے مظلومین، یتیم، مساکین اور بیوہ خواتین کے سر کا سہارا اس دنیا سے چلا گیا ہے۔ ممبر صوبائی اسمبلی حیثیت سے صرف اپنے حلقے کے عوام کے مسائل کے حل کے لئے کوشاں نہیں رہتے تھے بلکہ آل رسول ﷺ کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے اس مسیحا کے در سے دوست تو کجا دشمن بھی آج تک خالی ہاتھ نہیں گیا۔ الخدمت فاؤنڈیشن ہو یا کسان بورڈ، بہاولپور شہر کے مسائل ہوں یا چولستان کے پانی کا مسئلہ یہ مردِحر پنجاب اسمبلی کے دروازے کے سامنے اکیلا بھی احتجاج ریکارڈ کرواتا رہا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ بہاولپور کی مٹی میں ایسی تاثیر ہے کہ جو بھی افسر یہاں آتاہے روتا ہوا آتا ہے اور روتا ہوا جاتا ہے لیکن تعلیم کی غرض سے بالائی پنجاب سے آنے والا ایک نوجوان وسیم اختر نے اپنے سید ہونے اور مٹی سے محبت کا قرض کا یوں اتارا کہ اپنے دن رات بہاولپور کی تعمیر و ترقی کے لئے وقف کر دیئے بلکہ مجھے جب بھی موقع ملا میں نے سید وسیم اختر سے کچھ نہ کچھ سیکھا۔ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے سے پہلے جماعت اسلامی کی ٹکٹ پر کئی بار وہ شکست کا مزہ چکھ چکے تھے بلکہ جب وہ تحصیل نظامت کا الیکشن ہارے تو کہنے لگے کہ اب ہم اتنی بار ہار چکے ہیں کہ جیت ہمارے سامنے ہے ہم سب کو اس ہار سے سبق سیکھنا چاہئے۔فافن (فری اینڈ فئیرنیٹ ورک) اور پلڈاٹ سے صوبائی اسمبلی کے ایوان میں بہترین کارکردگی پر ایوارڈ وصول کرنے والے سید وسیم اختر نے اپنی ساری زندگی غریب عوام کا بھر پور ساتھ دینے کے ساتھ ساتھ ہر طبقہ فکر کی نمائندگی کی بلکہ میری ذاتی رائے ہے کہ محسن پاکستان ہز ہائی نس نواب صادق محمد خان عباسی کے بعداس خطے کی محروم عوام کے لئے ہر فورم پر آواز اٹھائی۔مسئلہ بہاولپور کے نہری پانی کا ہو یا چولستان کے باشندوں کے حقوق کا، بہاولپور صوبہ کی بحالی ہو یا دکھی انسانیت کی خدمت، وہ ہر معاملے میں پیش پیش رہتے تھے اور پیش روؤں کو ہمیشہ صبر و تحمل اور جہد مسلسل کا درس دیتے رہے۔ ان کا سب سے عظیم کارنامہ مئی 2018ء میں صوبائی اسمبلی سے پنجاب کے تعلیمی اداروں میں قران مجید کی لازمی تعلیم کی قرارداد منظور کروانا تھا۔
مجھے ہے حکم اذاں کے موجب ہمیشہ ریاست بہاولپور کی عوام کے مسائل کو ایوان اسمبلی میں پہنچانے کی بھر پور سعی کرتے رہے، گو حکمرانوں کی نظروں میں وہ معتوب تھے لیکن پیٹھ پیچھے سب تعریف کرنے پر مجبور تھے، آپ نے بہاول وکٹوریہ ہسپتال کے لئے تین ارب روپے کی لاگت سے کڈنی ٹرانسپلانٹ، جدید سہولیات سے آراستہ کارڈیک سنٹر اور تھیلسیمیا کا یونٹ اور اسی ہسپتال میں سی ٹی سکین اور ایم آر آئی مشین قائم کروانے کے لئے شدید تگ و دو کی اور مختلف مواقع پر قراردادوں کی صورت میں بہاولپور کی محروم عوام کے لئے آواز اٹھاتے رہے۔
ان کی زندگی کا مقصد نہ صرف دین اسلام کی آبیاری تھی بلکہ خدمت انسانیت کو مرحوم نے ہمیشہ فوقیت دی یہاں تک کہ کسانوں کے لئے ہر فورم پر آواز اٹھائی،سابق سپیکر پنجاب اسمبلی افضل ساہی نے ایک نجی محفل میں کہا کہ میں ایک ایسے شخص کو بھی جانتا ہوں جس کی ایک مرلہ زمین بھی نہیں لیکن پنجاب اسمبلی کے ایوان میں کسانوں کے لئے سب سے زیادہ آواز سید وسیم اختر نے اٹھائی۔
ان کے قریبی حلقے راوی ہیں کہ ایک بار سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کا پیغام ڈاکٹرسید وسیم اختر تک پہنچا کہ آپ کی اسمبلی میں آواز بہت اونچی اورزوردارہوتی ہے مہربانی کریں تھوڑاکم بولا کریں۔ شہیدِکربلا کا وارث مسکرایا اور جواب دیا” آئندہ اسمبلی میں تسبیح لے کر آوں گا
اور یہاں بیٹھ کر تسبیح کروں گا۔”اور پھر کہنے لگے کہ اپنے صاحب! کو بتا دینا کہ یہ ایوان لوگوں کے مسائل کے لیے بنا ہے اور مجھے لوگوں نے اسی کا م کے لیے بھیجا ہے میں اپنی آواز روک نہیں سکوں گا(راوی عارف عاصم میڈیا کورڈینیٹر)تین بار رکن صوبائی اسمبلی رہنے والے ڈاکٹر سید وسیم اسلامی ریاست مدینہ کے نمائندے محسوس ہوتے تھے یہاں تک کہ آج تک اپنا ذاتی گھرنہ بنا سکے، ہفتے میں دودن کلینک پراوربقیہ پانچ دن خلقِ خدا کی خدمت میں گزارنے والا یہ شخص پہلی بار 1990ء میں ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوا پھر 2002ء کے انتخابات کے دوران میں نے اس کی شبانہ روز محنت کا مشاہدہ کیا کہ جس شام الیکشن کانتیجہ تھا اس دن سیّد کی قمیض تین جگہ سے پھٹی ہوئی تھی او ر وہ کارکنان میں گھرے مبارکباد وصول کرتے ہوئے الحمد للہ، الحمدللہ کا ورد کر رہے تھے۔ جس سے بھی ملے اس کو اپنا گرویدہ کر لیا۔ در پر کوئی بھی سوالی، مظلوم گیا،جس وقت بھی گیاتو خالی ہاتھا نہیں آیا۔ یہی کہتے تھے کہ آپ موجودہ نظام سے واقف تو ہیں اور نہ ہی میں حکومت میں ہوں لیکن سب مل کر کوشش کرتے ہیں کہ آپ کا کام ہوجائے اور پھر اس کام کے لئے حتی المقدور کوشش کرتے کہ مظلوم کی داد رسی ہو۔
بہاولپور کے لئے ان کی خدمات کی وسیع فہرست میرے سامنے ہے جس کا ذکر اس مختصر کالم میں نہیں کیا جا سکتا لیکن مسلم امہ کے اس بطل جلیل نے چولستان کے 70نان فارمل سکولوں کو دوبارہ فعال کرنے کے لئے نہ صرف قرارداد منظور کروائی بلکہ ان کو فعال کروا کر دم لیا۔ اس کے علاوہ مزدور کی تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر کرنے کے لئے بارہا قراردادیں منظور کروائیں جن پر تا حال عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ سیّد وسیم جیسے آشفتہ سرکا بہاولپور کی مٹی سے محبت کا ثبوت یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی کے ایوان میں یہ مطالبہ پیش کیا کہ اگر ہم بھارت سے آلو اور ٹماٹر خرید سکتے ہیں تو کیا دریائے ستلج کے قریب اضلاع بہاولنگر، بہاولپور اور رحیم یار خان کی آبی حیات کے لئے پانی نہیں خرید سکتے لیکن افسوس کہ ان کی قرارداد پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکی اور ایوان کی بلند و بالا دیواروں کے اندر دم گھٹ کر مر گئی۔اس کے علاوہ بہاولپور کے لئے برن سنٹر کی عمارت کا افتتاح اپنے ہاتھوں سے کیا، بہاولپور جیسے شہر کے لئے 30کروڑروپے سیوریج کا میگا پراجیکٹ، اوور ہیڈ برج، سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ پراجیکٹ، ماڈل بازار کا آغاز، سدرن ریلوے پھاٹک کی منظوری کے ساتھ ساتھ صحافی کالونی کے لئے جگہ مختص بھی کروائی۔
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*