بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> وکالت سے عدالت تک
Latest Column, Muhammad Nafees Danish, Cartoons, Effects on Children

وکالت سے عدالت تک

وکالت سے عدالت تک
محمد نفیس دانش

بیسویں صدی کے بعد جیسے ہی دنیا نے اکیسویں صدی کے زینہ پر قدم رکھا تو مسلسل ترقی کی راہوں میں گامزن ہونا شروع کر دیا اور اس قدر ترقی کی کہ ہر چیز میں تبدیلی واقع کر دی،اور ذرائع ابلاغ میں اتنی تیزی آگئی ہے کہ دنیا کے ایک کونے کی خبر چند لمحوں میں پوری دنیا میں ہوا کی طرح ہر طرف چھا جاتی ہے،اور اس ترقی کے دور میں اب شہرت حاصل کرنا بھی مشکل نہیں ہے، شہرت ایک اچھی چیز ہے بشرطیکہ حقیقت پر مبنی ہو اور اس کو حاصل کرنے کا ذریعہ بھی کوئی اچھا ہو،کسی پر الزام تراشی، بہتان بازی کر کے اور کسی کی ناموس پر ڈھاکہ ڈال کر شہرت تو انسان حاصل کر لیتا ہے لیکن وہ صرف شہرت برائے شہرت
ابو جہل اور ابو لہب کی طرح ہی ہوتی ہے جن کی حیات میں تو واہ واہ ہو جاتی ہے لیکن مرنے کے بعد لوگوں کی زبانوں پر ایسے لوگوں کے بارے میں لعن طعن کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا الحفاط والامین….!
مجھے افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ آج بعض لوگوں نے شہرت حاصل کرنے کے لئے جو سب سے بڑا ذریعہ بنا لیا ہے نعوذبااللہ وہ ناموسِ رسالت پر ڈھاکہ ڈالنا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو اپنی عدالت میں لاکر ان کے بارے میں خود فیصلہ کرنا اور پھر ان پر زبان درازی کرنا..!
تاریخ کا ادنیٰ طالب علم بھی یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گا کہ اگر رسول اللہ ﷺ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو الگ رکھ کر ان کوعام انسانوں کی طرح خاطی و عاصی تصور کرکے غیر معتبر قرار دیا جائے گا تو اسلام کی پوری عمارت ہی منہدم ہوجائیگی۔ نہ رسول اللہ ﷺکی رسالت معتبر رہے گی، نہ قرآن اور اس کی تفسیر اور حدیث کا اعتبار باقی رہے گا؛ کیونکہ اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ من جانب اللہ ہم کو عطاء کیا ہے وہ ہم تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کی معرفت پہنچا ہے۔ خود معلم انسانیت محمد عربیﷺنے اپنے جان نثار، اطاعت شعار صحابہ ؓ کی تربیت فرمائی تھی۔صحابہ کرامؓ کی مثالی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے، اِن پاکیزہ نفوس کو بھی ایسے حالات کا سامنا تھا جن سے آج ہم گزر رہے ہیں۔
صحابہ ہمارے لئے معیار حق اور مشعل راہ ہیں، ان کی شان میں کسی قسم کی گستاخی گوارہ نہیں۔ انکی عظمت شان کی بلندیوں تک کسی کی رسائی نہیں،عصر حاضر میں ان حضرات کی پیروی گزشتہ صدیوں کے مقابلہ میں زیادہ ضروری اور اہم ہے اور کامیابی کا تصور اس کے بغیر ممکن نہیں۔
میں کوئی اتنا بڑا عالم یا مفتی نہیں اس لئے ہمیشہ دین کے باریک مسئلوں میں رائے دینے سے گریز کرتا ہوں، اپنے اکابر علماء کرام پر مکمل اعتماد ہے، انہی کے بتائے ہوئے اصولوں کو ہمیشہ اپنے لئے مشعل راہ سمجھا ہے، آج بھی اسی پر قائم ہوں، گزشتہ دنوں اب تک نیوز چینل کے ایک پروگرام میں سیفی خان نامی ایک خاتون نے اشاروں میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر تبرا کیا جسے سُن کر ہر مسلمان کی طرح میرا بھی دل دکھا لیکن میری حیرت کی انتہا تب نہ رہی جب مجھے پتہ چلا کہ یہ سیفی نامی خاتون ایک وکیل بھی ہیں، ہمارے قومی سلامتی کے ادارے اور محب وطن لوگوں کو غور کرنا چاہیئے کہ سیفی خان نامی یہ وکیل میڈیا پر بیٹھ کر لوگوں کو ہمارے عدالتی نظام کے خلاف اکسا رہی ہے، یقیناً عدالتی نظام میں خامیاں ہوں گی لیکن سیفی خان کا کہنا ہے کہ اس نظام عدل میں انصاف مل ہی نہیں سکتا تو پھر سوال یہ ہے کہ سیفی خان کو جب نظام عدل پر اعتماد ہی نہیں ہے تو پھر وہ روز وکیل کا کوٹ پہن کر عدالتوں میں کیا کرنے جاتی ہیں، ہمارے ادارے تحقیق کریں کہ اس خاتون نے وکالت کی ڈگری کس مقصد کے تحت حاصل کی ہے، اس کا اصل ایجنڈا کیا ہے، میڈیا پر جو انہوں نے بات کی ہے کہیں وہ کوئی بیرونی سازش تو نہیں کیونکہ میڈم سیفی خان نے توہین صحابہ کرنے کے بعد فوری طور پر فول پروف سیکورٹی کی درخواست بھی دائر کردی ہے، کہیں اس کا یہی مقصد تو نہیں تھا کہ پہلے مسلمانوں کی دل آزاری کروں اور پھر جب ردعمل آئے تو میں فول پروف سیکورٹی حاصل کروں، اس پروگرام میں وہ اس بات کا خود تذکرہ کرتی ہیں کہ بیشک مجھ پر فتوے لگ جائیں، یعنی وہ بات کی حساسیت سے واقف تھیں، انہوں نے جان بوجھ کر اس حساس مسئلے کو چھیڑا ہے تو اس پر ہمارے اداروں کو تحقیق ضرور کرنی چاہیئے کہ آخر سیفی خان کا ایجنڈا کیا ہے، سیفی خان کی طرف سے کی جانے والی توہین پر جس ردعمل کا اظہار عُشاق صدیق اکبرؓ نے سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئیٹر پر دیا اس پر یقیناً انہیں شاباش بنتی ہے، صوبائی وزیر شہلا رضا کے بعد سیفی خان کی گستاخی کے خلاف ٹوئیٹر ایک مؤثر ہتھیار ثابت ہوا ہے ایک وقت تھا کہ کبھی کوئی بھنگی بھی سرعام معافی نہیں مانگتا تھا لیکن سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی محنت نے بڑے بڑوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے،ایک بار پھر سوشل میڈیا پر کام کرنے والوں کو مبارکباد لیکن اس نصحیت کے ساتھ کہ کبھی بھی آئین و قانون سے بالاتر ہو کر کوئی کام نہیں کرنا ہے کیونکہ ہم ایک محب وطن ہیں اور اپنے وطن عزیز کی سلامتی و بہود کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے میں بھی گریز نہیں کریں گے ان شائاللہ، اس لئے ہمارے ہر عمل سے یہ بات ثابت ہونی چاہیئے کہ ہم آئین و قانون کی بالادستی پر مکمل یقین رکھتے ہیں، اب آتے ہیں سیفی خان کے الزام کی جانب، سیفی خان نے کہا کہ سیدہ فاطمہؓ کو ان کا حق نہیں دیا گیا، میں نے پہلے عرض کی کہ میں باریک مسئلوں میں الجھتا نہیں ہوں لیکن اس الزام پر ایک دو سوال میرے ذہن میں مچل رہے ہیں بالفرض صورتحال نعوذباللہ وہی ہے جو سیفی خان نے بیان کی ہے تو پھر سوال یہ بنتا ہے کہ شیرخدا حضرت علی المرتضیؓ نے سیدہ کے حق کے لئے علم جہاد بلند کیوں نہ کیا حالانکہ اسی مجلس میں شیر خدا بھی تشریف فرما تھے، پھر اس سے اگلا سوال کے 24 سال بعد جب حضرت علی المرتضیٰؓ خود امیرالمومنین بنے تو کیا انہوں نے باغ فدک سیدہ فاطمہؓ کے ورثا میں تقسیم کیا، پھر اس سے پہلے خود سیدہ فاطمہؓ نے یہ وصیت کی تھی کہ مجھے غسل سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی زوجہ حضرت اسما بنت عمیسؓ دیں، اگر زندگی بھر سیدہ بتولؓ ناراض رہیں تو پھر غسل حضرت اسما بنت عمیسؓ زوجہ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے کیوں دیا، پھر یہ بھی ذہن میں رہے کہ حضرت اسما بنت عمیسؓ حضرت جعفرطیارؓ کی زوجہ تھیں، حضرت جعفر طیارؓ حضرت علی المرتضیٰؓ کے بھائی تھے، حضرت جعفرطیارؓ کی شہادت کے بعد خود حضرت علی المرتضیؓ نے اپنی بھابھی کا نکاح سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے کروایا تھا، پھر جب سیدہ فاطمہؓ کا وصال ہوا تو نماز جنازہ کے لئے حضرت علی المرتضیٰؓ نے خود سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو آگے کیا اور سیدہ فاطمہؓ کا جنازہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے پڑھایا، یہ مختصر سے واقعات سیفی خان کے دعوے کی نفی کر رہے ہیں، لیکن پھر بھی لفظوں کی اگر کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے اور بات کو سمجھنے یا سمجھانے میں کہیں کوئی مغالطہ ہوا ہے تو عدالتیں واقعی ان کے حل کے لئے بہترین فورم ہیں،ہمارے علماء کرام نے تو آرمی چیف آف پاکستان تک کو ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں کہ وہ فریقین کا مسئلہ سننے کے بعد اس مسئلے کو حل کردیں، لیکن اگر سیفی خان کو عدالتوں پر اعتماد آ ہی گیا ہے اور انہوں نے عدالتوں میں جانے کا چیلنج دے ہی دیا ہے تو پھر واقعی انہیں عدالت آنا چاہیئے، عدالتوں کو سیکورٹی کی درخواست دے کر یہ تاثر نہیں دینا چاہیئے کہ میں نے عدالت سے رجوع کر لیا ہے بلکہ اُس مدعے کی طرف آنا چاہیئے جو سیفی خان نے اب تک چینل پر بیان کیا ہے، عام دنیا دار لوگ دین کی باریکیوں میں پڑنے کے بجائے اپنی توانائی دین کی اصل روح روزہ، نماز اور حقوق العباد جیسے فرائض ادا کرنے کی کوشش میں صرف کرتے ہیں، یقیناً جو باتیں سیفی خان نے کیں وہ پیمرا کے قانون کے تحت بھی نہیں ہونی چاہیئں، لیکن سیفی خان نے میڈیا پر جب اس حساس مسئلے کو چھیڑ ہی دیا ہے تو اس مسئلے کو اب عدالتوں میں حل ہونا چاہیئے، سیفی خان دیر مت کرو، اپنے چیلنج کے مطابق عدالت آجاو، لوگ منتظر ہیں…..!
ہے زمانہ معترف صدیق تیری شان کا
صدق کا،اخلاص کا،ایمان کا،ایقان کا
تجھ سے پھیلا نور اسلام، عرب و شام میں
مٹ گیا نام ارتداد کا، کفر کا،طغیان کا
انبیاء کے بعد ہے رتبہ تیرا سب سے بلند
تو ہے مقتدا، علی کا،ابو ذر و سلمان کا

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*