بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> ’’ تھوڑا رک جائیں ، تھوڑا جھک جائیں ‘‘
تھوڑا رک جائیں

’’ تھوڑا رک جائیں ، تھوڑا جھک جائیں ‘‘

’’ تھوڑا رک جائیں ، تھوڑا جھک جائیں ‘‘
تحریر: محمد شہزاد اسلم راجہ
بھائی جی ذرا اپنا ہیلمٹ اتار کر گزریں ۔ ۔۔ جی ٹھیک ہے ۔۔۔ہیلمٹ تھوڑا اتار کر وہ گزر تو گیا مگر اندر جا کر بھی ہیلمٹ اپنے سر پر اس طرح رکھا کہ ماتھے کے علاوہ باقی کا چہرہ نظر آئے ۔ ۔۔اندر جا کر اس نے ایک رقم جمع کروانے والی رسید لی اور اس کو پُر کرنے لگا۔ اس دوران ایک سیکورٹی گارڈ اس کے پاس آیا اور معذ رت کرنے کے بعد درخواست کی کہ آپ کو داخلی دروازے پر بھی ہیلمٹ اتارنے کو کہا گیا مگر آپ نے ٹھیک طرح سے نہیں اتارا اور ابھی بھی ہیلمٹ آپ کے سر پر ہے جس سے اندر لگے سکیورٹی کیمروں میں آپ کی شناخت نہیں ہو پائے گی۔ لہذا ہیلمٹ کو اپنے سر سے اتار کر انتظار گاہ میں پڑے ٹیبل پر رکھ دیں ۔۔بائیک پر آنے والے کی بنک عملے سے تکرار کل میری سماعتوں کی نذر ہوئی جب میں نجی بنک میں دفتری کام سے گیا۔ ۔ وہ صاحب بنک کے داخلی دروازے سے اندر جا نے لگے تو ان کے سر پر ہیلمٹ بھی تھا ۔ تو ان سے داخلی دروازے پر موجود سکیورٹی عملہ نے بڑی نرمی اور خوش اخلاقی سے درخواست کی ۔ان صاحب اور سکیورٹی عملہ کے درمیان مکالمہ پہلے جو لکھا جا چکا ہے ۔ اب جب بنک کے اندر ایک اور سکیورٹی گارڈ ہیلمٹ اتارنے کی درخواست کرنے آیا تو ان صاحب نے ہیلمٹ تو اتار لیا مگر ساتھ غصہ بھرے لہجے میں ان کا کہنا تھا
’’میں کو ئی بنک لُٹن آیا واں ‘‘ (میں کوئی بنک لوٹنے تو نہیں آیا) ۔سکیورٹی گارڈ نے ان صاحب کی بات کا برا نہیں منایا بلکہ ایک اچھی سی مسکراہٹ کے ساتھ واپس چلا گیا ۔سکیورٹی گارڈ کے جانے کے بعد میں نے ان صاحب سے کہا کہ ایک تو یہ ان سکیورٹی والوں کی ڈیوٹی ہے کہ وہ ہر ایک آنے والے شخص کی تلاشی لیں اور ان کو اس طرح اندر جانے دیں جس بنک میں لگے ہوئے سکیورٹی کیمرہ میں آنے والوں کی شناخت محٖفوظ ہو جائے اور وقت پڑنے پر کام آسکے ویسے بھی یہ بنک کے اندر آنے کے لئے قانون ہے کہ آپ چہرہ ڈھانپ کر نا آئیں بلکہ کھلے چہرے سے آئیں ۔ وہ صاحب کہنے لگے ’’اوہ جان دیو و جی، ایس ملک وچ کون قانون تے عمل کردا اے‘‘ (جانے دو جی اس ملک میں کون قانون پر عمل کرتا ہے ) ۔ اب یہ بات سن کر غصہ آیا مگر میں نے اپنے غصہ کو کو قابو میں کیا کیونکہ غصے میں تھوڑا رک جانے سے زندگی آسان ہو جاتی ہے ۔تھوڑا رک جانے کے بعد میں نے ان صاحب سے کہا کہ اگر ہر بندہ آپ کی طرح سوچ لے اور قانون پر عمل نا کرے تو قانون بنانے کا کیا فائدہ ۔ کیوں ہمارے ملکی خزانے پر الیکشن کا بوجھ ڈال کر اور نمائندے منتخب کرکے ان کی تنخواہ اور ان کی مراعات کا بوجھ بھی ملکی خزانے پر ڈالتے ہیں کہ وہ ایوان میں جا کر ملک و قوم کے لئے قانون سازی کریں۔ جب ہم نے قانون کو نہیں ماننا تو کیوں یہ بوجھ ہمارے ملک کے خزانے پر بوجھ بنے؟جب ہم نے قانون پر عمل ہی نہیں کرنا تو یہ قانون پر عملداری کروانے کے لیے جو محکمے بنے ہوئے ہیں ان کی تنخواہوں کا بوجھ بھی خزانے پر کیوں ؟ اگر ہم نے قانون پر عمل ہی نہیں کرنا تو کیوں آپ ہر ماہ بجلی ، گیس پانی کے بل ادا کرنے قطار میں کھڑے نظر آتے ہیں ؟ جب ہم کسی دوسرے پر ایک انگلی اٹھاتے ہیں تو تین انگلیاں آپ کی اپنی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں کہ آپ کتنے پانی میں ہیں ۔اگر ہر بندہ یہ سوچ رکھ لے کہ یہاں کون ہے جو قانون پر عمل در آمد کرتا ہے تو پھر تو معاشرے میں ہو گیا امن و امان قائم ۔اللہ نا کرے اگر آپ کا کوئی کیس عدالت میں چلا جائے تو آپ کی بھر پور کوشش ہوتی ہے کہ قانون کے مطابق کیس کا فیصلہ آپ کے حق میں ہو تب کیوں آپ قانون کو مانتے ہیں ؟۔ ابھی میں ان صاحب سے یہ باتیں کر ہی رہا تھا کہ میرے ٹوکن نمبر کی باری آئی اور میں جس کاؤنٹر پر میرا نمبر آیا تھا اس کاؤ نٹر پر چلا گیا۔ میرا کام ختم ہوتے ہی کاؤنٹر پر بیٹھی بنک آفیسر خاتون نے جب اکلا ٹوکن نمبر چلایا تو وہ نمبر اسی شخص کا تھا ۔ وہ مسکراتا ہوا آیا اور کہنے لگا کمال کی بات ہے میں تو سوچ رہا تھا کہ بنک میں مجھے کم سے کم ایک گھنٹہ کا وقت تو لگے گا مگر یہاں تو میری باری جلد ہی آگئی۔میں نے بھی جواب میں مسکرا کر کہا کہ یہ قانون پرعمل کر نے کا نتیجہ ہے اگر ہم لوگ ٹوکن نمبر والے قانون یا قطار والے قانون پر عمل نا کرتے اور دھینگا مشتی سے اپنا کام کرواتے تو ایک گھنٹہ تو کیا یہاں تین گھنٹے بھی لگ سکتے تھے۔کاؤنٹر سے اپنا کام ختم کرنے کے بعد جب موٹر سائیکل سٹینڈ سے اپنی موٹر سائیکل لینے آیا تو پھر مجھ سے ٹاکرا ہوا وہ کچھ جھک گیا تھا شاید وہ جانتا تھا کہ اگر بندہ غلطی کرنے کے بعد تھوڑا جھک جائیں تو زندگی آسان ہو جاتی ہے۔
صاحبو! غصے کے وقت اگر تھوڑا رک جائیں اور غلطی کے وقت تھوا جھک جائیں والے فارمولے پر عمل کر کے دیکھیں ۔ زندگی کی بہت ساری مشکلیں آسان ہو جائیں گی ۔قانون پر کس طرح عم ہوتا ہے اس بات پر مجھے ایک ڈاکٹر صاحب اور ایک وکیل صاحب کا واقعہ یاد آ رہا ہے ۔ لیں آپ کو بھی سناتا ہوں ۔ایک ڈاکٹر صاحب تھے جن کا اپنا ایک اصوال یا قانون تھا کہ کسی کو بھی کوئی دوائی چاہے سر درد کی ہی کیوں نا ہو لکھ کر دینے کی فیس لیا کرتے تھے وہ ایک تقریب میں گئے جہاں بہت سے لوگ جمع تھے کہ ایک آدمی جو داکٹر صاحب کو بخوبہ جانتا تھا ڈاکٹر صاحب کے پاس آیا اور کہنے لگا ڈاکٹر صاحب سر میں بہت درد ہو رہا ہے یہ کاغذ قلم لیں اور مجھے دوائی یا گولی لکھ دیں جو میں جاکر لے لوں ۔اب ڈاکٹر صاحب سب کے سامنے تو سر درد کی دوائی لکھ کر دینے کی فیس مانگنے سے رہے مجبوراََ پرچی پر دوائی لکھ دی۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس ہی ایک وکیل صاحب بیٹھے تھے ان کا بھی ڈاکٹر کی طرح اپنا اصول یا قانون تھا کہ بنا فیس لئے کوئی قانونی مشورہ نہیں دیتے تھے۔ اُن وکیل صاحب سے ڈاکٹر صاحب نے پوچھا اگر آپ کے ساتھ ایسا ہو تو آپ کیا کرتے ہیں ۔ وکیل صاحب نے جواب دیا میں مشورہ دے دیتا ہوں اور بعد میں اپنے مشورے کا بل بذریعہ ڈاک بھجوا دیتا ہوں ۔ ڈاکٹر صاحب کو یہ بات اچھی لگی ۔ تقریب سے فارغ ہو کر ڈاکٹر صاحب اپنے کلینک پر گئے اور اس شخص کے نام اپنی فیس کا بل بنایا اور پوسٹ آٖس جا کر پوسٹ کر آئے۔ واپس گھر آئے تو ڈاکیا ان کی راہ تک رہا تھا ۔ گھر آتے ہی ڈاکیئے نے ڈاکٹر صاحب کے ہات میں وکیل صاحب کی طرف سے آیا ہویا ان مے مشورے کا بل تھما دیا ۔ اس طرح جب ہم قانون پر عمل کرنے کی عادت بنا لیں تو ہم اپنے اصولوں اور قوانین پر عمل کرتے ہوئیاپنے ملک کے قوانین پر عمل پیرا ہونے کے عادی ہو جاتے ہیں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*