بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> سیاست کا راج چارسو

سیاست کا راج چارسو

سیاست کا راج چارسو
محمد طیب زاہر
پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم آج کل زوال کا شکار ہے پہ در پہ شکست نے شائقین کرکٹ میں مایوسی کی لہر کو اُجاگر کردیا ہے۔لیکن اب بھی اُمید کا دامن کہیں نہ کہیں چھوٹا نہیں بقول فیض احمد فیض۔
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
اب بھی شائقین حساب کتاب میں محو نظر آتے ہیں کہ شاید پاکستان ٹیم باقی ماندہ میچ جیت کر اور رن ریٹ بہتر کرکے اور وہ ٹیم جو نیچے آکر پاکستان کی پوزیشن مضبوط کرتی ہو وہ اگر ہار جائے تو پھر پاکستان کے آگے جانے کے چانس پھر سے روشن ہوجائیں گے لیکن اگر پاکستان ٹیم ان سب سخت شرائط کو اگر پورا کرنے کے قریب پہنچ جاتی ہے تو ایسے میں بارش بھی ٹیم کو ہار کی خارش کرواسکتی ہے۔کیونکہ اب پاکستان کسی بھی میچ میں ایک پوائنٹ حاصل کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ اب غلطی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ بہرحال پاکستان ٹیم اس وقت تنقید کی زد میں ہے۔سرفراز احمد کی کپتانی سے کرکٹ کی دنیا پر گہری نظر رکھنے والا ایک طبقہ سرفراز احمد کی کپتانی سے نالاں ہے۔دیکھا جائے تو سرفراز احمد میں ڈسیپلین کی بھی کمی دکھائی دیتی ہے۔اس کی حالیہ مثال سرفراز کی جانب سے جنوبی افریقی پلئیر پر تعصب پر مبنی جملے کہنے کی دیکھی جاسکتی ہے۔پاک بھارت میچ جس پر سب کی نظریں جمی ہوتی ہیں اور بالخصوص جب پاک بھارت ٹاکرا ورلڈ کپ میں ہو تو اس کا مزہ ہی الگ ہے۔1992 سے لے کر پاکستان اب تک بھارت کو اس میگا ایونٹ میں شکست دینے سے قاصر رہا ہے۔اور حال ہی میں پاک بھارت کے درمیان جو جوڑ پڑا وہ ہماری ٹیم کو ایک بار پھر ہماری بیٹنگ لائن اپ کے جوڑ جوڑ ہلا گیا۔خراب کپتانی مس فیلڈنگ جیسے عناصر نے آج ہمیں اس نہج پر لا کھڑا کردیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سرفراز گھر جاؤ ٹاپ ٹرینڈ کرنے لگا۔جب سرفراز پر اُنگلیاں اُٹھنے لگی تو اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کی بجائے انہوں نے اکھڑ دکھانا شروع کردی کہنے لگے کہ اگر کوئی مجھے نکالنا چاہتا ہے تو پھر اور بھی لوگ میرے ساتھ جائیں گے۔یہاں سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اگر کوئی ایسا کھلاڑی جو سرفراز احمد کی بات نہیں مان رہا تو پھر سرفراز خاموش کیوں ہیں اگر اِن کو لگتا ہے کہ ان کے بولنے سے ان کے کیرئیر پر کوئی حرف آئے گا تو نہ بول کر وہ کرکٹ اور اس کے ساتھ جڑے کروڑوں جذبات کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں نہ بول کر بھی وہ تنقید کی زد میں ہے تو اس سے اچھا تھا وہ بتا دیتے کہ کون ان کے راستے میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے ہم راز بھی کچھ لوگ ہیں جن سے کپتان صاحب اب جان چھڑانا چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ شاید سرفراز بھی اب انہیں آنکھیں دکھا رہے ہیں دونوں صورتوں میں سرفراز ڈبل مجرم ہیں۔کپتان کی کپتانی کا شو تو بری طرح سے فلاپ ہے ہی اوپر سے بیٹنگ میں بھی ان سے کوئی جاندار شارٹ با مشکل ہی لگتی ہمیں دکھائی دی۔وکٹ کیپینگ میں بھی کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں وہ کوئی خاص کامیاب نہیں ہوئے اس سے ایک بات صاف صاف عیاں ہوتی ہے کہ وہ کپتانی کے علاوہ ٹیم میں بھی رہنے کے اہل نہیں ہے لیکن پھر ایسی کیا وجہ ہے کہ مینیجمنٹ ان پر اپنا سخاوت اور کرم بنا کے رکھے ہوئے ہے۔جبکہ یہ بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ سرفراز مکھی آرتھر اور انضمام الحق کی مبینہ بیجاں مداخلت سے بیحد پریشان ہے۔اس بات کے امکانات ممکنہ طور پر ہوسکتے ہیں۔لیکن بھارت سے ہار کے بعد اپنی ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ اِمام اور فخر نے بہترین کارکردگی دکھائی جبکہ وہ بابر اعظم کی کارکردگی کو جانے یا پھر انجانے میں نظر انداز کرگئے۔پھر اس کا کیا مطلب لیا جائے۔ٹیم میں لابنگ ہیں اور یہ واضح ہے۔شعیب ملک کو دیکھیں تو وہ بھی اپنی ناقص پرفارمنس پر شرمندہ ہونے کی بجائے فرماتے ہیں کہ انہوں نے 20 سال سے زائد کرکٹ کے لئے خدمات سرانجام دی ہے۔بلاشبہ ان کی پرفارمنس بہت اچھی بھی رہی لیکن اب ان میں وہ صلاحیت باقی نہیں رہی ڈھلتی عمر کے ساتھ ان کے کئیریر کا سورج بھی بہت پہلے ہی ڈوب چکا تھا۔20 سال پرفارم کرنے کا یہ مطلب نہیں آپ ٹیم پر بوجھ بن جائے وہ بھی ایسے وقت میں جب دنیائے کرکٹ کا عظیم الشان میلہ ورلڈ کپ کی صورت میں سجا ہو۔آپ کو تسلیم کرنا چاہئے کہ آپ سے ورلڈ کپ بھی ذرا بھی پرفارم نہیں ہوا۔آپ بؤلنگ لائن اپ کیلئے بھی مفید ثابت نہیں ہوسکے۔جہاں تک بات ہے انضمام الحق کی تو اگراِن کی توجہ صرف اپنے بھانجے کو کھلانے پر مرکوز ہے تو وہ بھی ٹیم اور کرکٹ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔امام الحق بلاشبہ اچھے کھلاڑی ہیں لیکن بھارت کے ساتھ میچ میں ان کا بلا رنز اُگلنا بھول بیٹھا اور وہ ڈبل فگر میں داخل ہوئے بغیر پویلین کو پیارے ہوگئے۔سرفراز نے ان کی تعریف پھر کس حیثیت میں کی؟ آخری میچ تو بھارت کیخلاف ہارے تھے۔پاکستانی کرکٹ کے ڈھانچے میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔اور قوی امید ہے کہ کچھ کھلاڑی جن کی پرفارمنس ناقص ہے ان کی جلد چھٹی ہونے والی ہے اور یہ بھی توقع کی جاسکتی ہے کہ انتظامی سطح پر بھی تبدیلیاں وقوع پذیر ہونا شروع ہوں گی۔ہمارے بہت سے پلئیرز انگریزی بولنے اور سمجھنے سے قاصر ہیں۔انگریزی نہ آنا کوئی بری بات نہیں لیکن جہاں آپ نے عالمی دنیا میں جا کر کرکٹ کھیلنی یو تو ایسے میں انگریزی سیکھنا آپ کی ضرورت بن جاتی ہے۔وسیم اکرم نے ایک قصہ سنایا تھا کہ جیوفری بوئے کوٹ پاکستان کے کوچ ہوا کرتے تھے اور پاکستانی بیٹسمین عمران نذیر کو ٹریننگ کیمپ کے دوران کچھ سمجھا رہے تھے اور تقریبا دو گھنٹے وہ عمران نذیر کو سمجھاتے رہے اور عمران نذیر اُن کی ہر بات پر ہاں میں سر ہلائے جا رہے تھے۔ جب سمجھنے سمجھانے کا عمل پورا ہوا تو وسیم اکرم نے عمران نذیر کو بُلایا اور ان سے پوچھا کہ کچھ سمجھ آئی تو عمران نذیر نے جواب میں کہا بالکل بھی نہیں تو وسیم اکرم نے استفسار کیا کہ پھر تم سر کیوں ہلائے جا رہے تھے تو اس کے جواب میں عمران نذیر نے کہا کہ اگر میں نفی میں سر ہلاتا تو وہ اور دو گھنٹے بولتا۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب کوچز فارنر ہوں گے تو پھر ایسے میں کوچز اور کھلاڑیوں کے درمیان کمیونیکیشن گیپ پیدا ہوگا۔لہذا اس عنصر کی وجہ سے اور ویسے بھی اب تک گرینڈ فلاور اور مکھی آرتھر نے پاکستانی ٹیم کا کتنا بھلا کیا۔تمام تر شکست میں ان کا بھی حصہ شامل ہے لہذا ان دونوں غیر ملکی کوچز کو اٹھا کر باہر پھینکنے کا بھی وقت آپہنچا ہے۔پی سی بی کو ان سے جان چھڑا کر اپنے پاکستانی سابقہ پلئیرز کو بطور کوچ مقرر کرنا چاہئے۔سرفراز احمد کو اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہئے اور ورلڈ کپ کے باقی میچز میں دلیرانہ انداز میں میدان عمل میں نکلنا چاہئے کیونکہ سرفراز دھوکہ دے یا نہ دے پھر قوم ان کو موقع دینے کے حق میں بالکل بھی تیار نہ ہوگی۔قومی ٹیم پوری لگن سے کھیلیں اور اگر قسمت کی دیوی مہربان ہوئی تو پھر پاکستانی ٹیم انشائاللہ ورلڈ کپ کے اہم اور اگلے مرحلے میں بھی داخل ہوجائے گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*