بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> بااختیار خواتین اور ہمار معاشرہ
بااختیار خواتین

بااختیار خواتین اور ہمار معاشرہ

بااختیار خواتین اور ہمار معاشرہ
رشید احمد نعیم
حسب روایت پاکستان سمیت دنیا بھر میں صنف نازک کی صلاحیتوں، خدمات اور معاشرے میں ان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے خواتین کا عالمی دن جوش و خروش سے منایا جاچکا ۔ خواتین کی صلا حیتوں کے اعتراف اور ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کیے تقریبات کے انعقاد کا سلسلہ چلتا رہا۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف،آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سمیت اہم سیاسی شخصیات نے عالمی دن کے موقع پر خواتین کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی پیغامات جاری کئے ۔وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ آج خواتین کا عالمی دن صرف خواتین سے ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے نہیں منایا جارہا بلکہ دربدر ہونے والی خواتین کو بااختیار بنانے کا بھی مقصد ہے جن کو معاشرہ تسلیم نہیں کرتا ۔وزیر برائے انسانی حقوق نے یہ بھی لکھا کہ ہم ریاستی، حکومتی سطح پر آگے بڑھ رہے ہیں لیکن ہمیں خواتین کے لیے بھی سوچ بدلنا پڑے گی۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلام نے خواتین کو مثالی عزت، احترام، حقوق اور مقام عطا کیا، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں خواتین کے حقوق اور احترام کا درس دیا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ اسلامی، انسانی اور تحریک پاکستان میں خواتین نے تاریخی کردارادا کیا، پاکستان میں فیصلہ سازی سمیت ہر شعبے میں خواتین کا کردار اور تعداد بڑھنا خوش آئند ہے۔پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ صنفی امتیاز کے خاتمے سے مہذب معاشرہ قائم ہوگا، خواتین کا باوقار مقام پیپلز پارٹی کا اصول ہے اور ہر شعبے میں خواتین کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے رہیں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خواتین کی شراکت کو دنیا میں پائدار ترقی کا اہم ترین جز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب مستقبل خواتین کا ہے۔خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر جاری کردہ اپنے پیغام میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کی پیشقدمی نمایاں اور خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خواتین تاریخی طور پر بہادر اور پرعزم رہی ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ خواتین ماضی کے مقابلے میں بہت آگے آئی ہیں اور اس وقت بھی بہت سارے چیلینجز کے باوجود ان کے آگے بڑھنے کی لگن ناقابلِ تسخیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی عوامی حکومتوں نے ملک میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کی ترقی و بہبودکے لیے نمایاں اور انقلابی اقدام اٹھائے ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستانی خواتین کی موجودہ ترقی کے پیچھے ایک خاتون کا کردار ناقابلِ فراموش ہے، اور وہ ہیں شہید محترمہ بینظیر بھٹو۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ملکی تاریخ میں کسی مین اسٹریم پارٹی کی پہلی خاتون سربراہ، ملک کی پہلی وزیراعظم، قومی اسمبلی کی پہلی خاتون اسپیکر، پارلیامینٹ کے دونوں ایوانوں میں قائد حزب اختلاف جیسے اہم ترین عہدوں پر خواتین کو قیادت کا موقع دیا۔پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک طرف خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے غیرت کے نام پر قتل، صنفی امتیاز، جنسی ہراسگی، گھریلو تشدد، چھوٹی عمر میں شادی اور اس طرح کے دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی تو دوسری طرف اعلی ایوانوں میں خواتین کو بھرپور نمائندگی، فرسٹ ویمن بینک، خواتین پولیس، کسان خواتین کو زمینیں اور آسان قرضے، سرکاری ملازمتوں میں خواتین کے لیے کوٹہ پر مکمل عملدرآمد، خواتین کو چھوٹے کاروبار کے لیے بلا سود آسان قرضے اور نادار خواتین کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے پروگرامز کے ذریعے ان کی فلاح و بھبود اور انہیں خودمختار بنانے کے لیئے عملی اقدامات اٹھائے۔پی پی چیئرمین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی پارٹی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے ویژن کے مطابق مستحکم خواتین مستحکم پاکستان کے خواب شرمندہ تعبیر بنائے گی۔پیپلز پارٹی کی رہنما و سینیٹر شیری رحمان لکھتی ہیں کہ میں آج عورت مارچ اس لیے کرتی ہوں کیونکہ میں خواتین کے خلاف تشدد تسلیم نہیں کرتی، انہیں کام کی جگہ ہراساں کرنا تسلیم نہیں کرتی، مجھے دائرہ اقتدار میں اپنی آواز سننے کا حق ہے۔ میں اس لیے بھی مارچ کرتی ہوں کے ہمیں بڑھنے کے لیے ایک طویل راستہ ہے۔وزیر خزانہ اسد عمر لکھتے ہیں کہ خواتین کے عالمی دن پر یاد رکھیں کہ پاکستان خوشحال اور پرامن نہیں ہوسکتا جب تک ہم خواتین کو زندگی جینے کا پوری طرح موقع نہ دیں۔ پاکستانی نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے خواتین کے عالمی دن کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے پیغام دیا کہ تمام لڑکیوں کے لیے قدم اٹھائیں اور انہیں ان کی بھرپور طاقت تک پہنچائیں۔ گلوکارہ میشا شفیع لکھتی ہیں کہ میں مارچ کرتی ہوں تو ہماری بیٹیوں کو سچ بولنے اور اپنے حق کے لیے خاموش رہنا نہیں پڑے گا۔اداکارہ میرا نے خواتین کے عالمی دن پر تمام خواتین کو پیغام دیا کہ ملکہ کی طرح سوچیں جو ناکام ہونے سے نہیں ڈرتی کیونکہ ناکامی کامیابی کی جانب بڑھتا قدم ہوتا ہے۔ سیاسی رہنماؤں سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے پاکستانی خواتین کیلئے فاطمہ جناح اور بے نظیر بھٹو کو رول ماڈل قرار دیا۔جبکہ پنجاب اسمبلی میں خواتین کے عالمی دن کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے منسوب کرنے کی قرارداد جمع کرا دی گئی ، قرارداد تحریک انصاف کی رکن سیمابیہ طاہر کی جانب سے جمع کرائی گئی۔قرارداد میں کہا گیا کہ عالمی یوم خواتین بین الاقوامی طور پر 8 مارچ کو منایا جاتا ہے، اس دن کو منانے کا مقصد خواتین کی اہمیت سیدنیا کو آگاہ کرنا ہے، خواتین پر تشدد کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کے لیے ترغیب دینا، عام لوگوں میں شعور پیدا کرنا ہے۔قرارداد میں مزید کہا گیا اس دن کا مقصد بچیوں اور خواتین کو تشدد سے کیسے بچنا اور بچانا ہے، دنیا بھر میں خواتین کی خوشحالی، فلاح اور بہبود کے لئے اقوام عالم میں بہت کام ہو رہا ہے اور اس کی وجہ سے خواتین کی ثقافتی، سماجی اورسیاسی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔جمع کرائی گئی قرارداد کے مطابق دنیا 8 مارچ کی اہمیت کو تو سمجھتی ہے لیکن ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کے دکھ اور تکلیف کو سمجھنے سے قاصر ہے، ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2003 سے آج تک امریکی فوجیوں کے ناقابل بیان بیہمانہ ظلم ، بربریت اور تشدد برداشت کر رہی ہیں لیکن ان کی رہائی کے لئے کوئی بھی تدبیر کارگر نہیں ہو سکی۔قرارداد میں مطالبہ کیا 8 مارچ کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے صبرواستقلال اور عظمت کو سلام کرتے ہوئے انہی کے نام سے منسوب کیا جائے اور اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی تمام بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی جائے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی میں کردار ادا کرے۔دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی، قرارداد نون لیگ کی حنا پرویز بٹ نے پیش کی تھی ، جس میں دنیا بھر کی خواتین کو اپنے حقوق کیلئے جدوجہد پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ خواتین کو بااختیار بنائے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ خواتین کے حقوق اور ان کے جائز مقام کیلئے ہر ممکن کوشش کی جائے۔قرارداد کے ذریعے پنجاب اسمبلی کی خواتین ارکان پر مشتمل پارلیمانی گروپ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*