مغالطہ

مغالطہ

مغالطہ
رانا شہزاد
اللہ تعالیٰ نے اس خوبصورت دنیا میں بہت سے رشتے بنے۔جہاں ماں باپ ، میاں بیوی ، دادا دادی، نانا نانی،چچا چچی ،پھوپھہ پھوپھی، ماما مامی ، خالہ خالواور بہت سے دوسرے رشتے موجود اُس کے ساتھ ہی ایک پیارا سا رشتہ بہن بھائی کا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس رشتہ میں بہت ہی خاص محبت ، الفت اور رحمت رکھی ہے۔بہن بھائی کا پیار پورے معاشرے کے لیے ایک مثال ہوتی ہے ۔ مگر آج کے اس بے حس معاشرے میں یہ پیار نظر وں سے اُوجھل ہوتا جا رہا ہے۔اس سوشل میڈیا کی وجہ سے اس پیا ر ے سے رشتے میں شک کے بادل منڈلانے لگے ۔دونوں نے ایک دوسرے کو شکی نگاہوں ،شکی سوچ، شکی ذہینت سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔اُفسوس صد اُفسوس اس بات پہ کہ آج ہم اس جدید معاشر ے میں بھی پرانی سوچ و افکار کی عکاسی کر رہے ہیں۔
کالج میں پیپر شروع ہونے والے تھے تو بہن پیپر کی تیاری کے سلسلے میں کالج سے چھٹیاں کر رہی تھی رات بھر پڑ ھائی کرنے کی وجہ سے لیٹ سونا پڑتا اور دن کو آرام سے اُٹھانا ایک روٹین سی بن گئی تھی ۔ امتحان سر پر ہونے کی وجہ سے گھر کا کام کرنے کے لیے کوئی بھی نہ کہتا ۔مگر خیر والدہ کی طرف سے پوری چھٹی اور ہدایت تھی کہ خوب دل لگا کر پڑھائی کی جائے تاکہ میڈیکل میں داخلہ آسانی سے مل جائے۔ اس کے مقابلے میں بھائی جوکم محنتی ،لاپروہ ،کم عقل اور شکی ذہینیت کا مالک تھا ۔بھائی چھوٹا ہونے کی بنا پر والدین کی آنکھوں کا تاراتھا۔۔ اپنی ہر بات منوانے کا فن اُس کے پاس موجود رہتا۔ماں باپ کے لاڈ پیار نے اُس کو کافی بیگار رکھا تھا۔ہر ایک کو شک کی نگاہ سے دیکھتا تھاجیسے وہ خود بے عیب ہو۔
ایک دن کام کے سلسلے میں اچانک والدہ کو گھر سے باہر جانا پڑا تو ماں نے بہن کو نصیحت کی کہ بھائی کو کھانا وقت پر دے کرکوئی اور کام کرنا ۔بھائی جو اس وقت آرام فرما رہا تھا۔ تو بہن نے بھی موقع پاکر انٹرٹینمنٹ کے لیے ٹیلی ویژن دیکھنے کا آرادہ کیا ۔ کافی دنوں کے بعد پُرسکون ماحول ملا تو موبائل فون جو کافی دنوں سے آف تھا آن کرنے کا موقع ملا ۔ ۔ موبائل کے آن ہوتے ہی سکرین پر لا تعداد میسجز اور نو ٹیفیکیشن ملے جو دوستوں کے علاوہ مختلف مارکیٹنگ کمپنیوں کی طرف سے آئے تھے۔ تو بہن نے اپنے میسجز ، فون کالز اور سوشل نوٹیفیکیشن دیکھنے میں مصروف ہو ئی ۔لیکن جعلسازی کی وجہ سے سب کو نظر انداز کرنے میں اپنی عافیت جانی ۔اتنے میں ایک نامعلوم نمبر سے کال آنا شروع ہوئی ۔بہن نے پہلے تو رانگ نمبر سمجھ کر نظر انداز کر دیا ۔ فون تھا کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا آخر کار ، بہن نے فیصلہ کیا کہ فون کا جواب دیا جائے شاید اُمی جو اپنا موبائل گھر بھول گئی کسی کے نمبر سے کال کر رہی ہویا کوئی اُس کے دوست ہو یا کوئی رشتے دار ہوسکتا ہے جو بار بار فون کر رہا ہے۔ لیکن فون کے جواب کے بعد سب اندازے غلط ثابت ہوئے ۔ایک اجنبی کی آواز نے تو اُس کی جان ہی نکال دی تھی ۔ اُس نے پہلے اپنا تعارف ایک مشہور کمپنی میں سیلزمین کے طور پر کروایا ۔اور آہستہ آہستہ اُس نے کمپنی کی اشیاء کا تعارف کر وانا شروع کیا ۔اور ساتھ ہی بتایا کہ اس وقت کمپنی کی سیل چل رہی ہے ۔ آپ کو پچاس فیصد تک ڈسکاؤنٹ دیا جائے گا۔بہن جو خاموش تماشی کی طرح اُسکی باتیں سنتی جارہی تھی ۔اُسکو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس بِلا سے کیسے چھتکاراحاصل کیا جائے۔جب اجنبی کی بات ختم ہوئی تو اُس کو صاف انکار کر دیا وہ اُس کو یہ بھی بتا دیاکہ وہ کسی چیز میں دلچسپی نہیں رکھتی لہٰذا اپنا قیمتی وقت ضائع کئے بغیر کسی اور خرید اد کی تلاش کرے یہ کہا کر فون بند کر دیا بہن جو کافی سہم گئی تھی ایک بار پھر سے فون پر گھنٹی بجی ۔سکرین پر دیکھنے پر معلوم ہوا کہ یہ تو وہی سیلزمین کانمبر ہے جو اپنی اشیاء سیل کر رہا ہے ۔بہن نے فون رسیوکیا اور اس سے پہلے کہ یہ کہتی مجھے کچھ نہیں چاہیے ، آگے سے عجیب و غریب آواز یں سنے کو ملی۔ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے کوئی برسوں پرانے اپنے محبوب سے باتیں کرنے کو بے چین ہو۔بہن نے جلدی سے اپنے فون کو بند کر دیا۔
بھائی جو آرام کر رہا تھا اُٹھا اوربہن سے ناشتے مانگنے لگا۔بھائی کو بہن کافی سہمی لگی تو خیریت دریافت کرنے لگا اتنے میں فون پر بَل بجنے لگی تو بھائی نے فون کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا ۔بہن نے کال کاٹتے ہوئے بتایا کہ یہ میر ی دوست کا فون آرہا ہے ۔ میں ناشتہ بنا کر اس کا خود فون کر لو گی۔ بھائی اس جواب سے مطمن نہ ہوا ۔اتنے میں ایک بار پھر سے فون پر بل بجنے لگی تو بھائی کے شک کا دائرہ اور وسیع ہو گیا۔ اور اب بھائی اصرار کرنے لگا کہ فون کومیرے سامنے سنو ، اتنے میں فون بند ہو گیا بھائی جو بہت ہی شکی مزاج کا مالک تھا۔ اُس نے بہن کے ہاتھ سے فون چھینا اور دوبارہ اُس نمبر پر کال کر دی۔بہن نے بھائی کے ہاتھ سے فون چھنینے کی بہت لاحاصل کوشش کی مگر ایک بھی کام نہ آئی ۔اتنے میں کال ملی اور آگے سے ایک مردانہ آواز نے بہن کے جوا ب کی نفی ہو گئی ۔مردانہ آواز سنتے ہی بھائی کے ماتھے پر ایک دم پسینہ آگیا اور بہن پریشانی کے عالم میں ایک کونے میں کھڑی ۔ اُس کو سمجھ نہیں آرہی تھیکہ اب کیا کیا جائے۔بھائی کی اُس سے کافی لمبی چوری بات ہوتی رہی ۔ دونوں طرف سے گالیوں کا سلسلہ شروع ہوا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہاتھالیکن اچانک فون بند ہوا تو بھائی نے بہن کی طرف شکی نگاہوں سے دیکھنا شروع کر دیا اس سے پہلے کے بہن کچھ بولتی بھائی نے اُس سے غصہ میں سوال و جواب شروع کر دے ۔ بھائی کا غصہ جو آسمان سے بات کر رہا تھا بہن جو جسامت میں کافی کمزور تھی بھائی کے سوالوں کا جواب دینے سے پہلے ہی کافی ڈر سی گئی تھی اب بھائی نے غصہ میں اپنے ہاتھوں کا استعمال شروع کر دیا تھا بہن کی چیخ و پکار کابھائی پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا ۔ اور نہ ہی بھائی آرام سے بات سن رہا تھا۔بہن نے اپنی جان بچانے کے لیے اُٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی تو اُس کا پاؤ ں رپٹا۔ اور وہ شیشے کی پاس پڑی میز پر گری۔میز ٹوٹی اور ایک کانچ کا ٹکڑا اس کے جسم میں پیوست ہو گیا۔بہن کافی زخمی ہو گئی ۔ بھائی پریشان کھڑا چیخیں سن رہاتھا۔اس سے پہلے کہ بہن کا ہسپتال لے جایا جاتا۔بہن زخموں کا تاب نہ لاتے ہوئے د م توڑ گئی۔ محلے دار وں نے جب شورسنا تو گھر کی طرف لپکے تو اس عجیب منظر کی اطلاع سب سے پہلے مقامی پولیس کو دی ۔
اماں جب اپنا کام ختم کرکے گھر آئی تواُس کوپتہ چلا بیٹی سے جہاں فنی سے رخصت ہو چکی اور بیٹا حوالات میں بند پڑاتھا۔ دوران تفتیش جب فون کال کی بات سامنے آئی تو اُس نامعلوم کال کی تحقیق شروع ہوئی ۔تفتیش کے دوران یہ معلوم پڑا کہ نمبر غیر قانونی طور پر رجسٹر تھا اور نمبر سے کئی مختلف نمبر پر کال کی گئی تھی جس کی مختلف تھانوں میں معمولی نوعیت کی شکایت درج تھی مگر کوئی موثر ،ٹھوس اقدام نہیں ہوا تھا۔جب نامعلوم بندے تک رسائی حاصل ہوئی تو اُس نے بتایا کہ وہ کوئی سیلز مین نہیں ۔ اچانک نمبر ملایا تو میری قسمت کہ پہلی بار لڑکی سے مل گیا تو میں بھی اس پر چانس لینا اچھا سمجھ۔ ہمارے محلے کے اکثر لڑکے یہ کام کرتے ہیں تو میں نے بھی اپنی قسمت آزمانیں کا فیصلہ کیا ۔میں لڑکی کو نہیں جانتا تھابس فرضی کہانیاں سنا کر اُسکا دل جیتنے کی کوشش کر رہا تھا۔تاکہ اس سے میری اچھی انڈراسٹینڈنگ ہو جائے اور جو باہر ملاقات کا ایک ذریعہ بنے ۔
اگر ہم ٹھنڈے دماغ سے ایک دوسر ے کو سمجھ لیتے تو یہ ایسا واقعہ پیش نہ آتا۔اگر بہن نے اپنے بھائی کو اعتماد میں لیا ہوتا اور بھائی نے تھو ڑ ے شکی ذہین کو نظر انداز کیا ہوتا تو اس طرح کا سانحہ رُونما نہ ہوتا۔لیکن اکثر اوقات ہم اپنے شک اور خوف کو اتنا ہوا کا جھوکا دیتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اس طر ح کا واقعہ آپ کے ساتھ بھی پیش آ سکتا ہے ہو سکتا ہے کہ اُس میں کردا تھوڑے مختلف ہو جیسے میاں بیوی، مالک ملازم وغیرہ وغیرہ ۔ تو آپ کوچاہیے کہ دوسرے کی بات کو آرام سے سنے پھر کوئی فیصلہ کر ے یہ نہ ہو کہ آ پ بھی اس شک میں مبتلا ہو کر اپنا گھر بر باد کر بیٹھیں۔ اور ساری زندگی اس اذیت ناک واقعہ کو (کاش ایسا نہ ہوا ہوتا )یاد کر کے گزریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*