بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> وہ جنسی در ندہ کیوں بنا۔؟

وہ جنسی در ندہ کیوں بنا۔؟

وہ جنسی در ندہ کیوں بنا۔؟
تحریر:راؤ عمران سلیمان
معصوم بچیوں سے ہونے والی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے میں کس قدر گراؤٹ بڑھ چکی ہے،ان واقعات کے بعد جو خیال دل میں جنم لیتاہے وہ یہ ہے کہ جو لوگ اس قسم کے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں آخرایسے لوگوں کو سرعام پھانسی پر لٹکایا کیوں نہیں جاتا؟۔پہلے تو سوال یہ بنتا ہے کہ اس قسم کے واقعات ہوتے ہی کیوں ہیں اور پھر اس طرف آئینگے کہ ان واقعات کو کیسے روکا جاسکتاہے۔جب بچہ پیدا ہوتاہے تب تمام لوگ ہی اسے پیار کرتے ہیں گود میں لیتے ہیں اسے چومتے ہیں یہ وہ لمحہ ہوتاہے جب یہ بات کسی کو بھی معلوم نہیں ہوتی کہ یہ بچہ بڑاہوکر ڈاکٹر بنے گا،پائلٹ بنے گا یا پھرا اس ملک کا لیڈر بنے گا۔جبکہ یہ بھی کوئی نہیں جانتاہے کہ یہ ہی بچہ بڑاہوکر ایک ایک ایسا اسکینڈل کھڑاکریگا جسے لوگ جنسی درندگی کا نام دینگے یعنی ثابت ہوا کہ کوئی بھی جنسی درندہ ماں کے پیٹ سے ہی ایسا پیدا نہیں ہوتابلکہ اس میں اس کاماحول اس کی پرورش،یعنی معاشرہ اور اس کے ساتھ سرکار کا بھی اتنا ہی ہاتھ ہوتاہے۔اب سرکار کا کیسے ہاتھ ہوتاہے یہ میں اس تحریر کے آخر میں بیان کرونگا۔بہت چھوٹے بچے باہر گلی محلوں میں صرف ان ہی لوگوں کے ساتھ نکلتے ہیں جنھیں وہ جانتے ہیں اس میں کوئی عزیز یا محلے دار بھی ہوسکتاہے جسے بچے اپنے گھر میں بھی پاتے ہیں اور گھر کے دروازے پر بھی اور نفسیاتی طورپر بچے ایسے شخص کے ساتھ گھروں سے باہر نہیں جاتے جنھیں وہ جانتے نہیں ہیں مشکوک آدمی سے جسقدر معصوم بچے سہمتے ہیں کسی بڑے کو اس کا سامنانہیں ہوتا اگر کوئی انجان آدمی ایسا کریگا تو یقیناً وہ زبردستی ہی ایسا کریگا۔اس کے لیے یہ احتیاط بھی بہت ضروری ہے اس میں چاہے کوئی اپنا ہویا پھر محلے دار احتیاط ان واقعات کے بعد اب بہت ضروری عمل بن چکاہے بعض دفعہ تو ایسا بھی ہوتاہے کہ محلے میں کچھ مشکوک کردارکے حامل لوگوں کو اگر پولیس کے حوالے کربھی دیاجائے تو اس کے دوست اور رشتے دار اسے پولیس سے چھڑوالاتے ہیں جس سے اس مشکوک آدمی کا رعب اور دبدبہ مزید بڑھ جاتاہے اور ایک درندہ مکمل آزادہوتاہے اس میں بھی قصورمعاشرے پر جاتاہے،دوسرا معاشرے میں پھیلی بے راہ روی،موبائل فون میں موجود فحش مواد،انٹرنیٹ کے زریعے زہنی خرابیاں بھی اسی معاشرے سے ایک انسان میں منتقل ہوتی ہیں اور اس کے لیے ضروری نہیں کہ ایک آدمی جس کی شادی کی عمر نکل رہی ہوتو وہ اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے بھی ایسا کرتاہے بلکہ ایسے واقعات تو وہ درندہ صفت لوگ بھی کرگرزتے ہیں جو شادی شدہ ہوتے ہیں اور خود کئی کئی بیٹیوں کے باپ ہوتے ہیں میں ایسے کئی لوگوں کو جانتاہوں جن کی اپنی کئی جوان بیٹیاں ہیں مگر جب وہ کسی محفل میں جاتے ہیں تو ان کی نگاہوں میں جو درندگی ہوتی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہوتی چہرے پر رکھی داڈھی یا پھر بہترین پینٹ کوٹ اس شخص کو مہذب تو بنادیتے ہیں مگر اس کی زہنی درندگی کو نہیں مٹاسکتے ایسے لوگ اپنے گھروں میں اپنی بیگمات کو فون کرکے پوچھ رہے ہوتے ہیں کہ بیٹیوں پر نگاہ رکھو انہیں کہیں آنے جانے نہ دینا۔مگر کسی دوسرے کی بہن اور بیٹی اس شخص کی نگاہ سے ایک لمحے کے لیے بھی محفوظ نہیں ہوتی یعنی آپ دوسرے اینگل سے ایک انسان کی غیرت کا اندازہ لگاسکتے ہیں کہ جب وہ بازار میں اپنی بہن اور بیوی کے ساتھ جاتاہے تو اس کی نظریں اس جانب مرکوزرہتی ہے کہ کوئی میری بیوی یا بہن کو تو نہیں دیکھ رہامگر جب وہ اکیلا ہوتاہے تو یہ ہی سارے کام خود کرگزرتاہے۔ہم لفظ مکافات عمل کو بھول کرجب زندگی گزارتے ہیں تو معاشرہ اس درندگی کو خود بہ خود جنم دیدیتاہے،دوسراہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ معاشرے میں بہت سی ایسی خواتین بھی ہوتی ہیں جن کے لباس ایسے ہوتے ہیں جس کو پہنے کے لیے ہمارااسلام کسی بھی لحاظ سے اجازت نہیں دیتابازاروں میں سرعام کھلے گلے اور چست قسم کے لباس پہن کر اگر کسی مرد کو یہ کہا جائے کہ فلاں آدمی مجھے گھور رہاہے تو اس پرکیا تبصرہ کیاجاسکتاہے۔یعنی موجودہ دور میں ایک عا م آدمی کو فحاشی، ٹیکنالوجی اور دیگر بے راہ رویوں کے واقعات نے اس قدر الجھا دیاہے کہ اس قسم کے حادثات اب معمول بنتے جارہے کہ کہیں کسی معصوم فرشتہ کو جنسی درندگی کا نشانہ بنادیاجاتاہے تو کہیں قصور کی زینب کی عزت کو لوٹ لیا جاتاہے،ہر باپ اور ہر ماں یہ ہی چاہتی ہے کہ اس کے بچے اس قسم کے دردناک واقعات سے محفوظ رہیں بعض اوقات بہت سے ماں باپ بھرپور تحفظ اور مشکوک افراد پر نظریں رکھنے کے باوجود بھی اس قسم کے حادثات کا شکارہوجاتے ہیں کیونکہ ایسے لوگ جب باہر کی دنیا میں مشکوک لوگوں پر نظریں رکھتے ہیں تو اکثر یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ان کے اپنے ہی گھر میں ایسے جنسی درندے موجود ہیں جن پر اندھا بھروسہ ان کو لے ڈوبتاہے،ان میں سے کراچی میں ایک دل ہلادینے والا واقعہ جس میں ایک سگے باپ نے اپنی ہی معذور بچیوں کو ہوس کا نشانہ بنادیا تھا اب کوئی بتائے کہ کسی دوسرے پر کیا نگاہ رکھی جاسکتی۔یعنی اس نفسانی در ندگی کو انسانی رگوں سے نکالے بغیر کسی بھی لحاظ سے کمی نہیں لائی جاسکتی اس میں پولیس بھی کیا کسی کی مددکریگی،پنجاب کے ایک نواحی علاقے میں ایک ماں اور بہن جب اپنے بیٹے کو کسی جھگڑے کے کیس میں تھانے سے چھڑوانے کے لیے آئی تو موقع پر موجود ایک ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکار ان خواتین کو ڈراتے رہے کہ تمھارا بچہ جیل چلاجائے گا اس پر مقدمہ چلے گا اوراسے لمبی سزاہوگی اس پر جب لڑکے کی ماں اور بہن پولیس کے ترلے منتیں کرتی ہیں تو قانون اورلوگوں کی عزت کے رکھوالوں کی نیت خراب ہوجاتی ہے جس پر وہ اپنی شرط کو اپنی جنسی درندگی سے مشروط کردیتے ہیں یعنی اگر ماں اور بیٹی ایک رات پولیس والوں کے مہمان بن جائیں تو اس لڑکے کو تھانے سے جانے کی اجازت مل سکتی ہے۔اب یہ تو ہوئی پولیس اور تھانے والوں کی ذمہ داریاں بتانے والی بات یہ ہے کہ یہ عمل بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے یعنی اگر محلہ کمیٹیوں میں پولیس کے لوگوں کو بھی ڈال دیاجائے تو لوگوں کی عزتیں جہاں محلوں میں محفوظ نہیں وہاں پولیس کا واقعہ بھی اوپر بیان کیا جاچکاہے۔ اس قسم کے واقعات سے بچ کر جائیں توآخر کہاں جائیں،؟۔مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اچھے پولیس اہلکار موجود نہیں اور معاشرے میں سبھی لوگ درندے ہیں سوال تو بس یہ ہے کہ ان کی پہچان کرنا مشکل ہوچکاہے، ضروری ہے کہ اپنے اردگر خود بھی مشکو ک لوگوں پر نظر رکھی جائی بچوں کا خیال رکھاجائے جدید ٹیکنالوجی کی مدد لی جائے اس میں کیمروں کا استعمال شامل ہے، اس سے بہت حد تک ان واقعات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔دوسری جا نب کچھ لوگ زہنی پریشانیوں کی وجہ سے بھی اس قسم کے واقعات کوکرگزرتے ہیں، جن میں نفسانی خواہشات کا بڑھنا، علیحدگی میں رہنا،بے روزگاری کا ہونا اور کسی بھی قسم کی کوئی مصروفیت کا زندگی میں نہ ہونا،یعنی اگر کسی انسان کے پاس کوئی مصروفیت ہے تو وہ اس قسم کے کاموں کی جانب نہیں آئیگا اس کی زندگی ناامیدی کا شکا رنہیں ہوگی وہ جب مصروف ہوگا تو فسٹریشن سے دور ہوگا،یہاں پر آکر ریاست قصور واربن جاتی ہے جس کا زکر اوپر کیا گیا کہ اس میں حکومت کا بھی اتنا ہی کردارہے یعنی جب سرکار اپنی عوام کو صحت دے گی،اچھی تعلیم دیگی بے روزگاروں کو روزگار ملے گا پڑھے لکھے لوگوں کو نوکریاں ملیں گی تو ایسے لوگوں میں بہتر مستقبل کا ایک پلان ہوگاان کے زہنوں سے مایوسی اورناامیدی ختم ہوجائے گی یہ ہی نہیں وہ انسان جنسی درندگی سے دور رہے گا ایک بے روزگار اور مایوسیوں کا شکار نوجوان دہشت گردوں کے ہاتھوں بھی اسی سوچ سے کھلواڑ بن جاتاہے جو ہر وقت سوچتاہے کہ کیا کروں؟ گھر میں جوان بہنیں ہیں جن کی شادی کرنی ہے،ماں کی دوائیں ہیں چھوٹے بہن بھائیوں کی اسکولوں کی فیسیں ہیں۔چوری کروں جیب کاٹوں، ڈاکہ ڈالوں،یا پھر کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالوں؟ یہ وہ پوائنٹس ہے جس کو پوراکرنا کسی بھی معاشرے کی نہیں بلکہ ایک ریاست کی ذمہ داری ہے۔آپ کی فیڈ بیک کا انتظارہے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*