بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> آخری یو ٹرن؟؟

آخری یو ٹرن؟؟

آخری یو ٹرن؟؟
راشد علی راشد اعوان
عمران خان کی بائیس سالہ جدوجہد کا جس طرح ڈنکا بجتا رہا ہے اور اب اسی ڈنکے کے وار ملک و قوم کو سہنا پڑ رہے ہیں،کل تک آئی ایم ایف کو برا بھلا کہہ کر ملک و قوم کیلئے سوہان روح قرار دیا جاتا رہا ہے اور آج ایک بار پھر عمران خان اپنی ہی کہی ہوئی باتوں سے منہ موڑ کر اپنا رُخ آئی ایم ایف کی جانب کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں،کیا عمران خان کا قتدار میں آنے سے قبل جو مؤقف تھا وہ درست تھا یا اب جو کچھ کیا ہے یا کر رہے ہیں وہ درست اقدام ہیں؟؟ان سوالوں کو میں اپنے کالم کے آخری حصوں تک چھوڑتا ہوں تاہم جس بھکاری پن کا مظاہرہ موجودہ حکومت نے محض6ارب ڈالر کے39اقساط میں وصولی کا معاہدہ طے کر کے کیا ہے اس معاہدے کے نقصانات کو ماہرین کی رائے کے ساتھ سامنے رکھوں گا،ماہرین اقتصادیات کے مطابق آئی ایم ایف کی کڑی شرائط نہ صرف پاکستان میں مزید غربت اور بے روزگاری کا باعث بنیں گی بلکہ مہنگائی کا ایک نیا طوفان عوام کو آن گھیرے گا،ان شرائط میں ٹیکس کی شرح بڑھانے اور دیگر معاشی بحران پاکستان میں پیدا کیے جانے کے اقدامات شامل ہیں،موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے حالیہ پروگرام کے تحت پاکستان اگلے تین سال کیلئے 6 ارب ڈالرر کا قرض حاصل کر سکیگی،آئی ایم ایف کا قرض پروگرام جن شرائط کیساتھ آئے گا اسکی وجہ سے اقتصادی اصلاحات بہت تکلیف دہ ہوں گی، اور یہ اصلاحات ملک کے کاروباری افراد اور عام شہریوں کو متاثر کریں گی اور یہ قرض صرف ملکی معیشت پر تباہی کو ختم نہیں کرے گا بلکہ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے پڑے گے جس کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ اور حکومت کیلئے کنٹرول کرنا مشکل ہو گا،طے کیے جانے والے معاہدوں کے مطابق آئی ایم ایف سے ملنے والے اہداف کے تحت حکومت کو اپنی آمدنی میں اضافہ اور اخراجات میں کمی کرنا ہوگی،حکومت، آمدنی میں اضافے کیلئیممکنہ طور پر آنے والے نئے بجٹ میں مزید نئے ٹیکسز لگائے گی یا اس میں اضافہ کرے گی، اسکے ساتھ حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے ہوں گے، جس میں ترقیاتی کاموں میں ہونے والے اخراجات، اسکولوں، اسپتالوں، سڑکوں اور پارکس پر خرچ ہونے والا پیسہ شامل ہے،علاوہ ازیں گیس اور بجلی پر دی جانے والی سبسڈی ختم کرنا ہوگی، یہاں تک کہ پیٹرول پر ٹیکس بڑھایا جائے گا،ماہرین اقتصادیات کے مطابق معاہدے کی ایک کڑی شرط یہ بھی شامل ہے حکومت غیرملکی کرنسی مارکیٹ میں مداخلت اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت طے نہیں کر سکے گی۔آئی ایم ایف کے سامنے جھولی پھیلانے سے قبل جب عمران خان اینڈ ٹیم کنٹینر پر ملک و قوم کے غم میں موسمی اثرات برداشت کر رہی تھی تو اس وقت خان صاحب کے خیالات و نظریات ہی اور تھے وہ آئی ایم ایف و ملک و قوم کا دشمن قرار دے رہے تھے اور آیہ ایم ایف کے پاس جانے والے حکمرانوں کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی کٹھ پتلیاں تک قرار دے چکے تھے،جماعت اسلامی کے امیر اور عمران خان کی خیبر پختونخواہ حکومت کے سابقہ اتحادی سراج الحق آئی ایم ایف کے قرضہ کے حوالہ سے ان خدشات کا بھی اظہار کر چکے ہیں کہ کہ ایسا وقت بھی آسکتا ہے کہ آئی ایم ایف ورلڈ بنک اور دوسرے مالیاتی ادارے اور ان کے سرپرست پاکستان سے یہ بھی کر سکتے ہیں کہ چونکہ قرض واپس دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو وہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ ایٹمی اثاثے بھی ان کے حوالے کیے جائیں،سراج الحق صاحب کے خیالات و ان کا تجزیہ اپنی جگہ اگر عمران خان نیازی حکومت ملنے سے قبل ملکی حالات جانتے تھے تو انہیں اتنے بڑے دعوؤں کی ضرورت ہی نہ تھی جو آج ان کی حکموت کیلئے جگ ہنسائی کا باعث بنے ہوئے ہیں،اگر خان صاحب کسی غیر کے سامنے دامن پھیلا کر بھیک مانگنا ہی چاہتے تھے پہلے ایک یہ کوشش بھی کر لیتے کہ ان کا یا سابقہ حکومتوں کا قرض اگر اسی22کروڑ عوام نے اتارنا ہے تو خان صاحب اسی قوم کے سامنے دست سوال کرتے،مجھے یقین ہے کہ اگر خان ساحب قوم سے رجوع کرتے تو انہیں قوم سے ملنے والی امداد آئی ایم ایف کے ان39اقساط کے قرضوں سے کہیں زیادہ ہوتی،اگر خان صاحب چاہتے تو متبادل زرعی پیداوار میں خام ٹیکس وصول بڑھانے غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے سے بھی حدف حاصل ہو سکتا تھا،لیکن سخت تعجب کی بات ہے کہ گزشتہ سال27ستمبر کو آئی ایم ایف کی ایک ٹیم اسلام آباد آئی تھی اور وزیر خزانہ اسد عمر اور ان کے مشیروں سے آٹھ روزہ بات چیت کے بعد 4 اکتوبر کو اس ٹیم کے قائد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان، معیشت کے فروغ میں تنزل، مالی خسارے میں بے حد اضافے اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر، کی نہایت کم سطح کی وجہ سے سنگین اقتصادی چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے، ان مذاکرات میں ہیرلڈ فنگر نے لگی لپٹی رکھے بغیر صاف صاف کہا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو غیر ملکی زرمبادلہ کی کمی پوری کرنے اور مالی خسارے کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے روپے کی شرح قیمت میں نمایاں کمی کرنی پڑے گی اور تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ، امریکا کی مالیاتی پالیسی میں تبدیلی اور ترقی پزیر ملکوں کی منڈیوں کو درپیش مالی بحران کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کے فروغ میں سست رفتاری اور افراط زر کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑے گا اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کو بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ کرنا پڑے گا،ان کڑی شرائط کو خان صاحب نے کیسے تسلیم کر لیا؟؟یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ جب آئی ایم ایف کی مذاکراتی ٹیم واپس روانہ ہوئی تو اگلے ہی روز روپے کی قیمت میں تیزی سے کمی واقع ہوئی اور ڈالر کی قیمت 135 روپے تک پہنچ گئی اور یہ شاید وہی امکانات تھے جنہیں رد نہیں کیا جا سکتا تھا کہ قرضہ ملنے سے پہلے ہی موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کی ٹھان لی تھی،ابھی تو صرف، پاکستانی روپے کی شرح قیمت میں تخفیف، بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ اور نج کاری تیز تر کرنے کی شرائط سامنے آئی ہیں تاہم پس پردہ آئی ایم ایف کی طرف سے اس سے کہیں زیادہ کڑی شرائط پیش کی جارہی ہیں، ان میں ٹیکسوں میں تیزی سے اضافہ اور درآمدی اشیاء پر محصول کی شرح میں اضافے کی شرائط ہیں اور سب سے بڑھکر ان شرائط میں ایک اہم شرط سی پیک کے منصوبے پر نظر ثانی کی ہے اور پاکستان کو خبردار کیا جارہا ہے کہ وہ چین سے قرضہ لینے اور چین کی سرمایہ کاری کے سلسلے میں احتیاط سے کام لے،ادھر حالات یہ ہیں کہ جس جماعت کا قائد آئی ایف کو ملکی ترقی و ملکی معیشت پر کاری ضرب قرار دے چکا تھا اقتدار ملنے کے بعد اب وہ آئی ایم ایف کے اتنے گن گا رہے ہیں اور یہ بھول رہے ہیں کہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے مقاصد دراصل کچھ اور ہیں کہا جاتا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا اور مغربی ممالک کے مالی مفادات کے تحفظ کے لیے اس وقت قائم کیے جانے والے یہی ادارے تھے جب عالمی بحران کی وجہ سے کرنسی کی شرح قیمت میں اتھل پتھل نے مغربی ممالک کی کرنسی کو خطرے میں ڈال دیا تھا اور ترقی پزیر ملکوں کو دیے گئے بین الاقوامی قرضوں کی ادائیگی خطرے میں پڑ گئی تھی، اس مقصد کے لیے پہلے عالمی بینک نے بغیر سود کے قرضے مالی امداد کی صورت میں جاری کیے اور جب ترقی پزیر ملکوں کی معیشت بہتر ہوئی تو سود کا بوجھ ان پر لاد دیا گیااور یہ ان ہی کڑیوں کا تسلسل ہے،موجودہ حکومت جس نے ایک خاص نکتہ پر عوام کی توجہ حاصل کر کے اقتدار حاصل کیا تھا آج یہی حکمران بڑھ چڑھ کر اپنے عوام اور ساری دنیا کے سامنے بغلیں بجاتے ہیں کہ آئی ایم ایف نے ہمیں قرضہ دینا منظور کیا ہے، میرے نزدیک موجودہ حکومت کی جانب سے اپنی ملکی معیشت کو سنبھالنے میں ناکامی کا اعتراف ہے کیونکہ حکومتی کمزور اقدامات کی بدولت مارچ کے آخر تک مہنگائی کی شرح پانچ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی تھی اور ماہرین اقتصادیات کے مطابق 30 جون تک مہنگائی کی شرح 9 فیصد سے بڑھ سکتی ہے اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت یہ توقع کی جا رہی ہے کہ مہنگائی میں اضافہ ہوگا جس کے باعث روزمرہ اخراجات میں اضافے کے ساتھ کاروبار کرنا بھی مشکل ہوجائے گا اور ملک میں بیروزگاری مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو جائیں گئے،حکومت کا ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسہ بھی محض خام خیالی رہ جائیگا اور سرکاری ہزاروں ملازمین کو نوکریوں سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔کالم کے شروع میں،میں نے دو سوال چھوڑے تھے اور ان کے جواب یہی ہیں کہ موجودہ حکومت نے ایک کروڑ نوکریاں،آئی ایم سے نجات،ایمنسٹی سکیم وغیرہ لعنت ملامت صرف اقتدار کے حصول کیلئے ایک گیم کے طور پر پیش کیے اور بھولی بھالی قوم ایک بار پھر ڈس گئی،اس لیے اب کڑی شرائط اور ملک و قوم کو گروی رکھوا کر حاصل کیے جانے والے قرضوں سے نہ قومیں بنتی ہیں اور نہ ملک اور اس کے ادارے ترقی کرتے ہیں جب ہونا ہی سب کچھ بیرونی ہاتھوں سے ہے تو پھر کٹھ پتلیوں کی کیا حیثیت ہے؟؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*