بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> ہم مسلمان ہیں دہشتگرد نہیں
دہشتگرد

ہم مسلمان ہیں دہشتگرد نہیں

ہم مسلمان ہیں دہشتگرد نہیں
سعدیہ عارف
خونی اندھیاروں کی ہر نور نگلتی جاتی ہے
انساں کی یہ فردوسِ زمیں دوزخ میں ڈھلتی جاتی ہے
انساں پہ فرشتے روتے ہیں شیطاں کی چلتی جاتی ہے
بس شیطاں کی ہی چلتی جاتی ہے بس چلتی جاتی ہے
اِدھر بم دھمکا اُدھر دھمکا، گولیوں سے فائرنگ یا پھر جسمانی تشدد اور قتلِ عام کوئی پوچھنے والا نہیں کے اتنے انسان مارے گئے وجہ کیا تھی؟ کیوں ہوا اتنی قیمتی جانوں کا ضیاع؟ نہیں جی کسی کو کیا ضرورت ہے اتنی زحمت کرنے کی جو بیگانی آگ میں چھلانگ لگائے. اور کمال بات یہ کہ بم پھٹے تب بھی مسلمان مرتے ہیں اور قتلِ عام بھی مسلمانوں کا کیا جاتا ہے بوجہ یہ کہ بس وہ مسلمان ہی تو ہیں۔ مرتے بھی مسلمان ہیں اور دہشتگرد بھی مسلمان ہی ہیں یہ کیسے دہشتگرد ہیں جن کا تعلق ایک ایسے مذہب سے جس کا مقصد دنیا میں امن و محبت پھیلانا ہے وہ مذہب جو رنگ ونسل میں کوئی فرق نہیں رکھتا بس انسانیت کا درس دیتا ہے جس مذہب میں ربّ العزت خود فرماتا ہے کہ میں اپنے حقوق معاف کر دوں گا مگر اپنے بندے کا حق نہیں یہ وہ مذہب ہے جس کا نبیؐ کہتے ہیں کہ میری رہنمائی بس میری امت کے لوگوں کیلئے نہیں بلکہ مجھے تمام دنیا کیلئے رحمت العالمینؐ یعنی تمام دنیا کیلئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے اور یہ دنیا کے غیر مسلم ممالک صرف مسلمانوں کو ہی دہشتگرد کیوں قرار دے کر چھوٹے مسلم ممالک کو یلغمار بناتے ہیں کیا ہر طرف مسلمان ہی خود کو دہشتگردی کا نشانہ بنا کر خود تعداد میں کم ہو رہے ہیں؟؟؟ جی نہیں میں یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ دنیا کے ہر خطے میں ہر دہشتگردی مسلمان کرتے ہیں اور مسلمان دہشت گرد ہیں جیسے پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اُسہی طرح ہر دہشت گردی میں مسلمان بھی ملوث نہیں ہوتے جسکا واضح ثبوت حالیہ میں ہونے والے نیوزی لینڈ کی مساجد میں وہ پچاس نمازی ہیں جن کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ نمازِ جمعہ کے دوران اپنے ربّ کے سربسجود تھے انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ انکا آخری سجدہ ہوگا اور وہ کسی کافر کی انتہا پسندی کا نشانہ بن جائیں گے۔ اب غیرملکی میڈیا اس واقع کو محض ایک باولے سر پِھرے شدت پسند کی غیر اخلاقی سرگرمی قرار دے رہا ہے اسکے علاوہ کچھ بھی نہیں تو ذرا غیر ملکی میڈیا کو آئینہ دکھانا نہایت ضروری ہے کہ یہ تو چلیں مساجد میں بقول آپ کے ایک باولے کی حرکت ہے تو ہمیں یہ بتایا جائے کہ عراق میں، افغانستان میں، فلسطین میں، شام لبیا میں، برما میں اور کشمیر کے مسلمانوں سالوں سے کون باولا مظالم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے آپ کی دو بلڈنگز میں دہشتگردی سے نقصان ہو تو آپ دو ملک تباہ کر دیتیہیں تو پھر بڑا دہشت گرد کون ہوا؟ آپ سامنے سے امن کی رٹ آلاپتے ہیں اور پیچھے سے وار کرتے ہیں ثبوت وہ بندوق جس پر تمام ان لیڈران کے نام تحریر تھے جو مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کے جذبات رکھتے تھے کس قدر باولا تھا وہ شخص جسے اتنا علم تھا کہ جمعہ کی نماز ہو رہی ہے مسلمان مساجد میں کثیر تعداد میں جمع ہونگے اور دونوں اٹیک سر پِھرے نے مساجد میں ہی کئے ساتھ میں کوئی چرچ یا مندر نہیں نظر آیا اور باولے کو ایکشن لائیو کرکے دکھانے کا بھی کس قدر ہنر تھا جو سر پر کیمرہ لگا کر سوشل میڈیا پرلائیو اپنی گھٹیا حرکت دنیا کو دکھا رہا تھا حیران کن بات یہ کہ یہ باولا بیس منٹ تک لگاتار گولیوں کی برسات کر رہا تھا پہلے ایک مسجد پھر دوسری مسجد میں تو سوچنے کی بات یہ ہے دونوں مساجد کے درمیان میں ایک پولیس سینٹر بھی موجود ہے اگر میں غلط نہیں تو پولیس سینٹر تک فائرنگ کی آواز ہی نہ پہنچ سکی یا پھر پولیس کی نوکری کا معیار سب کا ایک سا ہے جو گدھے گوڑے بیچ کے سو پڑی رہی؟؟؟ یا تو یہ کہا جائے کے غیر ملکی سکیورٹی مسلمانوں کیلئے نہیں ہے کیونکہ انکے نظر میں مسلمان تو انسان ہیں ہی نہیں بس دہشت گرد ہیں جن کا نہ تو کوئی رشتہ دار ہے اور نہ ہی وہ کسی سے کوئی تعلق رکھتے ہیں۔ اگر میں غلط نہیں تو دنیا میں امن و سکون قائم کرنے کیلئے جس قدر قربانیاں مسلمانوں نے دی ہیں کسی اور مذہب کے پیروکاروں نے نہیں دئیں۔ تاریخ پہ نظر دُھڑائی جائے تو کبھی کسی نے سُنا کہ کوئی طاقتور مسلم ملک کسی غیر مسلم ملک پر قابض ہو اور ایسے مظالم ڈھا جا رہے ہوں جو کہ ہندؤ کشمیر کے مسلمانوں پر کرتے ہیں، شام اور فلسطین پر ہوتے ہیں کیا کبھی سُنا کہ مسلمانوں نے غیر مسلموں کی دہشت گردی کو وجہ بنا کر پورے کا پورا ملک تباہ و برباد کیا ہو یا پھر کبھی ایسا ہوا ہو کے زمین پر ہنستا بستا خاندان رہتا ہو اور اوپر سے مسلمانوں نے ڈرون پھینک کر معصوم بچوں کو لاوارث کیا ہو؟؟؟ خیر انکاشافات تو بہت سے ہیں مگر پھر بھی ہزاروں جانیں دینے کیبعد اب بھی امن چاہتے ہیں۔ ہم آج بھی یہی کہتے ہیں کہ انسانیت کے دُشمن کو عبرت ناک سزا ملنی چاہیے تو خواہ وہ مسلمان ہو یا پھر غیر مسلم……. پوری دنیا کو چاہیے کہ اس زمین کو بارودی دجال سے بچایا جائے وگرنہ یہ جنت اسی دہشت گردی کی دوزخ میں جلتی رہے گی. نہ تو پھر کوئی مسلم رہے گا اور نہ ہی کوئی غیر مسلم بس رہے گی تو دہشت گردی رہے گی۔ جس کا نہ تو کوئی دین ہوتا نہ ہی کوئی مذہب…..

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*