بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> سندھ میں امتحانی نظام گڈ گورنس کا شاہکار
امتحانی نظام

سندھ میں امتحانی نظام گڈ گورنس کا شاہکار

سندھ میں امتحانی نظام گڈ گورنس کا شاہکار
صابر مغل
دنیا بھر میں کسی بھی ڈگری کے حصول کے لئے امتحانی نظام قائم ہے جس میں شفافیت اولین ترجیح ہوتی ہے جسے زمانہ کی جدیدیت کے ساتھ ساتھ ہی مزید مربوط اور ہر قسم کی بدعنوانی سے پاک کیا جا رہاہے پاکستان میں مجموعی طور پر امتحانی نظام دیگر ترقی پذیر ممالک کی نسبت مناسب ہے مگر صوبہ سندھ پاکستان کا واحد صوبہ ہے جہاں قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہر سطح کے امتحان میں شرمناک صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے اور اس میں کسی بھی بہتری کی بجائے صورتحال مزید بد سے بد تر ہوتی جا چکی ہے، سندھ میں پہلے میٹرک اور اب ایف اے (ہائر سینکڈری) کے امتحانات جاری ہیں ،میٹرک کا امتحان شروع ہوا تو پہلے ہی روز کئی دہائیوں سے جاری امتحانی نظام میں کچھ فرق یا تبدیلی نظر نہ آئی ،نویں اور دسویں کے امتحان مکمل ہو گئے،اب ایف اے اور ایف ایس سی کے امتحانات میں بھی روزانہ کی بنیاد پر ایسا کچھ سامنے آ رہا ہے جیسے یہ امتحان نہیں بلکہ کوئی گھٹیا ترین مذاق ہے،الیکٹرانک،سوشل اور پرنٹ میڈیا پر سب کچھ واضح نظر آ رہا ہے کہ نہ صرف طلباء و طالبات دھڑلے سے سر عام نہ صرف سامنے کتابیں یا موبائل فونز رکھ کر امتحانی پرچہ حل کرنے میں مصروف بلکہ کوئی بھی پرچہ شروع ہونے سے قبل ہی اصل سوالات بمعہ حل سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتے ہیں امتحانی مراکز کے آس پاس فوٹوسٹیٹ دکانوں پردھڑا دھڑ حل شدہ سوالات کی کاپیاں کرانے کا عمل جاری ہو جاتا ہے،مجموعی طور پر تعلیمی تنزلی کا شکار تو ہم ہیں ہی مگراس دور جدید میں بھی سندھ میں ایسا امتحانی سسٹم شرم سے ڈوب مرنے کے مترادف ہے مگر شرم کسی کو ہو تی تو شاید یہ نظام کب کا بدل چکا ہوتا ،جیسے مرسوں مرسوں امتحانی نظام نہ بدل سوں،آج ایک مزید شرمناک منظر دیکھنے کو ملا کہ نقل نہ ہونے پر امتحانی مرکز کے سامنے امیدواران احتجاجی مظاہرہ کرتے نظر آئے، صوبائی وزیر تعلیم سردار شاہ انتہائی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ میں پہلا وزیر تعلیم ہوں جو نقل کی روک تھام کے لئے امتحانی مراکز کا دورہ کر رہا ہوں حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے بھی نقل کا تسلسل جاری رہتا ہے،ایک رپورٹ کے مطابق سندھ میں تعینات صرف9فیصد اساتذہ انگریزی تعلیم دینے کے ماہر ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ صوبہ بھر میں اساتذہ کی بھرتی ناکام ترین گورنس کی اصل کہانی ہے جہاں شعبہ تعلیم جیسے اہم معاملے میں بھی محض سیاسی چٹوں پر ٹیچرز بھرتی ہوتے رہے ہوں وہاں کسی بہتری کی توقع دیوانے کے خواب سے کم نہیں،یہ بات تو ملک بھر میں مشہور ہے جو کسی اور صوبے میں ڈگری حاصل نہیں کر سکتا وہ سندھ جا کر ڈگری لے آئے وہاں تو دکانداریاں کھلی ہیں جو سر عام ہر ڈگری کے لئے ریٹس طے کرتے ہیں ،اس حوالے سے سندھ بھر میں منظم اور مربوط گروہ سر گر عمل ہیں،کبھی بورڈز میں افسران اور اہلکاران ذمہ دار کبھی امتحانی ڈیوٹی دینے والے اساتذہ ذمہ دار عجب تماشہ ہے،اگر اس سارے معاملے کو باریک بینی سے دیکھا جائےء تو اس بھونڈے امتحانی سسٹم میں صوبائی حکومت پوری طرح ملوث نظر آتی ہے ورنہ حکومتی مشینری اور ریاستی اداروں سے بڑھ کر کون اتنا طاقتور ہے جس نے سب کو لگام ڈال رکھی ہے؟،شعبہ تعلیم کی دھجیاں بکھیر رہا ہے ؟جو بورڈز آف سیکنڈری ایجوکیشن و انٹرمیڈیٹ کے افسران و اہلکاران کو خرید لیتے ہیں؟ جو ہر امتحانی مرکز میں تعینات سٹاف اپنی مرضی کے مطابق لگاتے اور ان سے کام لیتے ہیں؟ جلسوں میں،ٹی وی ٹاک شوز میں سندھ حکومت سے تعلق رکھنے والے یا وہاں برسر اقتدار سیاسی پارٹی کے رشتہ دار مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں ،ہمارا الیکٹرانک میڈیا امتحانی مراکز میں جاری بدبو صورتحال تو دکھاتے ہیں مگر کسی نے اس حساس ترین معاملے پر ایک بھی پروگرام نہیں کیا البتہ ایک اور چینل کے پروگرام میں ممتاز صحافی حامد میر نے اس پر انتہائی تشویش کا اظہار ضرور کیا،،18ویں ترمیم کے بعد تعلیم کا سارا نظام بھی صوبوں کے پاس چلا گیا ہے مگر اس معاملے پر جہاں نئی نسل تباہ و برباد ہو چکی ہے اور ہو رہی ہے پر نہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نہ ان کے پارٹی ہیڈ بلاول بھٹو زرداری لب کشائی کرتے ہیں اس کی روک تھام تر بہت دور کی بات ہے،ہر امتحانی پرچہ آؤٹ ہو رہا ہے مگر تاحال کسی ایک بورڈ کے کنٹرولر کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکا نہ کسی امتحانی مرکز کے سٹاف کو تبدیل کیا گیا ہے ،حکومت کی پر اسرار خاموشی بہت معنی خیز ہے، حامد میر کے مطابق انہوں نے صوبائی وزیر تعلیم سندھ سے بات کی کہ یہ کیا ہو رہا ہے تو انہوں نے فرمایا شکر کریں جی پہلے تو پرچہ دو ہفتے قبل آؤٹ ہو جاتا تھا اب تو یہ سلسلہ محدود ترین ہو چکا ہے قربان جائیں ایسی سوچ پر جس صوبہ میں ایسے وزیر تعلیم جھنڈے والی گاڑی پر پروٹوکول کے ساتھ نظر آئیں وہاں کا اللہ ہی حافظ ہے،یہ بات بھی سننے کو ملی ہے کہ سندھ حکومت اور وہاں کے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مرضی و منشا کے تحت یہ سب کچھ ہو رہا ہے تا کہ قومی سطح پر ان کی تعلیمی ترقی کا گراف بلند رہے ،ایسے تعلیمی نظام سے گذر کر جو نوجوان قومی دھارے کا حصہ بنتے ہوں گے ان کی قابلیت کامعیار کیا ہو گا ؟18ویں ترمیم پر شور مچانے والے ،دما دم مست کی دھاپ پر ناچنے والوں کی نظریں ،نگاہیں اس قدر اندھی اور بینائی سے محروم ہیں کہ نئی نسل کو تباہ و برباد کرنے جیسے عمل کو بھی روک نہیں پا رہے؟تعلیمی شعبے اس قدر اندھیر نگری پر صوبائی حکومت کی معنی خیز خاموشی ،اسے اپنے حال پر چھوڑ دینا ،ذمہ داران کے خلاف کاروائی نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہی نہیں پوری دال ہی کالی ہے،پنجاب،خیبر پختونخواہ،بلوچستان،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں کہیں بھی ایسا نہی ہوتا جو کچھ تعلیم کے ساتھ کھلواڑ سندھ میں جاری ہے،تشویش ناک بات تو یہ بھی ہے کہ اگر میٹرک اور ایف کے ماتحانات میں یہ پوزیشن ہے تو ڈگری پروگرامز ،NTS،پبلک سروس کمیشن اور سی ایس ایس امتحانات میں کیا گل کھلائے جاتے ہوں گے اور سی ایس ایس میں کن حثتیوں کے صاحبزدگان اعلیٰ عہدوں پر پہنچتے ہیں یہ مزید لمحہ فکریہ ہے،

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*