بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> ٹیکس کا بگڑا ہوا نظام اور ایمنسٹی سکیم کے اہداف کے حصول میں مشکلات

ٹیکس کا بگڑا ہوا نظام اور ایمنسٹی سکیم کے اہداف کے حصول میں مشکلات

ٹیکس کا بگڑا ہوا نظام اور ایمنسٹی سکیم کے اہداف کے حصول میں مشکلات
صاحبزاہ میاں محمد اشرف عاصمی
راقم کا تعلق قانون کے شعبہ سے ہے اِس کے ساتھ ساتھ راقم نے انکم ٹیکس لاء اور بزنس لاء پڑھایا بھی ہے۔راقم یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کی وصولی میں سب سے بڑی رکاوٹ اشرافیہ ہے۔ اشرافیہ نے جائیدادوں کے انبار لگا رکھے ہیں۔ سابق فوجی جرنیل سابق جج، سابق بیوروکریٹ، سرمایہ دار، سیاستدان، تاجر، کرپٹ صحافی اِس ملک کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ یوں جب عام طبقہ دیکھتا ہے کہ اشرافیہ کے لیے سب کچھ جائز ہے اور اشرافیہ ملک کے سارئے وسائل کوکھار رہی ہے۔ عام آدمی کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ عام آدمی کے لیے صحت، تعلیم نام کی کوئی شے پاکستان میں سرکار کی جانب سے مہیا نہیں کیجارہی تو اِن حالات میں پھر عام طبقہ بھی اشرفیہ کی طرح ٹیکس چوری کو اپنا حق سمجھتا ہے۔اِس کے ساتھ ساتھ حکومتی مشینری خود ٹیکس چوروں کوٹیکس چوری کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ نیب کو سب سے پہلے نوکر شاہی کو پکڑنا چاہیے اِن کی جائیدادوں کو سراغ لگانا چاہیے۔ ایف بی آر کے کرپٹ افسران کو قانون کے کٹہرئے میں لانا چاہیے۔ اِس وقت صر ف تین سو افراد یا ادارئے ٹوٹل ٹیکس کا پچاس فی صد دے رہے ہیں۔اِن حالات میں حکومت کو چاہیے کہ انقلابی انداز میں کام کرئے کھانے پینے کی اشیا ء پر ٹیکس لگا کر غریب کے منہ سے نوالا نہ چھینے۔ بلکہ کرپٹ افراد کے پیٹ پھاڑ کا قومی دولت جو لوٹی گئی اُسے قومی خزانے میں لایا جائے۔ وفاقی کابینہ نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی باضابطہ منظوری دے کر اور اس کا نفاذ صدارتی آرڈیننس کے ذر یعہ سے کردیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سکیم کا مقصد محصولات اکٹھے کرنا نہیں بلکہ بے نامی جائیدادوں کو قانون کے دائرے میں لے کر آنا ہے۔
ایمنسٹی سکیم کے خدو خال یہ ہیں کہ ان افراد کے علاوہ جو عوامی عہدہ رکھتے ہیں کوئی بھی پاکستانی 30 جون تک اس سکیم میں حصہ لے سکتا ہے۔ اس سکیم سے وہ افراد استفادہ حاصل نہیں کر سکتے جو عوامی عہدے رکھنے والوں کے زیر کفالت ہیں۔چار فیصد ٹیکس دے کر بلیک منی کو وائٹ کیا جاسکتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر کسی کے پاس دس ہزار امریکی ڈالر کی بلیک منی ہے اور وہ اس رقم کی ڈاکومنٹیشن کروانا چاہتا ہے تو اس کو اس رقم پر چار فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا اس کے علاوہ اس پر یہ بھی شرط عائد ہوگی کہ وہ اس رقم کو پاکستانی بینکوں میں رکھوائے۔ اگر وہ شخص اس رقم کو پاکستانی بینکوں میں نہیں رکھوانا چاہتا اور اسے بیرون ملک ہی رکھنا چاہتا ہے تو وہ دو فیصد مزید ٹیکس ادا کرے گا۔ بے نامی جائیداد کو بھی قانونی شکل دینے کے لیے اس سکیم کے تحت اقدامات کیے گئے ہیں۔ سکیم کے تحت بے نامی جائیداد کی قمیت کا اندازہ ایف بی آر کے مقررہ کردہ نرخوں سے ڈیڑھ فیصد زیادہ لگایا جائے گا تاکہ اس جائیداد کی قیمت مارکیٹ ریٹ کے قریب رہے۔ اگر کوئی اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھائے گا تو پھر قانون حرکت میں آئے گا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی اور ان کی جائیدادیں ضبط کرلی جائیں گی۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس سکیم کا مقصد کسی کو ڈرانا دھمکانا نہیں بلکہ کاروباری طبقے کو اس جانب راغب کرنا ہے کہ وہ اس سکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بینامی جائیدادوں کو قانونی شکل دیں۔س سکیم سے صدر،وزیراعظم، گورنر،وزائے اعلیٰ اور اراکین پارلیمنٹ فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے پیش کی جانے والی ٹیکس ایمنسٹی سکیم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں لائی جانے والی ایمنسٹی سکیم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اس سکیم میں کالا دھن سفید کرنے والوں کو ٹیکس کے دائرے میں نہیں لایا گیا تھا جبکہ موجودہ سکیم میں یہ لازمی ہوگا کہ وہ ٹیکس گوشوارے بھی جمع کروائیں۔ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ سکیم میں ایسے افراد سے، جنھوں نے اپنی دولت ڈیکلئیر کی مگر کسی ملکی بینک میں جمع نہیں کروائی، کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی تھی جبکہ موجودہ حکومت کی سکیم میں اس شخص پر لازم ہوگا کہ اس نے جو رقم ڈیکلئیر کی ہے اس کو کسی بینک میں جمع کروائے اور اس پر ٹیکس بھی دے۔اس سکیم کے تحت مستفید ہونے والے افراد کے کوائف کو سامنے نہیں لایا جائے گا اور اگر کوئی سرکاری اہلکار ان کوائف کو سامنے لانے میں ملوث پایا گیا تو اسے ایک سال قید کے ساتھ ساتھ دس لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس سکیم کو دو ماہ پہلے متعارف کروانا چاہتی تھی تاہم متعدد وزرا کی طرف سے اس سکیم کی مخالفت کی وجہ سے اس معاملے کو مؤخر کردیا گیا۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کے گذشتہ دور حکومت میں جب ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اعلان کیا گیا تھا تو عمران خان سمیت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے نہ صرف اس سکیم کی مخالفت کی تھی بلکہ یہ بھی کہا تھا کہ جو لوگ اس سے مستفید ہوں گے تو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے پر ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے حکومت کی طرف سے ایمنسٹی سکیم کے بارے میں کہا ’ان کے دور میں لائی گئی سکیم کو بُرا کہنے والے اب کس منہ سے اس سکیم کی منظوری دے رہے ہیں۔مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ’اس سکیم کا مقصد ٹیکس نیٹ کو بڑھانا ہے اور جس طرح سے نیب اور ایف آئی اے کام کر رہے ہیں اس سے اس سکیم پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’عمران خان حکومت کرنے میں بھی فیل ہیں جبکہ بدعنوانی کا سراغ لگانے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے‘۔
شاہد خاقان عباسی نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور میں جو ایمنسٹی سکیم لائی گئی ہے اس سے عمران خان کے رشتہ داروں اور اہلکاروں کو موقع ملے گا کہ وہ اپنی کرپشن کو پاک کرلیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے اعلان کردہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں لائی گئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ ایسی سکیموں کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ لوگ اس سکیم کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں شروع کی گئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت 98 ارب روپے اکٹھے کیے گئے تھے۔ جن میں 36 ارب روپے بیرون ملک جائیدادوں کی مد میں جبکہ 61 ارب روپے پاکستان میں موجود بینامی جائیدادوں کی مد میں اکٹھے کیے گئے تھے۔مسلم لیگ نواز کے دور میں سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا تھا کہ وہ اس ایمنسٹی سکیم کا جائزہ لیں گے جس کی وجہ سے ایک قابل ذکر تعداد میں لوگوں نے اپنی بے نامی جائیدادوں کو ظاہر کرنا چھوڑ دیا تھا۔اس ایمنسٹی سکیم کے ختم ہونے سے دو ہفتے پہلے سابق چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں مداخلت کرنا عدالت عظمیٰ کا کام نہیں ہے۔گورنمنٹ کسی بھی ملک کی ہو، اس کو چلانے کے لیے رقم کی ضرورت ہوتی ہے، حکومتیں اس رقم کے حصول کے لیے مختلف ذرائع استعمال کرتی ہیں، لیکن زیادہ تر انحصار عوام سے ملنے والے ٹیکس پر ہوتا ہے۔ حکومت کے لیے ٹیکس باقاعدہ Revenue ہے اور اس کے سالانہ انکم اسٹیٹمنٹ میں انکم کی مد میں ٹیکس آتے ہیں۔ اور ”اخراجات“ کی مد میں صحت، تعلیم سبسڈیز، انفراسٹریکچر اور قرض فراہمی وغیرہ سروسز آتی ہیں۔اپنی آمدنی کو ٹیکس کمشنر سے چھپانے کے بجائے خود سے ہی اپنے ٹیکس ادا کریں، کیونکہ ٹیکس کی ادائیگی قومی فریضے کے ساتھ ساتھ انسان کا شرعی فریضہ بھی ہے۔پاکستان میں بھی ٹیکس کا باقاعدہ ایک نظام ہے۔ جس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو حکومت عوام کی سہولیات جیسے تعلیم، صحت، انفراسٹریکچر اور سبسڈیز مہیا کرنے پر صرف کرتی ہے۔ ٹیکس کا ایک باقاعدہ طریقہ کار اور قانون ہوتا ہے جس کا نام انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 ء (Incame Tax Ordinance2001) ہے۔ آزادی کے بعد انڈیا اور پاکستان نے Undiveded ٹیکس ایڈاپٹ کر لیا تھا، جس کا نام انکم ٹیکس ایکٹ 1922 تھا۔ پھر پاکستان نے 32سال بعد اپنا ٹیکس کا قانون بنایا، جس کا نام انکم ٹیکس آرڈیننس 1979 تھا۔ 2000 ء تک یہی قانون چلتا رہا۔ 2001 ء میں ایک نیا قانون متعارف کرایا گیا، جس کا نام انکم ٹیکس آرڈینیس 2001 ہے، جو تاحال فعال ہے۔ایک پاکستانی ویب سائٹ پر موجود آرٹیکل کے مطابق یہاں ٹیکس کے لیے دو اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں، جن کی وضاحت ناگریز ہے۔ ایک”ایکٹ“اور آرڈیننس۔“ ایکٹ ایسا قانون ہے جو پارلیمنٹ پاس کرتی ہے یعنی ملک کا وزیر اعظم پاس کرتا ہے اور ”آرڈیننس“ وہ قانون جسے صدر مملکت پاس کرتا ہے۔ ہمارے ہاں ٹیکس کے لیے جتنے بھی قوانین منظور ہوئے، سب غیر جمہوری دور کی پیداوار ہیں۔ اس لیے ان کے ساتھ آرڈیننس کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ٹیکس کئی طرح کے ہو سکتے ہیں۔ ایک فیڈرل ٹیکس۔ یہ دو قسم کا ہوتا ہے: ڈائریکٹ اور ان ڈائر یکٹ۔ڈائریکٹ ٹیکس میں انکم ٹیکس آتا ہے۔ان ڈائریکٹ ٹیکس میں سیلز ٹیکس، کسٹم ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی آتے ہیں۔ انکم کے اوپر لگنے والا ٹیکس انکم ٹیکس کہلاتا ہے۔ انکم ٹیکس”قابل ٹیکس آمدنی“ پر لگتا ہے۔ یعنی وہ آمدنی جو کسی کی ٹوٹل انکم میں سے زکوۃ، عشر، ورکرز ویلفیئر فنڈز وغیرہ منہا کر کے بچتی ہے۔ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی ٹوٹل انکم کہلاتی ہے۔ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حساب کرنے کے 5 طریقے ہیں: 1 تنخواہ کی مد میں حاصل ہونے والی انکم،2 پراپرٹی سے حاصل ہونے والی انکم،3 بزنس سے حاصل ہونے والی انکم،4 شیئرز وغیرہ کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والے نفع کی انکم،5 دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی انکم تنخواہ سے حاصل ہونے والی انکم کا حساب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جہاں سے یہ پیسہ حاصل ہوا ہے۔ ان کے درمیان ملازمت کا تعلق موجود ہو۔ اس تعلق سے ملنے والی رقم خواہ وہ تنخواہ ہو، بونس ہو یا پنشن سب کو اسی Head میں ڈال کر قابل ٹیکس آمدنی کا حساب کیا جائے گا۔ پراپرٹی سے حاصل ہونے والی انکم میں شرط یہ ہے کہ وہ زمین ہو یا بلڈنگ اور وہ کرائے پہ دی ہوئی ہو اور اس سے حاصل ہونے والی انکم کا پھر اس Head کے تحت حساب کریں گے۔ اسی طرح بزنس اورشیئرز وغیرہ سے حاصل ہونے والی انکم میں قابل ٹیکس انکم کا حساب کریں گے۔ اگر کوئی انکم پہلے چار Heads میں Fall نہ کرے تو ہم اس کو پانچویں Head ”آمدن از دیگر ذرائع“ میں کیلکیولیٹ کریں گے۔ ٹیکس چونکہ حکومت کا Revenue ہے اور حکومت کے اخراجات ٹیکس وغیرہ سے ہی پورے ہوتے ہیں، مثلاً: حکومت ٹیکس کی بدولت ہی سستی تعلیم، میڈیکل کی سہولیات، انفراسٹریکچر (سڑکیں، پل وغیرہ) اور اشیاء پر سبسڈی جیسی سہولیات عوام کو مہیا کرتی ہے تو عوام کا بھی یہ قومی فریضہ ہے کہ وہ اپنے ٹیکس باقاعدگی سے ادا کریں گے اور اپنی آمدنی کو ٹیکس کمشنر سے چھپانے کے بجائے خود سے ہی اپنے ٹیکس ادا کریں، کیونکہ ٹیکس کی ادائیگی قومی فریضے کے ساتھ ساتھ انسان کا شرعی فریضہ بھی ہے۔ کیونکہ انسان جس ملک میں رہتا ہے تو وہاں کے قانون کے پاسداری اس پر شرعاً ضرور ہوتی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*