بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> تدبیر۔تقدیر۔ خالق کی رضا
خالق کی رضا

تدبیر۔تقدیر۔ خالق کی رضا

تدبیر۔تقدیر۔ خالق کی رضا
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی
تدبیر اور تقدیر دونوں کا سفر ساتھ ساتھ چلتا ہے جب تدبیر اختیار کی جاتی ہے تو تقدیر کے کئی پہلو تدبیر کے ہمنوا بن جاتے ہیں۔ تدبیر ایسے راستے کی مانند ہے جو تقدیر کے جلو میں ہی پنپتی ہے لیکن تقدیر کو نئے آہنگ سے آشنا کروا دیتی ہے اور تدبیر اور تقدیر کے معاملات ایسے ہوجاتے ہیں کہ خالق مخلوق کی اپنائی ہوئی تدبیر کو ہی تقدیر کا درجہ دئے دیتا ہے ۔خوبصور ت سے خوبصورت شے جب گندگی میں گر تی ہے تو اُس کے اردگرد گندگی لگ جاتی ہے۔ بے شک وہ گندگی بعد میں اُتر جاتی ہے۔ لیکن اُس گندگی کا جتنا وقت اُس شے کے ساتھ گزرا ہوتا ہے وہ اُس خوبصورت شے کو بھی کسی حد تک آلودہ کر دیتا ہے خوبصورت شے کی خوبصورتی پر بھی اُنگلیاں اُٹھنا شروع ہوجاتی ہیں۔ یوں خوبصورتی کا محور شے کسی طور بھی اُتنی پاکیزہ نہیں گردانی جاسکتی جتنا وہ گندگی میں گرنے سے پہلے تھی۔ لیکن خالق کا اپنے بندئے سے محبت کا یہ عالم ہے کہ وہ کہتا ہے جب کافر مرنے بھی لگے اور کلمہ پڑھ کر رب کی واحدنیت کا اقرار کرلے تب بھی وہ اُسے بخش دیتا ہے۔حالانکہ اُس کی ساری زندگی کفر میں گزری ہوتی ہے۔بندے اور خالق کا تعلق اتنا محبت سے بھرپور ہے کہ خالق کفر کی حالت میں کیے گئے اُس کے سارئے گناہ معاف کردیتا ہے۔بندہ خالق کا نائب جو ہے۔ ایک رب کی وحدانیت کا اقرار کافر کو وہ سفر طے کروا دیتا ہے جو کہ بڑا کٹھن ہے۔بندے کے ساتھ رب کی محبت اتنی عظیم ہے کہ بندہ رب کی رحمتوں کا شمار نہیں کر سکتا۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم اپنے رب کے بندوں سے پیار کرنا سیکھ جائیں کیونکہ رب تو بندئے سے بے انتہا پیار کرتا ہے۔ وہ سب کا رازق ہے وہ بلاتخصیص رنگ و ملت و مذہب سب کو روزی عطا کرتا ہے جو اُس کو مانتے ہیں اُن کو بھی دیتا ہے اور جو نہیں مانتے اُن کو بھی دیتا ہے۔ہر انداز اور عمل کا جو بھی ردِ عمل پیدا ہوتا ہے وہ خالق کی ہی رضا بنتا چلا جاتا ہے ۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے کہ خالق اور مخلوق کے رشتے میں کتنی محبت ہے کہ خالق اپنے بندئے کی رضا کو اپنی رضا بنا لیتا ہے۔
محبت کا یہ سفر بندئے اور خالق کے درمیان اتنا مضبوط ہو جاتا ہے کہ خالق بندے کی دعا کو رد نہیں کرتا بلکہ لوحِ تقدیر پہ لکھا ہوا بھی بدل دیتا ہے ۔ بندئے کی رب کے ساتھ محبت کا یہ عالم کہ بندہ خود کو فراموش کر دیتا ہے اور اپنی ایک ایک خواہش کو اپنے خالق کی رضا پہ قربان کر دیتا ہے ۔ بندہ پھر خاکی اور نوری کے سفر سے نکل جاتا ہے نہ ہی وہ حیات اور ممات کا محتاج رہ جاتا ہے۔خالق اُس کی روح کی حقیقتوں کو جب اُس پر آشکار کرتا ہے تو پھر اِس دنیا یا اُس دنیا میں فرق صرف ایک سفر کا ہی رہ جاتا ہے۔ تب بندئے کو صوفی کہہ لیا جائے ولی کہہ لیا جائے ۔ اللہ کا دوست کہہ لیا جائے۔ ایک ہی بات ہے۔ دُکھ کو سُکھ بُھلائے اور درد کو چین بدی کا مداوا نیکی سے ہوتا ہے نفرت کو محبت مٹا دیتی ہے خالق کی محبت روح میں نیا جہاں بسا دیتی ہے خالق کے بندوں کی محبت عبد ہونے کا احساس دلادیتی ہے محبت امن محبت سُکھ، محبت چین محبت لازوال روح لازوال محبت کا مسکن روح روح کو موت نہیں آتی محبت کو بھی موت نہیں آتی دل اپنا ہی اپنے اختیار میں نہیں اُس سے شکوہ عبث ہے پہلے خود سے تو کچھ منوا لوں پھر اُس کی جانب نگاہ جائے عشق کی راہ کا سفر انوکھا ہے وہ عشق ہی عشق ہے جس میں من اور تن ایک جیسا ہو جائے۔عشق کی جیت ہر حال میں ہی ہے وصل بھی کامیابی ٹھرا ہجر بھی کسی امتیاز سے کم نہیں عشق کی جیت تو ہر حال میں ہی ہے کتنا اعزاز بخشتا ہے یہ عشق اِس کی حقیقت ہر حال میں بقا ہی بقا، وفا ہی وفا۔خواب ادھورئے کس کام کے جب راہوں کا تعین ہی نہ ہو تب منزلِ مراد کی کیا حقیقت اِس گورکھ دھندے سے نکلنا نہ یا نکلنا بے معنی ہے خود کی پہچان ہوئے بغیر ۔قدیم زمانے سے گمراہ انسانوں کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنے جرائم اور گناہوں کو تقدیر کا نام دے کر مطمئن ہوجاتے ہیں اور مظلوم طبقہ بھی خدا کی رضا سمجھ کر چپ ہوجاتا ہے۔ یہ امر ذہن نشین رہے کہ تقدیر علمِ الٰہی کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں کیا ہے؟ اسے وہی بہتر جانتا ہے، ہمیں اس پر اتنا ایمان رکھنا چاہیے کہ جو کچھ ہوتا ہے، اللہ کے علم کے مطابق ہوتا ہے، اس کے ٹائم ٹیبل کے مطابق ہوتا ہے۔اس کے لیے کوئی حادثہ اچانک نہیں ہوتا کیونکہ وہ سب کچھ پہلے سے جانتا ہے۔
یاد رکھیں کہ ہم تقدیر کے مکلف نہیں بلکہ احکامِ شرع کے پابند ہیں۔ کوئی شخص جرم کا ارتکاب اور نیکی کا انکار اس دلیل سے نہیں کر سکتا کہ میری تقدیر میں یہی تھا، اس لیے کہ ہمیں شریعت نے نیکی کرنے اور بدی سے بچنے کا واضح حکم دیا ہے اور اس شرعی حکم کو ہم بخوبی جانتے ہیں۔ تقدیر کا تعلق علمِ غیب سے ہے جو ہمارے بس میں نہیں پھر جو چیز ہم جانتے ہیں اور جس کا حکم بھی ہمیں دیا گیا ہے اور جس کی تعمیل یا انکار کا نتیجہ بھی ہمارے سامنے رکھ دیا گیا ہے، اگر ہم اس کی تعمیل نہیں کرتے اور اس علمِ الٰہی کا جسے ہم جانتے ہی نہیں، بہانہ بنا کر غلط راہ اختیار کر رہے ہیں کہ جی قسمت میں یہی لکھا تھا تو ہمیں کیسے پتہ چل گیا کہ ہماری قسمت میں یہی لکھا تھا۔ کیا ہم نے لوحِ محفوظ پر لکھا دیکھ لیا تھا؟ پس جس کا پتہ ہے اختیار ہے، کرنے کی قدرت ہے اور جس کے انجام سے باخبر ہیں، اس پر عمل نہ کرنا اور جسے جانتے ہی نہیں اس کا بہانہ بنا کر فرائض سے فرار اور جرائم کا ارتکاب کرنا، بیمار اور مجرمانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ بقول علامہ اقبالؒ :تقدیر کے پابند ہیں جمادات و نباتات۔مومن فقط احکامِ الٰہی کا ہے پابند۔تدبیر عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنیٰ سوچ بچار، عاقبت اندیشی، غور و فکر اور انجام بینی کے ہیں۔ اصطلاحاً کسی کام کے کرنے سے پہلے اس کے نتائج پر غور و فکر کرنا تدبیر کہلاتا ہے۔
مذہبی مباحث میں عموماً تدبیر کا لفظ تقدیر کے مقابلہ میں آتا ہے۔ ایک زمانے تک تقدیر و تدبیر مباحث کا مقبول ترین موضوع رہا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ تھے جو انسان کو مطلق خود مختار قرار دیتے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ امور کی انجام دہی ہمارے اختیار میں ہے، تقدیرِ الٰہی کو اس میں کوئی دخل نہیں۔ یہ ’’قدریہ‘‘ کہلائے۔ ان کے مقابل ’’جبریہ‘‘ تھے جو انسان کو مجبورِ محض قرار دیتے۔ انِ کے نزدیک انسان کے تمام امور تقدیرِ الہٰی کے تحت ہیں، انسان خود کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ تقدیر و تدبیر کی اس بحث میں را?ِ اعتدال یہ ہے کہ انسان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ امورِ دنیا کی انجام دہی کے لیے اپنی عقل اور تجربے کی روشنی میں تدابیر اختیار کرے۔ لیکن ہر تدبیر کی کامیابی اللہ تعالیٰ کے اذن اور حکمت کی مرہونِ منت ہے۔ انسان تدبیر کا مکلف ہے، لیکن اس کا توکّل اپنی تدبیر کی بجائے خدا پر ہونا چاہیے۔قبر کا تصور اُس وقت کیا جائے جب اپنے پیاروں کے ساتھ خوشیاں منائی جارہی ہوں۔ جب اپنے گھر میں سکون کے ساتھ محو خواب ہو۔جب ساری حیاتی کا حاصل سمجھی جانے والی منزل مل جائے تو اُس وقت جب ابدی گھر پکار رہا ہو اور انسان یہ سوچے کہ بس میں نے اب قبر میں اُتر جانا
ہے۔ تب زندگی کی بناوٹی خوشیاں کتنی پھیکی پڑ جائیں ۔ شائد تب زندگی کے ہونے یا نہ ہونے کا مطلب بھی سمجھ میں آجائے۔ صوفیاء کے ہاں تو زندگی کا مقصد صرف ایک سفر ہے۔جس لمحے سورج کی کرنیں خالق کا پیغام کائنات میں بکھیرتی ہیں کوئل کی من بھاتی آواز خالق کی خدائی میں رنگ بھرتی ہے جب چاند اندھیری گُھپ رات میں ٹم ٹماتا ہے جگنو بھی اِس روشنی کا ننھا مسافر ہوتا ہے اِن لمحوں میں بندئے اپنے خالق سے مانگتے ہیں کتنے خوش نصیب ہوتے ہیں جو اپنے لیے سب کچھ خالق سے ہی طلب کرتے ہیں۔تدبیر اور تقدیر کے سفر میں بندے اور خالق کی رضا تب ایک ہی بن جاتی جب بندہ بندگی کے پیمانے پہ پورا اُترتا ہے۔بندگی پہ پورا اُترنا اتنا مشکل نہیں ہے بس جو خالق کی رضا اُس کو بندہ اپنی رضا بنالے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*