بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> حیف صد حیف اے ضمیرِ خموشاں
ضمیرِ خموشاں

حیف صد حیف اے ضمیرِ خموشاں

حیف صد حیف اے ضمیرِ خموشاں
صائمہ جبین مہکؔ
انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہمارے سامنے سو میں سے اسی فیصد مثالیں ایسی سامنے آئیں گی جن کے زوال کی وجہ اخلاقی پستی سے شروع ہوئی اور وہ بستیاں، سلطنتیں ،حکومتیں صفحہء ہستی سے مٹ گئیں۔ ہمارے سامنے یہ زوال پذیر بستیاں اور تواریخ موجود ہیں تاکہ ہم ان سے سبق سیکھیں اور قرآن پاک میں بھی گزشتہ قوموں کے جو احوال بیان کیے گئے وہ محض پہلے لوگوں کی کہانیاں نہیں ہیں بلکہ وہ اس لیے ہیں کہ ہم اُن پر غوروفکر کریں اور اُن سے سبق حاصل کریں۔ ہمارا وجود محض زمین کے سینے پر بوجھ بنا کر نہیں اُتارا گیا یہ اس لیے بھی ہے کہ ہم اس خاردار دنیا کے راستوں سے اپنا دامن بچاتے ہوئے حق کا راستہ تلاش کریں اور انسان کو اشرف المخلوقات کا جو درجہ عقلِ سلیم کی وجہ سے عطا کیا گیا اُس کو استعمال کر کے اپنے اپنے حصے کی کھوج کریں مگر آج کل جس بے حسی کا دور چل پڑا ہے اُس پر جگر خون کے آنسو روتا ہے ۔ ضمیر مردہ ہو چکا، آنکھ ندامت سے عاری ہو چکی ، دل خوفِ خدا سے خالی ہو چکااور شیطان جو ہمارا ازلی دشمن ہے وہ اپنی فتح کا جشن منا رہا۔ہم سب گناہ گار ہیں ہم میں سے میرے سمیت کوئی بھی دودھ کا دھلا نہیں مگر حیف صد حیف کہ آج ہم انسانیت کی سربلندیوں سے گر اُس گڑھے میں گر چکے ہیں جہاں لوگ گناہ چھوڑنا تو دور کی بات گناہ کو گناہ سمجھنے پر بھی آمادہ نہیں، حرام کو حرام سمجھنے پر بھی آمادہ نہیں۔
میرا آج کا کالم لکھنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ ہم لوگ کس قدر احساس سے عاری ہو چکے ہیں۔ہم جس معاشرے میں سانس لے رہے اُس کی فضا اس قدر تعفن زدہ ہے کہ ہمارے وجود گلنے سڑنے لگ گئے ہیں۔ ہر محکمہ بے حسی کا شکار ہے،غریب کا حق مار کر کرپشن کرنے والے ، ناپ تول میں ڈنڈی مارنے والے، جھوٹ بول کر اپنی اولاد کے لیے رزق کمانے والے، حلال و حرام کی تمیز نہ کرنے والے حتیٰ کہ رشتوں کی تمیز کر کے مقدس رشتوں کو اپنے مفاد اور حوس پرستی کے لیے استعمال کرنے والے، یہ سب ہمارے معاشرے کا ناسور بن چکے ہیں۔ کوئی کسی کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد غفّار و ستّار کی طرف واپس نہیں جاتا بلکہ توبہ کرنے کی بجائے ایک گناہ سے اگلے گناہ کی طرف چلا جاتا ہے۔ ہمارے گھروں میں، معاشروں میں اور ملکوں میں زوال کی یہی وجوہات ہیں کہ ہم اپنا تزکیہ نفس کرنے کے لیے تیار نہیں۔آج ہم پر وہ حکمران مسلط ہو چکے ہیں جو دینِ اسلام کی اُن روشن اقدار سے واقف نہیں جو اسلامی معاشرے کا ستون ہیں، ہمارے نصاب میں ہمارے نبی پاکﷺ کے اسوہءِ حسنہ ، اور حلفائے راشدین کی مثالی تقلید کی بجائے اغیار کی شخصیات پڑھائی جا رہی ہیں۔ آج والدین اس بات پر تو فخر کرتے ہیں کہ اُن کے بچے ڈاکٹرز، انجینئرز ،وکیل اور بزنس مین بن چکے ہیں مگر وہ اس بات پر نہیں سوچتے کہ اُن کے بچے ایک اچھے انسان یا مسلمان بھی بنے ہیںیا نہیں۔ اُس دن والدہ کو ہسپتا ل لے جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھی تو ساتھ ہی گاؤں کی کچھ بزرگ خواتین گاڑی میں بیٹھی کچھ باتیں کرتی کانوں کو ہاتھ لگا کر استغفار کرتی رہیں۔کہ اپنے ہی گاؤں میں ایک لڑکا باپ کے جنازے میں آیا جو بیرونِ ملک تاحال ڈاکٹری پڑھ کہ آیا اور اپنے باپ کے جنازے میں شریک ہونے کی بجائے ایک طرف کھڑا ہو گیا جب اُسے کہا گیا کہ تم اپنے باپ کی نمازِ جنازہ تو پڑھو تو کہنے لگا کہ مجھے نہ جنازے کی دعا آتی ہے نہ طریقہ کبھی سکھایا گیا۔ صد حیف کہ بچوں کو دنیاوی تعلیم کے لیے گھر سے دربدر بھی کر دیا جاتا ہے، دیارِ غیر میں بھیج کر ممتا کی چھاؤں پاب کی شفقت سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے مگر انھیں دینِ اسلام کی تعلیم نہیں دلوائی جاتی۔ چلو دینِ اسلام کی تعلیم کے لیے کسی مدرسے میں نہیں بھیج سکے تو والدین خود تو بچوں کو مسنون دعائیں سکھا سکتے ہیں، اگر سکول کا نصاب اس بات کی اجازت نہیں دیتا تو استاد اپنی ذاتی کاوشوں سے تو بچے کی اخلاقی و روحانی تربیت کر سکتا ہے مگر ہم سب اسی معاشرتی بے حسی کی پیداوار ہیں جہاں ہماری سوچ کے دھاروں میں اسلامی تعلیمات کی وہ شرینی نہیں بھری جاتی جو حق کا راستہ دکھائے۔
آج کے دور میں ہم خود اپنے ضمیروں کے قاتل ہیں۔ اور اپنے وجود کے مدفن میں ضمیروں کی گلی سڑی لاشیں لے کر پھر رہے ہیں۔حلال و حرام کھانے سے رگ و جاں میں حق اور باطل کی تمیز ختم ہو چکی ہے۔ نہ گناہ گناہ نظر آتا ہے نہ حرام حرام نظر آتا ہے۔ زیادتی زیادتی نظر نہیں آتی۔ جب ہم اس تمیز کے احساس سے ہی عاری ہو چکے ہیں تو حالات سے گلہ کیونکر۔ نہ صرف انسانیت کا قتل ہو رہا بلکہ سچے جذبوں کا، خلوص کا، رشتوں کا ، احساسات کا بھی خون ہو رہا ہے۔ کوئی کسی پر بھروسہ کر کے آگے بڑھتا بھی ہے تو اُس انسان کی بے حسی بھروسے کی بنیادوں پر بنی عمارت بھی ڈھا دیتی ہے ۔ میری ایک غزل مجھے یہاں یاد آگئی۔
پھر سے اُتر آئی دکھ کی رات اس شہر میں
تنہائیاں پھر ہیں میرے ساتھ اس شہر میں
پتھر کے جیسے بنے ہیں بت یہاں پر سبھی
اب کون کس سے کرے گا بات اس شہر میں
اک آگ بھر دی کسی نے بادلوں میں یہاں
دیکھو جلاتی ہے گھر برسات اس شہر میں
میں ڈھونڈنے اُس کو آئی تھی یہاں پر مگر
میری ہی گم ہو گئی ہے ذات اس شہر میں
جو تھام لے بوجھ بڑھ کر زندگی کا کوئی
ملتا نہیں ایسا اک بھی ہاتھ اس شہر میں
بارود اتنا ہوا میں بھر گیا ہے مہکؔ
کھلتا نہیں گُل کوئی یا پات اس شہر میں
میں بھی آپ سب کے ساتھ اس سفرِ زیست میں حق اور سچ کی تلاش میں چل رہی ہوں۔ اور میں جانتی ہوں کہ ہماری کوششوں کے ساتھ ایک راستہ اللہ کے حضور سر بسجود ہو کر گناہوں کا اعتراف کر کے معافی مانگنا اور توبہ کرنے کاہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا جتنی بھی ماڈرن ہو جائے، ہم جتنے بھی ماڈرن ہوجائیں لیکن واپسی کے راستے اُسی ذات کے در سے کھلتے ہیں جس کے حضور لوٹ کر جانا ہے۔ اگر آج ہماری سانسیں چل رہی ہیں تو وہ اس لیے چل رہی ہیں کہ ہم اپنے ضمیرِ خموشاں کے دروازے پر دستک دیں اور غفّار و توّاب کی بڑائی کو تسلیم کرنے ہوئے سڑک کنارے لگائی گئی ریڑھی سے لے کر فلک بوس مال جو رزق کمانے کی غرض سے بنائے گئے وہاں اپنے رب کو یاد رکھیں، اُس کے خوف کو یاد رکھیں۔ اپنے تعلقات کے معاملات میں حق تلفی سے ڈریں ۔ ہم جتنے بھی بے حس ہو جائیں مگر اپنے تمام اعمال کے جوابدہ ہیں۔میں تو صر ف یہی کہوں گی حیف صد حیف اے ضمیرِ خموشاں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*