بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> کشمیر لہو رنگ

کشمیر لہو رنگ

کشمیر لہو رنگ
ساجد ہاشمی
کشمیری عوام کے عزم و ہمت کی لہو رنگ تاریخ کا مطالعہ کریں تو ان گنتجلے ہوئے گھر، یتیم بچے، پیلٹ گنوں سے چھلنی جسم، لٹی ہوئی عصمتیں، نئی نویلی دلہنوں کی ٹوٹی ہوئی چوڑیاں، عفت مآب بیٹیوں کی کٹی ہوئی چوٹیاں، بے شمار شہیدوں کے بے گوروکفن لاشے اوران کی بے نام اجتماعی قبروں کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے کہ جنہیں پڑھ سن کر انسانیت کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ہر طرف آہیں ہیں، آنسو ہیں، درد اور کرب ہے۔ جہاں ظلم وجبر پر احتجاج کرنا جرم ہو، ممتا کے آنسوؤں پر پہرے ہوں، جہاں بچوں کے پنگھوڑوں پر مٹی اٹ گئی ہو اور مائیں اپنے شیر خواروں کو لے کے میدان عمل میں نکل آئی ہوں۔ جہاں کشمیری ماؤں نے صبر واستقلال کی پیکر بن کر بیٹوں کو آزادی کی جنگ کے لیے یتار کرکے دشمن سے مقابلے کے لیے رخصت کیا ہو اور رخصتی کی اس بے رحم گھڑی کے کرب کو عزم و حوصلے سے ایسے سہا کہ اپنے قرونِ اولیٰ کے اسلاف کی تاریخ دہرارہی ہوں وہاں اس قوم کو آزمانا کسی دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے۔ وہ وقت دور نہیں اب وہ منزل بہت قریب آچکی ہے جب کشمیری اپنا پیدائشی حق، حق خودارادیت حاصل کرلیں گے اور اپنے مستقبل کے فیصلے کرنے میں آزاد ہوں گے۔ بھارت نے ایک بار پھر کشمیری مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے اور بیک جنبش قلم ان کے تمام حقوق ختم کرکے انہیں جینے کے حق سے بھی محروم کردیا۔ ۵ اگست ۹۱۰۲ کے بھارتی آئین کی شق ۰۷۳ کے خاتمے کے بعد کشمیر پر اپنے تمام لاؤ لشکر کے ساتھ چڑھائی کر دی ہے۔ کہنے کو تو دفعہ ۴۴۱ کا نفاذ ہے لیکن کشمیر اس دن سے مسلسل کرفیو کے نرغے میں ہے کسی کو بھی گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں حتی کہ اس دفعہ نماز عید سے بھی جبرا روک دیا گیا گھروں میں کھانے پینے کی چیزیں ختم ہوگئی ہیں بچوں کے لیے دودھ ناپید ہوگیا ہے کاروبار زندگی مکمل مفلوج ہے کسی قسم کی کاروباری سرگرمی نہیں ہورہی ان حالات میں ایک نیا انسانی المیہ جنم لے رہا ہے ذرائع مواصلات انٹرنیٹ سوشل میڈیا پر مکمل پابندی ہے کشمیر کے بارے دنیا کو کوئی خبر نہی مل رہی جو ایجنسیاں کشمیر میں خبروں کی ترسیل کا کام کررہی ہیں انہیں بھی کشمیر سے چلے جانے کا کہہ دیا ہے۔ کشمیر میں ہرطرف فوج ہی فوج ہے خاردار تاریں ہیں بازاروں میں ہو کا عالم ہے مقبوضہ کشمیر کی آبادی ستر لاکھ ہے اور عملا ہر آٹھ کشمیریوں کے اوپر ایک بھارتی فوجی بندوق تانے کھڑ ا ہے، مودی نے یہ قدم اٹھا کر کشمیر کو جوالا مکھی بنا دیاہے اسے پتہ ہے کہ کشمیر ی کبھی بھی اس کے اس اقدام کوٹھنڈے پیٹوں ہضم نہیں کریں گے کشمیریوں نے کذشتہ ستر سالوں سے کوئی بھی سکھ کا سانس نہیں لیا اور نہ ہی لینے دیا گیا کشمیر میں انتخابات ہوں یا کسی بھارتی حکمران کا دورہ کشمیر کو فوجی چھاؤ نی میں تبدیل کردیا جاتاہے ان کے تمام حقوق سلب کردیے جاتے تھے لیکن اس دفعہ تو انتہا ہی کردی گئی، کشمیری مسلمان شروع دن سے ہی بھارت کی اس چال کو سمجھ گئے تھے اور انہوں نے نہ تو بھارت کے ساتھ الحاق کو تسلیم کیا اور نہ ہی اس آئینی شق کے ختم کرنے کو، بھارت اب تک اپنے پرکھوں کے کیے گئے وعدوں سے کنی اسی لیے کتراتا تھا کہ اسے پتہ تھا کہ جب بھی استصواب ہو ا تو لازما اسے کشمیر سے بوریا بستر گول کرنا پڑے گااسی کے تدارک کے لیے اس نے یہ بزدلانہ قدم اٹھایا ہے تاکہ اس کی آڑ میں بھارت کی دوسری ریاستوں سے تاجروں سرمایہ داروں اور ساہوکاروں کو کشمیر میں لا بسایا جائے اور ان کے ہاتھ کشمیر کے وسائل فروخت کردیے جائیں جس طرح انگریزوں نے ساڑھے سات روپے فی کشمیری کے حساب سے ڈوگروں کے ہاتھ بیچ دیا تھا اسی طرح ایک بار پھر ان کو بھارتی ساہوکاروں کے ہاتھ فروخت کردیا جائے اور اس طرح ایک تو چند پیسے ہاتھ آجائیں گے اور دوسرے کشمیر کی آبادی کا تناسب بھی ان کے حق میں ہوجائے گا اور جب کبھی عالمی برادری کے دباؤ پر استصواب کی بات ہوئی تو کشمیریوں کے مطالبے کو مانتے ہوئے اس پر بھی عمل کرکے تمام نتائج اپنے حق میں کرکے کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل کردیا جائے گا، لیکن بھارت کو پتہ نہیں کہ کشمیریوں نے بھوک برداشت کی ہے کاروبار کی بربادی برداشت کی ہے اپنے جگر گوشے قربان کیے ہیں لیکن اپنی شناخت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی اپنے مذہبی عقائد پرکوئی قدغن برداشت کی ہے یہی وجہ ہے کہ کشمیری کرفیو کی پابندیاں توڑ کر نکل آئے اور بھارتی سورماؤں کی جبریت کا مقابلہ کررہے ہیں۔اس قسم کی پابندیوں کی پرواہ انہوں نے نہ پہلے کی ہے اور نہ ہی اب کریں گے۔ کشمیر کا بچہ بچہ آزادی آزادی اور صرف آزادی کا طلبگار ہے۔مودی نے ہر طرح کا انہیں لالچ دیاہے کبھی کہتا ہے کہ میں کشمیر میں ترقی کا انقلاب لے آؤ ں گا اس سے کشمیر کی ترقی کی راہیں کھلیں گی اور کشمیر میں صنعتی انقلاب آجائے گا لیکن کشمیر اپنے نصب العین سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ مودی کا اپنا ایجنڈا نہیں بلکہ وہ آرایس ایس کے ایجنڈے پر عمل پیر اہیں جس کی منزل ہندو تو ا ہے اور ہندو توا کا سیدھا سادا مطلب ہے کہ یہاں رہنا ہے تو صرف ہندو بن کر رہنا پڑے گا اور نہیں تو یاتو خلیج بنگال میں ڈوب جائیں تو یا پاکستان چلے جائیں لیکن کشمیریوں نے اسے بتا دیا ہے کہ ایسی پابندیاں انہیں اپنی منزل سے ذرا برابر بھی ڈگمگا نہیں سکتیں اور وہ شروع دن سے ہی اس کے لیے قربانیا ں دیتے چلے آرہے ہیں۔ مودی بھارت کے گورباچوف ثابت ہونگے بھارت کی بربادی کی بنیاد انہوں نے خود ہی رکھ دی ہے اور بھارت کے کونے کونے سے آزادی کی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں اور اس کا آغاز بھی ہوگیا ناگالینڈ نے بھارت سے آزادی کا اعلان کر دیا اور نہوں نے ۴۱ اگست کو اپنے یوم آزادی منایا طلبہ تنظیموں نے ریلیاں نکالیں اپنا قومی ترانہ گایا اور ناگالینڈ کا جھندا بھی لہرادیا گیا۔ مودی نے کشمیریوں کی مظلومیت اور کسمپرسی کا غلط اندازہ لگایا وہ چنگاری جو ۳۱ جولائی ۷۴۹۱؁ء سے سلگ رہی تھی آج وہ شعلہِ جوالہ بن گئی ہے اور اگر بھارت نے ذرہ برابر بھی چالاکی دکھانے کی کوشش کی تو یہ نہ صرف پورے بھارت بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔کشمیر کشمیریوں کا ہے اور وہی اس کے اصل مالک و مختا ر ہیں۔
؎ پانی تیرے چشموں کا تڑپتا ہو اسیماب
مرغان سحر تیری فضاؤں میں ہیں بیتاب
اے وادی لولاب اے وادی لولاب (علامہ اقبال)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*