بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> محبت سے مودی کو شکست دینے کی کوشش

محبت سے مودی کو شکست دینے کی کوشش

محبت سے مودی کو شکست دینے کی کوشش
سلمان احمد قریشی
19مئی کو بھارتی لوک سبھا کے انتخابات کے آخری مرحلے میں پولنگ ہونے جا رہی ہے۔ موجودہ حکمران جماعت بی جے پی نے الیکشن سے قبل ہی کامیابی کیلئے سیاسی جدو جہد کے ساتھ نفرت کی سیاست کو فروغ دیا، بھارت کا معاشرہ جتنا آج تقسیم ہے ماضی میں اسکی مثال نہیں ملتی۔ مودی سرکار نے پاکستان دشمن جذبات کو ابھارنے کیلئے سرجیکل سٹرائیک اور پاکستان پر حملے جیسے اقدامات سے بھی گریز نہ کیا۔ خطے میں کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی کہ اگر پاکستان کی حکومت تحمل کا مظاہرہ نہ کرتی تو خطے میں جنگ چھڑ جاتی۔ مذہب کی بنیاد پر تقسیم کے ساتھ جنگی جنون تھا یا مودی کا سیاسی ویژن، مودی نے وجے سنکلپ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کانگریس ایس پی اور پی ایس پی نے دہشتگردی اور نیشنل سکیورٹی پر ایک بار بھی نہیں بولا بلکہ وہ شہادت دینے والے سکیورٹی اہلکار کی بہادری پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان پارٹیوں کے لیڈر پاکستان پر بھروسہ کرتے ہیں۔ چھ مرحلوں کی ووٹنگ کے بعد اپوزیشن حواس باختہ ہے۔ اس سے قبل اتر پردیش کے انتخابی جلسے میں وزیر اعظم مودی نے انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست میں ہندوؤں کے ساتھ تفریق بڑھتی جا رہی ہے انہوں نے سیاسی جماعتوں کو نہیں مسلمانوں کو نشانے پر لیا۔ مودی 2014ء کے انتخابات کے قبل گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے، وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ گجرات کا قرض چکا دیا اب انہیں ملک کا قرض چکانا ہے۔ 2014ء کے انتخابات میں بھارتی جمہوریت میں پہلا موقع تھا جب بر سرا قتدارجماعت میں ایک بھی مسلمان رکن نہیں تھا۔ بی جے پی نے مسلمانوں کے بارے میں شکوک و شبہات بڑھائے اور ہندو رراشٹر آر ایس ایس کے نظریات کو فروغ دیا۔ مودی کی نفرت کی سیاست کا شکار پاکستانیاور بھارتی مسلمان ہی نہیں وہ ہندو بھی ہیں جو اس کے نظریے سے متفق نہیں۔ آج مورخہ 15مئی کے ایک اخبار پر نظر ڈالیں تو تمام سیاسی خبریں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مودی کی بھارت میں سیاست ایشوز پر نہیں صرف نفرت پر مبنی ہے۔ چنئی سے خبر ہے کہ معروف اداکار کمل ہاسن جو ایک سیاسی پارٹی کے صدر بھی ہیں نے تامل ناڈو میں سیاسی مشن کے دوران کہا تھا آزاد ہندوستان کا پہلا دہشتگرد ہندو تھا۔انہوں نے کہا تھا گاندھی کا قاتل گوڈسے تھا اس پر انکے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی۔ لکھنو میں مرکزی وزیر گری راج سنگھ رام مندر کے معاملے پر مسلمانوں کو دھمکی دے رہے ہیں کہ مسلمانوں کو ایودیا میں مندر بنانے کیلئے آگے آنا ہوگا ورنہ اپنا انجام سوچ لیں۔ کمل ہاسن کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ انکی فلمیں صرف مسلمانوں نے ہی نہیں دیکھیں ہندو فلم شائقین نے تالیاں بجا کر انہیں فلمسٹار بنایا۔ نئی دہلی سے خبر ہے کہ ممتا بنرجی کا تبدیل شدہ فوٹو شئیر کرنے پر بی جے پی کے کارکن کی ضمانت ہو گئی، کولکتہ میں بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کے روڈ شو میں تشدد بی جے پی کے کارکنوں کا یونیورسٹی طلبہ پر حملہ،بنگال میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ نتھ کی ریلیوں میں بھی بد نظمی، رائب ریلی یوپی میں کانگرس کی رکن اسمبلی ادتی سنگھ پر حملہ تمام خبریں ایک ہی صفحے پر موجود ہیں۔
کانگریس کی جنرل سیکرٹری پرینکا گاندھی نے مودی کی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جعلی قوم پرستی کا دعویٰ کرنے والے اداکار ہیں۔انہوں نے بھارتیوں سے پوچھا انہیں شہیدوں پر سیاست کرنے والا وزیر اعظم چاہئے یا ملک کیلئے شہید ہو جانے والے وزیر اعظم کا بیٹا۔۔؟بھارتیوں کو اداکار چاہئے یا حقیقی لیڈر۔۔؟
بھارتی لوک سبھا کے آخری مرحلے سے قبل کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے کہا مودی نفرت کے ساتھ بات کرتے ہیں انہوں نے میرے والد، دادی اور پرنانا کی توہین کی لیکن میں نے کبھی مودی کے والد یا والدہ کی توہین نہیں کی کیونکہ میں آر ایس ایس یا بی جے پی کا آدمی نہیں ہوں۔ میں کانگریس سے تعلق رکھتا ہوں جب کبھی بھی وہ مجھ پر نفرت پھینکیں گے میں محبت سے جواب دوں گا، ہم مودی جی کو محبت سے شکست دیں گے۔ میں مر جاؤں گا مودی جی کے والد یا والدہ کی توہین نہیں کرونگا۔ یہ تو ہیں خیالات کانگریس کے صدر راہول گاندھی کے۔ کانگریس جو کامیابی کیلئے مسلمانوں کے ووٹوں کیلئے پر امید ہے لیکن کانگریس نے بھی سیاسی فیصلے کچھ عجیب ڈھنگ سے کئے۔ کانگریس نے مسلمانوں کو انتخابات میں کم تعداد میں امید وار نامزد کیا کیونکہ وہ یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ کانگریس مسلمانوں کو سیاسی طور پر مضبو ط کر رہی ہے۔ وہ ہندو ووٹر کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ مسلمان بھی کانگریس کی جانب سے نمائندگی نہ دئیے جانے کے بارے شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔لیکن مسلمانوں کی اکثریت کانگریس کی حمایتی ہے۔
چند روز قبل سعودی عرب میں بھارت سے آئے مسلمانو ں سے لوک سبھا کے انتخابات کے حوالے سے بات ہوئی تو تمام مسلمان جن میں مرد و خواتین شامل تھے مودی کے مظالم سے تنگ اور سیاست میں مذہب کے استعمال سے پریشان تھے۔بھارتی مسلمانوں نے راقم الحروف کو یہ بات متفقہ طور پر بتائی کہ مودی ہندوستان کو کمزور کر رہا ہے اور ہمارے نہ چاہتے ہوئے بھی انتخابات میں گڑ بڑی کے نتیجہ میں مودی کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔ مسلمان خواہش رکھتے ہیں ہمیں ایسے رہنما کی ضرورت ہے جن کے پاس نظریہ اور حوصلہ ہو جو نہ صرف تعلق مسلمانوں سے رکھتا ہو بلکہ پورے ملک کیلئے ہو۔ میں نے بھارتی مسلمانوں میں حب الوطنی کو محسوس کیا اور بھارتی اخبارات سے یہ چیز واضح ہوتی ہے کہ مودی سرکار وطن کی بجائے عقیدہ کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ چند ہی دنوں میں بھارت کی قسمت کا فیصلہ ہو جائے گا میری ناقص رائے کے مطابق بھارتی انتخابات میں کانگریس کی نسبت بی جے پی کے بر سر اقتدار آنے کے امکانات زیادہ ہیں۔کانگریس محبت سے مودی کے شکست دینے میں کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی، مودی کی نفرت کا نظریہ ہی بھارت میں کامیاب ہوگا جونہ صرف بھارت کیلئے مشکلات میں اضافے کا باعث بنے گا خطے میں بھی عدم استحکام کو فروغ دے گا، اللہ خیر کرے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*