بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> سیاسی و اخلاقی زوال

سیاسی و اخلاقی زوال

سیاسی و اخلاقی زوال
سلمان احمد قریشی
پاکستان کو جتنا نقصان کرپشن نے پہنچایا اس سے زیادہ نقصان سیاستدانوں پر کرپشن کے الزامات اور کردار کشی کی مہم نے پہنچایا۔معاشرے میں جھوٹ اور بد نیتی عام ہو جائے تو امن و امان بھی قائم نہیں رہ سکتا۔جس معاشرے میں اخلاقیات کی قیمت نہ ہو وہ معاشرہ نہ صرف زوال پذیر ہو جاتا ہے بلکہ ذلت اور رسوائی کے سوا کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ عقل اخلاقی رویہ کے تحت ہی کام کرتی ہے جب معاشرہ پر جذبات غالب آ جائیں تو عقلی فیصلے ممکن نہیں رہتے۔ بد قسمتی سے کچھ ایسی صورتحال ہمارے معاشرے میں جنم لے رہی ہے۔ کرپشن کے خلاف ادارے کیا فیصلے کرتے ہیں اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں بس ہم اپنے سیاسی مخالفین کے بارے میں طے کر چکے ہیں کہ وہ کرپٹ اور غدار ہیں۔اس سوچ کے نتیجہ میں طنز،فحش فقرے بازی اور گالی گلوچ ہی سیاست بن کر رہ گئی ہے۔عوامی مسائل انکا حل اور اس پر باہمی اتفاق رائے اور تعاون ایسا کچھ بھی آج کے سیاسی منظر نامے میں نظر نہیں آتا۔
"زندہ ہے بھٹو”یہ ایک سیاسی جماعت کا نعرہ ہے۔ آپ اس سے اتفاق نہ کریں بھٹو کو ووٹ نہ دیں مگر یہ نعرہ بلند کرنے والوں کیلئے یہ کیسے قابل قبول ہے کہ کوئی اسکا تمسخر اڑائے اوربھٹو کو ہی تمام مسائل کی جڑ قرار دے۔بھٹو ایک سیاست دان تھا، پاکستان کی عوام کا محبوب لیڈ ر اور آج بھی لاکھوں لوگ بھٹو کے نام پر ووٹ دیتے ہیں۔ جو اس نے غلط کیا وہ اپنی جگہ اسے درست کریں مگر اپنی صلاحیتیں بھٹو کو مردہ ثابت کرنے پر صرف کرنا تعمیری سیاست نہیں۔اپنا سیاسی قد اتنا بلند کر لیں کہ بھٹو کی موت کا انتظار نہ کرنا پڑے، ورنہ بھٹو کو مارنے کی کوششیں بے سود ہی رہیں گی کیونکہ بھٹو ایک سوچ ہے، یہ سوچ 4اپریل 1979ء کو اسکے جسمانی قتل کے بعد پروان چڑھی اسکو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ بھٹو سے اچھی حکمرانی کریں لوگ بھٹو کو بھول جائیں گے مگر بھٹو کو ووٹ دینے والو ں کو سیاسی غلام سمجھنا اور انکی تذلیل سے کامیابی ممکن نہیں۔زندہ ہے بھٹو پر اعتراض کرنے والے اس حقیقت سے چشم پوشی کیوں برتتے ہیں کہ وہ جس آئین کے تحت سیاست کر رہے ہیں وہ متفقہ آئین بھٹو کا ہی تشکیل کردہ ہے۔ مسلم لیگ ن یوم تکبیر منائے او ر اس کا کریڈٹ نواز شریف کو دے مگر اس کے ساتھ قوم کے سامنے یہ تسلیم کرنے میں کیا حرج ہے کہ ایٹمی پروگرام کا خالق ذوالفقار علی بھٹو ہے۔ یہ پروگرام ڈکٹیٹر کے دور میں بھی جاری رہا، بینظیر نے بھی اسکا تحفظ کیا اور بحیثیت قوم ہم نے یہ کامیابی حاصل کی۔ ہر جماعت اور حکمران نے کچھ اچھا بھی تو کیا ہو گا اس قوم کیلئے اس ملک کیلئے پر ووٹ لینے کیلئے سیاسی مخالفین کی کردار کشی ہی کیوں۔۔۔؟
ملک کے قرضے بڑھے، کرپشن ہوئی، مجھے کسی بات سے انکا ر نہیں،تبدیلی آ گئی مگر عوام آج پہلے سے زیادہ مشکل میں ہیں تو کیا اب عمران خان پر بھروسہ کرنے کی بجائے گالی گلوچ شروع کر دی جائے اور اس کے کارکنوں کو نفرت کی علامت قرار دیا جائے، یہ کیسی سیاست ہے؟
سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کے شعور کو اپاہج کر کے حکومت تو حاصل کر سکتی ہیں مگر ملک کیلئے بہتری کی ضمانت نہیں دے سکتی۔انسان بیک وقت ایک انفرادی اور سماجی ہستی ہے، وہ انفرادی طور پر اپنے ذاتی خواہشات کی تکمیل چاہتا ہے، جبکہ بطور سماجی ہستی وہ معاشرے کے حالات بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن شخصیت کی تشکیل کا تعین ماحول، سماجی نظام اور معاشر ہ ہی کرتا ہے۔جرمن ڈکٹیٹر ہٹلر نے اپنے ذاتی خواہشات کی تکمیل کیلئے پوری قوم کو شکست سے دوچار کر دیااور اس شخصیت کی مثال ہمارے وزیر اعظم عمران خا ن دیتے ہیں کہ اگر وہ یو ٹرن لے لیتا تو لیڈر ہوتا۔ہٹلر کبھی لیڈر نہیں ہو سکتا کیونکہ لیڈر قوم بناتا ہے، قوم کو سوچ دیتا ہے آج ہمارے ملک میں عمران خان وزیراعظم ہیں مگر ملک میں مایوسی اور نا امیدی کی کیفیت ہے۔ معاشی ترقی کے بارے حکومتی دعوے اور اطلاعات بے معنی نظر آتے ہیں عام آدمی یہ سمجھتا ہے سیاست کا مقصد کرپشن یا اقتدار کا حصول ہے۔ عوامی بہتری اور مسائل کے حل کا ذکر سیاست میں نظر نہیں آتا۔ ملک کی از سر نو تبدیلی کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں، کیونکہ شہریوں کوسیاست سے غیر متعلق کر دیا گیا ہے۔سیاسی کارکن و لیڈران مخالفین پر طنز کے نشتر چلانے اور گالی گلو چ سے آگے بڑھتے نظر نہیں آتے۔
پاکستان کی سیاسی جماعتیں بدنام ہیں کہ وہ اپنے مقاصد کیلئے کام کرتی ہیں، ملک کے حقیقی مسائل کے تجزیے کی بنیاد پر سر گرم نہیں، سب سے بڑھ کر سیاسی قیادت نے ملک کے ذہین اور دانشو رطبقے کا احترام ہی ختم کر دیا ہے نوجوان نظریات اور افکا ر کا احترام نہیں کرتے بلکہ اپنی خواہش اور جذبات کی بنیاد پر نظریات کے قائل ہیں۔آج کا سیاستدان بھی آزاد ذہن رکھنے والوں کو پسند نہیں کرتا، سیاسی جماعتوں کو اہل علم اور دانشور کی حمایت کی ضرور ت نہیں، سرمایہ دار کی ضرورت ہے۔کیونکہ سرمایہ ہی معاشرے میں سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ایوب خان نے سیاسی رہنماؤں کو اپنے راستے سے ہٹانے کی کوشش میں مسلم لیگ کو اغوا کیا، اس سیاسی کلچر نے سیاست اور سیاستدانوں کو بد نام کیا۔ ضیاء الحق نے بھی بنا عقد مسلم لیگ کو 11سال خوابگاہ کی زینت بنائے رکھا۔مشرف نے بھی مسلم لیگ کے ساتھ ق کا اضافہ کیا۔ پاکستان کے تمام مسائل کے ذمہ دار سیاستدان کیسے ہو سکتے ہیں جب طویل عرصہ ڈکٹیٹر شپ قائم رہی اور ڈکٹیٹر شپ جب ختم ہوئی تو سینکڑوں بچے جنم دے چکی تھی، یہ بچے بھی تو سیاستدانوں کے روپ میں سیاسی میدان میں سر گرم ہیں۔ ان ڈکٹیٹروں کے جانشینوں نے عام آدمی کی راہنمائی کیوں کرنی تھی انکا انحصار عوا م پر نہیں بلکہ مقتدر قوتوں اور مصلحتوں کے ساتھ ہے۔ آج ہر طرف طوفان بد تمیزی ہے کرپشن، چور ڈاکو، لٹیرے، اس شور میں عوامی مسائل اور انکا حل پس منظر میں جا چکا ہے۔
حکومت کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ پنجاب کے 36اضلاع ہیں او ر اسکے 38ترجمان مخالفین کی کردار کشی کے ذریعے مسائل حل کرنے میں مصروف ہیں۔منتخب کی جگہ غیر منتخب افراد حکومتی ترجمانی میں مصروف ہیں، حکومت کا ایک ہی ایجنڈہ اور نعرہ ہے کہ تمام اپوزیشن جیل جائے گی۔ اپوزیشن جیل چلی جائے گی تو کیا عوام کے مسائل حل ہو جائیں گے اور نظام حکومت اسی طرح چلتا رہے گا۔۔؟ جمہوریت ہونے کے باوجود پاکستان میں نا کوئی اقتصادی پروگرام ہے نہ ہی خارجہ پالیسی واضح ہے۔ایسے میں ملک اور جمہوریت کیسے چل سکتی ہے۔ کرپشن کو پکڑنے سے جمہوریت کو خطرہ نہیں، نظریاتی دیوالیہ پن کی وجہ سے حکومت کو خطرہ ہے۔سیاست کی بنیاد عقل، منطق اور قومی مفاد پر رکھی جائے اور قومی مفاد کی اصطلاح کی تشریح اپنے انداز سے نہ کی جائے بلکہ اسکے اصل مفہوم اور روح کے مطابق کی جائے۔ عوام کے سامنے اپنے موقف کو بہتر انداز میں پیش کرنا جمہوریت ہے،مخالفین کو کو لعن طعن کرنا جمہوریت نہیں۔مفاہمت کی تلاش جمہوریت ہے،اور مفاہمت سیاسی مفادات پر مبنی نہ بلکہ ہو قومی ایجنڈے پر ہو۔قوم کو میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے سوشل میڈیا پر مخالف سیاستدانوں کی تذلیل اور گرفتاریوں کی نہیں۔ کرپشن پر قابو پانا تب ہی ممکن ہے جب ادارے اپنا کام کریں۔کرپشن کے فیصلے عدالت کو کرنے دیں اور حکومت عوامی ٰفیصلے کرے۔ کیونکہ سیاست میں دلچسپی کا مطلب ان معاملات میں دلچسپی ہے جن کا تعلق عوام کی قسمت سے ہے۔پاکستان میں بہتری اس وقت تک نہیں آسکتی جب تک سیاست اور سیاستدانوں کے تقدس کی بحالی کیلئے منظم کوششیں نہ کی جائیں۔بنیادی سطح پر مکالمے اور گفتگو کا آغاز لازم ہے،سیاست کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آپ کسی سیاسی جماعت میں شامل ہیں بلکہ مسائل کے فہم و ادراک کا ہونا سیاست ہے۔ کرپشن، کرپشن اور کرپشن، کرپٹ، کرپٹ لیڈر شپ یہ گردان سیاست نہیں معاشرے میں بگاڑ اور انتشار کا باعث ہے۔ حکومت اگر کرپشن ختم کرنا چاہتی ہے تو اداروں کو مضبوط کرے۔ترجمانوں کی جگہ پالیسی سازو ں کو اہمیت دی جائے۔ اگر حکومت نے اب بھی راست اقدام نہ اٹھایا تو ہماری سیاسی سٹیج پر جاری ڈرامہ سے نظام کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔راقم الحروف نے ایک نوجوان منتخب ایم این اے کی تصویر اپنے سوشل میڈیا پیج پر "پاکستان کا مستقبل”اس کیپشن کے ساتھ لگائی تو پی ٹی آئی اوکاڑہ کی آی ڈی سے مجھے گالیوں سے نوازا گیااور جس قد ر ممکن ہو سکا بد تہذیبی کا مظاہرہ کیا گیا، یہ کمنٹس میں نے بلآخر ڈیلیٹ کر دئیے کیونکہ سیاسی مکالمہ ہوتا تو جواب دیا جا سکتا ہے، جی جی بر یگیڈ سے مقابلہ ممکن نہیں۔سیاسی تربیت کی زیادہ ذمہ داری حکمران جماعت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ پی ٹی آئی نے سار ازور سیاسی مخالفین کو کرپٹ ثابت کرنے پر لگایا۔ دوسری طرف اس کردار کشی کی مہم سے معاشرہ تیزی سے زوال پذیر ہوتا جائے گا۔سیاستدان ہونا باعث عزت سجھا جانا چاہئے نہ کہ کسی کا ترجمان۔۔۔ عوامی ترجمانی ہی سیاست ہے۔خدا ہم سب کو اصلاح کی توفیق دے۔ آمین

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*