بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> سیاست۔۔اور وہ بھی بچوں کی ہلاکت پر؟

سیاست۔۔اور وہ بھی بچوں کی ہلاکت پر؟

سیاست۔۔اور وہ بھی بچوں کی ہلاکت پر؟
سلمان احمد قریشی
صوبہ پنجاب کے شہر ساہیوال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ٹیچنگ ہسپتال میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب چند گھنٹوں کے اندر 8نومولود بچے ہلاک ہوئے۔ اس واقعہ پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تمام تر قانونی کاروائی کا یقین دلایا۔ صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد نے بھی کہا ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی ہوگی۔ ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں اے سی کی خرابی اور گرمی بڑھ جانے کی وجہ سے نو مولود بچے زندگی کی بازی ہار گئے۔ ان اموات کی تعداد کے بارے میں بھی متضاد خبریں ہیں۔ان اموات کے بعد ڈپٹی کمشنر ساہیوال زمان وٹو نے اپنی رپورٹ میں بائیومیڈیکل انجینئر لقمان تابش کو اے سی کی خرابی کا ذمہ دار قرار دے کر معطل کرنے کی سفارش کی۔ایڈیشنل سیکرٹری صحت رفاقت علی بھی ساہیوال پہنچے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ 3رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو 48گھنٹے کے اندر رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیشن کی ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل ڈاکٹر شاہد محمود ہیں۔ ڈی سی ساہیوال نے واقعے کی تفصیلات سے بذریعہ خط صوبائی حکومت کو آگاہ کر دیاہے۔ ترجمان وزارت صحت کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد حقائق سامنے آئیں گے۔ دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ 3بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتی ہے۔ ساہیوال میں بچوں کی اموات کے حوالے سے سرکاری اعداد و شمار کچھ اور ہیں اور میڈیا کی اطلاعات کچھ اور۔ بے حسی کی انتہا ہے ہسپتال انتظامیہ نے پہلے پہل واقعہ کو دبانے کی روائیتی کوشش کی پھر 3بچوں کی اموات کی تصدیق کی۔لواحقین کے احتجاج پر خبریں میڈیا پر آنی شروع ہوئیں تو پنجاب حکومت کو بھی ہوش آیا اور ترجمان کے بیانات سامنے آنے لگے۔ اپوزیشن نے اس مسئلے کو لیکر بیان بازی شروع کر دی۔ بچوں کی ہلاکت پر قومی اسمبلی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا ساہیوال واقعے پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ پنجاب حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے رد عمل دیتے ہوئے کہا اپنی ذمہ داریوں سے غافل نا اہل کو کوئی جھنجھوڑے اور بتائے کہ ان اموات کے ذمہ دار وہ ہیں۔ سرکاری خرچہ پر عمرے میں مصروف جعلی حکمرانوں کو اس دلخراش واقعہ پر یہاں موجود ہونا چاہئے تھا۔ مسلم لیگ پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا اور انہوں نے کہا ان بچوں کے اصل قاتل عمران خان ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نئیر بخاری نے کہا ساہیوال میں بچوں کی اموات کا معاملہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ان اموات نے پنجاب حکومت کی کار کردگی کا پول کھول دیا۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہبا زنے کہا دس ماہ کی تبدیلی نے شہباز شریف کی دس سالہ محنت کا بیڑہ غرق کر دیا۔ ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر شہباز گل نے لیگی رہنماؤں کے بیان پر اپنے رد عمل میں کہا وزیر اعلیٰ پنجاب نے انکوائری کا حکم دیدیا ہے۔ بچوں کی ہلاکت کی وجہ ائیر کنڈیشن کا نا چلنا ایسا کہنا بے بنیاد پراپیگنڈہ ہے۔ معاون خصوصی وزیر اعظم پاکستان ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا دو افراد نے ساہیوال میں بچوں کی ہلاکت پر سیاست کی۔ بچے تھر، ساہیوال یا سیالکوٹ کے ہوں ا ن پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔
قارئین کرام! کتنے شرم کی بات ہے بچوں کی اموات پر سیاست ہو رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کو اس مسئلہ پر سیاست نہ کرنے کا مشورہ دینے والی میڈیا ایڈوائزر فردوس عاشق اعوان کو اس وقت خیال کیوں نہ آیا جب اسی ماہ کے دوران سندھ سے خبریں آئیں کہ بھٹو کے شہر لاڑکانہ میں بچے HIV کا شکار ہو رہے ہیں، ایک وزیر نے سندھ دھرتی کو ایڈزستان کہا۔ HIVکے پھیلاؤ پر اسطرح تنقید کی گئی جیسے اس کی ذمہ دار حکومت سندھ اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت ہے۔ HIVاور ایڈز میں فرق کو بھی مد نظر نہیں رکھا گیا او رسیاسی مقاصد کیلئے تنقید کے نشتر چلائے۔ سندھ حکومت کے شانہ بشانہ اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے کھڑے ہونے کی بجائے لعن طعن کرنے میں تبدیلی سرکار نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔تھر میں بچوں کی ہلاکت پر بھی مسلم لیگ ن کی حکومت اور پی ٹی آئی کو خیال نہ آیا کہ مرنے والے بچے پاکستانی ہیں انکا تعلق کسی سیاسی پارٹی سے نہیں اور اس پر سیاست نہ کریں۔ آج بچوں کی ہلاکت پر اپوزیشن جماعتیں حکومت کو سیاست کرتی نظر آتی ہیں۔ اور مسلم لیگ ن عمران خان کونا اہل اور عثمان بزدار کو قاتل قرار دیتی ہے۔ پنجاب میں ڈینگی سے ہلاکتیں ہوئیں تو اس وقت پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی ایم پی اے عظمیٰ بخاری نے شہباز شریف کو قاتل اعلیٰ قرار دیا اور انکے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ستم ظریفی عظمیٰ بخاری اپوزیشن میں نہیں رہ سکتی تھیں شہباز شریف کی پارٹی میں شامل ہو گئیں اور حکومت کا حصہ بن گئیں۔ ڈینگی سے مرنے والے پنجاب کے رہائشیوں کو بھول کر قاتل اعلیٰ سے خادم اعلیٰ کہنے لگیں۔ یہ کیسی سیاست ہے کہاں گیا پنجاب کی عوام سے محبت کا دعویٰ اور ڈینگی سے مرنے والوں کے غم میں شریک ہونے کے بیانات۔ آج بھی بچوں کی اموات پر ایسی ہی سیاسی بیان بازی جاری ہے۔ اس رویے پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کسی کے آنگن کا پھول مرجھا گیا اور حمزہ شہباز اپنے باپ کے دس سالہ اقتدار کی بات کرتے ہیں۔ان اموات کی رپورٹ کچھ بھی آئے حمزہ شہباز قوم کوصرف یہ بتا دیں کہ دس سال میں انکے والد نے پنجاب میں کونسی طبی سہولیات فراہم کیں۔ کیا ان سیاستدانوں کے سینے میں دل نہیں۔ ان کو رمضان المبار ک کا بھی احترام نہیں۔ خود ن لیگ کی قیادت شریف خاندان سرکاری خرچے پر سالہا سال عمرے کرتار ہا آج وزیر اعظم کے عمرہ پر تنقید کر رہے ہیں۔دس سال حکمران رہنے والا شہباز شریف جس کی محنت دس ماہ میں پی ٹی آئی نے خراب کر دی خود علاج کیلئے لندن بیٹھے ہیں۔ پنجاب میں کوئی سہولیات ہوتی تو وہ علاج کروانے لندن کیوں گئے۔ اس کا جواب حمزہ شہباز ہی دے سکتے ہیں مگر وہ اسکا جواب کیوں دیں گے۔ وہ جانتے ہیں ن لیگ کا کارکن ووٹ تو نواز شریف کو ہی دے گا بھلے بچے مرتے رہیں،
راقم الحروف کا تعلق بھی ساہیوال ڈویژن سے ہے اور ساہیوال کو اپنے سیاسی فائدے کیلئے 2008ء کے بعد شہباز شریف نے ضلع سے ڈویژن کا درجہ دیا۔اس کا بھرپور فائدہ 2018ء میں مسلم لیگ ن کو ہوا۔ساہیوال ڈویژن نئے پاکستان میں شامل نہیں ہوا۔ ن لیگ نے یہاں فتح کے جھنڈے گاڑے۔ حمزہ شہباز اور ان کیلئے نعرے مارنے والوں کیلئے یہ اعداد و شمار کافی ہیں،ساہیوال ڈویژن 3اضلاع ساہیوال جس کی آبادی 2517560، پاکپتن 1823687اور ضلع اوکاڑہ جہاں 3039139افراد بستے ہیں پر مشتمل ہے۔ڈویژن میں واحد میڈیکل کالج ساہیوال میڈیکل کالج ہے اور اس کے ٹیچنگ ہسپتال میں گائنی وارڈ میں صرف 18بیڈز ہیں۔ اور جس وقت یہ اموات ہوئیں اس وقت بھی 44کے قریب بچے زیر علاج تھے۔ مردہ ضمیروں کو جھنجوڑنے کیلئے کیا یہ اعداد و شمار کافی نہیں کہ شہباز شریف نے کس طرح علاج و معالجے کی سہولیات فراہم کرنے میں کوتاہی برتی۔7380386کی آبادی والے ساہیوال ڈویژن میں ایک بھی چلڈرن ہسپتال نہیں۔ اوکاڑہ میڈیکل کالج کے قیام کا مطالبہ دس سال سے وزیر اعلیٰ پنجاب سے کیا جاتا رہا مگر خادم اعلیٰ نے اوکاڑہ کی عوام کی اس ضرورت او رخواہش کا احترام نہیں کیاکیونکہ وہ جانتے تھے یہاں سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگی ایم این اے اور ایم پی اے ذاتی حیثیت میں کامیاب ہو سکتے ہیں تو پھر اوکاڑہ کی غریب عوام پر پیسے خرچ کیوں کئے جائیں۔ کون جاکر دیکھے گا کہ پاکپتن یا اوکاڑہ میں کوئی ہسپتال قائم ہوا، لاہور کی سڑکوں پر چلتی میٹرو اور لوگوں کے سروں سے گزرتی اورنج ٹرین نظر بھی آتی ہے اور ترقی کا دعویٰ بھی۔یہ ہے دس سالہ محنت حمزہ شہباز کے والد محترم شہباز شریف کی۔ ساہیوال میں بچوں کی اموات پر تبدیلی سرکار کے 38ترجمان جھوٹی تسلیاں نہ دیں اپنی قیادت کو درست مشورہ دیں اور پنجاب میں بہتر طبی سہولیات کیلئے مربوط پروگرام شروع کریں۔ 38ترجمان پنجاب کے 36اضلاع میں فی ضلع ایک چلڈرن ہسپتال بھی بنوا دیں تو انکا احسان عظیم ہو گا۔ یہ تحقیقا تی کمیٹیاں اور انکے نتائج مسئلے کا حل نہیں۔ عوام کو بھی ان نام نہاد حکمرانوں اور سیاستدانوں کی ہمدردیوں کو مسترد کرنا ہو گا۔ یہ ہر موقع پر غریب کی دلجوئی کے نام پر سیاست کرتے ہیں مگر عملی طور پر عوام کیلئے کچھ نہیں کرتے۔ ساہیوال میں نومولود بچے ہلاک نہیں قتل ہوئے انکا قاتل موجودہ حکومت سمیت دس سال پنجاب پر حکمرانی کرنے والے ہیں اور ہر وہ شخص ہے جو اس پر سیاست کرتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*