بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> عالمی یوم خواتین
یوم خواتین

عالمی یوم خواتین

عالمی یوم خواتین
تحریر : سلمان احمد قریشی
دوسری جنگ عظیم کے بعد 10دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ نے حقوق انسانی کا عالمی منشور منظور کیا جس میں تین باتوں پرزور دیا گیا۔ 1 -فرد کی آزادی -2عدل و انصاف -3 مساوات ۔
قانون کے ماہرین کے مطابق اگر یہ 3چیزیں مل جائیں تو انسان کے حقوق محفوظ ہو جاتے ہیں ۔ اس چارٹر نے خواتین کو مر د کے برابر حقوق دئیے لیکن دنیا کے ہر ملک میں نہ خواتین کو مردوں کے برابر حقوق ہیں نہ مقام حاصل ہے۔کچھ ممالک میں ایسے قوانین بھی موجود ہیں جو امتیازی سلوک روا رکھنے کا باعث ہیں ۔ پاکستان نے بھی حقوق انسانی کے عالمی منشور پر دستخط کئے ،پاکستان کا موجودہ آئین جو اس وقت نافذ ہے اس میں آرٹیکل 8سے لیکر 28تک میں بنیادی حقوق کا ذکر ہے ۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پاکستان حقوق انسانی کی تشہیر کا پابند ہے جس کا مقصد عوام میں حقوق کا شعور پیدا کرنا اور یہ تسلیم کرنا کہ سب انسان برابر اور نسل وحدت ہیں ، بلا تمیز رنگ و نسل ،زبان،قومیت،مذہب اور جنس سب کے حقوق یکساں ہیں ۔ ان تمام تر کوششوں کے باوجود دنیا میں خواتین کو مر دوں سے کم تر ماننے اور تعصبات پر مبنی سماجی رویے موجود ہیں ۔ جبکہ آج خواتین دنیا کی کل آبادی 52فیصد ہیں ۔ایک طرف انسانی حقوق کی کوششیں جاری رہیں تو دوسری طرف 8مارچ 1910ء میں خواتین کی عالمی کانفرنس نے عالمی یوم خواتین طے کیا جسے 1979ء میں اقوام متحدہ نے بھی عالمی یوم خواتین قرار دیا اور دنیا کے ہر ملک میں خواتین یہ دن مناتی ہیں اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں۔ اس دن کو منانے کا مقصد خواتین کی اہمیت سے آگاہ کر نا اور لوگوں میں خواتین پر تشدد کی روک تھام کیلئے اقدامات کرنے کیلئے تر غیب دینا ہے ۔ 8مارچ کو عالمی یوم خواتین منانے کا سفر 1857میں امریکہ کی ٹیکسٹائل ملوں میں کام کرنے والی خواتین کے جلوس سے ہوا جن کا مطالبہ تھا کہ ان کے کام کرنے کے اوقات 16گھنٹوں سے کم کر کے 10گھنٹے کئے جائیں۔8مارچ 1915ء میں ناروے کے دارلحکومت اوسلو میں خواتین نے پہلی عالمی جنگ کیخلاف بھرپور مظاہرہ کیا پھر 8مارچ 1917ء میں روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں خواتین نے زار روس کیخلاف علم بغاوت بلند کیا اور سب کیلئے روٹی کی نعرے کے ساتھ مظاہرہ کیا ۔ یہ سوویٹ یونین کے انقلاب کا آغاز تھا ، 8مارچ 1937 ء سپین کی خواتین نے جرنل فرانکو کی آمریت کیخلاف منظم مظاہرہ کیا۔ اسی طرح ویت نام میں بھی خواتین نے 8مارچ 1947ء کو امریکہ اور اس کے مقامی حمایتیوں کیخلاف مظاہرہ کیا۔اس طرح 8مارچ ایک روایتی دن سے دنیا بھر میں عورتوں کی آزادی ،مساوات اور حقوق کیلئے جدو جہد کی علامت کا دن بن گیا۔دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی 8مارچ کو عالمی یوم خواتین منایا جاتا ہے جس کا مقصد خواتین کو درپیش مسائل کے حل کیلئے جدو جہد کو تیز اور با مقصد بنانا ہے
ہر سال اس عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے اس کے باوجود خواتین مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ خواتین کے حقوق اور آزادی ہنوز ایک غور طلب مسئلہ ہے اور ایسے اقدامات کی ضرور ت ہے جو خواتین کی حقیقی آزادی کا موجب بن سکیں۔ ہمارے ملک میں خواتین کی زبوں حالی کی بڑی وجہ جہالت ہے ۔ جھوٹی انا ، خواتین کا جبری نکا ح ، بچپن کی منگنی، وٹے سٹے کی شادی، قرآن سے شادی ایسی فرسودہ رسومات سے خواتین کی حق تلفی ہوتی ہے ۔ان رسومات کی وجہ سے خواتین کو محکوم سمجھا جاتا ہے، مرد خواتین کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ خواتین کو برابر کا مقام حاصل نہیں۔اچھی اور جدید تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے ۔ کسی حد تک مذہب کے نام پر بھی خواتین کو محکوم بنایا جاتا ہے جبکہ مذہب اسلام کے نزدیک خاتون اپنے نوع کے اعتبار سے محض مرد کی تابع نہیں بلکہ اس کی اپنی علیحدہ مکمل شخصیت ہے ۔اسے اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے ، دین کی خدمت کرنے، تعلیم حاصل کرنے، ملازمت یا کاروبار کرنے ، ملکیت اور اس سے فائدہ اٹھانے،تخلیقی کام کرنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا ایک مرد کو ہے۔قرآن میں ارشاد ہے "میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں خواہ مرد ہو یا عورت تم ایک دوسرے کے ہم جنس ہو ” (آل عمران 105:3) ۔ دور نبوی ﷺ میں حضرت عائشہؓ ،حضرت ام سلمہؓ ،حضرت حفصہؓ ،حضرت صفیہؓ ،ام ایمنؓ،ام عطیہؓ،اسما بنت ابو بکرؓ،حضرت میمونہؓ ، فاطمہ بنت قیسؓ سمیت کئی صحابیات کے تذکرے بطور (Jurists)، سیاست،تعلیم، زراعت، تجارت، صنعت و حرفت، کاروبار، مال اسباب، شاعری اور طب کے حوالہ سے موجود ہیں۔ اسلامی معا شرہ میں خواتین کو مرد جیسے حقوق حاصل ہیں،مالی معاملات میں عورت کی اپنی آزادانہ شخصیت اور مستقل مالی ذمہ داری ہے اسے اپنے نام و ناموس ا ور اپنے نسب کی حفاظت کا حق حاصل ہے۔اس کے باوجود سچی بات یہ ہے کہ یہ سوال ہنوز موجود ہے کہ عورتوں کا احترام کیسے ممکن ہے اور ان کو حقوق کس طرح دیے جا سکتے ہیں۔ این جی اوز،واک، سیمینارز،مقالے شائع کروانے تک ضرور متحرک ہیں اور سرکاری سطح پر معاملہ فوٹو سیشن تک محدود ہے ۔میرے شہر میں عالمی یوم خواتین کے حوالہ سے ڈی سی اوکاڑہ مریم خان نے گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج برائے خواتین ایک تقریب میں شرکت کرنا ہے جس کا حاصل جمع فوٹو سیشن سے زیادہ کچھ نہیں ہو گا۔کیونکہ یہاں موجود خواتین اپنے حقوق سے آگاہ ہیں اور سیدھی سی بات ہے ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں شعور دینے کی کوشش ڈی سی صاحبہ کی شخصیت اور رعب تک ٹھیک ہے وہ یہ شعور بیدار کرنے کی کوشش بے بس،غریب اور نا خواندہ عورتوں میں کیوں نہیں کرتیں جو کھیتوں کھلیانوں ،کارخانوں،سڑکوں پر مزدوری کرتی ہیں ۔ ان حالات میں تعلیم یافتہ خواتین کی نسبت عام خواتین میں شعور پیدا ہونا زیادہ ضروری ہے کیونکہ نا خواندہ خواتین کو ان کے حقوق کا علم ہی نہیں۔ آزادی انکا حق ہے اور آزادی حاصل کرنا ضروری ہے نہ صرف ان کے لیے بلکہ آنیوالی تمام نسلوں کیلئے۔ ہر سال 8مارچ کو عالمی یوم خواتین منایا جاتا ہے مگر جن خواتین کیلئے ، جن کی حالت زار کی وجہ سے یہ دن منایا جاتا ہے ان کو چولہے اور گھریلو معاملات سے فرصت ہی نہیں ملتی۔ اصلاح معاشرے کے حوالہ سے دیکھا جائے تو عورت خانگی زندگی کی معمار ہے اس لئے اصلاح معاشرہ اسی صورت ممکن ہے جب خواتین کی حالت بہتر ہو گی۔ہم سب مرد خواتین پر تشدد کیخلاف ہم آواز اور متحد ہوں۔ تمام لڑکیوں کو بچپن کی ترقی ،دیکھ بھال اور ابتدائی تعلیم مکمل معیار تک رسائی کیلئے تیار رہیں۔ہر جگہ عورتوں اور لڑکیوں کے خلاف امتیازی سلوک ختم کر دیں۔ عورتوں کو حقوق بھی حاصل ہوں گے اور بہترین معاشرہ تشکیل بھی پائے گا۔جب تک حکومت اس بات میں مخلص اور سنجیدہ نظر نہیں آتی کہ خواتین کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا جائے ان کے مسائل میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔محترمہ بینظیر بھٹو اسلامی دنیا میں پہلی منتخب وزیر اعظم رہی ہیں، محترمہ فہمیدہ مرزا سپیکر قومی اسمبلی بنیں،یہ خواتین بھی ان عوامل کا سد باب نہیں کر سکیں جو عدم مساوات کا باعث ہیں۔ ایسے میں با اثر ،اختیارات کے حامل عہدوں پر فائز خواتین کی معمولی نمائندگی خواتین کے حقوق کی ضامن کس طرح ہو سکتیں ہیں۔ فوٹو سیشن ،ظاہر ی لفاظی،حقوق نسواں کا ڈھنڈورا سڑکوں پر پیٹنے اور دلفریب نعرے بحیثیت نوع عورت کے حالات میں کچھ زیادہ فرق نہیں لا سکتے۔ 8مارچ کے حوالہ سے قانون سازی ہی حقوق خواتین کی ضمانت ہے ۔ سرکاری سطح پر ملازمتوں میں 50فیصد کوٹہ مختص کیا جائے ۔ مگر یہ بات انتہائی افسوس ناک ہے کہ نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن (NCSW)کی طرف سے پیش کردہ ٹھوس تجاویزجن کا مقصد خواتین کے خلاف قانونی ، سیاسی اور معاشی امتیاز کو ختم کرنا ہے ۔حکومت کی طرف سے اسے مسلسل نظر انداز کرنا اس دعوے کی نفی ہے کہ ہم حقوق خواتین کے معاملہ میں سنجیدہ ہیں۔ سرکاری خواتین آفیسر اور ایلیٹ کلاس خواتین سے انتہائی معذرت کے ساتھ اپنے چند ساتھیوں اور من پسند لوگوں کے ساتھ یہ فوٹو سیشن واک،ستائشی پروگرام، تالیاں اور سیمینارز 8مارچ عالمی یوم خواتین کی کی تمام رسمیں پوری کر لینے سے مسائل حل نہیں ہو سکتے، خواتین کو حقوق دینے کیلئے قانون سازی کا ہی سہارا لینا ہو گا ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*