بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> بھارت کے ہاتھوں عالمی تباہی نوشتہ ء دیوار

بھارت کے ہاتھوں عالمی تباہی نوشتہ ء دیوار

بھارت کے ہاتھوں عالمی تباہی نوشتہ ء دیوار
شاہد ندیم احمد
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے انسانیت سوز مظالم کا نہ رکنے والا سلسلہ خطے میں دہکتی چنگاری کو ایسے الاؤ میں تبدیل کرنے کا باعث بن سکتا ہے جس کی لپیٹ میں پوری دنیا آسکتی ہے۔مودی کے اقدام نے بھارت کی جمہوریت، سیکولرازم، پلورل ازم سمیت ہر دعوے اور شناخت کے آگے سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ بہت سے لوگ کشمیر کی محبت میں نہیں بھارت کی شناخت چھن جانے کا ماتم کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان ہر ٹویٹ میں اسے ہٹلر جیسے عالمی ناپسندیدہ کردار سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ بھارت کے حکمران ٹولے نے یہ سیاہی یوں بے سبب اپنے چہرے پر نہیں ملی،بلکہ اس کے پیچھے مقاصد اور خواہشات کا ایک انبار ہے۔ ان میں سب سے اہم مقصد ریاست کی آبادی کا تناسب تبدیل کرکے اس کا مجموعی کردار اور شناخت تبدیل کرنا ہے، تاکہ پھر یہ ایک اصولی جنگ کے بجائے دو آبادیوں کے درمیان لڑائی بن کر رہ جائے۔ بر طانیہ، شمالی آئر لینڈ میں یہی حکمت عملی اختیار کرکے کیتھولک آبادی کی خواہشات کو بے مقصد بنا چکا اور اس کی بدترین شکل فلسطین ہے۔ بھارت کی پوری کوشش ہو گی کہ اگلے چند برسوں میں اس قدر پیش رفت کی جا سکے کہ وقت کے پہیے کو دوبارہ اُلٹا گھمانا ممکن ہو جائے۔اس صورت حال میں پاکستان کے پاس کفِ افسوس ملنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ کشمیر کی زمین تو باقی رہے گی،مگر اس پر سبز پرچم لہرانے والے اور حریت کے گیت گانے اور خواب دیکھنے والے اپنی بقا کی جنگ سے دوچار ہوں گے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پاکستان کو اپنا وہ کردار ادا کرتے ہوئے کشمیر میں بھارت کو اصل ہدف کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے دفاعی اقدامات سے بڑھ کر کوئی پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چند دن کی خاموشی کے بعد نریندر مودی اور عمران خان کو ٹیلی فون پر حالات کو معمول پر لانے پر زور تودیتے ہیں،مگر عملی طور پر فعال کردار ادا نہیں کررہے۔ پاکستان پانچ اگست سے پہلے کی پوزیشن بحال کروائے بغیر حالات معمول پر لانے پر آمادہ ہوگیا تو یہ ایک سرینڈر ہوگا۔ بھارت کی بے لگام خواہشات کے آگے آج بند نہ باندھا گیا تو یہ طوفان بہت سے دیواریں اور حصار گراتا گزر جائے گا۔

اس میں شک نہیں کہ ساری منصوبہ بندی کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی نیت سے کی گئی ہے جس کے تحت مودی سرکار مقبوضہ وادی میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدل کر کشمیر کے مستقبل سے متعلق تقسیم ہند کا ایجنڈا غیر موثر بنانا چاہتی ہے۔کشمیر عوام نے بھارتی بدنیتی کو بھانپ کر مزاحمت کا سلسلہ تیز کر دیا اور کرفیوکے باوجود گھروں سے نکل کر بھارتی فوجیوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے لگے ہیں،مگر عالمی دنیا کی بے حسی قابل دید ہے،دو ایٹمی طاقتیں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی ہیں اور عالمی دنیا کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی،زبانی کلامی بیانات کی حد تک کاوشیں ہو رہی ہیں،جبکہ بھارتی وزیر اعظم مودی جارحانہ موڈ میں ہیں اور کسی بھی معقول بات کو سننے پر راضی نہیں ہیں۔ وہ اپنے ہی آئین کے برخلاف مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت ختم کرنے کے بعد ڈھٹائی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس پر پاکستان کا ردعمل مودی سے درخواست تک محدود ہے کہ وہ کشمیر کی سابقہ حیثیت بحال کردیں،جبکہ مودی کی رعونت کا یہ عالم ہے کہ وہ پاکستانی وزیر اعظم کوگفتنداور برخاستند کی حیثیت بھی دینے کو تیار نہیں ہے۔ عمران خان کا خیال تھا کہ بھارت کو مذاکرات کی دعوت دیں گے تو وہ دوڑا دوڑا چلا آئے گا، ویسے بھی بھارت کے ساتھ اس سے قبل جتنے بھی مذاکرات ہوتے رہے ہیں، ان کا کیا نتیجہ کچھ اچھا نہیں نکلا ہے۔ ہرمرتبہ مذاکرات کا کھیل اس طرح شروع ہوتا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کے خاتمے کے لیے کشمیر کے مسئلے کا مستقل حل ضروری ہے۔ مذاکرات کی تاریخ طے ہوجاتی اور اسے پہلی کامیابی قراردے کر مذاکرات شروع ہوتے کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہیے،معاملہ ہر مرتبہ یہاں پر آ کر اٹک جاتا کہ بھارت کے نزدیک مقبوضہ کشمیر وہ ہے جو پاکستان کے پاس ہے اور پاکستان کے نزدیک مقبوضہ کشمیر وہ ہے جو بھارت کے پاس ہے اور یوں معاملہ کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوجاتاتھا۔ پاکستان میں مذاکرات کی بات کرنے والے بتائیں کہ کب بھارت کسی بھی مسئلے کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں سنجیدہ ہوا ہے۔ سابق مشرقی پاکستان میں مداخلت سے لے کرکشمیر سے پاکستان آنے والے دریاؤں پر ڈیم بنانے سمیت ہر معاملے میں بھارت نے جارحانہ رویہ اختیار کیا ہے اور پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

بلا شبہ بھارتی سر کار آج بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے،وہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافی مسائل کو مزاکرات کے ذریعے حل کرنے کے خواہاں نہیں،جبکہ پا کستان جنگ کی بجائے خطے میں امن کیلئے مزاکرات کا خواہش مند ہے،مگر ایک عرصہ بعد وزیر اعظم عمران خان کو بھی سمجھ میں آگیا ہے کہ مودی نے ان کی امن کی کوششوں کو کمزوری سمجھا اور مودی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بھارت کے ساتھ مذاکرات کا آپشن ختم ہوچکا ہے۔ یہ سب تو درست ہے کہ مودی امن کے بارے میں کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی برادری عملی طور پر مودی کے ساتھ کھڑی ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلسل کرفیو کا بیسواں روز ہے، انسانی حقوق کی کونسی خلاف ورزی ہے جو وہاں پر نہیں کی جارہی،ہر گھر پر روز چھاپے مارے جارہے ہیں اورنوجوانوں کے ساتھ ساتھ دس بارہ سال کے بچوں تک کو گرفتار کرکے حراستی مراکز میں منتقل کیا جارہا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق اب تک وادی میں چھ ہزار سے زاید اجتماعی قبروں کی نشاندہی ہوچکی ہے جن میں لاکھوں لاپتا نوجوان مدفون ہیں، چھاپوں کے دوران کشمیری خواتین کی عصمت دری اب عام سی بات ہوگئی ہے، مگر کسی کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی،عالمی برادری خاموش تماشائی بنے ایٹمی جنگ ہونے کا انتظار کرر ہے ہیں۔ پا کستانی عوام کی عالمی برادری کے علاوہ پاکستان کے ارباب اقتدار سے ایک ہی درخواست ہے کہ منافقت ختم کریں اور صاف سیدھی زبان میں بتائیں کہ کشمیر کے بارے میں ان کی حقیقی پالیسی کیا ہے۔ اگر پاکستان عملی طور پر کشمیر سے دست بردار ہوچکا ہے تو بہتر ہوگا کہ اس کا اعلان کردیا جائے، تاکہ کم از کم کشمیری تو یکسو ہو جائیں، وہ خواہ مخواہ پاکستان سے الحاق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اگر کشمیر پر مودی کی ہر بات مان لی گئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب پاکستان کا بھارت کے ساتھ کوئی تنازع ہی نہیں رہا، پاکستان کی بھارت کے ساتھ طویل ترین سرحد محفوظ ہوگئی ہے۔ ارباب اقتدارایک طرف اینٹ کا جواب پتھرسے دینے کی بات کرتے ہیں تو دوسری جانب یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات نہیں ہے۔ وہ یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی کرنے والا ہے، اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ جنگ سے مسائل حل نہیں ہوتے، جنگ تباہی لاتی ہے۔
اس وقت مودی سرکار پر وحشت کا جو بھوت سوار ہوچکا ہے، اس کے پیش نظر اب محض زبانی جمع خرچ اور روایتی مطالبات سے اسے رام کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ عالمی قیادتوں کو اقوام متحدہ اور دوسرے موثر عالمی اور علاقائی فورمز پر فعالیت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے مودی سرکار کے جنونی ہاتھ روکنے کی موثر اور ٹھوس حکمت عملی طے کرنا ہوگی۔ اس کیلئے بھارت کو شٹ اپ کال دیے کر اس کے جنگی عزائم پر عملدرآمد رکوانے کی مضبوط حکمت عملی طے کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی قیادت نے دنیا کو بھارتی جنونی عزائم کی جزئیات سے آگاہ کر دیا، اب اس کے ہاتھوں علاقائی اور عالمی تباہی کو ٹالنا عالمی قیادتوں کی ذمہ داری ہے۔ وہ پہلے کی طرح مفادات ومصلحتوں کا شکار رہیں گے تو بھارت کے ہاتھوں علاقائی اور عالمی تباہی نوشتہ ء دیوار ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*