بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> مسئلہ کشمیر،ا قوام عالم کے موثرکردار کا منتظر

مسئلہ کشمیر،ا قوام عالم کے موثرکردار کا منتظر

مسئلہ کشمیر،ا قوام عالم کے موثرکردار کا منتظر
شاہد ندیم احمد
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پچاس سال کے تعطل کے بعد کشمیر کے مسئلے کا زیر غور آناسفارتی محاذ پر پاکستان کی باوقار اور شاندار کامیابی ہے، اس اجلاس سے واضح ہو گیا کہ بھارتی دعوؤں کے برعکس اقوام متحدہ کے نزدیک کشمیر کا مسئلہ آج بھی ایک عالمی تنازع ہے۔ سلامتی کونسل میں یہ بات کی گئی کہ کشمیر بین الاقوامی امن اور سیکورٹی کا مسئلہ ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور قراردادوں کے مطابق ہی پُر امن طور پر حل ہو سکتا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ میں بھارتی سفیرنے عالمی ادارے میں اپنی حکومت کے موقف کے مکمل طور پر مسترد ہو جانے کے باوجود بھارت کی روایتی ڈھٹائی کی روش پر کار بند رہتے ہوئے اس بے بنیاد دعوے کو دہرایا ہے کہ آرٹیکل 370انڈیا کا اندورنی معاملہ تھا اور مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی طور پر حل ہونا چاہئے، جبکہ عملی حقیقت یہ ہے کہ بھارت کشمیر کے مسئلے کے حل کے لئے نہ شملہ اور لاہور معاہدوں کے تحت مذاکرات کی میز پر آتا ہے، نہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے رائے شماری کی سمت کوئی پیش رفت کرتا ہے اور نہ کسی تیسرے فریق کی ثالثی قبول کرنے کو تیار ہوتا ہے، جبکہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم اور اسے مستقل طور پر بھارت میں ضم کرکے مودی حکومت نے کشمیریوں سے پوچھنے کی کوئی زحمت کیے بغیر ان کے مستقبل کا فیصلہ خود کردیا ہے جس سے اس معاملے میں اس کی بدنیتی پوری طرح واضح ہوگئی ہے۔ ان حالات میں عالمی برادری کا دباؤہی بھارت کو کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا حق دینے پر مجبور کر سکتا ہے۔ بھارت کے تازہ اقدام نے کشمیر کے معاملے کو ازسر نو عالمی منظرنامے پر پوری قوت سے ابھار دیا اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں نئی روح پھونک دی ہے، جبکہ خود بھارت کے انصاف پسند حلقوں میں بھی مودی حکومت کے اس ناجائز اقدام کے خلاف شدید ردعمل پایا جاتا ہے جس کا مظاہرہ متنازع آئینی ترامیم کو اعلیٰ سابق فوجی افسروں سمیت ممتاز سیاسی و سماجی شخصیات کی طرف سے بھارتی عدالتوں میں چیلنج کیے جانے کی شکل میں ہورہا ہے۔ لہٰذا کشمیریوں کے حق کی خاطر عالمی برادری کو کسی فیصلہ کن اقدام پر آمادہ کرنے کا یہ بہترین موقع ہے اور اس کے لئے سفارتی سطح پر بھرپور جدوجہد وقت کا ناگزیر تقاضا ہے۔
اس تناظر میں یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ اس مقصد کے لئے پاکستانی دفتر خارجہ میں کشمیر سیل اور اہم عالمی مراکز کے پاکستانی سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن میں کشمیر سے متعلق ترجمان بھی مقرر کیے جائیں گے۔ کشمیر اور بھارت کے اندر مودی حکومت کے اقدامات کے خلاف سامنے آنے والے ردعمل نے عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی جدوجہد کے لئے جو سازگار حالات مہیا کردیے ہیں انہیں درست طور پر استعمال کر کے کشمیری عوام کو ان کا حق دلایا جا سکتا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ اس جدوجہد کو کامیاب بنانے کی تدابیر میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ بھارت اس جدوجہد کو ناکام بنانے کے لئے جارحانہ کارروائی سمیت کوئی بھی اقدام کر سکتا ہے،اس لئے ضروری ہے کہ کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے قوم کو تیار رکھا جائے،بھارت سلامتی کونسل میں اپنی سبکی کا بدلہ کشمیریوں کو تختہ مشق بنا کر لینا چاہتا ہے،کشمیریوں کی کشمیر کاز سے کمٹمنٹ اور ان کی طرف سے ظالم فورسز کو ناکوں چنے چبوانے پر بھی بھارت زخم خوردہ ہے۔ وہ کشمیریوں کو دہشت گرد اور پاکستان کو دہشت گردوں کا پشت تباہ قرار دیتا ہے، پاکستان کو اپنی دانست میں سبق سکھانے کیلئے اس نے لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیز کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے،جبکہ مقبوضہ کشمیر میں چند دن میں دو لاکھ فوج بڑھا دی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں جس سے پوری دنیا آگاہ ہو چکی ہے، یہاں تک کہ پانچ دہائیوں بعد سلامتی کونسل کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر اٹھایا گیا ہے،یہ مسئلہ ایک ایٹمی فلیش پوائنٹ ہے، اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کو اس پر بے مہری اور بے حسی کا رویہ اپنانے کے بجائے بھارتی اقدامات پر فوری کارروائی کرنا چاہیے،کسی قسم کی تاخیرپورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان بھارتی اقدامات اور اس کے جارحانہ رویے پر بھرپور نظر رکھے ہوئے ہے اور اس نے بھارتی حکمرانوں پر واضح کردیا ہے کہ اگر انھوں نے کوئی حرکت کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور پاکستانی افواج اور عوام آخری فوجی اور آخری گولی تک اپنے وطن کا دفاع کریں گے۔
اس میں شک نہیں کہ پاکستان نے اب تک امن پسندی کا مظاہرہ کیا ہے ورنہ بھارت نے جنگ کی آگ بھڑکانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،کیو نکہ بھارت جان چکا ہے کہ وہ کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کسی بھی صورت کچل نہیں سکتا،اس نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد وہاں اسی لیے کرفیو نافذ کیا،کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ کشمیری اس فیصلے کو نامنظور کرتے ہوئے بھرپور احتجاج شروع کر دیں گے جس پر قابو پانا نا ممکن ہو جائے گا،پاک فوج کے ترجمان نے واضح کر دیا کہ اگر سرحد پر کچھ ہوا تو پاک فوج بھرپور جواب دے گی۔ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال جس نہج پر پہنچ چکی ہے، اب اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مسئلے کے پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں،عالمی دنیا کوبھارت کو قراردادوں پر عمل کیلئے ایک ڈیڈ لائن دینا ہوگی۔ بھارت اس دوران کشمیر میں استصواب کرانے پر تیار نہیں ہوتا تو اس پر عالمی پابندیاں عائد کر دینا چاہئے،اس کے سوا مسئلہ کشمیر کا کوئی پرامن حل نہیں ہے۔ بھارت حالات کو جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے، اب شاید مسئلہ کشمیر کا بھارت نے حل جنگ ہی چھوڑا ہے جس سے تباہی کے سوا کچھ نہیں نکلے گا اور اس تباہی سے عالمی امن بری طرح متاثر ہو گا۔ عالمی امن کو متاثر ہونے سے بچانے کیلئے اقوام متحدہ اور بااثر ممالک کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے،ورنہ ان کی مجرمانہ غفلت نہ صرف جنوبی ایشیا کے خطے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرے گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*