بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> پاکستانی چہرے پرچائلڈ لیبرکا بدنماداغ

پاکستانی چہرے پرچائلڈ لیبرکا بدنماداغ

پا کستانی چہرے پرچائلڈ لیبرکا بدنماداغ
تحریر:شاہد ندیم احمد
پاکستان میں بے تحاشا مسائل میں ایک بہت بڑا مسئلہ چائلڈ لیبر کا ہے، چائلڈ لیبر سے مراد کم عمر اور نابالغ بچوں سے مزدوری کروا ناہے۔ پاکستان میں بہت بڑے پیمانے پر کم عمر اور نابالغ بچوں سے محنت مزدوری کروائی جاتی ہے۔ چائلڈ لیبر شہروں اور دیہاتوں میں یکساں پائی جاتی ہے اور یہ واحد معاملہ ہے جس میں بغیر کسی تفریق کے چاروں صوبے آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایک برطانوی اخبار کی بڑی دلخراش رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پوش علاقوں کے چمکتے شیشوں کے دروازوں کے پیچھے کم عمر غریب بچے نوکریاں کر رہے ہیں، ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد 2لاکھ 64ہزار ہے جن کے ساتھ آجروں کی بدسلوکی کے واقعات عام ہیں، ایسے واقعات سامنے آنے اور وائرل ہونے پر عوام میں غم و غصے کی بڑھتی لہر بے جا نہیں، کیونکہ ایسے لوگوں کو قانون کی گرفت میں آنے کے باوجود سخت سزا نہیں ملتی،جو قانون شکن طبقہ کیلئے حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔اگر چہرے پہ داغ لگ جائے تو اسے دھونا چاہئے، آئینے پر تھوکنا سودمند نہیں ہوتا، چائلڈ لیبر اور بالخصوص گھریلو کاموں کے لئے بچوں کو ملازم رکھنا ہمارے معاشرے کے چہرے پر بدنما داغ سے کم نہیں ہے۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ من و عن درست نہ بھی ہو،مگر اس امر سے بہرکیف انکار نہیں کیا جا سکتا کہ زیادہ تر لوگ نو عمر بچوں کو ملازم رکھتے ہیں کہ انہیں کنٹرول کرنا اور ان کا استحصال آسان ہوتا ہے۔ چائلڈلیبر کی مین وجہ ملک میں برھتی غربت ہے،غربت بڑھتی رہی تو یہ سلسلہ بھی جاری رہے گا اور آبادی میں اضافہ مزید ابتری کا باعث بنے گا۔ پنجاب حکومت کی طرف سے ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ منظور کر کے چائلڈ لیبر کی حوصلہ شکنی احسن امر ہے، لیکن صرف قانون سازی کافی نہیں، اس کیلئے جامع حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ملک بھر میں نہایت کم اجرت پر دن رات کام کرنے والے گھریلو ملازمین میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ یہ کم عمر بچے اور بچیاں خاص طور پر ظلم و جبر کی چکی میں پس رہی ہیں۔ شہروں میں پڑھے لکھے خاندان ہوں یا دیہات کے نیم خواندہ چودھری وڈیرے، خان، یہ سب اپنے ملازمین کو انسان نہیں زمین پر رینگنے والے کیڑے مکوڑے یا جانور سمجھتے ہیں،سارا دن کوھلو کے بیل کی طرح گھٹیا سے گھٹیا کام کرنے کے باوجود ان سے جانوروں سے بھی بدتر سلوک ہوتا ہے۔ جانوروں کو تو پھر بھی آرام کا موقع ملتا ہے،کھانے کو چارہ اورپینے کو پانی ملتا ہے، موسم کے حساب سے سرد و گرم جگہ ملتی ہے،مگر ان ملازمین کو صرف کھانے کیلئے دو وقت کی روکھی سوکھی روٹی یا بچا کچھا کھانا نصیب ہوتا ہے،انہیں بات بات پر جھڑکیاں، مار پیٹ، گال گلوچ کا ہر وقت سامنا رہتا ہے، کام کاج کے کوئی اوقات کا ر مقرر نہیں،تنخو اہ کا کوئی معیار نہیں، انہیں ہفتے کے سات دن 24 گھنٹے بارہ مہینے صرف کام کرنا ہوتا ہے۔ ملک بھر میں بڑے بڑے گھروں میں بچوں کو زر خرید غلاموں کی طرح خریدا جاتا ہے اوران بچو ں کے والدین غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ان کم عمر بچوں کو چند ہزار روپوں کی خاطر ان امرا کے گھر اس اُمید پر بھیجتے ہیں کہ وہاں انہیں کم از کم کھانا اور سر چھپانے کی جگہ تو میسر ہو گی، مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے اشرافیہ میں خاندانی اشرافیہ کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ موجودہ دور میں زیادہ تر نئے نو دولتیے نواب سردار، خان، شاہ اور چودھری بنے ہیں،یہ خاندانی روایات سے غافل ملازموں کے حقوق سے نا آشنا ہیں۔ یہ خود ساری زندگی قیام پاکستان سے قبل ہندوؤں اور سکھوں کی چاکری کرتے آئے ہیں،اسی لیے اپنے آقاؤں کی غلامی سے ذہنی طور پر آزاد نہیں ہوئے،اپنے آقاؤں کی نقالی کو زندگی گزارنے کا مقصد بنا رکھا ہے۔ امرا کے گھروں میں کام کرنیوالے بچے اور بچیاں ان اشرافیہ کی بگڑی ہوئی اولادوں کے ہاتھوں عام طور پر
جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ قانون دان سے لے کر افسر، تاجر،صنعتکار،اورسیاستدان سب بے بس معصوم کا استحصال کرتے ہیں۔ یہی حال دکانوں، ہوٹلوں، گیراجوں، ورکشاپوں پرکام کرنے والے بچوں کا ہے،جنہیں چھوٹو کا نام دیے دیا جاتا ہے اور یہ چھوٹو چند روپوں کی خاطر ہر وقت مالکان کی پھٹکار کا شکار رہتا ہے۔ یہ ایک دو چھوٹو کی نہیں لاکھوں بچوں کی حالت زار ہے جس کاکوئی ایک شہر نہیں پورا پاکستانی معاشرہ ذمہ دار ہے۔
ہمارے ملک میں بچوں کے تحفظ کیلئے قوانین ہیں،مگر ان پر عملدرآمد کون کروائے گا؟ طاقتور اشرافیہ کے سامنے غریب بے بس لا چار ہے،یہاں پر درجنوں این جی اوز اور سرکاری ادارے برائے تحفظ چائلڈ لیبر موجود ہیں،مگر چائلڈ لیبر کا استحصال ہورہا ہے۔ حکومت کے ساتھ سب طبقہ فکر کو اپنے رویوں میں تبدیلی لاتے ہوئے اپنی زمہ داری کا احساس کرنا ہوگا،سارا معاشرہ کم سن بچے اور بچیوں کے ساتھ درندگی پر سخت مضطرب ہے۔وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر محروم بچوں کے تحفظ کیلئے ہر سطح پر آگے بڑھیں۔ یورپ کی طرح پاکستان میں بھی گھریلو ملازمین، دکانوں اور ہوٹلوں پر کام کرنے والے بچوں کا سرکاری سطح پر بطور ملازمین اندراج ہونا چاہئے، ان کے اوقات کار، تنخواہ اورچھٹیاں طے ہوں،انہیں جسمانی یا جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جائے تو اس کیلئے خصوصی فوری سماعت کی عدالتیں قائم ہونی چاہئے جو چائلڈ لیبر کے مقدمات کی سماعت کرکے ملزمان کو سخت سزا ئیں دیں،یہ سب کام حکومت وقت کے کرنے کے ہیں۔ اس کیلئے آسمان سے کوئی مسیحا نہیں آئیگا۔ ملک کے لاکھوں ملازم بچے جو چائلڈ لیبر کہلاتے ہیں، سڑکوں، دکانوں سے لے کر گھروں تک میں اذیت بھری زندگی بسر کر رہے ہیں، جنہیں آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں، احتجاج کا حق نہیں، انہیں انسانوں کی اولاد تسلیم کرتے ہوئے انسانی حقوق دینا ہوں گے اور ملک کے غریب کو خوشحال کرنے کے عملی اقدامات کرنا ہوں گے،تبھی پا کستانی چہرے سے چائلڈ لیبرکے بدنماداغ کو دھویا جاسکے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*