بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> قانون سازی: حکومت کو اپوزیشن کی ضرورت!

قانون سازی: حکومت کو اپوزیشن کی ضرورت!

قانون سازی: حکومت کو اپوزیشن کی ضرورت!
شاہد ندیم احمد

سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی تقرری اور مدت ملازمت کے تعین کے لئے قانون بنانے کا حکم دیتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کو 6 ماہ کے لئے مشروط طور سے اس عہدے پر کام کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس مدت میں حکومت آئین کی شق 243 کے تحت آرمی چیف کی تقرری اور عہدے کی مدت میں توسیع کے معاملات بھی طے کرے گی۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات واضح ہوئی ہے کہ قواعد و ضوابط میں آرمی چیف کے عہدے کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا،یہ طریقہ کار سے متعلق ایک معاملہ تھا جس کی سپریم کورٹ نے بجا طور سے نشان دہی کرتے ہوئے اس کی تصحیح کرنے کی ہدایت کی ہے۔عدالت عالیہ میں آرمی چیف کے عہدے کی مدت میں توسیع کے معاملہ پر جو سنسنی خیز ڈرامہ سامنے آیا، اس میں مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے بہت سے سبق موجود ہیں، لیکن اس کے لئے یہ لازم ہے کہ سب اداروں اور متعلقہ افراد کو یہ احساس ہو کہ حالات کو اس ڈگر پر نہیں چھوڑا جاسکتا،تاہم وزیر اعظم عمران خان سپریم کورٹ سے آرمی چیف کو 6 ماہ کی عارضی اور مشروط توسیع کو اپنی کامیابی اور دشمن اور ملکی مافیا کی ناکامی قرار دے رہے ہیں، حالانکہ اگر دشمن ملک کے میڈیا میں اس معاملہ کو اچھالا تو اس کا سبب حکومت نے اپنی نا اہلی کے ذریعے فراہم کیا یا عدالت میں ایک نکتہ پر کارروائی کو غیر معمولی طور سے طول دے کر شبہ کا ماحول پیدا کیا گیاہے۔میڈیا، مبصر اور اپوزیشن مل جل کر حکومت کو ہی مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں،حالانکہ حکومت کا قصور اتنا ہی تھا کہ توسیع کا حکم دیتے ہوئے ماضی کی طرح معمول کا طریقہ اختیار کرلیا گیا، جسے ایک غیر معروف درخواست دہندہ کی پٹیشن کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ میں خوب اچھالا گیا۔ اس حوالے سے حکومت پر تنقید کو بھی پاکستان کے اسی دیرینہ پیٹرن کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے جس میں سیاست دان ہی نا اہل، بدعنوان ہوتا ہے اور ملکی مفاد کو بھی اسی کی حرکتوں کی وجہ سے نقصان کا اندیشہ لاحق ہوتا ہے۔ اس ملک میں دیگر ادارے کے لوگ کبھی کوئی غلطی نہیں کرتے صرف سیاست دانوں کا نسل در نسل کرپشن کا ریکارڈ رکھنا ہی عین قومی مفاد میں ہے۔
یہ امرواضح ہے کہ اس کیس کی سماعت کے دوران عقدہ کھلا کہ آئین کی دفعہ 243 میں آرمی چیف کو انکے منصب پر توسیع دینے کی کوئی شق ہی موجود نہیں ہے اور نہ ہی آرمی چیف کے منصب کی مدت کا تعین ہے۔ اسی طرح آرمی ایکٹ کے حوالے سے بھی کیس کی سماعت کے دوران متعدد سوال اٹھے اور خود اٹارنی جنرل نے اعتراف کیا کہ انہوں نے آرمی ایکٹ ابھی تک دیکھا ہی نہیں اور نہ ہی یہ ایکٹ قانونی کتب کے سٹالوں پر موجود ہے۔ اس کیس کی سماعت کے دوران حکومتی قانونی مشیروں نے اپنے دلائل سے آرمی چیف کے منصب میں توسیع کے حوالے سے خود ابہام پیدا کیا جس سے لامحالہ وزیراعظم عمران خان اور انکی حکومت کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ آئین و قانون کے مطابق توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کیلئے کابینہ کے اجلاسوں میں ہونیوالی مشاورت کے دوران بھی آئینی اور قانونی حوالوں سے فاضل عدالت کے اطمینان کا باعث بننے والے کسی نوٹیفکیشن کا مسودہ تیار نہ ہوسکا جس پر فاضل عدالت کی جانب سے بھی حکومتی مشیروں کی کارکردگی پر حیرت کا اظہار کیا گیا اور آئین و قانون کی عملداری کیلئے مختلف سوالات اٹھائے گئے۔ اس سے بادی النظر میں ملک میں ایک نیا آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ لاحق ہوگیا تھا جس سے نکلنے کا راستہ بھی فاضل عدالت نے ہی حکومتی قانونی مشیروں کو دکھایا جس کی گائیڈ لائن کے مطابق حکومت کی جانب سے آرمی چیف کے منصب میں توسیع کیلئے ایک نئے نوٹیفکیشن کا مسودہ تیار کرکے فاضل عدالت میں پیش کیا گیا جس میں آئین کی دفعہ 243(1)B کے تحت جنرل قمر جاوید باجوہ کو مدت کے تعین کے بغیر آرمی چیف کے منصب پر توسیع دینے کے الفاظ شامل کئے گئے اور اٹارنی جنرل کی جانب سے فاضل عدالت کو یقین دلایا گیا کہ آرمی چیف کے منصب کی مدت اور اس منصب میں توسیع کیلئے آئین اور قانون کی متعلقہ شقوں میں پارلیمنٹ کے ذریعہ ترمیم کرلی جائیگی۔اس حوالے سے حکومت کی آزمائش ہے کہ اس نے آئین اور آرمی ایکٹ کی متعلقہ شقوں میں ترمیم کیلئے کیا حکمت عملی طے کرنی ہے۔ آئین میں ترمیم کیلئے تو حکومت کو لامحالہ ہاؤس میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی جس کیلئے اسے اپوزیشن بنچوں کی بھی معاونت حاصل کرنا ہوگی،کیونکہ اسکے بغیر حکومت کیلئے آئین کی کسی شق میں ترمیم ناممکنات میں شامل ہے۔
آج بدقسمتی سے حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کے مابین ملکی اور قومی مفادات کے حوالے سے بھی کسی آئینی ترمیم یا قانون کو منظور کرانے کیلئے ہم آہنگی کی فضا کا فقدان ہے جس کیلئے اپوزیشن حکومت کو اسکے رویے پر مطعون کرتی ہے اور اس سے نجات حاصل کرنے کیلئے ایک پلیٹ فارم پر صف بندی کرتی نظر آرہی ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے بارے میں جارحانہ پالیسی برقرار رکھی گئی تو پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے اسے اپوزیشن بنچوں کی معاونت حاصل ہونا ناممکنات میں شامل ہو جائیگا اور حکومت چھ ماہ کے عرصہ میں آرمی چیف کے منصب میں توسیع کے حوالے سے آئینی ترمیم منظور نہیں کراپائے گی تو پھر اسکے برقرار رہنے کا جواز بھی اسکے ہاتھ سے نکل جائیگا۔ اس صورتحال میں حکومت بالخصوص وزیراعظم عمران خان کو معاملہ فہمی سے کام لینا ہوگا اور اپوزیشن کو متعلقہ ترمیم کیلئے قائل کرنا ہوگا، بہتر ہے کہ اس معاملہ میں اب وزیراعظم اپنے ان مشیروں سے خلاصی حاصل کرلیں جو بطور خاص اس کیس کے معاملہ میں انکے اور انکی حکومت کیلئے پریشانی کا باعث بنے ہیں۔حکومت کے پاس آئینی وقانونی طریقہ کارکے سقم درست کرنے کا کا فی وقت ہے،اس وقت میں مذید بڑے دعوے کرنے اور اپنی کار کردگی کے جھنڈے لہرانے کی بجائے سنجیدگی اور دانشمندی سے سوچنا ہو گا۔بے شک عدالتی فیصلے نے بد اندیشوں کو مایوس کیا،مگر موجودہ حکومت کے لیے ایک بڑے چیلنج سے کم نہیں کہ وہ فیصلے میں دیے گئے احکا مات پر کس طرح کتنا جلد اقدامات کو یقینی بناتے ہیں۔اگر بروقت قانون سازی کے عمل میں رخنا ڈالا گیا تو پھر شائد کوئی دوسری حکومت آکرہی اس پر قانون سازی کرے گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*