بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> سی پیک پر امریکی خدشات یا سازش!

سی پیک پر امریکی خدشات یا سازش!

سی پیک پر امریکی خدشات یا سازش!
شاہد ندیم احمد

سی پیک منصوبہً پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا ضامن اور خطے میں گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے۔ سی پیک جتنا پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے، اتنا پاکستان کے دشمنوں کے سینے پر ناگ بن کر بھی لوٹتا ہے۔ وہ اس کو سبوتاژ کرنے کا ہر حربہ آزما نے کے ساتھ ہر سازش رچا چکے جو پاکستان اور چین کے باہمی اعتماد نے کامیاب نہیں ہونے دیں۔ دشمن اب بھی سازشوں میں مصروف ہے جو پاکستان اور چین کے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور باہمی اعتماد ہی سے ناکام بنائی جا سکتی ہیں۔بھارت سی پیک کا بدترین دشمن ہے، کیونکہ یہ سراسر پاکستان کے مفاد کا منصوبہ ہے اور وہ کسی صورت پاکستان کو ترقی کرتا دیکھنا نہیں چاہتا، اس کیلئے اسکی سرشت کے عین مطابق پاکستان کے وجود کی طرح سی پیک بھی ناقابل برداشت ہے۔ اس نے اس منصوبے کو رکوانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، مودی نے خود چین کے پے درپے دوروں کے دوران چینی قیادت کو دباؤ میں لانے کی ہر ممکن کوشش کی،مگر چین نے بھارت کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ بھارت تمام ناکامیوں کے باوجود سازشوں کے جال پھیلارہا ہے اور اس نے امریکہ کو بھی اپنے ساتھ ملاکر سی پیک مخالف بیانات کا سلسلہ شروع کروادیا ہے۔حالیہ امریکی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز کا بیان اسی سازش کی ایک کڑی ہے، امریکی نائب معاون کا کہنا ہے کہ چین مختلف ممالک کو ایسے معاہدے کرنے پر مجبور کر رہا ہے جو ان کے مفاد میں نہیں، پاکستان کو چین سے سی زپیک منصوبہ کی شفافیت سمیت سخت سوالات کرنا ہوں گے۔ سی پیک گرانٹ کے طور پر لیا جا رہا ہے، جبکہ ایسا نہیں ہے۔
در حقیقت بین الاقوامی معیشت میں چین کی مسلسل پیش رفت، امریکہ کے لیے جس قدر پریشان کن ہے، اس کا اظہار وقتاً فوقتاً پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور بظاہر پاکستان کے مفاد میں کیے جانے والے اس تازہ انتباہ کا اصل محرک بھی عین ممکن ہے کہ یہی ہو، اس کے باوجود پاکستانی قوم اور حکومت کو پاک چین اقتصادی راہداری میں پاکستان کے مفادات کو یقینی بنانے کے اہتمام میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے۔ تاہم امریکہ اور چین سے تعلقات کے حوالے سے پاکستانی قوم کے عشروں پر محیط تجربے کا خلاصہ یہ ہے کہ چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا، جبکہ امریکہ نے ہر دور میں پاکستان کو صرف اپنے مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا اور مطلب نکل جانے کے بعد نگاہیں پھیر لینے میں دیر نہیں لگائی۔ ایلس ویلز آج پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے امریکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کی شکل میں بقول خود سی پیک سے بہتر جس اقتصادی ماڈل کی بات کر رہی ہیں، امریکہ کے پاس یہ ماڈل پاکستان کو فراہم کرنے کا موقع قیام پاکستان کے فوراً بعد سے تھا،لیکن اس کا تعاون معاشی میدان میں پاکستان کو خودکفیل بنانے کے بجائے عملاً اپنا دست نگر بنائے رکھنے کی حکمت عملی کے تابع رہا لہٰذا سی پیک کے مقابلے میں معاشی ترقی کے لیے امریکی ماڈل کی اس تازہ پیشکش کو اس پورے تاریخی پس منظر سے الگ رکھ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ جہاں تک پاک چین اقتصادی راہداری میں پاکستانی مفادات کا معاملہ ہے تو چین نے امریکی نائب وزیر خارجہ کے سی پیک سے متعلق الزامات اور اعتراضات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
ایک آزاد اور خودمختار ملک کو اپنے مفادات کے تحت دفاعی تجارتی اور سرمایہ کاری سمیت کسی بھی حوالے سے منصوبے بنانے اور معاہدے کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ دنیا میں بطور سپرپاور امریکہ شاید یہ اختیار سب سے زیادہ استعمال کرتا ہے۔ امریکہ کا یہ اختیار تو اس طور توسیع پذیر ہے کہ منصوبوں اور معاہدوں کے حوالے سے وہ دوسرے ممالک پر اثرانداز ہوتے ہوئے ڈکٹیٹ بھی کرتا ہے۔ سی پیک معاہدہ پاکستان اور چین کی باہمی رضامندی سے ہواہے۔ پاکستان کی طرف سے جزئیات کا جائزہ لینے کے بعد سی پیک کو بہترین قومی اور خطے کے مفاد میں سمجھتے ہوئے فائنل کیا گیا،یقیناً یہ چین کے بھی مفاد میں ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے سے 66 ممالک منسلک ہیں۔ ان میں سے چین نے کسی بھی ملک کو اس کا بازو مروڑ کر شامل نہیں کیا،جبکہ امریکہ کی روایات اسکے برعکس ہیں۔ امریکہ دنیا کے ان ممالک کی حمایت حاصل کرنے کیلئے خود ایسے ہی منصوبے شروع کرنے کی بجائے مخالفت کررہا ہے۔ سی پیک پاکستان کے بہترین مفاد کا منصوبہ ہے،جسے سابق حکومت کی طر ح موجودہ حکومت بھی جوش و ولولے کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے، اب اس منصوبے کا دوسرا مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔ کئی شاہراہوں اور گوادر پورٹ کی تکمیل کے بعد اسکے ثمرات پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے سامنے ہیں۔
یہ امر واضح ہے کہ چین اور پاکستان نے سی پیک معاہدہ باہمی رضامندی سے شروع کیا، اسکی تعمیر اور تکمیل باہمی اعتماد سے ہورہی ہے۔ کیا امریکہ اور پاکستان کے مابین بھی اعتماد کی ایسی فضا کبھی رہی ہے؟ امریکہ واحد سپرپاور بھی ہے،کسی بھی ملک کے ساتھ اعتماد کی فضا برقرار رکھنا بڑی طاقت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس کیلئے چھوٹے ممالک کے مفادات کا تحفظ بھی اسی کا فرض بنتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے کبھی امریکہ کے اعتماد کو ٹھیس یا اس کے مفادات کو زک پہنچانے کی کوشش نہیں کی گئی، مگر امریکہ کی طرف سے یہ ذمہ داری اکثر پوری نہیں کی گئی،پاکستان کی معیشت نائن الیون کے بعد زبوں حالی سے دوچار ہوئی تو اس بحالی کیلئے امریکہ نے کوئی کردار ادا نہ کیا، بلکہ سپورٹ فنڈ بھی روک لیا، حالانکہ یہ امریکہ کی ذاتی جنگ تھی جسے پاکستان نے اپنے گلے میں ڈال لیاتھا۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے مفادات کے معاہدوں کی بھی امریکہ تکمیل نہیں ہونے دے رہا، اب وہ سی پیک کو سبوتاژ کرنے کیلئے بھارت کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو گیا ہے،امریکہ کی سی پیک پر خدشات میں سازش کی امیزش نظر آتی ہے۔ اس کے برعکس چینی صدر شی جن پنگ نے امریکہ کو تجارتی ڈیل کی پیشکش کی ہے۔انسانیت کی فلاح کیلئے اختلافات اور مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے امریکہ کو چین کا تجارتی ڈیل کیلئے بڑھایا ہوا ہاتھ تھام لینا چاہیے۔چین کی یہ دعوت فی الحقیقت پاکستان کے ساتھ امریکہ کے اخلاص کے دعوؤں کا امتحان ہے اور پاکستانی قوم منتظر ہے کہ امریکہ اس کا جواب کس طرح دیتا ہے۔ پاکستان بہرحال پوری عالمی برادری سے برابری کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے اور تمام سچے دوستوں کے لیے اس کے بازو کشادہ ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*