بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> جمہوری استقامت کی سخت آزمائش !

جمہوری استقامت کی سخت آزمائش !

جمہوری استقامت کی سخت آزمائش !
تحریر:شاہد ندیم احمد

الیکشن کمیشن کے سربراہ اور دو ارکان کے تقرر کا معاملہ، آرمی چیف کی میعاد میں توسیع کیلئے قانون سازی کے ساتھ سیاسی قیادت کیلئے ایک نیا چیلنج ہے جس سے عہدہ برآ ہونے کیلئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان افہام و تفہیم کی مطلوب سطح کا اہتمام لازمی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کی آئینی میعاد ختم ہونے میں ایک ہفتہ سے بھی کم عرصہ باقی، جبکہ سندھ اور بلوچستان سے کمیشن کے دو ارکان کے تقرر کا معاملہ پہلے ہی مہینوں سے معلق ہے۔یہ صورتحال جاری رہی تو آئندہ چند روز میں الیکشن کمیشن غیرفعال ہو جائے گا،کیونکہ کمیشن کے فعال رہنے کیلئے کم از کم تین ارکان کا برسرکار ہونا آئین کا تقاضا ہے۔ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے ارکان کے نام وزیر اعظم عمران خان اورقائدِ حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف دونوں نے تجویز کردیے ہیں،جبکہ اپوزیشن لیڈر نے الیکشن کمیشن کے سربراہ کیلئے بھی تین نام دیے ہیں۔ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کے اس اقدام سے الیکشن کمیشن میں تقرریوں کے بحران کے حل ہونے کا امکان روشن ضرور ہوا ہے، لیکن دو طرفہ پائی جانے والی موجودہ کشیدگی میں واضح کمی کے بغیر معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے،دونوں جانب سے پیش کیے گئے ناموں پر ہر قسم کے تعصب سے بالاتر ہوکر اتفاق رائے کی سنجیدہ کوشش کی جانی چاہئے۔ اپوزیشن لیڈر کے تجویز کردہ ناموں پر وزیراعظم کے تحفظات کی خبریں منظر عام پرآرہی ہیں جن سے انہیں تحریری طور پر آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہ باہمی رابطوں کی بحالی خوش آئند ہے، تاہم سیاسی کشیدگی میں کمی کے مؤثر اقدامات کے ساتھ اسے نتیجہ خیز بنانے کی ہر ممکن کاوش ناگزیر ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ہماری سیاسی پارٹیوں کے مابین سیاسی اختلافات ذاتیات سے آگے دشمنی کی حدوں کو چھونے لگے ہیں،یہ سیاست میں نئی نہیں پرانی روایت ہے، تاہم اس میں میثاق جمہوریت سے کچھ بہتری آئی،مگر بعدازاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے مابین ایک پھر اختلافات نے سر اٹھانا شروع کردیا،تاہم موجودہ سیاسی صورت حال میں اپوزیشن کی تمام جماعتیں حکومت گراؤ ایجنڈے پر متحد ہیں، البتہ اب تحریک انصاف حکومت اور اپوزیشن کے مابین کشیدگی جاری ہے۔ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران کی تعیناتی بھی وجہ تنازعہ بنی ہوئی ہے، وزیراعظم نے چیف الیکشن کمشنر کیلئے شہباز شریف کی جانب سے بھیجے گئے ناموں پرسیاسی وابستگی کا اعتراض اٹھا یاہے، اگر ماضی کی وابستگی کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کرنے ہیں تو اتفاق رائے کے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنرکے حوالے سیجس شخصیت کو بھی لانا چاہتے ہیں، اس کے کردار، کارکردگی اور متعلقہ شعبے میں مہارت کا جائزہ لیا جانا چاہئے،ہر دورحکومت میں باصلاحیت لوگ مختلف عہدوں پر رہے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ ان کی وفاداری ریاست سے زیادہ شخصیات کے ساتھ ہوں گی۔
چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران کی تعیناتی کے حوالے سے ہنوز صورتحال واضح نہیں ہے، الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن 3 ممبران کے ساتھ فعال و متحرک ہو سکتا ہے۔ سندھ اور بلوچستان سے دو ممبران کی نشستیں ایک سال سے خالی پڑی ہیں،نئے الیکشن کمیشن کا تقرر بروقت نہ ہوا تو 7 دسمبر سے الیکشن کمیشن غیر فعال ہو سکتا ہے جس سے آئینی بحران پیدا ہونے کے خدشات موجود ہیں۔ الیکشن کمشن کے ممبران کی تعیناتی بھی قواعد کے مطابق ہو جاتی تو صورتحال بحران کی طرف جاتی دکھائی نہ دیتی۔ شہباز شریف نے وزیر اعظم کو لکھے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہمیں عدالتی حکم کا پورا احترام ہے متعلقہ آئینی شقوں کو پورا کرنا لازم ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے بھی الیکشن کمشن کے ممبران کی تقرری کیلئے نام تجویز کرتے ہوئے چیئرمین سینٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کے خط کا جواب دے دیاہے، خط کی کاپی چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو ارسال کر دی گئی ہے،دوطرفہ طرز عمل سے لگ رہا ہے کہ آئینی ذمہ داری کی ادائیگی میں سنجیدہ ہیں۔
یہ بہت خوش آئند امر ہے کہ ملک میں ایک اور جمہوری عمل پر مشاورت شروع ہوگئی ہے۔ اس کا آغاز قدرے تاخیر سے ہوا ہے، کیونکہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی مدت ملازمت ختم ہونے میں پانچ دن باقی رہ گئے ہیں، اس طرح 6 دسمبر تک نئے چیف الیکشن کمشنر کا تقرر نہ ہونے کی صورت میں 7 دسمبر کو الیکشن کمشن غیرفعال ہو جائے گا۔ لہٰذا آئندہ دو تین روز میں حتمی مشاورت کے بعد نئے چیف الیکشن کمشنر کا تقرر ہو جانا چاہئے، تاکہ ملک میں کسی نئے آئینی بحران کا خدشہ نہ رہے۔یہ سیاسی قیادت کے لیے نیا چیلنج اور جمہوری استقامت کی سخت آزمائش ہے، حکومت اور اپوزیشن قائدین کو چاہئے کہ وہ اس اہم ترین عہدے پر کسی غیر متنازعہ شخصیت کا تقرر کریں، تاکہ انتخابات سے پہلے اور انتخابات کے بعدطرفین ایک دوسرے پر الزام تراشی نہ کر سکیں۔اگرچہ الیکشن کمیشن کے رو برو پارٹی فنڈنگ جیسے نہایت اہمیت کے کیسز موجود ہیں جن میں پہلے تحریک انصاف اور اب مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی بھی ماخوذ ہیں۔ اس حوالے سے ان کے مابین خدشات کا اظہار کیا جانا بے جا نہیں، مگر الیکشن کمیشن کی عدم فعالیت سے آئینی بحران کے زیادہ سنجیدہ نتائج سامنے آ سکتے ہیں، لہٰذا سیاسی مصلحتوں اور اختلافات سے بالاتر ہو کر آئین کی روح کے مطابق الیکشن کمیشن کی بروقت تکمیل کر نے کی ضرورت ہے۔موجودہ حالات کے پیش نظر ضروری ہے کہ دونوں طرف کے نمائندے ایک دوسرے کی طرف سے تجویز کئے گئے ناموں پر اعتراضات کا مل بیٹھ کر جائزہ لیں اور جس نام پر دونوں کی طرف سے کم سے کم اعتراض سامنے آئے اس نام کا حتمی اعلان کر دیا جائے، تاکہ جاری جمہوری عمل کو بغیر کسی خلا کے پُر کیا جا سکے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*