Latest Column, Shahid Nadeem Ahmad, Minus Imran Khan

مولانا پر غداری کے مقدمے کا چیلنج!

مولانا پر غداری کے مقدمے کا چیلنج!
تحریر:شاہد ندیم احمد

ہر دور اقتدار میں حکومتیں گرانے اور بنانے کا کھیل جاری رہتا ہے،تحریک انصاف حکومت کے آغاز سے ہی اپوزیشن پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت کی تبدیلی کے لیے مصروف عمل ہے۔اس حوالے سے مشاورتیں اور سازشیں اپنے عروج پر ہیں،مگراپوزیشن کی کار گزاریاں کامیابی سے ہمکنار ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔اس کے باوجود اپوزیشن پا رٹیاں ہار ماننے کے لیے تیار نہیں، پہلی احتجاجی تحریک کی ناکامی کے بعد دوسرے احتجاج کیلئے پر تولے جارہے ہیں۔حکومت گرانے کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کے بیان پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مولانا کیخلاف آرٹیکل6 یعنی بغاوت کا مقدمہ ہونا چاہئے،جبکہ مولانا فضل الرحمن نے جواباََ چیلنج دیتے ہوئے کہاہے کہ جس نے شوق پورا کرنا ہے کرلے، میرے خلاف غداری کا مقدمہ بنائیں پھر میں بتاؤنگا کون آرٹیکل 6 کا مرتکب ہواہے؟ ملکی اداروں کا احترام کرتے ہیں، مگر رائے سے اختلاف رکھتے ہیں، ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے پر کبھی خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
یہ امر واضح ہے کہ اہل سیاست کی سیاسی سرگرمیوں میں جتنی تندی بھی آ جائے، ان پر آرٹیکل چھ لگانے کی بات موزوں نہیں ہے،کیو نکہ آرٹیکل چھ کا تناظر بالکل مختلف ہے۔اگر کسی سیاست دان صرف اس لیے آرٹیکل چھ لگانے کی بات کی جارہی ہے کہ اس نے حکومت کو گھر بھیجنے کی بات کی ہے تو پھر غور فرما لیا جائے کہ یہ سلسلہ کہاں رکے گا، کیونکہ جس طرح یہ حکومت پانچ سال کا مینڈیٹ لے کر آئی ہے، اسی طرح نواز شریف کی حکومت کے پاس بھی پانچ سال کا آئینی مینڈیٹ موجود تھا۔اگرموجودہ حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے چوہدری برادران کے ساتھ فضل الرحمن نے کوئی معاملہ کیا اور اس پرآرٹیکل چھ لگ سکتا ہے تو پھرمیاں نواز شریف دور میں امپائر کی انگلی کے منتظر اہل سیاست آرٹیکل چھ کے اطلاق سے کیسے بچ پائیں گے؟ تاہم عمران خان واقعی آرٹیکل چھ لگانا چاہتے ہیں تو پھر صرف مولانا پرہی کیوں؟ اگرحکومت کے خلاف کوئی سازش ہوئی تھی جس پر آرٹیکل چھ کا اطلاق ہوتا ہے تو اس کام میں مولانا اکیلے نہیں تھے۔عمران خان بے شک آرٹیکل چھ لگائیں، لیکن اس سے پہلے چوہدری پرویز الہی کو طلب کر کے تھوڑی سی باز پرس کرنے کی ہمت کر لیں،وہ عمران خان کو قائل کر لیں تو ٹھیک، ورنہ انہیں پنجاب میں اتنے اہم عہدے پر بٹھائے رکھنے کا تحریک انصاف کے پاس کوئی جواز نہیں ہے۔اس سارے معاملے کے تناظر میں ایسا لگتا ہے کہ آرٹیکل چھ تو زیب داستان ہے، اند خانے سیاسی حریفوں کو برداشت نہ کر نے کی سوچ کارفرماہے،اگر یہ سوچ برقرار رہی تو ماہمی اتحاد سے انتشار میں منتقل ہوکر اقتدار کی کشتی کو لے ڈوبے گی۔
اس وقت کے سیاسی معاملات سے قطع نظر آرٹیکل چھ کا ایک مقدمہ سابق صدر پرویز مشرف پر باقاعدہ چل رہا ہے اور ایک عدالت سے تو ان کو سزا بھی ہوچکی ہے۔ ملکی سیاست میں اپنے وقت میں سب جائز اور دوسرے کی باری آئے تو یکطرفہ موقف اختیار کرنا کوئی نئی بات نہیں، وزیراعظم کا بیان بھی اسی سیاست دوراں کا حصہ ہے۔ یہ بیان صرف سیاسی ہی،بلکہ ان کے بیان کا وہ حصہ خاص طور پر قابل توجہ ہے جس میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر فوج کا اپنے ساتھ کھڑے ہونا باور کروایاہے۔ فوج بھی ریاست کا ایک ادارہ ہے، جس کی آئینی ذمہ داری حکومت وقت کی مدد واعانت اور احکامات کی پیروی ہے،لیکن سیاسی ارتعاش کے دنوں میں وزیراعظم کے اس قسم کے بیانات سے سیاسی تاثر کا اُبھرنا فطری امر ہے، اس لئے اس قسم کے تاثرات بننے کے حامل بیانات سے اجتناب کرنا چاہئے اور سیاسی معاملات کو سیاسی فہم وفراست سے سلجھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔حکومت اور اپوزیشن کے اختلافات جمہوری نظام کا حصہ ہیں،انہیں جمہوری انداز سے
حل کرنے کی ضرورت ہے۔مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات وزیراعظم کی اتحادی جماعت کے اہم رہنماؤں نے کیے تھے،انہوں نے کیا یقین دہانیاں کروائیں اور مولانا فضل الرحمن کا دعویٰ کہاں تک درست یا حقائق کے منافی ہے، ان تمام معاملات کا تعین کئے بغیر صرف بیان پر آرٹیکل چھ کے اطلاق کا تعین کیسے ہوسکتا ہے، اگر حکومت کو گھر بھیجنے کی واقعی یقین دہانی کروائی گئی تھی تو آرٹیکل چھ کا اطلاق بیان دینے والے سے پہلے یقین دہانی کروانے والے پرہونا چاہئے۔
تحریک انصاف حکومت پہلے ہی بہت سے بحرانوں سے نبرد آزماہے،نئے مذید محاذ کھولنا حکومت کے مفاد میں بہتر نہیں،مولانا پر غداری کا مقدمہ بنانا حکومت کیلئے برا چیلنج ثابت ہو گا۔موجودہ حالات وفاداری اور غداری پر بحث کے متحمل نہیں ہوسکتے،سیاسی ورکرز اور سیاسی قیادت کیخلاف محض بیانات پرغداری کے مقدمے کس طرح بنائے جا ئیں گے۔کیا حکومت سیاسی قیادت کوغداری کی مد میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنائے گی؟ ایک ایسے وقت میں جب ملک میں مہنگائی اور معاشی عدم استحکام کی صورتحال سے عوام دوچار ہیں، سیاستدانوں کا اسمبلی میں اور اسمبلی سے باہر سیاسی صورتحال کے غیرمستحکم ہونے کا تاثر قائم کرنے والے بیانات ملک کے مفاد میں نہیں ہیں۔ اس وقت ملک نازک دور سے گزر رہا ہے،سیاسی وباہمی انتشار ملکی مفاد میں بہتر نہیں ہے،اس سے قطع نظر کہ کس نے کس کی جانب سے کیا یقین دہانیاں کروائی تھیں، فی الوقت الفاظی دعوؤں کی حد تک ہے، آرٹیکل چھ کے اطلاق کیلئے عمل اور ٹھوس شہادتوں کی ضرورت ہے جو فی الوقت دستیاب نہیں ہے۔ ایسے حالات میں بہتر ہوگا کہ ملک میں سیاسی ہم آہنگی اور استحکام کی مشترکہ سعی کی جائے اور مل جل کر ملک و عوام کومشکل حالات سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کیا جائے،اگر حکمران اپنی خواہشات بھلا کر اپوزیشن کے ساتھ مفاہمت و مشاورت کے ساتھ کام لیں گے تو اسی میں ملک و قوم کا بھلا ہے۔